دلی این سی آر
جامعہ ملیہ میں’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘کے موضوع پرقومی سمینار کا انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی :اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح میر انیس ہال، دیار میر تقی میر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوا۔پروگرام میں ملک بھر سے شامل ممتاز علمی ہستیوں، محققین ماہرین اور طلبہ کا استقبال کیا گیا جنہوں نے اردو میڈیم کے خصوصی حوالے سے تدریس و آموزش کے عمل میں معاصر چیلنجیز اور ابھرتے رجحانات پر اظہار خیا ل کیا۔
شکیل الرحمان رسرچ اسکالر کی تلاوت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔سمینار کے منتظم سیکریٹری ڈاکٹر عبد الواحد کے خیر مقدمی کلمات سے سمینار کے لیے مناسب فضا تیار ہوئی۔عزت و ستائش کی نشانی کے طورپر مندوبین کی خدمت میں مومینٹو پیش کیے گئے اس کے بعد شال پوشی کی رسم سے معزز مہمانا ن کی والہانہ موجودگی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر معزز مہمانان نے، سال گزشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ موضوعی مشاعرے میں پیش کی گئی نظموں کے مجموعہ ’گلدستہ موضوعی مشاعرہ ’جامعہ کی کہانی شاعروں کی زبانی‘ کا اجرا بھی کیا۔
پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و سمینار کنوینر نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے ابتدائی مراحل میں پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے حاصل رہنمائی کے لیے ان کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا۔ سمینار میں تعاون کے لیے انہوں نے ہولسٹک ٹرسٹ اور ا ردو اکادمی دہلی کابھی شکریہ اد اکیا۔ پروفیسر احمد نے سمینار میں مہمانان اور شرکا کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے ’کلاس روم کی قسمت کو اساتذہ سمت دیتے ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اسکولی تعلیم بہترین ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔انہوں نے تدریس و آموزش کے معاصر طریقوں پر اظہار خیال کے سلسلے میں سمینار کے موضوع کی معنویت بھی اجاگر کی۔
پروفیسر سارہ بیگم، کارگزار ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہردور میں تدریس و آموزش کے تقاضے سماجی تناظر میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واحد نظیر نے کلیدی خطبہ کے مہمان خطیب ڈاکٹر ندیم احمد،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ندیم احمد نے خطبہ میں موجودہ زمانے میں اساتذہ کے رول پر زور دیا اور طلبہ کی آموزش کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان کو میسروسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر گفتگو کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ان کی پیشہ ورانہ ملازمت کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسیوں، ڈیجیٹل ٹیچنگ لرننگ ریسورسیزاینڈ ایمپ پر بھی بات کی۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم بات پروفیسر ایم۔اختر صدیقی کا خطبہ تھا جنہوں نے زبان کی بنیا دپر طلبہ کے درمیان تنوع اور فرق کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت کے سلسلے میں اپنے بیش قیمت تجربات و مشاہدات ساجھا کیے۔انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں طلبہ کی مختلف سطحوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور آموزش کی الگ الگ رفتار کے تناظر میں تمام طلبہ پر کس طرح توجہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر حنا آفرین کے اظہار تشکر اور سمینار کے تکنیکی اجلاسوں کے متعلق اشارے کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد
(پی این این)
نئی د ہلی :شعبہ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شعبہ کے سیمینار روم میں ایک مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں مالدیو جمہوریہ سے علا دیدی رسرچ انالسٹ، منسٹری آف آرٹس اینڈ ہیریٹیج، انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز، وزارت برائے امور خارجہ،حکومت ہندکے اکیڈمک ویزیٹر نے شرکت کی۔
