بہار
وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سونپور میلہ کاکیا معائنہ
(پی این این)
سونپور :وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ضلع کے سونپور میں منعقد ہونے والے دنیا کے مشہور ہریہر چھیتر سونپور میلہ کا معائنہ کیا اور افسران کو ضروری ہدایات دیں۔معائنہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے میلے اور نمائش کے علاقے کا جائزہ لیا۔انہوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ،آرٹ اینڈ کرافٹ ولیج،وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور جیویکا سمیت مختلف محکموں کی طرف سے منعقدہ نمائشوں کا مشاہدہ کیا۔اسٹالز کے معائنہ کے دوران وزیراعلیٰ نے مختلف مصنوعات کے بارے میں تفصیلی معلومات اکٹھی کیں۔صنعت کاروں اور فروخت کنندگان نے مصنوعات کی پیداوار اور تقسیم کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور مدد پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔جیویکا دیدی نے چیف منسٹر ویمن ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت ملنے والے فوائد کے لیے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔یہ کہتے ہوئے کہ انہوں نے ان کی ترقی میں نمایاں مدد کی ہے۔ان کی بدولت ریاست میں خواتین خود انحصاری بنی ہیں اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل کر رہی ہیں۔
معائنہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے جیویکا دیدی اور ریاستی حکومت کی مختلف اسکیموں کے استفادہ کنندگان کو امداد کے لیے چیک پیش کیے۔معائنہ کے دوران چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ میلے کے احاطے میں شہری سہولیات،صفائی ستھرائی اور حفاظتی انتظامات پر خصوصی توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ سونپور میلہ نہ صرف قدیم روایت کی علامت ہے بلکہ دیہی معیشت کا ستون بھی ہے۔یہاں ہزاروں چھوٹے تاجر اور کاریگر اپنی مصنوعات بیچنے آتے ہیں۔جن میں فنکارانہ اشیاء، آرائشی اشیاء،روایتی زیورات،برتن اور کپڑے شامل ہیں۔یہ میلہ مقامی مصنوعات کے لیے ملک بھر کی منڈیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ہم سب کی سہولت کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔غور طلب ہے کہ یہ میلہ کارتک پورنیما کو شروع ہوتا ہے اور پورے ایک ماہ تک جاری رہتا ہے۔اس سال یہ 3 نومبر سے 4 دسمبر تک مقرر کیا گیا تھا۔تاہم بہار قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی وجہ سے میلے کو 9 نومبر سے 10 دسمبر تک مقرر کیا گیا ہے۔سونپور میلہ ایک تاریخی اور پورانیک میلہ ہے۔یہ گنگا اور گنڈک ندیوں کے کنارے ہزاروں سالوں سے منعقد کیا جاتا ہے۔بڑی تعداد میں عقیدت مند دریا میں نہاتے ہیں اور ہریہر ناتھ مندر جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسے ہریہر چھیتر میلہ بھی کہا جاتا ہے۔اسے مقامی لوگوں میں چھتر میلے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
سونپور میلہ بنیادی طور پر ملک کے سب سے بڑے مویشیوں کے میلے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ہندوستان اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے آتے ہیں۔جانور اور پرندے جیسے ہاتھی،گھوڑے،اونٹ،گائے،بھینس،کتے،طوطے اور مینوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔لوگوں کی تفریح کے لیے روزانہ مختلف کھیل اور مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔جن میں گھڑ دوڑ،کشتی اور کشتی رانی شامل ہیں۔ہر شام ثقافتی پروگرام ہوتے ہیں۔یہ نہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ ریاست کے فنکاروں کو بھی مواقع فراہم کرتا ہے۔ریونیو اور لینڈ ریفارمز ڈیپارٹمنٹ اور بہار حکومت کا محکمہ سیاحت میلے کے انعقاد کے لیے مالی مدد فراہم کرتا ہے۔سارن ضلعی انتظامیہ شہری سہولیات،صفائی ستھرائی اور سیکورٹی کو یقینی بناتی ہے۔میلے کے علاقے میں مختلف سرکاری محکموں کی طرف سے نمائشیں لگائی گئی ہیں۔جن میں دیہی ترقی کے محکمہ کے گرام شری منڈپ،خواتین اور بچوں کی ترقی کا محکمہ،بہار اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی،محکمہ تعلیم،محکمہ صحت،ریونیو اور لینڈ ریفارمز ڈیپارٹمنٹ اور مرکزی وزارتوں اور اداروں جیسے کہ کانوں کی وزارت،کول انڈیا بارڈر سیکورٹی اور دیگر شامل ہیں۔لوگوں کی بڑی تعداد مختلف سرکاری اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں جاننے کے لیے ان نمائشوں کا دورہ کرتی ہے۔
