اتر پردیش
اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کامنایا گیا 63واں یوم تاسیس
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا 63واں یومِ تاسیس انتہائی جوش و وقار کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ایم بی بی ایس 2021 بیچ کی الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ کالج کے آڈیٹوریم میں ایک شاندار ثقافتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے دل کو موہ لینے والی پیشکش سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
مہمانِ خصوصی، اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جے این میڈیکل کالج ملک کے مایہ ناز میڈیکل اداروں میں شامل ہے، جس نے نہ صرف ماہر ڈاکٹروں بلکہ ذمہ دار اور ہمدرد شہریوں کی بھی تربیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل طلبہ ادارے کے برانڈ سفیر ہیں، جو ملک و بیرونِ ملک دیگر معیاری اداروں میں اے ایم یو اور جے این میڈیکل کالج کا نام روشن کریں گے۔
پروفیسر نعیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے، اور کسی مریض کے لیے ایک ڈاکٹر کے چند شفقت بھرے الفاظ بھی شفا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اخلاص، خدمت اور انسانیت جیسے اوصاف کو اپنانے کی تلقین کی۔
مہمانِ اعزازی، اے ایم یو سے فارغ التحصیل پروفیسر شاہ عالم خان (سینئر آرتھوپیڈک سرجن، ایمس،نئی دہلی) نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل کے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ اپنے مریضوں کا صرف طبی علاج ہی نہ کریں بلکہ ہمدردی اور انفرادی توجہ کے ساتھ علاج کریں۔ انہوں نے طلبہ کو بڑے خواب دیکھنے اور خوبصورت انداز میں خواب دیکھنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر محمد حبیب رضا (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن، پرنسپل و سی ایم ایس، جے این میڈیکل کالج) نے سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ کالج کا قیام 1962 میں صرف 40 نشستوں کے ساتھ ہوا تھا، جو اب بڑھ کر 150 ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے مشن کو آگے بڑھا رہا ہے اور ملک کے صف اول کے طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کووِڈ 19 وبا کے دوران اساتذہ اور طلبہ کی خدمات کا بھی ذکر کیا اور انھیں سراہا۔
پروفیسر نجم خلیق(شعبہ کمیونٹی میڈیسن) نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ یومِ تاسیس اور 2021 بیچ کی الوداعی تقریب کا ایک ساتھ انعقاد ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج نے ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں ماہر ڈاکٹروں کو تیار کیا ہے، جو نہ صرف تعلیم بلکہ ادب و ثقافت کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ پروفیسر نیر آصف (شعبہ آرتھوپیڈکس) نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر فاطمہ خان اور ڈاکٹر بشریٰ صدیقی نے کی۔ میڈیکل طلبہ شاذیہ اور عبداللہ فہد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
uttar pradesh
ایم ایل اے اور سابق کابینی وزیر کمال اختر نے اپنے دفتر میں سنے عوامی مسائل
کانٹھ؍مراداباد: (پی این این)مقامی ایم ایل اے اور سابق کابینی وزیر کمال اختر نے آج اپنے کیمپ دفتر پر عوامی مسائل کو سنا انہوں نے حلقے کے مختلف مقامات سے آئے لوگوں کے مسائل کو سن کر انہیں حل کرنے کی یقین دہا نکل آئی اس موقع پر انہوں نے دفتر پر موجود پارٹی کے عہدے داران و ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2027 کا اسمبلی انتخاب اپ کے سر پر ہے لہذا انتخابات کے تعلق سے آج ہی سے کوشش کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے دور اقتدار میں جو ترقیاتی کام ہوئے اور سماج وادی پارٹی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے وہ عوام کو سمجھایا جائے انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے رہنما اور قومی صدر اکھلیش یادو کی پی ڈی اے فکر سے مخالفین میں کھلبلی مچی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ ہر سماجوادی پارٹی کے رکن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کی فکر سے عوام کو آگاہ کرے آج ریاست میں ہر طرف افراد تفری کا ماحول ہے عوام موجودہ سرکار سے چھٹکارا چاہتے ہیں لہذا عوام کے درمیان جا کر کے انہیں سماجوادی پارٹی کی پالیسیوں سے آگاہ کیا جائے اس موقع پر وکرم سنگھ یا دو تسلیم پردھان یاسین پردھان چرن سنگھ پردھان ڈاکٹر دانش انصاری مجیب چوہدری ارشد فرقان چوہدری انظار چوہدری نیتا جی صغیر احمد وغیرہ درجنوں پارٹی کے عہدے داران و ممبران موجود رہے۔
