اتر پردیش
اے ایم یو میں جدید ترین ہائی انرجی فزکس لیباریٹری کا افتتاح
(پی این این)
علی گڑھ:جدید طبیعیات کی تعلیم و تحقیق میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فزکس نے اپنی نئی ہائی انرجی فزکس لیبارٹری کا افتتاح کیا، جو یونیورسٹی کے سائنسی ڈھانچے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ شعبہ کی لیبارٹری کمپلیکس کے بیسمنٹ میں اس سہولت کا افتتاح فیکلٹی آف سائنس کے ڈین پروفیسر سر تاج تبسم نے کیا۔
شعبہ فزکس کے چیئرمین پروفیسر انیس العین عثمانی نے بتایا کہ نئی لیبارٹری کا مقصد عالمی ہائی انرجی فزکس تحقیق میں استعمال ہونے والی تجرباتی اور کمپیوٹیشنل تکنیکوں میں عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔ یہ لیبارٹری ہائی ریزولوشن مائکروسکوپ، پارٹیکل ٹریک ریکارڈنگ سسٹمز، الیکٹرانک مائیکروسکوپی، اور کمپیوٹر پر مبنی تجزیاتی آلات سے لیس ہے، جو طلبہ کو سمولیشن پر مبنی تجربات اور پارٹیکلز کی شناخت کے طریقوں کا براہِ راست تجربہ دے گی۔
یونیورسٹی نے اس منصوبے کے لیے پانچ لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی ہے، اور میون لائف ٹائم کی پیمائش کے تجربات کے لیے ساز و سامان کی خرید جاری ہے۔ مزید ڈیٹیکٹرز اور سیمولیشن سیٹ اپ بھی نصب کیے جا چکے ہیں، اور لیبارٹری کو جدید تحقیقاتی مرکز بنانے کے لیے توسیعی منصوبے زیر غور ہیں۔
لیباریٹری میں ببل چیمبر ڈیٹا کے تجزیے پر خاص زور دیا گیا ہے، جو طلبہ کو تاریخی ذراتی تصادم کے واقعات کا جائزہ لینے، ذرات کے راستے، حرکت اور تعامل کی اقسام کی شناخت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ سہولت اور میون لائف ٹائم کی پیمائش کے تجربات طلبہ کو پارٹیکل فزکس کی روایتی اور جدید تکنیکوں میں عملی بصیرت فراہم کریں گے۔
یہ اقدام اے ایم یو کے ہائی انرجی فزکس ریسرچ گروپ کو مضبوط کرے گا، جہاں ڈاکٹر نذیر احمد اور ڈاکٹر دانش اعظمی جیسے فیکلٹی ممبران تجرباتی کاموں میں مصروف ہیں۔ یہ گروپ اے ایم یو کی نمائندگی سرن کے الائیس میں کرتا ہے، جس کے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر شکیل احمد ہیں اور یہ طلبہ کو بین الاقوامی تحقیق سے مربوط کرتا ہے۔
لیباریٹری کمپلیکس میں دیگر سہولیات بشمول نیوکلیئر فزکس لیبارٹری، ریسسٹیو پلیٹ چیمبر لیباریٹری، اسپیکٹروسکوپی لیباریٹری اور ہیرٹیج سائنس میوزیم شامل ہیں، جو اسے فزکس کی تعلیم و تحقیق کا ایک جامع مرکز بناتے ہیں۔
پروفیسر عثمانی نے وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے گرانٹ کی منظوری دی اور اس اقدام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیباریٹری تعلیم اور تحقیق دونوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی، جو بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے نظریہ کے عین مطابق جدید سائنس کو تعلیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہے۔
سینئر سائنسداں پروفیسر بی پی سنگھ نے ہائی انرجی فزکس گروپ کی جانب سے لیباریٹری قائم کرنے کی کاوشوں کو سراہا اور ٹیم کی محنت و تعاون کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ڈاکٹر انوج چندر کو سراہا جنہوں نے میون لائف ٹائم سیٹ اپ کی تیاری کے لیے اوٹی کا دورہ کیا۔
لیبارٹری کے انچارج ڈاکٹر نذیر احمد نے کہا کہ یہ سہولت طلبہ کو تجرباتی فزکس میں اعلیٰ تربیت فراہم کرے گی، جس میں پارٹیکلز کی شناخت، سیمولیشن اسٹڈیز، میون لائف ٹائم کی پیمائش، اور ببل چیمبر ڈیٹا کا تجزیہ جیسے امور شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے طلبہ ہائی انرجی فزکس اور متعلقہ شعبوں میں ریسرچ کریئر کے لیے تیار ہوں گے۔
ہائی انرجی فزکس لیبارٹری کا قیام اے ایم یو کے سائنسی سفر کا ایک نیا باب ہے، جو نظریاتی علم اور عملی تجربے کے درمیان پل کا کام کرے گا اور عالمی سطح پر فزکس کی تحقیق میں اے ایم یو کے بڑھتے ہوئے قدموں کو مضبوط کرے گا۔
اتر پردیش
خواجہ یونیورسٹی میں اودھی زبان کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلا ن
(پی این این )
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اودھی ریسرچ چیئر کی پہلا اجلاس نہایت کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد اودھی زبان، اس کے ادب اور لوک ثقافت کے تحفظ، فروغ اور تعلیمی ارتقا کو ایک منظم اور مؤثر سمت دینا تھا۔میٹنگ کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔
اس موقع پر انھوں نے اودھی زبان کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اودھی ہماری تہذیبی وراثت کی ایک طاقتور اور زندہ علامت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی جلد ہی اودھی زبان کو ایک مستقل اور باقاعدہ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرے گی، تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنی لوک زبان میں تعلیم اور تحقیق کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اودھی زبان کے ذریعے لوک ثقافت، ادب اور سماج کے درمیان گہرے اور مضبوط رشتے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت یونیورسٹی اودھی سے متعلق تحقیقی منصوبوں، سمیناروں، ورکشاپس اور دیگر علمی و ادبی سرگرمیوں کو خصوصی ترجیح دے گی۔