کیمپس پہنچنے پر، عبداللہ عاصم، ان کی سوشل میڈیا ٹیم اور آئی سی سی آر کے رابطہ اہل کار جناب دیپک کے ساتھ علا دیدی نے شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما اور فیکلٹی اراکین سے ملاقات کی۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر اقتدار محمد۔ خان اور ڈین، بین الاقوامی تعلقات، جے ایم آئی، پروفیسر اشویندر کور پوپلی نے بھی بات چیت میں شرکت کی۔ مہمان کو جامعہ کی شاندار تاریخ اور اس کی موجودہ توسیع اور ترقی کے بارے میں بتایا گیا۔ جناب دیدی نے جامعہ اور مالدیپ کے روابط اور ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ آنے والے مالدیپ کے طلبہ کے بارے میں دلچسپ حقائق اور معلومات بھی ساجھا کیے۔ وہ جامعہ ملیہ کے اس وقت کے شیخ الجامعہ اور ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کی طرف سے مالدیپ کے اسکالر کو لکھے گئے خط کی نقل بھی لائے تھے۔
ڈینز اور صدور شعبہ جات کے ساتھ ابتدائی ملاقات کے بعد دیدی نے طلبہ سے خطاب کیا اور ’ہند۔مالدیو تاریخی و تہذیبی وثقافتی روابط اور موجودہ اور مستقبل میں باہمی تعلقات کو بہتربنانے کے لیے ان روابط سے استفادہ کرنے‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔پروگرام میں فیکلٹی اراکین، ریسر چ اسکالر اور طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
جامعہ کی ثقافتی روایت کی عکاسی کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، شعبہ اردو کی تلاوت کلام پاک اور جامعہ ترانی کی نغمہ سرائی سے ہوا۔ شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آر کی طرف سے کئے گئے اس طرح کے اقدامات مشترکہ تعلیمی اہداف کو فروغ دینے اور باہمی تحقیق کے مواقع تلاش کرنے کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کے لیے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے فراہم کردہ فراخدلانہ تعاون اور حوصلہ افزائی کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے بعد پروفیسر اقتدار محمد کی طرف سے دعائیہ کلمات کہے گئے۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، پروفیسر خان نے اس طرح کی تعلیمی سرگرمیوں کی معنویت پر زور دیا۔
ڈین، آئی آر، پروفیسر اشویندر پوپلی نے بین الاقوامی دفتر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے شروع کی گئی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کے متعلق معلومات ساجھا کیں، جو اس کی عالمی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ڈین،۔ایف ایچ ایل،ڈین۔آئی آر اور صدر شعبہ تاریخ نے مہمان مقرر کا باقاعدہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر روہما جاوید رشید نے مہمان مقررکا باقاعدہ تعارف پیش کیا۔
دیدی نے لیکچر کے بعد پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ پروفیسر پریتی شرما اور پروفیسر اشویندر پوپلی بھی تھے۔ انہوں نے ہندوستان مالدیپ اور مغربی ایشیا سے متعلق مختلف علمی، تاریخی تعلقات، ثقافتی وابستگی اور عصری مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شیخ الجامعہ نے مہمان کو مخطوطات سے مزین جامعہ سنٹرل لائبریری کے ذخیرے کے بارے میں معلومات ساجھا کیں۔ پروفیسر آصف نے مہمانوں کو لائبریری وسائل کے کیٹلاگ بھی تحفے میں دیے۔مجموعی طور پر علمی اعتبار سے یہ ایک بھرپور اور ثمر آور تجربہ ثابت ہوا۔
دلی این سی آر
امید ہے کہ میں اچھا فیصلہ سناؤں گی ،کجریوال معاملے میں جسٹس شرماکا تبصرہ
(پی این این)
نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں جسٹس سوارن کانتا شرما کو سی بی آئی کی درخواست کی سماعت سے ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران اروند کیجریوال نے اپنے دلائل پیش کئے۔ کیجریوال نے اپنی دلیلیں ختم کرنے کے بعد جسٹس شرما نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ وہ وکیل بھی بن سکتے ہیں۔ اس پر کیجریوال نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنا راستہ چنا ہے اور اس سے خوش ہیں۔اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے جسٹس سوارن کانتا نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب انہیں کسی مقدمے سے الگ ہونے کو کہا گیا ہے۔
