Connect with us

دیش

یوپی میں آندھی -طوفان،110 ہلاک،22 ٹرینیں منسوخ، راجستھان میں گرمی کا الرٹ، مدھیہ پردیش پر بھی ہیٹ ویوکا قہر

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ/بھوپال/دہلی۔اترپردیش میں 80 کلو میٹر کی رفتار سے طوفان آگیا، جس میں ایک شخص ہوا میں اڑ گیا اور شدید زخمی ہوگیا۔ آندھی طوفان کی رفتار کے تحت کئی حادثے ہوئے جس میں 110 لوگوں کی موت ہوگئی۔ بریلی میں ایک مکان گرگیا جس میں کئی لوگ دب گئے۔
اترپریش کے کئی اضلاع میں بدھ کے روز آندھی اور بارش نے زبردست تباہی مچائی۔ تیز آندھی کے سبب درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے جس سے کئی جگہ بجلی سپلائی معطل ہو گئی۔ خراب موسم کی وجہ سے ریاست کے مختلف اضلاع میں 110 لوگوں کی موت بھی ہو گئی جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ وارانسی، پریاگ راج اور کانپور ڈویزن میں َلوگوں کی موت ہوئی ہے۔دیہی علاقوں میں کچے مکان اور ٹین شیڈ اُڑ گئے وہیں فصلوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ تیز بارش اور دھول بھری آندھی کی وجہ سے سڑکوں پر آمد و رفت متاثر رہی۔ کئی جگہ درخت گرنے سے ٹریفک میں رخنہ پڑا ہے۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق بھدوہی میں 18، اناؤ اور بدایوں میں 6-6، سیتاپور، رائے بریلی، چندوسی، کانپور دیہات، ہردوئی اور سنبھل میں 2-2، کوشامبی، شاہجہاں پور، سون بھدر اور لکھیم پور کھیری میں 1-1 شخص کی موت خراب موسم کے سبب ہوئی ہے۔
آندھی کی وجہ سے دہلی-ہاوڑا ریلوے روٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے لئے رخنہ پڑا۔ وہیں فتح پور میں درخت گرنے سے او ایچ ای لائن ٹوٹ گئی۔ جس کی وجہ سے کانپور ہوکر آنے جانے والی 22 ٹرینیں متاثر ہوئیں۔ وہیں پریاگ راج۔جونپور ریل سیکشن پر تھروئی اور سرائے چنڈی ریلوے اسٹیشن کے درمیان ایک 4 بڑا درخت گرگیا جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت ٹھپ ہوگئی۔ لکھنؤ اور پرتاپ گڑھ روٹ پر بھی کافی اثر پڑا۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں بے موسم بارش، آندھی اور بجلی گرنے سے ہوئے نقصان پر متاثرین کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو راحت پہنچانے کا کام 24 گھنٹے کے اندر پورا کیا جائے۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹوں سمیت دیگر محکموں کے افسران کو موقع پر پہنچ کر متاثرین کو ہر ممکن مدد پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کام میں لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دریں اثنا راجستھان میںتیز گرمی اور ہیٹ ویو کا قہر جاری ہے۔ جیسلمیر میں درجہ حرارت 46 ڈگری پار کرگیا ہے۔ اسی طرح بیکانیر ، جوت پور، جیسلمیر ، باڑمیر میں گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا۔ راجستھان کے 13اضلاع میں ہیٹ ویو کی وارننگ دی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے 25 اضلاع میں ہیٹ ویو چل رہی ہے۔ اندور ، اجین ، دھار ، رتلام میں درجہ حرارت 45 پار کر گیا ہے۔ یہاں بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انٹر نیشنل

امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت

Published

on

لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار

Published

on

نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔

Continue Reading

دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network