دلی این سی آر
ورلڈ عربک ڈے کے موقع پر دہلی یونیورسٹی میں شاندار پروگرام کاانعقاد
(پی این این)
نئی دہلی :عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام دو روزہ مسابقاتی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کے تحت پانچ مسابقاتی پروگرام اور ایک عربی ڈرامہ پیش کیا گیا۔ اس دو روزہ پروگرام کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ کے سینئر ذمہ داران اور مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے عربی کے اساتذہ نے عربی زبان کی دھمک اور اس کی مہک کو محسوس کرتے ہوئے شعبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو خوب سراہا۔
پروگرام کے پہلے دن شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، ذاکر حسین کالج، سینٹ اسٹیفن کالج، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے مابین جونیئر اور سینئر زمروں میں تقریری مقابلے، خطاطی، عربی بیت بازی اور عربی نغمات کے مسابقے منعقد کیے گئے۔ان مسابقاتی پروگراموں میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پروفیسر رضوان الرحمن اور پروفیسر اشفاق احمد، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر نسیم اختر اور پروفیسر فوزان احمد، اگنو سے پروفیسر محمد سلیم اور دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر نعیم الحسن،ڈاکٹر مجیب اختر اور ڈاکٹر محمد اکرم نے بطور حکم (ججز) فرائض انجام دیے۔ ججز نے طلبہ کی کارکردگی، عربی زبان سے ان کی وابستگی اور ہندوستانی تہذیب کو عربی زبان کے ذریعے عالمی سطح پر پیش کرنے کے جذبے کو سراہا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ان مسابقاتی پروگراموں میں بڑی تعداد میں شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے پارٹ ٹائم کورسیز سرٹیفکیٹ، ڈپلومہ اور ایڈوانس ڈپلومہ سے وابستہ طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور نمایاں پوزیشن حاصل کیں۔ مختلف زمروں میں ضیاء القمر، تاجدار احمد، محمد آفاق، محمد زکریا، محبوب عالم اور جویریہ (دہلی یونیورسٹی) نے ’’مصنوعی ذہانت اور عربی زبان‘‘ اور ’’موجودہ دور میں عربی زبان: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے عربی تقریر میں ، محمد مونس، محمد عاصم، محمد اسجد علی، فیض احمد اور محمد سعد (جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی ٹیم نے بیت بازی میں ، تزکیہ ازکی، آفرین اور ارم یامین (دہلی یونیورسٹی) نے خطاطی میں جبکہ حافظ محمد شارق (ذاکر حسین کالج)، محمد مونس (جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور نمرہ (سینٹ اسٹیفن کالج) نے عربی نغمات کے مقابلے میں بالترتیب اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔ تمام کامیاب طلبہ کو نقد انعامات اورمولانا محمد یوسف اصلاحی ،مولانا سیدمحمد عبادت،پروفیسر ولی اختر ندوی اور پروفیسر نثار احمدفاروقی کے نام سے موسوم تشجیعی اسناد سے نوازا گیا۔ پہلے دن کے سیشن کی نظامت پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر اصغر محمود نے کی، جبکہ اظہارِ تشکر شعبہ کے استاد ڈاکٹر محمد اکرم نے ادا کیا۔
دوسرے دن منعقدہ تقریبِ تقسیمِ انعامات سے قبل شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر سید حسنین اختر نے افتتاحی گفتگو میں عربی زبان کی لسانی و ثقافتی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شعبۂ عربی گزشتہ دو برسوں سے عالمی یومِ عربی کے موقع پر مسابقاتی پروگرام منعقد کر رہا ہے اور ہر سال اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں کا بنیادی مقصد طلبہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ججز کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پارٹ ٹائم کورسز کے طلبہ کی کارکردگی دیگر جامعات کے لیے ایک نمونہ بن کر سامنے آئی ہے۔
تقریب کی صدارت کررہے ڈین کلچر کونسل، دہلی یونیورسٹی پروفیسر رویندر سنگھ نے اپنے صدارتی خطاب میں شعبۂ عربی کی ثقافتی و ادبی سرگرمیوں اور پروگرام میں پیش کی گئی تقریروں کے موضوعات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ موضوعات نہایت اہم اور حساس ہیں،چنانچہ مصنوعی ذہانت نے تقریباً تمام زبانوں کو متاثر کیا ہے،انھوں نےہندوستانی ثقافت و مختلف زبانوں کے کلاسیکی متون کو عربی زبان میں منتقل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عربی زبان کی صوتی نغمگی کو ایک نظم کے ذریعے پیش کیا۔پروگرام کی مہمانِ خصوصی پروفیسر نیرا اگنی مترا، چیئرپرسن شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، دہلی یونیورسٹی نے شعبۂ عربی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے عربی زبان اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی اور عرب ممالک کی جامعات کے درمیان تعلیمی معاہدات پر بھی زور دیا۔ اس سے قبل شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر محمد نعمان خان نے عالمی دن برائے عربی زبان کے ابتدائی دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کو اگر چھوڑدیا جائے تو ہندوستان میں جس انداز، سرگرمی اور دلچسپی کے ساتھ شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی اس دن کو مناتا ہے، اس کی مثال دیگر جامعات کے شعبۂ عربی میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے یہاں کے طلبہ کی مؤثر کارکردگی پر انہیں مبارکباد پیش کی اور شعبۂ عربی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر مجیب اختر نے کی جبکہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر اصغر محمود نے ادا کیا۔ پروگرام میں شعبۂ فارسی کے سینئر استاد پروفیسر علیم اشرف، ڈاکٹر ضیاء الرحمن، کشمیر سے آئے ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر شمیم احمد، ڈاکٹر مشتاق (سینٹ اسٹیفن کالج)، ڈاکٹر آصف اقبال، ڈاکٹر ابو تراب، پریتی بھارتی، محمد اسامہ اور دیگر گیسٹ فیکلٹیز کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںمنایا گیاعالمی فیزیو تھیراپی ڈے
(پی این این)
نئی دہلی : سینٹر فار فزیوتھیرپی اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن سائنسز ( سی پی آر ایس)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عالمی یومِ فزیوتھیرپی ‘ دوہزار چھبیس‘ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ ان سرگرمیوں کا مرکزی موضوع’’قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیراپی اور جسمانی سرگرمی کا کردار تھا‘‘۔
ان تقریبات کے سلسلے میں، سی پی آر ایس نے ’ابوالفضل آر ڈبلیو اے کے اشتراک سے پانچ ستمبر دوہزارچھبیس کو اوکھلا، نئی دہلی کے جامعہ نگر (ڈی-بلاک) میں واقع آرڈبلیو اے کے دفتر میں کمیونٹی کی سطح پر ایک مفت فزیوتھیراپی کیمپ منعقد کیا۔ اس کیمپ کا مقصد کمیونٹی کے اراکین میںدل کی صحت، فالج سے بچاؤ، جسمانی سرگرمی اور صحت و عملی خود مختاری کو برقرار رکھنے میں فزیوتھیرپی کے کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ واضح ہو کہ یہ کیمپ ڈاکٹر معظم حسین خان کی نگرانی میں منعقد کیا گیا تھا۔تقریبات میں سات ستمبر دوہزار چھبیس کو کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جن کا مقصد شرکا میں جسمانی سرگرمی اور دل کی صحت کو فروغ دینا تھا۔ جسمانی طور پر فعال رہنے کے لیے شرکا کو تحریک دی گئی جس کے لیے ان سے کہا گیا کہ وہ صحت مندانہ مقابلوں میں حصہ لیں۔
اس سلسلے میں بیڈمنٹن، والی بال، ریلے ریس، رسہ کشی، کھو-کھو اور بازو کی کشتی (آرم ریسلنگ) جیسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن سے شرکا کو اپنی جسمانی تندرستی وصحت، باہمی ہم آہنگی، قوتِ برداشت اور ٹیم ورک کو بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ پروفیسر سورج کمار اور ڈاکٹر محمد شاہد رضا نے کھیلوں کاپروگرام کوآرڈی نیٹ کیا تھا۔ پروگرام کا اختتام آٹھ ستمبر دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی پولی ٹیکنک آڈیٹوریم ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے ساتھ ہوا، جس میں قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیرپی اور جسمانی سرگرمی کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس لیکچر پروگرام میں طب اور فزیوتھیرپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔
سر گنگا رام اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ فزیشن اور صدرِ ہند کے سابق معالج، ڈاکٹر محسن ولی (پدم شری) نے شرکا سے خطاب کیا۔ آئی ایس آئی سی ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر اور آپریشنز ہیڈ ڈاکٹر رمشہ صدیقی، اور اپولو نالج کی کارڈیو ریسپائریٹری فزیوتھراپسٹ اور اسسٹنٹ ڈین ڈاکٹر برنالی بھٹاچاریہ نے بھی قلبی صحت، جسمانی سرگرمی اور بحالی سے متعلق اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ڈاکٹر اقصی مجددی،اسسٹنٹ پروفیسر ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروگرام انچارچ کی رہنمائی میں کیا گیا۔عالمی یومِ فزیوتھیرپی کی تقریبات کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی پی آر ایس کے ڈائریکٹر، پروفیسر مجومی ایم نوہو کی رہنمائی میں ہوا۔ان اقدامات کے ذریعے ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قلبی امراض کی روک تھام، فالج کے خطرے کو کم کرنے اور صحت یابی و بحالی میں معاونت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور عوامی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دلی این سی آر
برکس سمٹ: 35 سڑکیںٹریفک سے رہیں گی متاثر
