بہار
چھپرہ میں ماک ڈرل کاانعقاد، لوگوں میں مچی افراتفری
(پی این این)
چھپرہ :بہار کے چھپرہ صدر اسپتال،ضلع پریشد دفتر،کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس،پرساد پٹرول پمپ اور پربھوناتھ نگرمیں واقع چلڈرن پارک میں اچانک ایک ساتھ سائرن اور ہوٹر کی آواز سن کر مقامی باشندوں میں افراتفری مچ گئی۔کچھ دیر کے لیے لوگ بے چین ہو گئے۔مگر جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ ماک ڈرل ہے تب لوگوں نے راحت کی سانس لی اور پورے منظر کو اپنے ا پنے موبائل میں قید کرنے لگے۔موقع تھا ضلع میں ممکنہ زلزلہ جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ماک ڈرل منعقد کرنے کا۔
یہ مشق ضلع انتظامیہ کی قیادت میں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر انجام دی گئی۔جس میں این ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ماک ڈرل صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔اس دوران 3.8 شدت کے فرضی زلزلے کا منظرنامہ تیار کیا گیا اور ہنگامی حالات میں بچاؤ اور راحت رسانی کی کارروائیوں کا حقیقی وقت میں عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ماک ڈرل کے دوران ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے،پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے،ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی کارروائی انجام دی۔کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس میں مشق کے دوران گرین لینڈ پبلک اسکول کے طلبہ کے لیے آفات سے بچاؤ کے موضوع پر خصوصی ماک ڈرل بھی منعقد کی گئی۔
اس موقع پراین ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے زلزلے اور آگ جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے عملی طریقوں کا مظاہرہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے دکھایا کہ کسی حادثے کی صورت میں اونچی عمارتوں سے لوگوں کو کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ماہرین نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ زلزلے کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کن امور سے گریز ضروری ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ کسی بھی ہنگامی حالت میں گھبرانے کے بجائے صبر و حوصلے سے کام لیں اور سب سے پہلے اپنی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں محفوظ مقامات کی طرف منتقلی، لفٹ کے استعمال سے گریز، مضبوط میز یا ڈیسک کے نیچے پناہ لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ آفات جیسی صورت حال میں اسکولی طلبہ معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور بیداری و امدادی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیتی مشقیں بچوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔اگرنی ہومس کیمپسمیں منعقدہ مشق کے دوران ضلع کوآپریٹو افسر سدھیر کمار سنگھ،جے پی یو کے رجسٹرار پروفیسر وشوامتر پانڈے،اجے کمار، ابھینیک کمار سنگھ،راج کمار مشرا،دلیپ کمار، ریڈ کراس سوسائٹی کے ڈاکٹر شہزاد عالم کے علاوہ گرین لینڈ پبلک اسکول کی طلبہ شریا کماری،مدیحہ ندیم،صبا شاہین،شاہین شہنواز،غوث رضا،دلشاد رضا،شاد،کماری سونی اور ایوب انصاری سمیت دیگر افراد موجود تھے۔
Bihar
ذات دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں سمراٹ چودھری، تیجسوی یادو کا بہار حکومت پرالزام،عصمت دری کے مجرموں کا کب ہوگاانکاؤنٹر؟وزیراعلیٰ سے آرجے ڈی لیڈر کا سوال
(پی این این)
پٹنہ:بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور آر جے ڈی کے سربراہ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ذات پات کی بنیاد پر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ خواتین کے ساتھ عصمت دری کرنے والے درندہ صفت مجرموں کا انکاؤنٹر آخر کب ہوگا؟راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے کی نئی حکومت بننے کے بعد بہار میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تیجسوی یادو نے منگل کو پٹنہ واقع آر جے ڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہار میں خواتین کی سلامتی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی حکومت بنے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور محکمۂ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سمراٹ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مجرم خواتین پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں اور سمراٹ حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے خلاف جرم کا کوئی واقعہ سامنے نہ آتا ہو۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اجتماعی عصمت دری اور ریپ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت میں شامل کئی وزراء ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
تیجسوی یادو نے سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ایک ماہ کے دوران، یعنی 15 اپریل سے 15 مئی کے درمیان، بہار کے مختلف اضلاع میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آئے عصمت دری، اغوا اور قتل کے واقعات کا ذکر کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ انہوں نے صرف خواتین کے خلاف پیش آنے والے جرائم کا ہی تذکرہ کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ بھی قتل، لوٹ مار اور اغوا کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ بہار میں ذات پات دیکھ کر انکاؤنٹر کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ سے سوال کرتے ہوئے کہا،“کیا سمراٹ چودھری مخصوص ذات کو دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں؟ جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کے مجرموں کا انکاؤنٹر کب ہوگا؟ بالیکا گرہ کانڈ کے ملزم جنہیں یہ لوگ اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں، ان کا انکاؤنٹر کب کیا جائے گا؟ آپ دُشکرم کرنے والوں کی ذات بھی دیکھیے اور جن کے ساتھ ظلم ہوا اُن کی ذات بھی دیکھیے۔ آخر خواتین کو انصاف کب ملے گا؟”
