دلی این سی آر
پریم چنداور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی تہذیب کابیش قیمت ورثہ: پروفیسر مظہر آصف
جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈلٹریری سنٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کاپریم چندیادگاری خطبہ
(پی این این)
نئی دہلی :پریم چند اور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی ادب کابیش قیمت ورثہ ہے۔یہ دونوں مایہ نازادیب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے علمبردار ہیں۔ان کے ادب سے میری گہری دلچسپی اور خاص شغف ہے۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ نویں پریم چند یادگاری خطبے کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا۔انھوں نے فرمایاکہ جامعہ کے اس ادبی مرکز جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کومزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام کاانعقاد ہوناچاہیے۔پروفیسر مظہر آصف نے پریم چندکی ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی اور موجود ہ عہد میں اس کی اہمیت پر اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالر ز کی توجہ مبذول کرائی۔
پریم چندیادگاری خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد سابق صدر شعبۂ اردو،ماہر پریم چندپروفیسر صغیرافراہیم نے پیش کیا۔اپنے خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے فن کی امتیازی خصوصیات کو بیان کیا۔انھوں نے پریم چند کے فکشن کے موضوعات،اسلوب اورتکنیک پر روشنی ڈالی۔پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے بیشتر ناولوں اور متعدد افسانوں کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ پریم چند نے ہمارے فکشن کو نئے موضوعات،نئے اسالیب اور نئی فکری سمت عطا کی ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے متون پر نئے فن پارے تخلیق کیے گئے ہیں۔پریم چند نے اپنے بیانیہ کو پر اثر بنایااور دلکش مکالموں کے ذریعہ کرداروں کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ پریم چند کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ وہ تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاًفکشن کی ہیئت، ساخت اور فنی نکات متعارف کرانے کے خواہاں تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمدخاں ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیزاینڈلنگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پریم چند کے گہر ے رشتے کاذکر کیاکہ جامعہ کی خدمات کو پریم چند نے بے حد محبت سے سراہاتھااور اس ادار ے کو ہندوستان کاعظیم سیکولر ادارہ قرار دیاتھا۔انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ پہلی بار رسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا۔اس جلسے کے مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہر ی صدر شعبۂ اردواور پروفیسر نیرج کمار صدرشعبۂ ہندی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی خطاب کیا۔ان دونوں مہمانان نے پریم چند کے فن کی خوبیوں اور ان کی ادبی خدمات کامفصل ذکر کیا۔پروفیسر کوثر مظہری نے اس خواہش کااظہار کیاکہ جامعہ کے اس مرکز میں پریم چند کے تعلق سے مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کو جمع کیاجاناچاہیے تاکہ پریم چند کے محققین اور شیدائی یہاں رجوع کر سکیں۔
اس موقع پر جامعہ پریم چندآرکائیوز اینڈلٹریری سنٹر کے ڈائرکٹرپروفیسر شہزاد انجم نے فرمایاکہ پریم چند کاجامعہ سے گہرارشتہ رہاہے۔ جامعہ کے بزرگوں نے اس ادار ے کانام پریم چند کے نام پر رکھا۔پریم چند کی تخلیقات رسالہ’’ جامعہ‘‘ میں چھپیں اور ان کے کئی ناول مکتبہ جامعہ سے شائع ہوئے۔پریم چند نے 8مارچ 1936عیسوی کو جامعہ میں’’ہندوستانی سبھا‘‘کاقیام کیا۔اس موقعے پر انہوںنے ہندی او ر اردو کے ادیبوں کو جمع کیااور ان سے یہ فرمایاکہ ہندی اور اردو کے ادیبوں کو ایک ساتھ جمع ہوناچاہیے۔ایک دوسرے کی تخلیقات اور تحریروں کو پڑھنااو ر سنناچاہیے۔اس سے آپسی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں گی اور ملک میںخوشگوار محبت کی فضاقائم ہوگی۔پروفیسر شہزاد انجم نے مزید فرمایاکہ اس سینٹر کی خدمات بیش بہاہیں۔