Connect with us

بہار

ایران کی اصول پسند قیادت کے ظالمانہ قتل قابل مذمت:امیرِ شریعت

Published

on

(پی این این)

پٹنہ:امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال،مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہِ رحمانی مونگیر، نے ایران میں پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات میں شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اہم ایرانی قائدین و ذمہ داران کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم، شدید صدمہ اور امتِ مسلمہ کے ساتھ قلبی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔امیرِ شریعت نے اس واقعہ کو ایک سنگین ظلم، بین الاقوامی ضمیر کے لیے چیلنج، اور انسانی جان کی حرمت پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں اس کی مذمت کی۔
انہوں نے کہاکہ آج امتِ مسلمہ جس کرب اور اضطراب سے گزر رہی ہے وہ محض ایک سیاسی واقعہ کا ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اور اجتماعی زخم ہے، جب کسی مسلم قیادت کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری امت کے احساسات اور وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کی حرمت بنیادی اصول ہے، اور کسی بھی ملک یا قیادت کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں دنیا کو مزید بے یقینی، انتقام اور عدمِ استحکام کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔امیرِ شریعت نے مرحوم شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط، جرأت مند، بااثر اور اصولی آواز کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی طویل قیادت کے دوران استقامت، خود اعتمادی اور امت کے اجتماعی شعور کو ابھارنے کی کوشش کی۔ اختلافاتِ مسلک کے باوجود انہوں نے عالمی سطح پر مسلم مسائل، خصوصاً مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی، جس کی بازگشت مسلم دنیا میں سنی جاتی تھی۔ ان کا یوں اچانک اٹھ جانا بلاشبہ ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امیرِ شریعت نے امت کے درد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ غور و فکر کا بھی ہے۔ ظلم کا جواب انتشار سے نہیں بلکہ اتحاد سے دیا جاتا ہے۔ جذبات کی شدت کو حکمت کے دائرے میں رکھ کر عمل درامد ہونا ہی اہلِ ایمان کی شان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ اہلِ قبلہ باہمی احترام اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ایسے مواقع پر داخلی اختلافات کو ہوا دینا امت کو مزید کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، شفافیت اور مکالمہ کا راستہ اختیار کرے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کریں تو اس نوعیت کے واقعات پورے خطے کو عدمِ استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔حضرت امیرِ شریعت نے ایران کے عوام، متاثرہ خاندانوں اور پوری مسلم دنیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات میں سب سے اہم چیز باہمی تعاون، صبر اور اجتماعی نظم ہے۔ انہوں نے مساجد، مدارس اور اسلامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ دعاؤں، اصلاحی بیانات اور وحدتِ امت کے پیغامات کے ذریعے عوام کو مثبت اور تعمیری راستے کی طرف رہنمائی کریں۔
اختتام میں امیرِ شریعت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق قائدین پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر اور سکون عطا فرمائے، ایران کے عوام کو استحکام اور سلامتی نصیب فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت، حکمت اور ثابت قدمی عطا فرمائے تاکہ وہ ظلم کے مقابلے میں اخلاقی قوت اور اجتماعی شعور کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔

Bihar

بہار میں شفاف امتحانات کیلئے ہو گی کمیٹی کی تشکیل، کالجوں میں ہوگی ’پولیس دیدی‘ کی تعیناتی، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کیا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اعلان کیا کہ رکشا بندھن کے دن سے ریاست کے اسکولوں اور کالجوں میں طالبات کی حفاظت کے لیے ’پولیس دیدی‘ تعینات کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بہن بیٹیوں کی حفاظت اور ان کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ خواتین کی سلامتی کے پیش نظر ہم نے ’پولیس دیدی‘ کو پانچ ہزار اسکوٹی اور موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کو محفوظ اور خوشحال ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کئی اہم اعلانات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے حوالے سے طلبہ کا اعتماد سب سے زیادہ اہم ہے۔
بہار میں امتحانات کو منظم، شفاف، غیر جانب دار اور جدید بنانے کے لیے ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں ریاستی سطح پر امتحانی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اسی طرح تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ریاست میں قائم 551 سرسوتی ودیا نکیتنوں میں آئی آئی ٹی، جے ای ای اور نیٹ سمیت مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے داخلہ امتحانات کی تیاری کے لیے مفت کوچنگ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسان ہمارے صوبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی خوشحالی ہی ریاست اور ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کو محفوظ اور خوشحال ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔ بہن بیٹیوں کی حفاظت اور ان کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ خواتین کی سلامتی کے لیے ہم نے ’پولیس دیدی‘ کو پانچ ہزار اسکوٹی اور موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 17 اگست کو ’ودیارتھی سَہیوگ پورٹل‘ کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے ریاست بھر کے اسکولوں، کالجوں اور کوچنگ سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی شکایات اور پریشانیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ پورٹل پر طلبہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات کا زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر نپٹارہ کیا جائے گا۔ ہماری حکومت شکایات کے ازالے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
بہار میں نوجوان پالیسی بنائی جائے گی: ریاستی حکومت نے 2030 تک ایک کروڑ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نوجوانوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بہار یوتھ پالیسی تیار کی جائے گی اور اس کی نگرانی ریاستی یوتھ کمیشن کرے گا۔بہار کی مالامال اور روحانی وراثت—نالندہ، بودھ گیا، وکرم شیلا، راج گیر اور ویشالی—کو کاروباری مواقع، ورثہ گائیڈ، ثقافتی سیاحت اور اسٹارٹ اپس سے جوڑتے ہوئے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

 

 

Continue Reading

Bihar

رام لکھن سنگھ یادو کالج بہار شریف’نالندہ‘ میں خون عطیہ کیمپ کا کامیاب انعقاد

Published

on

(پی این این)
بہارشریف:آج رام لکھن سنگھ یادو کالج بہار شریف “نالندہ” میں کالج کے سیکرٹری ڈاکٹر انیل کمار کی ہدایت پر ایک رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کیمپ کالج انتظامیہ اور صدر اسپتال بہار شریف کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہوا۔پروگرام کا افتتاح پروگرام کے افتتاح کنندہ کالج کے سیکرٹری ڈاکٹر انیل کمار اور کالج کے پرنسپل پروفیسر اودھیش کمار نے کیا۔اس موقع پر کالج کے این سی افسر لیفٹیننٹ گوپال کمار نے خون عطیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ، “خون کا عطیہ سب سے بڑا عطیہ ہے۔ ہمارے ذریعے عطیہ کی گئی خون کی ایک بوند کسی ضرورت مند مریض کی جان بچا سکتی ہے۔ خون عطیہ کرنے سے صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، بلکہ یہ جسم کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔”
کالج کے اساتذہ پروفیسر ویریندر کمار اور پروفیسر شمبھو کمار کی ترغیب پر خون عطیہ کیمپ میں کالج کے اساتذہ، عملہ، این سی کیڈٹس اور طلبہ و طالبات نے بڑے جوش کے ساتھ حصہ لیا۔کالج کے پرنسپل پروفیسر اودھیش کمار نے صدر اسپتال بہار شریف نالندہ کے بلڈ ڈونیشن سیل اور ان کی پوری میڈیکل ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ تمام خون عطیہ کرنے والوں کو صحت کی جانچ کے بعد سرٹیفکیٹ اور چائے-ناشتے کے ساتھ اعزاز دیا گیا اور ترغیبی رقم دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔نالندہ کے یوتھ آئیکون رتیش کمار نے تمام خون عطیہ کرنے والوں کے تئیں اظہارِ تشکر کیا۔
اس موقع پر کالج کے پروفیسر دینیش مہتو، پروفیسر سنگیتا سنہا، پروفیسر پرتیما رائے، پروفیسر پریانکا کماری، پروفیسر ڈاکٹر دینیش چندرا، پروفیسر سیتا کماری، پروفیسر روی کمار، پروفیسر پربیلا کماری، پروفیسر پونم کماری، پروفیسر راہل راج، پروفیسر سنجو سنہا، پروفیسر سیما کماری، پروفیسر سنجے کمار نرالا، پروفیسر سورج کمار، پروفیسر بلویر کمار، ہیڈ کلرک خورشید عالم، کلرک منیش کمار، سمن ساو، پنکج کمار، منجولا کماری، لائبریرین نین کمار، لیب ٹیکنیشن پنکی کماری، کاجل کماری، رنکی کماری، سنجے کمار، ڈیٹا آپریٹر سمیر کمار، اکھلیش کمار، آرڈر پال وجے کمار یادو، کرشنانند پرساد، سہدیو پرساد، سمپری دیوی، انیتا کماری موجود رہے۔

