Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’اسلامی قانون کے ارتقا اور مسلم خواتین کی حالت کی تبدیلی‘ کے موضوع پر خطبے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :انڈیا عرب کلچر سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’دورجاہلیہ سے قانونی اصلاحات تک:اسلامی قانونی اور مسلم خواتین کی تبدیل ہوتی حالت‘ کے موضوع پرسینٹر کے کانفرنس روم میں توسیعی خطبے کا اہتمام کیا۔پروگرام کی صدارت سینٹر آف ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ہمایوں اختر نجمی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد آفتاب نے انجام دیے۔
سینٹر کے ڈائریکٹر،ڈاکٹر محمد آفتاب نے اس نوع کے علمی پروگرام کے لیے جو طلبہ اور فیکلٹیز میں بامعنی بحث و مباحثے کی راہیں ہموار کرتا ہے اس کے انعقاد کی منظوری دینے اور تعاون و سرپرستی کے لیے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پروگرام کی صدارت کی دعوت قبول کرنے اور طلبہ کو اپنے علمی تجربات سے مستفید کرنے کے لیے پروفیسر ہمایوں اختر نجمی کا بھی شکریہ اداکیا۔سینٹر کے ڈائریکٹر نے توسیعی خطبے کے موضوع کے ساتھ ساتھ خطیبہ ڈاکٹر علیشہ خاتون،فیکلٹی آف لا کا تعارف بھی پیش کیا اور خطاب کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ بھی اد اکیا۔
صدر اجلاس پروفیسر ایچ۔اے۔نجمی نے سامعین کو موضوع سے متعار ف کراتے ہوئے قبل اسلام عرب سوسائٹی کی سماجی وتہذیبی نیز سیاسی صور ت حال کا عمومی اور خواتین کی صور ت حال کا خصوصی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کی آمد کے بعد صور ت حال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن عہد حاضر کے تناظر میں متعدد ایسی باتیں ہیں جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معاصر سماج سے متعلقہ ضرورتوں اور تقاضوں سے عہدہ برآں ہوا جاسکے۔
پروگرام کی خطیبہ ڈاکٹر علیشہ خاتون نے اسلامی دنیا میں طویل تاریخی ارتقا، قبل اسلام(دور جاہلیہ) سے اسلامی قانون (شریعہ) اور شریعہ سے موجودہ قانونی اصلاحات تک مسلم خواتین کی صور ت حال کا جائزہ پیش کیا۔دور جاہلیہ جو عام طورپر سماجی رسوم و روایات سے عبار ت ہے اس نے خواتین کو حاشیے پر ڈال دیا تھا،ابتدائی اسلامی تعلیمات نے انقلاب آفریں تبدیلیاں پیدا کیں،خواتین کو شادی،میراث اور معاشی زندگی میں حقوق دیے گئے۔ صدیوں پر پھیلی اسلامی تاریخ میں فقہ اور سماجی و تہذیبی رسوم نے مسلم معاشرے میں خواتین کی حالت کو متاثر کیا ہے۔آج کے زمانے میں قانونی اصلاحات کو عام طور پر نوآبادیات سے رابطے میں آنے،قومیت، اور خواتین کے حقوق سے متعلق تحریکات سے اثر پذیر ی نے خواتین کے حقوق اور ان کی حالت کو مزید نئی سمت دی ہے۔
قبل اسلام سے لے کر اسلامی قانونی اصلاحات کا ارتقا مسلم خواتین کے حقوق کے وسیع ہوتے دائرے کے نقطہ اتصال کو بتاتاہے جس کے پس پشت تاریخی، تہذیبی و ثقافتی اور سیاسی وجوہات رہی ہیں۔اوائل اسلامی قانون نے خواتین کو اہم تحفظات اور حقوق عطا کیے۔صدیوں تک فقہی تشریحات اور سماجی اصولوں نے چند آزادیوں کو محدود کرکے رکھا۔قومی مقننہ اور خواتین کی تحریکات سے زیر اثر موجودہ قانونی اصلاحات نے خواتین کے مقام و مرتبے اور حالت کو مزید تبدیل کیاہے اور عصری انسانی حقوق کے نظریات کے ساتھ مذہبی و دینی اصولوں کو ہم آہنگ کیا ہے۔جاری بحث و مباحثے مسلم معاشروں میں روایت، اصلا ح اور صنفی انصاف کے باہمی متحرک رشتے کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار علی انصاری،اے آئی سی سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اظہار تشکر پر پروگرام اختتام پذیرہوا۔انہوں نے پروفیسر ایچ۔اے نجمی،ویسٹ ایشیا کے ساتھ ساتھ پروفیسر ناصر رضا خان، آئی اے سی سی،ڈاکٹر محمد آفتاب احمد،اور ویسٹ ایشیا اور عرب کلچر سینٹر کے تمام فیکلٹی اراکین کاشکریہ ادا کیا۔