معائنہ کے دوران دیہی تعمیرات کے وزیر اشوک چودھری،بہار اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے رکن کوشل کشور مشرا،محکمہ زراعت کے پرنسپل سکریٹری پنکج کمار، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری کمار روی،ڈیزاسٹر منیجمنٹ محکمہ کے سکریٹری کم سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ،سارن ضلع کے کمشنر روشن کشواہا،کمشنر ڈاکٹر راجن سنگھ،تیاگراجن ایس ایم، ڈی ایم امن سمیر،پٹنہ ضلع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کارتیکیا کے شرما،سارن کے ایس ایس پی کمار آشیش وغیرہ موجود تھے۔
بہار
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں عظیم الشان اجلاس ختم بخاری شریف کا انعقاد
(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ختمِ بخاری شریف کی عظیم الشان اور بابرکت تقریب خانقاہ رحمانی کی پرشکوہ مسجد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے کی۔ اس موقع پر امیرِ شریعت نے جامعہ رحمانی سے اس سال فارغ ہونے والے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر حدیث کے پڑھنے پڑھانے کی اجازت دی اور نہایت بصیرت افروز، فکر انگیز اور نصیحت آموز خطاب میں علم کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ دین کی تلقین کی۔ حضرت نے آیتِ کریمہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کی تشریح کرتے ہوئے زندگی کے ہر لمحے ہر کام میں رضاء الٰہی کے طلب و استحضار پر زور دیا اور نصیحت کی کہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔
آپ سے قبل جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اظہر مظاہری نے بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھائی ،اور اپنی سند سے حدیثِ رسول ﷺ کی روایت، قرأت اور تدریس کی اجازت دی ساتھ ہی اکابرِ امت کی تشریحات کی روشنی میں حدیث شریف پر مکمل عمل پیرا ہونے کی خصوصی تاکید کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات مولانا جمیل احمد مظاہری نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ رسول ﷺ ہی شریعتِ اسلامیہ کی عملی اور مستند تعبیر ہے، جبکہ مفتی محمد جنید قاسمی نے اسلام و شریعت میں حدیثِ شریف کی حجیت پر جامع اور مدلل خطاب کرتے ہوئے منکرینِ حدیث کے شبہات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا۔ اسی طرح ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی اور سماج میں پھیلی ہوئی اخلاقی و معاشرتی برائیوں کے سدِباب پر زور دیا اور ساتھ ہی مکمل پروگرام کی شاندار نظامت کی ۔
اجلاس کا آغاز جامعہ کے استاد مولانا قاری وسیم اختر قاسمی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد دلشاد رحمانی، حافظ محمد انصار سلمہ (متعلمانِ جامعہ رحمانی مونگیر) اور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ انجمن نادیۃ الادب کے صدر و استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر مولانا محمد نعیم رحمانی نے انجمن کے مختلف پروگراموں میں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو حضرت امیر شریعت کے دست مبارک سے انعام عطا کروایا ۔اختتامی مرحلے میں مولانا محمد برکت اللہ رحمانی کھگڑیا نے الوداعی ترانہ پیش کیا، جس سے مجلس پر رقت طاری ہو گئی اور حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔اخیر میں حضرت امیر شریعت کی دعاء سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
جامعہ رحمانی میں 9 فروری سنہ 1966 ء میں دورہ حدیث شریف کا افتتاح ہوا تھا تب سے تسلسل کے ساتھ یہاں حدیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کا کام جاری ہے۔یہ روحانی و علمی تقریب ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی، جس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، کارکنان، طلبہ کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع اور ملک کے الگ الگ گوشوں سے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے متعلقین، متوسلین اور معتقدین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے خوب استفادہ کیا۔
بہار
ذکر اللہ سے قلب میں پیدا ہوتی ہے نورانیت : امیر شریعت
(پی این این)
پھلواری شریف:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے دورۂ حدیث کے طلباء کے درمیان آخری درس دیتے ہوئے مفکر ملت، امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز کتاب میں اخلاص نیت کی حدیث درج فرمائی اور سب سے اخیر میں ذکر اللہ سے متعلق حدیث کو بیان فرما کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ جو کام اخلاص و للہیت اور رضاء الہی کے جذبے سے انجام دیا جاتا ہے وہ تھوڑا ہونے کے باوجود میزان عدل میں وزنی ہو جاتا ہے، اس لیے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کا کثرت سے ورد کرتے رہنا چاہیے، اس سے ایمان و یقین میں تازگی اور فکر و عمل میں نورانیت و روحانیت پیدا ہوتی ہے۔