uttar pradesh
ضلع مجسٹریٹ امروہہ ڈاکٹر نتن گوڑ اورضلع مجسٹریٹ ہاپوڑکویتا مینا نے میلے کی تیاریوں کالیا جائزہ
(پی این این)
امروہہ: تگری گڑھ میلہ کارتک مہینےکےپورےچاند کے دن شروع ہوتا ہے اور تقریباً پندرہ دن تک جاری رہتا ہے۔ تقریباً ٣٥ سے ٤٠ لاکھ عقیدت مندوں کی سالانہ آمد کو دیکھتے ہوئے، ضلع مجسٹریٹ امروہہ ڈاکٹر نتن گوڑ اورضلع مجسٹریٹ ہاپوڑکویتا مینا نے تیاریوں کا جائزہ لینے، ہموار نقل و حرکت کو یقینی بنانے، اورعقیدت مندوں کی حفاظت کویقینی بنانے کے لیے تگری میں ایک مشترکہ میٹنگ کی۔
میٹنگ میں خاص طور پر تگری اورگڑھ مکتیشور میلوں کے مشترکہ طور پر انعقاد، دونوں اضلاع کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے اور عقیدت مندوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنےکےامکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوے دونوں ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ اس تناظر میں تگری اور گڑھ مکتیشورکےدرمیان پونٹون پل کی تعمیر کےامکان کے بارے میں تکنیکی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی گئی۔ آبپاشی، میرٹھ کے سپرنٹنڈنگ انجینئر اور پبلک ورکس، میرٹھ اور مرادآباد کے سپرنٹنڈنگ انجینئرز کے ساتھ متعلقہ تکنیکی عہدیداروں کومیٹنگ میں بلایا گیا تاکہ پونٹون پل کی تکنیکی فزیبلٹی کا جائزہ لیا جاسکے۔
ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نتن گوڑ نےبتایا کہ فی الحال پونٹون پل کے بارے میں ایک مطالعہ جاری ہے۔ تگری کی طرف اینکرنگ پوائنٹس دستیاب ہیں، جبکہ گڑھ مکتیشور کی طرف اینکرنگ پوائنٹ کےامکان کو تلاش کرنےکی ضرورت ہے۔ تکنیکی ٹیم نے بتایا کہ اگرعارضی ڈھانچہ ممکن ہو تو اس سمت میں کام کیا جا سکتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ تکنیکی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہےکہ وہ پونٹون پل کےامکان کو تفصیل سے تلاش کرے اور حفاظتی رپورٹ اور تخمینہ تیار کرے۔ رپورٹ اور تخمینہ ملنے کے بعد فوری طور پر حکومت کو تجویز پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عقیدت مندوں کےمطالبات کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی تاہم حفاظت اور سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا عمل مطالعہ کے مرحلے میں ہے۔ تکنیکی حکام کے مطابق ایک بارحکومت کو تجویز پیش کرنے اور بجٹ مختص ہونے کے بعد پونٹون پل تقریباً ایک سےڈیڑھ ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے۔
میٹنگ میں دریائے گنگا کی کھدائی اور پشتوں کی تعمیر کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریا کے بہاؤ کے استحکام، کٹاؤ پر قابو پانے اور حفاظت کے لیے ڈریجنگ کی ضرورت، پشتوں کی تعمیر کی فزیبلٹی اور مجوزہ ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں مستقبل کے زائرین کی سہولت کے لیے مستقل گھاٹوں اورغسل خانوں کی ترقی پر بھی غور کیا گیا۔ محفوظ اور آسان غسل کے لیےگھاٹوں، ریمپ، روشنی، اور ضروری ساختی حفاظتی معیارات کی ترقی پر زور دیا گیا۔میٹنگ میں خواتین، معمر افراد اور معذور افراد کے لیے مستقل عوامی سہولیات کی ترقی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ضروری سہولیات جیسے بیت الخلاء، بدلنے والے کمرے، نہانے کے محفوظ مقامات، پینے کے پانی، آرام کی جگہوں اور روشنی کی مربوط ترقی پر زور دیا گیا۔مزید برآں، میلے کے علاقے کی جامع اور طویل مدتی ترقی کے حصے کے طور پر، ٹریفک مینجمنٹ، پارکنگ، سیکورٹی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، الیکٹریکل سسٹم، صفائی، ویسٹ مینجمنٹ، اور بیوٹیفیکیشن کے مستقل حل پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فنانس اینڈ ریونیو) گریما سنگھ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ہاپوڑ)، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (دھنورا )، آبپاشی، محکمہ تعمیرات عامہ، محکمہ جنگلات، اور ضلع پنچایت کےافسران، متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ میٹنگ میں موجود تھے۔
uttar pradesh
آرٹسٹ ایسو سی ایشن پریم چند مکتبہ فکر کی بہترین نمائندگی کررہی ہےمیرٹھ کی نئی ڈراما تنظیم: پروفیسر اسلم جمشید پوری
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