دلی این سی آر

E-20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول پرکجریوال کا ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کولکھا خط

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کو خط لکھ کر ایک ہفتے کے اندر یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا 2023 سے پہلے تیار ہونے والی پرانی گاڑیوں میں E-20 (20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول) کا استعمال محفوظ ہے یا نہیں۔ انہوں نے ٹویوٹا، ہیرو اور ماروتی سوزوکی کو الگ سے خط لکھا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں نے 4 جولائی کو ایک سرکاری پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 کا استعمال محفوظ ہے۔ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ ان کمپنیوں کی اونر مینول تو واضح طور پر کہتی ہے کہ 2023 سے پہلے تیار ہونے والی گاڑیوں میں 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملا ہوا پٹرول استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے میں کمپنیاں تحریری طور پر ملک کو بتائیں کہ آیا واقعی E-20 محفوظ ہے اور کیا اس سے مائلیج صرف 4 سے 5 فیصد ہی کم ہوتی ہے؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ اگر E-20 کے استعمال سے کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا گاڑی کا کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا یہ کمپنیاں صارف کو اس کا معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے باقی 26 آٹو موبائل کمپنیوں کو بھی الگ خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں کہ آیا ان کی 2023 سے پہلے تیار شدہ گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس سے مائلیج کتنی کم ہوگی، گاڑی کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اگر کسی صارف کو نقصان ہوا تو کیا کمپنی اس کی تلافی کرے گی؟ بدھ کو عام آدمی پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں دہلی ریاستی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی تمام پٹرول سے چلنے والی دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو خط لکھیں گے تاکہ وہ E-20 کے بارے میں اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ اسی سلسلے میں آج 29 کمپنیوں کو خطوط بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 29 کمپنیوں میں سے تین کمپنیوں، ماروتی سوزوکی، ٹویوٹا کرلوسکر اور ہیرو کو الگ خط لکھا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے 4 جولائی کی سرکاری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کرنا محفوظ ہے اور اس سے صرف 3 سے 5 فیصد مائلیج کم ہوتی ہے، جبکہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کیجریوال نے کہا کہ ان کمپنیوں کی سرکاری پریس کانفرنس میں دی گئی باتوں اور ان کی اپنی اونر مینول کے درمیان واضح تضاد موجود ہے۔ ایک طرف کمپنی کی اونر مینول صارف اور کمپنی کے درمیان معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، جو 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول والے پٹرول کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ دوسری طرف کمپنی کے نمائندے عوامی سطح پر E-20 کو محفوظ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی غلطی یا تکنیکی تضاد نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے، اس لیے کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر تحریری طور پر عوام کو بتائیں کہ آیا پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے صرف 4 سے 5 فیصد ہی مائلیج کم ہوتی ہے؟ اور کیا گاڑی کے کسی پرزے کو نقصان نہیں پہنچتا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا E-20 کے استعمال سے کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا کمپنیاں اس صارف کو مکمل معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے بتایا کہ باقی 26 کمپنیوں کو بھی ایک عمومی خط بھیجا گیا ہے، جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ E-20 کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں، کیونکہ اس وقت ملک بھر میں اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ E-20 مکمل طور پر محفوظ ہے، تو کیا وہ مائلیج میں کمی یا گاڑی کے پرزوں کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری بھی قبول کریں گی؟ مجھے امید ہے کہ تمام کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر اس کا واضح جواب دیں گی، کیونکہ یہ ملک کے کروڑوں صارفین سے متعلق انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اروند کیجریوال نے اعلان کیا کہ جمعرات کو وہ مختلف پٹرول پمپوں، سروس سینٹروں اور مکینکوں سے ملاقات کریں گے اور عام صارفین کی رائے جانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت E-20 کو ہر حال میں نافذ کرنے پر بضد ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ اس سے گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، صرف معمولی مائلیج کم ہوتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عوام کا تجربہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب عوام اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں کبھی اینٹی نیشنل اور کبھی کسی لابی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اب خود بڑے آٹو بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی اس پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ ملک کے 140 کروڑ عوام کو غدار یا دہشت گرد کہنا مناسب نہیں۔ اگر مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ بھی اس فیصلے سے پریشان ہیں تو ایک ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے۔اروند کیجریوال نے آخر میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سائنس، منطق اور انجینئرنگ کے اصولوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ عوامی مفاد میں نظر نہیں آتا، البتہ یہ کس کے مفاد میں ہے، اس کا جواب ابھی تک عوام کو نہیں ملا ہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