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کی 65 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جیویکا دیدی‘‘ کو رسوئی گیس سلنڈر ملنا بند ہو گیا ہے اور خواتین کو مناسب غذائیت بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل دو کروڑ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تیجسوی نے سوال اٹھایا کہ آخر اس اسکیم کی دوسری قسط کب جاری کی جائے گی؟
آر جے ڈی لیڈر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بہار میں این ڈی اے حکومت بنے چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بہار حکومت 71 ہزار کروڑ روپے کا قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے۔تیجسوی یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حکومت صرف ریل بنانے اور فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف ہے۔
Bihar
تمام سرکاری ملازمین ایمانداری سے کریں کام،نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری نومنتخب افسران کو لگن اور پختہ عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں اداکرنے کی دیں ہدایات
(پی این این)
پٹنہ:بہار حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر وسائل آب وجے کمار چودھری نے کہا کہ محکمہ وسائل آب کسانوں اور عام لوگوں سے براہ راست جڑا ہوا محکمہ ہے، اس لیے تمام نومنتخب ملازمین کو پوری ایمانداری، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔
نائب وزیراعلیٰ مسٹر چودھری نے آج سنچائی بھون میں واقع محکمہ وسائل آب کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں 15 امیدواروں کو تقرری خطوط سونپے۔ ان میں چھ نومنتخب اسسٹنٹ انجینئر، ہمدردی کی بنیاد پر چھ لوئر ڈویژن کلرک (ایل ڈی سی) اور تین آفس اٹینڈنٹ شامل ہیں۔
مسٹر چودھری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام نومنتخب ملازمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ اب وہ محکمہ وسائل آب کے خاندان کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں کام کرتا ہے اور کسانوں اور عام لوگوں کو آبپاشی اور سیلاب سے تحفظ جیسی اہم خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں تمام ملازمین کو پوری ایمانداری، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علاقے میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی سرگرمی اور کارکردگی سے ہی محکمے کا امیج مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے نومنتخب اسسٹنٹ انجینئروں سے باقاعدگی سے جائے وقوع کا معائنہ کرنے اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں سرگرم رول ادا کرنے کی اپیل کی۔
Bihar
سیتامڑھی:ضلع سطحی تقریری مقابلہ آج، طلبہ و طالبات کریں گے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ
(پی این این)
سیتامڑھی:ضلع اردو زبان سیل سیتامڑھی کے زیرِ اہتمام اردو بولنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی منصوبہ 2025-26 کے تحت آج 21 مئی 2026 بروز جمعرات ضلع سطحی تقریر و مباحثہ مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام کلکٹریٹ سیتامڑھی کے پریچرچا بھون میں صبح 10:30 بجے سے شروع ہوگا۔
ضلع اردو زبان سیل کے انچارج شفی احمد نے بتایا کہ پروگرام کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ سیتامڑھی کریں گے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، ایڈیشنل کلکٹر، ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر، ضلع رابطہ عامہ افسر سمیت کئی اعلیٰ انتظامی اور سماجی شخصیات موجود رہیں گی۔ پروگرام کی صدارت کملا بالیکا ہائر سیکنڈری اسکول سیتامڑھی کے پرنسپل ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ کریں گے۔
پروگرام کا آغاز ابتدائی خطاب اور نظامت سے ہوگا، جس کے بعد مہمانوں کا استقبال، شمع روشن کرنے کی تقریب، استقبالیہ نغمہ، تعارفی خطاب اور غزل پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد مختلف زمروں میں طلبہ و طالبات کے درمیان تقریری مقابلے منعقد ہوں گے۔ میٹرک اور اس کے مساوی درجے کے طلبہ کیلئے “تعلیم کی اہمیت” اور “کتابیں ہماری بہترین دوست ہیں” جیسے موضوعات مقرر کیے گئے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ سطح کے لیے “خواتین کی تعلیم اور خودمختاری” اور “آزادی کی جدوجہد میں اردو صحافت کا کردار” جبکہ گریجویشن سطح کے لیے “اردو ادب میں خواتین کا حصہ” اور “اردو اور ہندی کا دوستانہ رشتہ” جیسے اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔
مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو میڈل اور تعریفی اسناد دے کر اعزاز سے نوازا جائے گا۔ پروگرام شام 5 بجے شکریہ کے کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ ضلع اردو زبان سیل نے ضلع بھر کے اردو بولنے والے طلبہ و طالبات سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ اپنی ادبی اور لسانی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں۔ یہ پروگرام نہ صرف طلبہ کی تقریری اور فکری صلاحیتوں کو فروغ دے گا بلکہ اردو زبان و ادب کے تئیں نئی نسل میں دلچسپی اور بیداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