اجلاس میں اودھی ریسرچ چیئر کے اراکین، پروفیسر سوریہ پرتاپ دکشت، پروفیسر ودیا بندھو سنگھ، ڈاکٹر رام بہادر مشرا اور ڈاکٹر سرویش استھانا نے شرکت کی۔ تمام اراکین نے اودھی زبان کے تحفظ، اس کی دستاویز سازی، ادبی تحقیق اور نئی نسل تک اس کے فروغ کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں اور اودھی ادب کو علمی و تحقیقی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی وضع کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر اودھی ریسرچ چیئر کے کنوینر ڈاکٹر نیرج شکلا کے ساتھ ڈاکٹر یوگیندر سنگھ، ڈاکٹر آرادھنا استھانا اور ڈاکٹر ہمانشو گنگوار بطور معاون کنوینر موجود رہے۔
کنوینر منڈل نے چیئر کی آئندہ عملی منصوبہ بندی، تحقیقی موضوعات کے انتخاب، اشاعتی سرگرمیوں اور مجوزہ تعلیمی پروگراموں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اودھی زبان اور ثقافت سے متعلق خصوصی کورسز، سرٹیفکیٹ پروگرام، تحقیقی منصوبے اور ثقافتی تقاریب منعقد کی جائیں گی، تاکہ طلبہ کو تعلیمی کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر بھی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں اودھی ادب، لوک گیتوں، لوک ناٹک اور روایتی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل آرکائیو تیار کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
میٹنگ کے اختتام پر تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اودھی زبان کو قومی سطح پر شناخت دلانے اور اسے علمی و ادبی منظرنامے میں نمایاں مقام عطا کرنے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔
اتر پردیش
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ایم ایس ڈبلیو 26۔2024 بیچ کے پلیسمنٹ بروشر کا کیااجراء
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان کے ہمراہ ماسٹر آف سوشل ورک (ایم ایس ڈبلیو) 2024–26 بیچ کے چوتھے سمسٹر کے طلبہ کے پلیسمنٹ بروشر کا اجرا ء کیا۔
بروشر میں فارغ ہونے والے بیچ کی تعلیمی تربیت اور فیلڈ ورک کے تجربات کو شامل کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے پلیسمنٹ کے عمل کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر نعیمہ خاتون نے سوشل ورک شعبہ اور طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کا ایم ایس ڈبلیو پروگرام سماجی عصری چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے پیشہ ور افراد تیار کر رہا ہے۔
پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ تجدید شدہ نصاب، طلبہ کو پیشہ ورانہ صلاحیت اور سماجی ذمہ داری کے مؤثر امتزاج میں مدد فراہم کرتا ہے۔ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنس اور چیئرمین، شعبہ سوشل ورک پروفیسر اکرام حسین نے 2024–26 بیچ کے اسپیشلائزیشنز پر روشنی ڈالی، جن میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ، انڈسٹریل ریلیشنز اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔
کوآرڈینیٹر، ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل ڈاکٹر محمد طاہر نے طلبہ کے فیلڈ ورک اور قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ پلیسمنٹ سیل کی فعال وابستگی کا ذکر کیا۔رسم اجراء تقریب میں فیکلٹی اراکین ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر اور ڈاکٹر سمیرہ خانم سمیت سوشل ورک شعبہ کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل کے رضاکار بھی موجود تھے۔
اتر پردیش
اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں جدید طبی سہولیات کا کیاافتتاح
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں جدید ترین پلازما اسٹرلائزر، رین بسیرے اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (سی ایم ایس) کے دفتر میں نو تزئین شدہ میٹنگ روم کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں اے ایم یو کے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد، پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جے این ایم سی پروفیسر انجم پرویز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر نیر آصف، ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ضیاء صدیقی، ٹیچر اِنچارج، سی ایس ایس ڈی پروفیسر فاطمہ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حیدر مہدی، اے این ایس پروفیسر نسرین نور، فنانس آفیسر نورالسلام اور سینئر نرسنگ افسران حما روحی اورشبانہ پروین موجود تھے۔
اس اقدام کے تحت اسپتال میں جدید پلازما اسٹرلائزر (آر ایل 100) کو فعال کیا گیا، جو انفیکشن کنٹرول کے اقدامات کو مضبوط بنانے اور مریضوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ نظام ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کے بخارات کو کم درجہ حرارت کے پلازما میں تبدیل کر کے حرارت سے حساس طبی آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مضر کیمیائی باقیات کے بغیر جراثیم کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ یہ ٹکنالوجی نہ صرف تیز اور محفوظ ہے بلکہ نازک جراحی آلات، اینڈوسکوپس، فائبر آپٹک آلات اور روبوٹک ٹولز کے لیے خاص طور پر موزوں ہے، نیز یہ طبی عملے کے تحفظ کے ساتھ آلات کی عمر میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
نئے رین بسیرے میں مریضوں کے تیمارداروں کے لیے رہائشی سہولت فراہم کی گئی ہے، جہاں تقریباً 100 سے 150 افراد کے قیام کے لیے بستر دستیاب ہوں گے۔ سی ایم ایس دفتر میں تزئین شدہ میٹنگ روم انتظامی میٹنگوں کے لیے ایک جدید اور موزوں مقام کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
-
دلی این سی آر12 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر12 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