امیر شریعت نے آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن اعمال و اقوال بھی وزن کیے جائیں گے اور اس کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے، حضرت نے فرمایا کہ ذکر اللہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم بہت ہی آسان کلمے ہیں جو زبان پر آسانی سے چڑھتے ہیں، ہم سب کو اس کا برابر اہتمام کرتے رہنا چاہیے، حضرت نے اس موقع پر اجازت حدیث کی سند دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے مولانا مفتی یحیی ندوی سے حدیث کا درس لیا، انہوں نے مولانا عبداللطیف سے، پھر انہوں نےمولانا شاہ فضل رحمنٰ گنج مراد آبادی سے اور انہوں نے شاہ عبدالعزیز سے اور انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے اجازت حدیث حاصل کیا، میں بھی اس سال دورۂ حدیث سےفارغ ہونے والے طلبہ کو اس سلسلہ سے اجازت حدیث دیتا ہوں۔
دارالعلوم الاسلامیہ کے سکریٹری قاضی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاءامارت شرعیہ نے دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی یہ دینی درسگاہ تعلیمی و تربیتی میدان میں نہایت ہی ممتاز ہے، شوال میں بڑی تعداد میں طلبہ داخلہ کے لیے آتے ہیں لیکن قلت اسباب کے باعث معذرت کرنی پڑتی ہے اگر آپ حضرات کا خصوصی تعاون جاری رہے تو ہم اسے مزید آگے بڑھا سکیں گے اس لیے کہ دارالعلوم الاسلامیہ اکابرین امارت شرعیہ کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ دارالعلوم الاسلامیہ ایک ایسا مثالی ادارہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ معیاری تربیت بھی دی جاتی ہے اس لیے یہ ملک کے ممتاز اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ اس ادارہ نے قلیل مدت میں نمایاں ترقی حاصل کی یہاں کے بزرگوں کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ ہے۔ درس حدیث سے قبل دارالعلوم کے ہونہار طلباء نے اردو، عربی، انگریزی، فارسی اور ہندی زبانوں میں پرمغز اور دلکش تقریریں کیں، جس سے سامعین پر بڑا گہرا اثر ہوا اور لوگوں نے ان بچوں کے لیے دل سے دعائیں کی۔دارالعلوم الاسلامیہ کے مہتمم مولانا مفتی یحیی غنی قاسمی نے مہمانان کرام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
بہار
نالندہ میں ضلع سطحی ’فروغ اردو‘ ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد
(پی این این)
نالندہ :نالندہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان ضلعی سطح کی ’فروغ اردو‘ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا افتتاح نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ کندن کمار، ایس ایم اور پرویز عالم، ڈائریکٹر، اردو ڈائریکٹوریٹ، کابینہ سیکریٹریٹ ڈیپارٹمنٹ، بہار، پٹنہ نے مشترکہ طور پر چراغ جلا کر کیا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کندن کمار نے کہا کہ اردو زبان کو ریاست بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے جو اس کی تاریخی، ثقافتی اور ادبی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان نے ملک اور ریاست کی مشترکہ ثقافت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ ثقافت، بھائی چارے اور ادبی ورثے کی علامت ہے۔ انتظامیہ اس کے تحفظ، ترویج اور تبلیغ میں ہمیشہ تعاون کرے گی۔
اس موقع پر ایس ایم پرویز عالم، ڈائریکٹر، اردو ڈائریکٹوریٹ، کابینہ سیکریٹریٹ محکمہ، بہار، پٹنہ، نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہار حکومت اردو زبان کی ترقی اور ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی حکومت اردو کی تعلیم، ادب، تحقیق اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اسکیمیں نافذ کررہی ہے، تاکہ نئی نسل اردو زبان سے جڑ سکے۔
پروگرام کے دوران منعقدہ سیمینار اور مشاعرہ میں ضلع کے ممتاز اردو ادیبوں، شاعروں اور زبان سے محبت کرنے والوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اردو زبان کے تاریخی پس منظر، اس کی ترقی کے سفر اور عصری مناسبت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے اشعار نے سامعین کو محظوظ کیا۔
ورکشاپ میں اردو زبان کے فروغ، اس کی تعلیمی ترقی اور معاشرے میں اس کی افادیت پر بھی بات کی گئی۔ پروگرام میں اردو ادب کے شائقین، اساتذہ، طلباء اور معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر نالندہ، اسٹیبلشمنٹ ڈپٹی کلکٹر، سینئر ڈپٹی کلکٹر، شگفتہ پروین، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر، انچارج آفیسر، ضلع اردو سیل اور دیگر موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار2 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