ایل جی نے 20سے زیادہ پرجیکٹوں کو دی منظوری

Published

on

 

(پی این این)
نئی دہلی :لیفٹیننٹ گورنر سندھو نے سنتھ میں میٹرو ڈپو کے لیے 20 ہیکٹر اراضی اور نریلا میں ایک کاسٹنگ یارڈ کے لیے 16 ہیکٹر اراضی دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کو دیگر پروجیکٹوں کے علاوہ مختص کی ہے۔
چار پولیس اسٹیشنوں، دو لیبارٹریوں اور دو آئی بی اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کرتے ہوئے، ایل جی سندھو نے 20 سے زیادہ پروجیکٹوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کو دور کیا جو برسوں سے رکے ہوئے تھے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے کئی سالوں سے رکے ہوئے کئی پروجیکٹوں کی ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرکے دہلی کے لوگوں کو ایک بڑا تحفہ دیا۔ انہوں نے 20 سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے ڈی ڈی اے کو اراضی مختص کرنے کی منظوری دی۔ یہ تمام منصوبے زمین کی کمی کی وجہ سے رک گئے تھے جس کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔
اب ان کی تکمیل کا راستہ کھل گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ یہ منصوبے مختلف محکموں کے درمیان تال میل کے فقدان کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے۔ تاہم ایل جی سندھو کی جانب سے زمین مختص کرنے کے بعد اب امید ہے کہ ان تمام پروجیکٹوں پر کام شروع ہو جائے گا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے دلکش باغ، ساگر پور، کشن گڑھ میں نئے پولیس اسٹیشنوں، نریلا میں ایک فارنسک سائنس لیبارٹری، دھیر پور اور طاہر پور میں انٹیلی جنس بیورو اسٹیشن، دوارکا سیکٹر 19 اور منگل پوری میں سب رجسٹرار آفس اور کمیونٹی کے لیے زمین بھی الاٹ کی۔
مزید برآں، آیوشمان آروگیہ مندروں کے لیے 112 نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) اور پانچ اٹل کینٹین کے لیے جاری کیے گئے۔مزید برآں، لیفٹیننٹ گورنر نے ہولمبی کلاں میں ای ویسٹ ایکو مینجمنٹ پارک کے لیے ڈی ڈی اے کی درخواست کردہ 8.5 ہیکٹر اراضی اور غازی پور لینڈ فل سائٹ کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی جانب سے درخواست کردہ 10 ایکڑ اراضی کی منتقلی کو منظوری دی۔ فضلہ سے توانائی اور بائیو میتھینائزیشن کی سہولیات کی توسیع کے لیے اضافی 10.4 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے۔ LG نے MCD کو 24 فکسڈ کمپیکٹر ٹرانسفر اسٹیشن سائٹس کے لیے زمین بھی مختص کی ہے۔اہلکار نے مزید بتایا کہ ایل جی سندھو نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کو سنوت میں میٹرو ڈپو کے لیے 20 ہیکٹر اور نریلا میں کاسٹنگ یارڈ کے لیے 16 ہیکٹر زمین مختص کی ہے۔شہر میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کو 151 بورویل لگانے کے لیے زمین دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، آٹھ مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) اور سیوریج پمپنگ اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ جونتی میں ایک ایس ٹی پی اور سنگم وہار میں ایک زیر زمین ٹینک کے لیے زمین مختص کی گئی ہے۔تعلیم کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے، لیفٹیننٹ گورنر نے نریلا میں گرو گوبند سنگھ اندرا پرستھ یونیورسٹی (جی جی ایس آئی پی یو) کے دو نئے کیمپس کے لیے 22.43 ایکڑ اراضی، دہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے دو نئے کیمپس کے لیے 12.69 ایکڑ اور سنٹرل یونیورسٹی کے لیے 1,200 مربع میٹر زمین مختص کی ہے۔ جوالاپوری میں جواہر نوودیا ودیالیہ، شالیمار باغ اور کراول نگر میں اسکولوں اور روہنی اور شاہدرہ میں عدلیہ کے عملے کی رہائش کے لیے 4.1 ایکڑ اراضی بھی مختص کی گئی ہے۔اس بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایک اہلکار نے کہا، “عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، ایل جی کی توجہ تمام متعلقہ محکموں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے، اور انہوں نے محکموں کو بھی ایسا کرنے کی ہدایت کی ہے۔” دریں اثنا، بدھ کے روز، انہوں نے سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف محکموں کے مختلف منصوبوں کے لیے زمین الاٹ کی۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

