دلی این سی آر
اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام’’رنگِ سخن‘‘ کے تحت مشاعرہ اور صوفی محفل کا انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی:مشاعرہ صرف شعرا کا کلام سنانے کا نام نہیں بلکہ یہ سماج کے مختلف طبقات کے لیے ایک ایساوسیع پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا شعری اظہار کرسکتے ہیں جو شاعریا شاعرہ اور سامعین کے درمیان براہ راست رابطہ کا مؤثر ذریعہ ہے ۔گویا مشاعرہ سماجی تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔لیکن ایسے مشاعرے خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جو صرف شاعرات پر مبنی ہو۔اردو خواتین شاعرات کو ایک جگہ اکٹھا کر ’رنگ سخن‘ کی محفل سجانا اپنے آپ میں ایک منفرد اور نیا تجربہ ہے، کیونکہ اس طرح کی ادبی محفلیں شاعرات کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انھیں ادبی دنیا میں متعارف کرانے کے اہم پلیٹ فارم ہیں۔
گزشتہ شام اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام سینٹرل پارک، کناٹ پلیس میں’’رنگ سخن‘‘ کے عنوان سے اسی طرح کی ایک ادبی و ثقافتی محفل کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ اس ادبی محفل کو دو نشستوں میںمنقسم کیا گیا تھا ، جس کی پہلی نشست میں مجلس شعر خوانی کا اہتمام کیا گیا۔جس میں ملک گیر شہرت کی حامل شاعرات مدعو کی گئیں۔مشاعرہ کی صدارت کہنہ مشق اور معروف شاعرہ تاجور سلطانہ نے کی جبکہ نظامت کی ذمہ داری نوجوان شاعر سلمان سعید نے انجام دی۔
سکریٹری اردو اکادمی /لنک آفیسر ڈاکٹررمیش ایس لعل ، صدر مشاعرہ تاجور سلطانہ اور اکادمی کے منتظمین کے ہاتھوں شمع روشن کرکے باضابطہ مشاعرے کا آغاز ہوا۔رنگ سخن کے اس مشاعرے میں تاجور سلطانہ، ڈاکٹر نصرت مہدی ،علینا عترت،ڈاکٹر سلمیٰ شاہین،ڈاکٹر انا دہلوی، مہک کیرانوی ، پریرنا پرتاپ، نوری پروین اور ہمانشی بابرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ و مسرور کیا۔اس موقع پرسکریٹری محکمہ فن، ثقافت و السنہ حکومتِ دہلی ڈاکٹر رشمی سنگھ، آئی اے ایس، مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شریک ہوئیں ۔ سکریٹری اکادمی ڈاکٹر رمیش ایس لعل نے ڈاکٹر رشمی سنگھ کا گلدستہ سے استقبال کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر رشمی سنگھ نے کامیاب مشاعرے کے انعقاد کے لیے اکادمی کے جملہ اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا’’ اردو اکادمی کے زیر اہتمام شاعرات کے اس مشاعرے میں آکر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔تمام شاعرات نے بہت خوبصورت انداز میں اپنا کلام پیش کیا ، یہاں ہمیں دل کو مسحور کردینے والی شاعری سننے کا موقع ملا جس پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہئے۔‘‘ انھوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شعر و ادب کا سماج سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ ادب سماج کا عکس ہوتا ہے جو معاشرے کے موجودہ مسائل اور انسانی اقدارکی ترجمانی کرتا ہے۔اس لیے نوجوان نسل کو شعر و ادب سے اپنا تعلق استوار کرنا چاہئے۔
رنگ سخن کی دوسری نشست میں بھوپال سے تشریف لائے معروف ’’رنگ بینڈ‘‘کے ذریعے ایک روح پرور صوفی محفل کا اہتمام کیا گیا۔اس درمیان محمد ساجد علی اور گروپ کے دیگر فنکاروں نے مشہور زمانہ قوالیاں اور نغمات گاکر سماں باندھ دیا۔ساجد علی نے امیر خسرو کے کلام ’’موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے رنگیلے‘‘ سے محفل کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انھوں نے امیر خسرو کے ذریعے حضرت نظام الدین اولیاؒکی شان میں لکھا گیا کلام پیش کیا۔علاوہ ازیں انھوں نے تو کجا من کجا ، بلھے شاہ ، کن فیکون کن، سانسوں کی مالاپہ سمروں میں، کل رات تم کہا ں تھے بتانا صحیح صحیح، بے حجابانہ وہ سامنے آگئے جیسے کلاسیکی اور موڈرن صوفی کلام پیش کرکے سامعین کو جھومنے پر مجبور کردیا۔ محفل میں جہاں دہلی کی عوام جذب و مستی میں نظر آئی وہیں کچھ غیر ملکی سیاح بھی موسیقی پرتھرکتے دکھائی دیئے۔صوفی محفل کی اس نشست میں سینکڑوں کی تعداد میںلوگوں نے شرکت کی جس میں شہریوں ، غیر ملکی، ادبی شخصیات، کاروباری اور طلباء کی ایک کثیر تعداد شامل رہی۔ پروگرام کے اختتام پراردو اکادمی کے سینئر اکاؤنٹ آفیسر ویریندر سنگھ کٹھیت، پبلی کیشن آفیسر محمدہارون اور جناب عزیر حسن قدوسی نے گلدستہ سے محمد ساجد علی اور ان کے گروپ کی عزت افزائی کی۔
نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے ڈی یو ایس بی آئی (دہلی اربن شیلٹر امپروومنٹ بورڈ) کی طرف سے فراہم کردہ زمین پر قابضین کو اس وقت تک قبضہ جاری رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جب تک کہ نیا ٹینڈر کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ کاوترا ہاسپیٹیلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، کاوترا ٹینٹ اینڈ کیٹررس پرائیویٹ لمیٹڈ، اور میسرز ایشور کامدھینو ریسٹورنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس سلسلے میں اپیلیں دائر کیں۔ اپیلوں کی سماعت کے بعد چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ان کی اپیل کو خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ مقررہ مدت کے لائسنس کو معاہدے کے تحت فراہم کردہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی توسیع سے زیادہ نہیں بڑھایا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو اپنی زمین خالی کرنے کی ہدایت کی اور پنڈال اور دیگر ڈھانچوں کو ہٹانے کے لیے درکار وقت کے پیش نظر 10 اگست سے ایک اضافی ہفتے کی مہلت دی، جو کہ سنگل جج کی طرف سے عائد کی گئی شرائط سے مشروط ہے۔ ہائی کورٹ نے ڈی یو ایس آئی بی کو 3 اگست 2026 سے چھ ہفتوں کے اندر ٹینڈر کا نیا عمل مکمل کرنے کی ہدایت بھی دہرائی۔
اپنی درخواست میں، درخواست گزاروں نے سنگل بنچ کے حکم کو چیلنج کیا جس میں انہیں ڈی یو ایس بی آئی کی زمین پرامن طریقے سے خالی کرنے اور قبضہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے میسرز ایشور کامدھینو ریسٹورنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی دلیل کو مسترد کر دیا، جس میں زمین میں کی گئی سرمایہ کاری اور نئے ٹینڈر کو مکمل کرنے میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے، قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بنچ نے واضح کیا کہ اس طرح کے تجارتی تحفظات معاہدے کی شرائط کو اوور رائیڈ نہیں کر سکتے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اپیل کنندہ نے اس کی شرائط و ضوابط کے مکمل علم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، اور اس لیے وہ محض مالی نقصان سے بچنے کے لیے اسے جاری رکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔درخواست گزاروں نے یہ اپیل 3 اگست کو سنگل جج کے حکم کے بعد دائر کی تھی۔ اپنے حکم میں، سنگل جج نے فرموں کی رٹ پٹیشن کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ ان کے پاس زیادہ سے زیادہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ملکیت میں رہنے کا کوئی معاہدہ، قانونی، یا موروثی حق نہیں ہے۔ اپیل کنندگان نے دلیل دی کہ ان کے معاہدے کی شق 6 کے تحت، وہ اس وقت تک قبضہ برقرار رکھنے کے حقدار ہیں جب تک کہ نئی نیلامی مکمل نہیں ہو جاتی اور کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ نئے معاہدے طے پا جاتے ہیں۔اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے، ڈویژن بنچ نے کہا کہ شق 6 کے تحت، ڈی یو ایس بی آئی صرف معاہدے میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے لیے توسیع کی سہولت فراہم کرتا ہے اگر نیا نیلامی کا عمل اصل معاہدے کی مدت ختم ہونے تک مکمل نہ کیا گیا ہو۔ بنچ نے کہا کہ اپیل کنندگان نے پہلے ہی مکمل چھ ماہ کی توسیع کا فائدہ اٹھایا تھا اور وہ توسیع کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ تازہ ٹینڈر کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔
دلی این سی آر
گروگرام میں بلڈوزر کارروائی،غیر قانونی تعمیرات مسمار