اسے مزید فعال کیاجائے گااور اسے ادیبوں کاایک بڑامرکز بنایاجائے گا،جہاں تمام زبانوں کے ادیبوں،اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ اور طالبات کو اظہار خیال کاموقع ملے گااور پریم چند کے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی۔جلسے کاآغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہواجسے ڈاکٹرمحمد شاہ نواز فیاض نے پیش کیا۔منشی پریم چند اورخطیب پروفیسر صغیر افراہیم کاتعارف محترمہ شردھاشنکر صاحبہ نے پیش کیاجبکہ جلسے کے آخر میں محترمہ اسگندھارائے نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف،جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم،ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں،مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسر نیرج کمار،جامعہ کے تمام اراکین،لائبریرین، اساتذہ،ریسرچ اسکالرز،طلبہ و طالبات اور سینٹر کے تمام ملازمین کاشکریہ اداکیا،جن کے بھر پور تعاون سے یہ جلسہ کامیاب ہوا۔اس جلسے میں خصوصی طور پر پروفیسر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹرمحی الدین زور (کشمیر)،پروفیسر شہپر رسول،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،پروفیسر سرور الہدی،پروفیسر ممتاز احمد،ڈاکٹرمشتاق احمد تجاوری،ڈپٹی لائبریرین سفیان احمد،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد عامر،ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر سید تنویر حسین،ڈاکٹرمحمدمقیم،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر راہین شمع،ڈاکٹرمحمدآدم،ڈاکٹر ثاقب عمران،ڈاکٹر شاداب تبسم،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر ثاقب فریدی،ڈاکٹر راحت افزا،ڈاکٹر خان محمد رضوان اور بڑی تعداد میںہندی،اردواور دیگر زبانوں کے ریسرچ اسکالرزاور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔
دلی این سی آر
ڈرون پالیسی متعارف کروا رہی ہےدہلی حکومت
نئی دلی :ریکھا گپتا، دہلی کی حکومت جلد ہی ڈرون پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف سرمایہ کاری کو راغب کرے گا بلکہ نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ ڈرافٹ ڈرون پالیسی کے مطابق، ڈرون جلد ہی دارالحکومت میں تعینات کیے جاسکتے ہیں تاکہ کھلے میں جلنے اور تعمیرات سے ہونے والی دھول کا پتہ لگایا جاسکے، کوڑا کرکٹ پھینکنے اور جمنا کے کنارے پر تجاوزات کی نگرانی، خواتین کی حفاظت کے لیے حساس علاقوں کی نگرانی، اور ہنگامی کالوں کے جواب میں تیزی سے مدد فراہم کی جاسکے۔ایچ ٹی کے مطابق دہلی حکومت کے محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ڈرون پالیسی کا یہ مسودہ تیار کیا ہے۔ اس نے 2026-27 اور 2030-31 کے درمیان ڈرون ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے تقریباً 85 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس ماحولیاتی نظام میں مینوفیکچرنگ، تحقیق، تربیت، جانچ اور حکومت کے زیرقیادت ڈرون کا استعمال شامل ہوگا۔ پالیسی کا مقصد 25 سے زیادہ ڈرون کمپنیاں قائم کرنا، کم از کم 5,000 افراد کو تربیت دینا اور اگلے پانچ سالوں میں 1,000 سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔دہلی حکومت کو توقع ہے کہ اس پالیسی سے ڈرون اور متعلقہ سرگرمیوں میں100 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوگی اور ₹250 کروڑ سے زیادہ کی آمدنی ہوگی۔یہ ڈرون آلودگی کے ذرائع، کچرا پھینکنے، تجاوزات اور جمنا میں دریا کی حالت میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ میونسپل باڈیز انہیں کچرا جمع کرنے کی جگہوں، لینڈ فل سائٹس، اور صفائی کے کاموں کی نگرانی کے لیے تعینات کر سکتی ہیں۔حکومت ریگولیٹری تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ڈرون فلائٹ ٹیسٹنگ کے لیے وقف سائٹس قائم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس میں کم از کم 10 ریموٹ پائلٹ ٹریننگ آرگنائزیشنز، کئی ہنر مندی کے مراکز، اور تعلیمی اور تکنیکی اداروں میں سنٹرز آف ایکسی لینس کا قیام شامل ہے۔پالیسی میں ہر ٹرینی کے لیے 50% ٹریننگ فیس امداد (زیادہ سے زیادہ 5,000 تک) اور سرکاری اداروں میں تربیت حاصل کرنے والوں کے لیے 5,000 کا وظیفہ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ مخصوص تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 20 لاکھ تک اور ایک سنٹر آف ایکسی لینس کے قیام کے لیے20 لاکھ تک کی گرانٹ فراہم کرتا ہے۔