Continue Reading

Bihar

یوم آزادی کے موقع پر مدنی پبلک اسکول سنگرام میں ثقافتی پروگرام کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
مدھوبنی(سنگرام):مدنی پبلک اسکول سنگرام میں یوم آزادی کا جشن نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ منایاگیا ، اسکول کے ڈائرکٹر محمد سعداللہ نے اسکول کے ٹیچرس ، معززین علاقہ اور بچوں کی موجودگی میںرسم پرچم کشائی سے پروگرام کا آغازکیا ۔
اسکول کے طالب علم ایان فریداوراعجازخاں نے قومی ترانہ اورقومی گیت پیش کیا ،رسم پرچم کشائی اورقومی ترانہ وگیت کے بعد یوم آزادی کی مناسبت سے مختلف کلاسوںکے بچوںنے مختلف موضوعات پر تقاریراورمکالمے پیش کئے ، جس کو حاضرین نے بے حدسراہا،چھوٹے چھوٹے بچوںکی پراعتمادپیش کش کو پروگرام کے مہمان خصوصی جھنجھارپوربلاک کے بی ڈی او نے اپنی تقریرکاموضوع بناتے ہوئے طلباکی خوب خوب حوصلہ افزائی فرمائی،انہوںنے بچوںکے سرپرستوںکو مخاطب کرتے ہوئے ہرحال میںتعلیم کی تئیں بیداررہنے اوربچوںکی روٹین چیک کی صلاح بھی دیئے ،انہوںنے کامیاب پروگرام کے انعقادپر اسکول انتظامیہ کی بھی سراہنا کی، بعدازاں پروفیسرقمرعالم خاں اورانظرعالم نے اپنی تقریرمیں یوم آزادی میںمجاہدین آزادی کی قربانی کو یادکرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ، انہوںنے خاص کر تعلیم کی اہمیت وضرورت پر بات کرتے ہوئے ہر ایک کومعاشرہ میں اپنی ذمہ داری کی تئیں مکمل ایمانداررہنے اورتعلیم کی روشنی جہاںکہیں سے بھی ملے اس کے حصول کے لئے کوشاںرہنے کا مطالبہ کیا ،انہوںنے یہ بھی کہاکہ آزادی اورجمہوریت کی حقیقی روح سے ہم سب اسی وقت فیضیاب ہوسکتے ہیں جب ہمارامعاشرہ پورے طورپر تعلیم یافتہ ہوگا۔اورہم میںکاہرایک تعلیم کو اپنے لئے اورسوسائٹی کے لئے ضروری تصورکریگا۔
پروگرام کے اخیر میں اسکول کے ڈائرکٹر محمد سعداللہ نے کہا کہ آج کا دن بزرگوں اور مجاہدین آزای کی بے لوث محنت وقربانی کے نتیجے میں ہمیں ملا ہے ، اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم موجودہ دورکے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے ایجنڈے کو ترجیح دیںجو ملک کوآگے لے جانے اور اس کی تعمیر وترقی میں معاون ومفید ثابت ہوں ۔انہوںنے پروگرام میں آئے ہوئے تمام مہمانوں،بچوںکے والدین ،مہمان خصوصی جھنجھار پوربلاک کے بی ڈی او ، پروفیسر قمر عالم خان ، انظر عالم ، سابق مکھیا عبدالرشید ، سلمان خان ، مدرسہ عارفیہ سنگرام کے اساتذہ کرام، اور تمام حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔پروگرام کی نظامت اسکول کے پرنسپل مولانا ظفراللہ قاسمی نے بخوبی انجام دیا وہیں پروگرام کو کامیاب بنانے میں محمد ارشادعالم ندوی کے ساتھ اساتذہ اسکول نے بھرپورکرداراداکیا ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network