تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
بہار

حجاب کی توہین پرامارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیموں کی جانب سےسخت اعتراض ، نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ

(پی این این)
پٹنہ: وزیراعلیٰ نتیش کے ذریعہ بھری محفل میں ایک مسلم آیوش ڈاکٹر کو بے حجاب کئے جانے پر بہار کی موقر دینی و ملی جماعتوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نے پیر کوسی ایم سکریٹریٹ میں نو تقرر آیوش ڈاکٹر وں کے درمیان تقرری نامہ تقسیم کرنے کے دوران ایک مسلم خاتون ڈا کٹر کے چہرے سے حجاب کھینچ دیا تھا۔ اس وقت نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، وزیر صحت منگل پانڈے، وزیر وجے کمار چودھری، کئی اعلیٰ افسران اور نو تقرر آیوش ڈاکٹر س موجود تھے۔
اس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج جو عوامی سطح پر زیر گردش ہے،جس نے بہار کے امن پسند شہریوں کے دلوں میں بے چینی، اضطراب اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔دینی و ملی جماعتوں نے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ خاتون کی پختہ شناخت کے بعد ہی تقرری نامہ حاصل کرنے کے لئے انہیں وزیر اعلیٰ کے سامنےلایا گیا ہوگا۔ اس لئے یہ معاملہ کہیں سے بھی شناخت یا سیکوریٹی کا نہیں ہے۔ یہ معاملہ جہاں توہین حجاب کا ہے، وہیں ایک خاتون کے وقار اور عفت کابھی ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مسلم خواتین کے لئے حجاب محض ایک لباس نہیں، بلکہ ان کی مذہبی شناخت، ذاتی وقار اور باطنی حسن کا اظہار ہے۔ کسی سرکاری تقریب اور عوامی پلیٹ فارم پر اس میں مداخلت خواہ کسی بھی فرد اور شخصیت کی طرف سے ہو، مسلمانوں کو کسی بھی حال میں پسند نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کو نہ صرف مذکورہ خاتون سے، بلکہ بہار کی تمام آدھی آبادی سےمعافی مانگنی چاہئے کیوں کہ اس طرح کی حرکت سے تمام عورتوں کا وقار مجروح ہواہے۔ یہ معاملہ کسی اختلاف یا محاذ آرائی کا نہیں ہے، بلکہ انسانی وقار، خواتین کا احترام اور مذہبی آزادی کا ہے۔ ایسے واقعات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اجتماعی شعور اور تحفظ کے احساس کو متاثر کرتا ہے۔
دینی و ملی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی اس نازیبا حرکت سے ان عناصر کو شہ مل سکتی ہے جو خاتون کے وقار کو مجروح کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ دینی و ملی جماعتوں نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قسم کے واقعات لاء اینڈ آرڈر کے لئے مسئلہ بن سکتے ہیں،دینی و ملی جماعتوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب سماج میں اس قسم کا رویہ باعث تشویش ہے۔ بیان جاری کرنے والی تنظیموں میں امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ،جماعت اسلامی ہند،بہار،جمعیت العلماء ہند، بہار (الف)، جمعت علماء ہند، بہار (میم) ادارہ شرعیہ (ڈاکٹر فریدامان اللہ )آل انڈیا مومن کانفرنس بہار، اورمجلس علماء خطباء امامیہ(اہل تشیع) شامل ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