نئی دہلی :دہلی والوں کے لیے یہ بہت اہم خبر ہے۔ 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران، بہت سی سڑکیں بند رہیں گی اور ڈائیورشن اپنی جگہ پر ہوں گے۔ ٹریفک پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سفر پر جانے سے پہلے ایڈوائزری کو چیک کریں۔دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ چوٹی کانفرنس 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں ہونے والی ہے۔ تاہم غیر ملکی وفود اور خصوصی مہمانوں کی نقل و حرکت کے باعث 10 ستمبر سے 14 ستمبر تک ٹریفک کی پابندیاں جاری رہنے کی توقع ہے۔ سمٹ کے دوران 35 سے زیادہ سڑکوں کے متاثر ہونے کی توقع ہے۔ تقریباً 4,800 اہلکار ٹریفک کنٹرول کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔متاثر ہونے والی بڑی سڑکوں میں سردار پٹیل مارگ، مدر ٹریسا کریسنٹ، تین مورتی مارگ، اکبر روڈ، تیس جنوری مارگ، راجیش پائلٹ مارگ، سبرامنیم بھارتی مارگ، متھرا روڈ، موتی لال نہرو مارگ، ڈاکٹر ذاکر حسین مارگ، جن پتھ، اشوکا روڈ، براکھمبا روڈ، ٹالسٹائی مارگ، نتھل مارگ، نتھل مارگ، اے۔ مارگ، اے پی جے عبدالکلام روڈ، پریس انکلیو روڈ، لال بہادر شاستری مارگ، جوزف بروز ٹیٹو مارگ، اور لالہ لاجپت رائے مارگ۔نوئیڈا-مشرقی دہلی پر اثر: نوئیڈا اور مشرقی دہلی سے پرگتی میدان، وسطی دہلی اور شہر کے دیگر حصوں تک سفر کرنے والے لوگوں کو اہم رابطہ سڑکوں پر پابندیوں کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوارکا-دھولا کوان روٹ: دوارکا اور مغربی دہلی سے دھولا کوان، ہوائی اڈے اور وسطی دہلی جانے والے لوگوں کو وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک جام اور موڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جنوبی دہلی تشویش: مصری وفد کی ساکیت اور وسطی دہلی میں واقع اس کے ہوٹل کے درمیان نقل و حرکت جنوبی دہلی کے پہلے سے بھیڑ والے علاقوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص طور پر مصروف اوقات کے دوران۔ ٹریفک پولیس نے پہلے ہی یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور وفد کی رہائش وسطی دہلی میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ریئل ٹائم نیویگیشن: ٹریفک پولیس نے آن لائن میپ سروسز کو تعینات کیا ہے۔
دلی این سی آر
ستیہ نکیتن حادثہ : قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میںچلے گا بلڈوزر
نئی دہلی :دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک پی جی عمارت گرنے سے پانچ طلباء سمیت سات افراد کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی ٹیم خطرناک عمارتوں، غیر مجاز تعمیرات اور عمارت کے ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی بلڈوزر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایم سی ڈی ٹیم کی بلڈوزر کارروائی قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میں جاری رہنے کی امید ہے۔ایم سی ڈی نے دہلی کے تمام 12 زونوں میں مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہ کارروائی ستیہ نکیتن میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے چند دن بعد ہوئی ہے، جس میں طلباء کے لیے ادائیگی کرنے والے مہمان (PG) کی رہائش تھی۔ سات افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوئے۔لکشمی نگر، جگت پوری، اور پانڈو نگر جیسے علاقوں سے آنے والے مناظر میں ایم سی ڈی کی ٹیموں کو عمارت کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
پچھلے دو تین دنوں کے دوران، ایم سی ڈی کی ٹیموں نے وشواس نگر، مکھرجی نگر، جامعہ نگر، شاہین باغ، تلک نگر، کرم پورہ، قرول باغ، رمیش نگر، مانسروور گارڈن، چاندنی چوک، اور نہرو وہار میں بھی کارروائیاں کیں۔ ان علاقوں میں آپریشن جاری رہنے کی توقع ہے۔دریں اثنا، ایم سی ڈی نے 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت سے ملحقہ عمارت کو کنٹرول شدہ انہدام کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہدام کا عمل مرحلہ وار اور کنٹرولڈ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
یہ آپریشن دہلی بھر میں غیر مجاز تعمیرات، جائیدادوں کے غیر قانونی استعمال اور ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ستیہ نکیتن کی عمارت گرنے کے بعد اس مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد شروع کی گئی حفاظتی تشخیصی مہم کے ایک حصے کے طور پر، MCD نے 7 سے 9 ستمبر کے درمیان 1,252 ادائیگی کرنے والی مہمان عمارتوں کا سروے کیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، 1 جون سے 9 ستمبر کے درمیان، شہری ادارے نے 1,053 مسماری کی کارروائیاں کیں، 491 جائیدادوں کو سیل کیا، اور 2,316 کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور شہر بھر میں 7 سے 9 کو مسمار کرنے کے نوٹسز جاری کیے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