اسکولوں فیس بڑھانے کیلئے ڈائریکٹوریٹ کو دینی ہوگی درخواست

Published

on

 

نئی دہلی :راجدھانی دہلی میں نجی اسکولوں کی جانب سے من مانی رویوں اور فیسوں میں اضافے سے متعلق شکایات کی روشنی میں دہلی حکومت نے سخت کارروائی کی ہے۔ اب نجی اسکولوں کے لیے لازمی ہو گیا ہے کہ وہ فیسوں میں اضافے کی اطلاع ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو دیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں تمام تسلیم شدہ اور غیر امدادی نجی اسکولوں کے لیے معلومات کے تبادلے کے فارمیٹ پر نظر ثانی کی گئی۔ اسکولوں کو نئے فارمیٹ میں فیس میں اضافہ اور دیگر معلومات ڈائریکٹوریٹ کو جمع کرانے کی ضرورت ہوگی۔ ڈائریکٹوریٹ ان معاملات کی تحقیقات کرے گا۔
ڈائریکٹوریٹ نے نئے فارمیٹ میں اسکول کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے سے متعلق بھی معلومات طلب کی ہیں۔ اس میں اساتذہ کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ منظور شدہ عہدوں کی کل تعداد اور فی الحال بھری ہوئی آسامیوں کی تعداد شامل ہے۔ کلاس اور زمرے کے لحاظ سے اسکول کے طلبہ اور استاد کے تناسب اور طلبہ کے اندراج کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔
دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے حال ہی میں کہا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کو اب 18 مقررہ پیرامیٹرز کی بنیاد پر کسی بھی مجوزہ فیس میں اضافے کا جواز پیش کرنا ہوگا اور والدین کو راضی کرنا ہوگا کہ فیس میں اضافہ جائز ہے۔ وزیر نے کہا کہ دہلی حکومت نے تمام نجی غیر امدادی اسکولوں کو دہلی اسکول ایجوکیشن (فیس طے کرنے اور ریگولیشن میں شفافیت) ایکٹ، 2025 کے تحت 15 جولائی تک اسکول سطح کی فیس ریگولیشن کمیٹی (SLFRC) تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر نے کہا کہ فیس میں تبدیلی کے خواہاں اسکولوں کو اپنی تجاویز کمیٹی کو پیش کرنی ہوں گی اور قواعد کے تحت تجویز کردہ 18 پیرامیٹرز کی بنیاد پر مجوزہ اضافے کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ “ان پیرامیٹرز میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نقل و حمل کی سہولیات، اسکول کی عمارتوں، حفاظتی اقدامات، روشنی، عملے کی بھرتی، اور دیگر ادارہ جاتی ضروریات شامل ہیں،” وزیر نے کہا۔ اسکولوں کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ مجوزہ فیس میں اضافہ حقیقی اصلاحات سے منسلک ہے اور اس کی حمایت کے لیے ان کے پاس مالی ریکارڈ موجود ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network