جسٹس شرما نے کہا، “میں نے دستبرداری کے قانونی اصولوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ میری زندگی میں پہلی بار کسی نے مجھے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اچھا فیصلہ سناؤں گی۔”اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سوارن کانتا شرما کو بتایا کہ شراب پالیسی کے معاملات میں ان کے پہلے کے فیصلوں نے عملی طور پر انہیں مجرم اور بدعنوان قرار دیا تھا، اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ ان کی بریت کے خلاف سی بی آئی کی درخواست پر سماعت جاری رکھیں گی تو انہیں انصاف نہیں ملے گا۔اروند کیجریوال نے استدلال کیا کہ جسٹس شرما کی دستبرداری سے متعلق قانونی سوال جج کی دیانتداری یا غیر جانبداری کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ اس کے بارے میں تھا کہ مدعی کے تعصب کے اندیشے ہیں۔
کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ سی بی آئی کی درخواست اور بی جے پی کے سیاسی حریف سے جڑے ایک اور کیس کے علاوہ جسٹس شرما کے سامنے کسی اور کیس کی اسی رفتار سے سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عدالت تحقیقاتی ایجنسیوں کے دلائل کی حمایت کرنے کا رجحان دکھا رہی ہے۔27 فروری کو، نچلی عدالت نے کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، اور 21 دیگر کو بری کر دیا، سی بی آئی کی سرزنش کرتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کا مقدمہ عدالتی جانچ میں پوری طرح ناکام رہا ہے اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔9 مارچ کو، جسٹس شرما نے تمام 23 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سی بی آئی کی طرف سے دائر درخواست پر ان کی بریت کو چیلنج کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ الزامات طے کرنے کے مرحلے پر نچلی عدالت کے کچھ مشاہدات اور نتائج بنیادی طور پر غلط لگے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
دلی این سی آر
ناری شکتی وندن بل،خواتین کی سیاسی شراکت کو بڑھانے کا تاریخی قدم :ریکھا گپتا
(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ “خواتین کی طاقت” ہندوستان کی مسلسل ترقی، ہمہ جہتی ترقی، اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پہچان میں مضمر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کی ہندوستانی خواتین نے اپنے لیے ایک منفرد اور طاقتور شناخت بنائی ہے، جو ملک کے فخر کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے۔
دہلی کے وگیان بھون میں ناری شکتی وندن کانفرنس میں اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب بیٹیوں کا وجود ہی خطرے میں تھا۔ معاشرتی برائیوں اور امتیازی سلوک کی وجہ سے بیٹیاں پسماندہ تھیں۔ لیکن آج زمین کی تزئین مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، وزیر اعظم کی قیادت میں، ملک اب ‘بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہم بیٹی پڑھاؤ کے ایک نئے اور سنہری دور میں داخل ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے مرکزی حکومت کی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کا وقار، تحفظ اور خود انحصاری وزیر اعظم مودی کی ہر پالیسی اور اسکیم کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت ابھیان، جس کے تحت لاکھوں بیت الخلاء بنائے گئے ہیں، نے خواتین کو کھلے میں رفع حاجت کی مجبوری سے آزاد کرکے ان کے وقار کی حفاظت کی ہے۔ اجولا یوجنا نے لاکھوں خواتین کو دھوئیں سے بھرے کچن سے آزاد کرکے ان کی صحت کو بہتر بنایا ہے۔ جن دھن کھاتوں کے ذریعے خواتین کو براہ راست بینکنگ سسٹم سے جوڑ کر، انہیں حقیقی معاشی آزادی فراہم کی گئی ہے۔ ریکھا گپتا نے ان تمام اقدامات کو خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب سنگ میل قرار دیا۔
اپنی تقریر کے آخر میں وزیر اعلیٰ نے ناری شکتی وندن ایکٹ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کی زیر قیادت ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ ایکٹ ملک کی تقریباً 700 ملین خواتین کے لیے سیاست اور عوامی زندگی میں بااختیار قیادت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے خواتین سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنی فعال شرکت کو یقینی بنائیں، کیونکہ خواتین کی طاقت کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ناری شکتی وندن ایکٹ، جسے باضابطہ طور پر 128 ویں آئینی ترمیمی بل (اور اب 106 ویں آئینی ترمیمی ایکٹ) کے نام سے جانا جاتا ہے، ہندوستان میں خواتین کی سیاسی شرکت کو بڑھانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ قانون ہندوستانی پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33فیصد نشستیں ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