پالیسی ڈرونز کے لیے علیحدہ ریگولیٹری نظام قائم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ تمام کارروائیاں مرکزی ضوابط (جیسے ڈرون رولز، 2021) اور متعلقہ حکام کی ہدایات کے تحت چلائی جائیں گی۔یہ ڈرافٹ پالیسی 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ العمل رہے گی، جب تک حکومت کوئی تبدیلی نہیں کرتی، واپس نہیں لیتی یا اپنی مدت میں توسیع نہیں کرتی۔اس مسودے میں ڈرون آپریشن، مینوفیکچرنگ، مینٹیننس، ڈیٹا اینالیٹکس اور سروس ڈیلیوری سمیت کئی حصوں میں ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کی تجویز ہے۔دہلی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر پنکج سنگھ نے ایچ ٹی کو بتایا، “کابینہ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد، ہم اس ماہ کے آخر تک اس پالیسی کو عام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت سب سے پہلے عوام کی رائے اکٹھی کرنے کے لیے پالیسی کو عام کرے گی۔ عوامی رائے کا تجزیہ کرنے کے بعد، پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجا جائے گا، اور پھر اس کی منظوری کے لیے ایل جی ترنجیت سنگھ سندھو کو بھیجا جائے گا۔دہلی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ سال نومبر میں لال قلعہ کے قریب ایک مہلک بم دھماکے کے بعد سابق لیفٹیننٹ گورنر وی کے۔ سکسینہ نے دہلی کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی تھی کہ وہ تلنگانہ اور ہماچل پردیش کی ڈرون پالیسی کو دہلی میں بھی لاگو کرنے کے امکانات تلاش کریں۔
دلی این سی آر
گلابی سہیلی کارڈ اب صرف 38 ڈی ٹی سی مراکز پرکیے جائیں گے جاری
نئی ہلی :نئی دہلی : 17 ستمبر کے بعد خواتین گلابی ٹکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے دہلی حکومت کی بسوں میں مفت سفر نہیں کرسکیں گی۔ 18 ستمبر سے خواتین کو بسوں میں مفت سفر کرنے کے لیے اپنا پنک اسمارٹ کارڈ دکھانا ہوگا۔ پنک سہیلی اسمارٹ کارڈز کی تقسیم 38 نامزد ڈی ٹی سی مراکز پر جاری رہے گی۔ڈی ٹی سی بسوں پر پنک ٹکٹ کی سہولت 31 اگست سے بند ہونے والی تھی، لیکن دہلی حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر اسے 17 ستمبر تک بڑھا دیا۔ ڈی ٹی سی کا کہنا ہے کہ 17 ستمبر کے بعد جن خواتین مسافروں کے پاس پنک سہیلی سمارٹ کارڈ نہیں ہے انہیں باقاعدہ مسافر کے طور پر مقررہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ڈی ٹی سی نے ابتدائی طور پر 50 پنک کارڈ جاری کرنے کے مراکز کھولے، بعد میں ضرورت کے مطابق تعداد کو بڑھا دیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ڈی ایم-ایس ڈی ایم پر مبنی پنک کارڈ سنٹر اب یکم ستمبر سے بند کردیئے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق، دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے بتایا کہ پنک ٹکٹ کی سہولت کی یہ توسیع پنک سہیلی اسمارٹ کارڈ پر مبنی نظام میں آسانی سے منتقلی کو یقینی بنانے اور آنے والے تہواروں کے دوران خواتین مسافروں کو تکلیف سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گلابی سہیلی اسمارٹ کارڈ کے لیے اب تک تقریباً 1.9 ملین خواتین نے رجسٹریشن کرائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنک سہیلی اسمارٹ کارڈز کے لیے رجسٹریشن اور اجراء کا عمل 17 ستمبر کے بعد بھی جاری رہے گا۔ خواتین بس ڈپو اور بس ٹرمینلز پر مقررہ جگہوں پر اپنے سمارٹ کارڈ حاصل کر سکیں گی۔ 17 ستمبر کے بعد، سمارٹ کارڈ پر مبنی نظام مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا، جس میں مفت سفر کی پیشکش کی جائے گی۔وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ جنم اشٹمی، تیج اور گنیش چترتھی سمیت اہم تہواروں کے دوران خواتین اور خاندانوں کی نقل و حرکت بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا، 17 ستمبر تک پنک ٹکٹ کی سہولت جاری رکھنے سے خواتین مسافروں کو بلاتعطل مفت بس سفر سے لطف اندوز ہونے کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کا یوم پیدائش ہے، اور سیوا پکھواڑا اس دن سے شروع ہو کر 2 اکتوبر تک رہے گا۔ پنک ٹکٹ سسٹم کی توسیع حکومت کے جذبہ خدمت اور خواتین مسافروں کی سہولت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ دہلی کی ماؤں اور بہنوں نے پنک سہیلی اسمارٹ کارڈ کے لیے جوش و خروش کے ساتھ اندراج کرایا ہے۔ حکومت کا مقصد خواتین کے لیے بہتر سہولیات کے ساتھ جدید اور آسان پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دہلی حکومت پبلک ٹرانسپورٹ کو مزید قابل رسائی، آسان، جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اہل خواتین مسافروں سے جلد رجسٹریشن کرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جن خواتین نے ابھی تک رجسٹریشن نہیں کرائی ہے وہ 17 ستمبر کے بعد بھی رجسٹریشن کروا کر سمارٹ کارڈ حاصل کر سکیں گی۔