گروگرام :ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے پیر کو احتجاج کے درمیان ڈی ایل ایف فیز 3 میں مولساری ایونیو روڈ اور وی بلاک پر بلڈوزنگ کی۔ مسماری کے دوران ایک گیسٹ ہاؤس کو سیل کر دیا گیا۔ تقریباً 1:30 بجے ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا کی قیادت میں مسمار کرنے اور سیل کرنے والا دستہ ڈی ایل ایف مولسری ایونیو روڈ پر پہنچا۔ ڈیمالیشن اسکواڈ سب سے پہلے اس سڑک پر ایک گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ گیسٹ ہاؤس آپریٹر نے ڈی ٹی پی ای کے دستاویزات دکھائے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انہوں نے گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کے لیے سی ایل یو حاصل کیا ہے۔
سائٹ پر معائنہ کے دوران، ڈی ٹی پی ای نے منظور شدہ پلان کی نمایاں خلاف ورزیاں پائی۔ اسٹیلٹ پارکنگ میں چار کمرے، تہہ خانے میں چھ اور چھت پر دو کمرے غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے۔ منظور شدہ پلان میں ہر منزل پر چھ کمروں کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن آٹھ کمرے بنائے گئے تھے۔ ڈی ٹی پی ای کے حکم پر بلڈوزر عمارت میں داخل ہوا۔
سٹیلٹ پارکنگ میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے چار کمروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس گیسٹ ہاؤس کے تقریباً 30 کمروں پر مہمانوں کا قبضہ تھا۔ ڈی ٹی پی ای نے گیسٹ ہاؤس خالی کر کے سیل کر دیا۔ ڈی ٹی پی ای بلڈوزر کے ساتھ ایک پلاٹ پر پہنچا جہاں ایک ریسٹورنٹ، جوس شاپ اور پراپرٹی ڈیلر کا دفتر غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا۔ ڈی ٹی پی ای نے انہیں کلیئر کرنے کے لیے 20 منٹ کا وقت دیا۔
جس کے بعد بلڈوزر نے ریسٹورنٹ، جوس شاپ اور پراپرٹی ڈیلر کے دفتر کو مسمار کردیا۔ معائنہ کے دوران، ڈی ٹی پی ای نے پایا کہ تین گھروں کے سامنے سڑک پر گارڈ رومز غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان کو بلڈوزر سے کچل دیا گیا۔ مسمار ہوتے دیکھ کر ایک گھر کا مالک گارڈ روم جو باہر تھا، اپنے گھر کے اندر لے آیا۔ ڈی ٹی پی ای نے اس گارڈ روم کو اس کے گھر کے اندر سے ہٹا دیا تھا۔
ٹاون اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی کمشنر امیت مادھولیا نے بتایا کہ گھروں میں غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف سیلنگ اور مسمار کرنے کی مہم جاری رہے گی۔ سٹیلٹ پارکنگ میں غیر قانونی کمروں کے باہر سڑک پر گاڑیاں کھڑی ہیں۔
ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا مولسری ایونیو روڈ پر 10 عمارتوں میں بلڈوزر لے کر پہنچے، لیکن گھر کے مالکان نے انہیں ٹھہرنے کا راستہ دکھایا۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ان گھروں کے بارے میں 24 اگست کو سماعت ہونے والی ہے، جہاں ڈی ٹی پی ای اب جواب داخل کرے گی۔
دلی این سی آر
دہلی والوں نے اس سال 150 دن تک صاف ہوا میں لی سانس
نئی دہلی:دہلی نے اس سال اب تک کل 229 دنوں میں سے 150 ویں دن صاف ہوا میں سانس لی ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2020 میں کوویڈ-19 وبائی بیماری کے بعداس سال سب سے زیادہ صاف ہوا کے دن دیکھے گئے ہیں۔مانسون کی اچھی بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے دہلی کی ہوا گزشتہ ڈھائی ماہ سے مسلسل صاف رہی ہے۔ اس مدت کے دوران، دہلی کا فضائی معیار کا انڈیکس زیادہ تر دنوں میں 200 سے نیچے رہا ہے۔سی پی سی بی کے مطابق، پیر کو دہلی کا ہوا کے معیار کا انڈیکس 111 تھا، جسے معتدل سمجھا جاتا ہے۔ ایک دن پہلے، انڈیکس 92 تھا، جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں 19 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ تاہم، یہ اب بھی محفوظ حد کے اندر رہتا ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق، صفر اور 50 کے درمیان اے کیو آئی کو اچھا، 51 اور 100تسلی بخش، 101 اور 200 معتدل، 201 اور 300ناقص، 301 اور 400 انتہائی ناقص، اور 401 اور 500شدید سمجھا جاتا ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