دلی این سی آر
دہلی میں ایس آئی آر سے پہلے ہٹائے گئے 1.1ملیں نام
دہلی میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے پہلے بھی، جنوری 2025 سے جون 2026 کے درمیان پچھلے 16 مہینوں میں تقریباً 1.1 ملین ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ دہلی کے سی ای او کے دفتر کے مطابق، ہٹائے گئے 1.1 ملین نام ووٹر لسٹ میں باقاعدگی سے سہ ماہی نظرثانی اور BLO کی غلطیوں کی وجہ سے ہیں۔ دہلی میں ایس آئی آر کا عمل 30 جون کو شروع ہوا، اور اس کے پہلے مرحلے میں، ووٹر لسٹ سے تقریباً 4.8 ملین ناموں کو ہٹا دیا گیا۔ یہ تعداد 20 جون تک رجسٹرڈ ہونے والے 14.5 ملین ووٹروں میں سے تقریباً ایک تہائی کی نمائندگی کرتی ہے۔ایچ ٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2025 سے جون 2026 کے درمیان تقریباً 1.1 ملین ناموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ تعداد 2025 میں دہلی کے کل ووٹروں کا تقریباً 7.07 فیصد اور فی الحال 11.32 فیصد ہے۔ایچ ٹی نے دہلی میں تقریباً 15 لوگوں سے بات کی جو اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے نام پچھلے 16 مہینوں میں حذف کر دیے گئے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، ان کے نامکمل SIR فارم کبھی تیار نہیں ہوئے، کبھی بھی اپنے بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) تک نہیں پہنچے، اور انہیں کبھی اپنے اندراج کا موقع نہیں ملا۔
شمال مغربی دہلی کے مبارک پور ڈباس میں رہنے والی گھریلو ملازمہ پوجا دیوی نے کہا کہ اس نے 2020 کے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دیا۔ پوجا نے کہا، “جب SIR کا عمل شروع ہوا، میرے خاندان کے ہر کسی کو میرے علاوہ SIR فارم ملا۔” “ہم کئی بار بی ایل او کے پاس گئے، لیکن انہوں نے کہا کہ میرا نام فہرست میں نہیں ہے اور مجھے بعد میں فارم 6 بھر کر دوبارہ رجسٹر کرنا پڑے گا۔”حذف کیے گئے 1.1 ملین ناموں میں سے، مئی 2026 اور جون 2026 کے درمیان پری ایس آئی آر میپنگ مرحلے کے دوران تقریباً 300,000 ناموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔ جنوری 2025 میں، دہلی کی ووٹر لسٹ میں 15,614,000 ووٹرز تھے۔ جون 2026 تک یہ تعداد کم ہو کر 14,510,299 رہ گئی تھی۔ اب یہ تعداد 9,753,577 ہے۔جنوری 2025 اور جون 2026 کے درمیان ہٹائے گئے لوگوں کی تعداد دہلی میں پچھلے اسی طرح کے عمل کے مقابلے میں غیر معمولی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2020 کے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے درمیان دہلی کے ووٹروں کی تعداد میں 400,000 کا اضافہ ہوا اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور 2025 کے اسمبلی انتخابات کے درمیان مزید 400,000 کا اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے سے زیادہ لوگوں نے انہیں حذف کیا ہے۔دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہٹائے گئے 1.1 ملین نام معمول کے سہ ماہی رول پر نظرثانی اور بی ایل او کی غلطیوں کی وجہ سے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار نے کہا، “اگرچہ یہ تعداد زیادہ ہے، یہ ممکن ہے کہ ان ناموں کو اس ایک سال میں باقاعدہ نظرثانی کے دوران ہٹا دیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ BLOs نے مئی اور جون میں پری SIR میپنگ کے دوران ناموں کو ہٹا دیا ہو۔” “یہ لوگ فارم 6 کو بھر کر دوبارہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کروا سکتے ہیں۔”ووٹر لسٹ میں تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ درحقیقت، یہ سچ ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کا عمل جاری ہے۔ اگر فہرست کو منجمد نہیں کیا گیا ہے تو، فارم 6 کا استعمال کرتے ہوئے ناموں کو شامل کیا جا سکتا ہے اور فارم 7 کا استعمال کرتے ہوئے ہٹایا جا سکتا ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
