دیش
کالا کوٹ پہن کر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں ممتا
(پی این این)
کولکاتہ۔ایس آئی آر کے معاملے پر سپریم کورٹ پہنچنے والی ممتا بنرجی اب ایک بار پھر عدالت پہنچ گئی ہیں۔ اور کلکتہ ہائی کورٹ میں انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ بنگال بلڈوزر اسٹیٹ نہیں ہے۔ یہاں پر لاقانونیت بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنگال کے عوام کی تحفظ ضروری ہے۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی چیف ممتا بنرجی جمعرات کو وکیل کے لباس میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد سے متعلق دائر مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) معاملہ میں چیف جسٹس سوجوئے پال کے سامنے دلیل رکھیں گی۔
یہ عرضی ٹیم ایم سی لیڈر کلیان بنرجی کے بیٹے شیرشانیا بنرجی نے داخل کی تھی۔ واضح رہے کہ ممتا بنرجی اس سے قبل ایس آئی آر کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ میں بطور وکیل دلیل پیش کر چکی ہیں۔عرضی گزار کے مطابق انتخاب کے بعد کئی ترنمول لیڈران اور کارکنان کو مبینہ طور پر اپنے گھر چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا، جبکہ ان میں سے کئی پر ترنمول کانگریس سے ان کے تعلقات ہونے کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔ یہ عرضی 12 مئی کو کلکتہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ یہ معاملہ چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین کی ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا ہے۔ترنمول کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہماری چیئرپرسن ممتا بنرجی آج ذاتی طور پر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں تاکہ بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انتخاب کے بعد پھیلائے گئے وسیع پیمانے پر تشدد سے متعلق معاملے میں دلائل پیش کر سکیں۔‘‘ پارٹی کے مطابق ایک بار پھر انہوں نے ثابت کر دیا کہ آخر وہ دوسروں سے مختلف کیوں ہیں۔ وہ بنگال کے عوام کو ان کی مشکل گھڑی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتیں۔ وہ سچ، انصاف اور آئینی اقدار کے لیے لڑنا کبھی بند نہیں کرتیں۔ اور ہر بار نفرت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر بے مثال ہمدردی، جرأت اور عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ خواہ ایس آئی آر کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے بے قابو رویے کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا، وہ مسلسل یہ ثابت کر رہی ہیں کہ آج ملک میں ان جیسی کوئی اور لیڈر موجود نہیں۔واضح رہے کہ ممتا بنرجی مغربی بنگال انتخاب کے نتائج کے بعد سے مسلسل انتخاب میں بے ضابطگی کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ وہ بی جے پی سے زیادہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔
ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے ذریعہ الیکشن کمیشن نے لوگوں کو ووٹ کرنے سے محروم کیا ہے۔ ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ ووٹوں کی گنتی میں بھی بے ضابطگی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتائج 4 مئی کو آئے تھے، اس کے بعد کئی جگہوں سے تشدد کی خبریں آئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ٹی ایم ایس کے دفتر پر حملے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔ اس کے متعلق ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا تھا کہ مغربی بنگال میں انارکی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور ہمارے کارکنان پر حملے ہو رہے ہیں۔
دیش
آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند
گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔
دیش
سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میںشامل کرنے کا معاملہ، فیصلہ محفوظ
نئی دہلی:رائوایونیو کورٹ نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے سے منسلک نظرثانی اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریت ملنے سے پہلے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے مجسٹریٹ نے خارج کردیا تھا۔ اسی حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی ۔کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسی عرضیاں داخل کی جاتی ہیں تاکہ شہرت مل سکے۔ یہ سب سیاست کا ایک حصہ ہے۔ سونیا گاندھی کے کردار پر کوئی انگلیاں نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح ان کی شہریت اور حب الوطنی بھی ایک مثال ہے۔
دیش
ہندوستان کے ماضی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی،ماضی کبھی مستقبل کا نہیں کرسکتا مقابلہ،راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنمائوں کا ردعمل
نئی دہلی: وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد اپوزیشن میں جشن کا ماحول ہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ یہ سچ کی جیت ہے، وزیر اعظم کی ضد ہار چکی ہے۔کانگریس نے کہا کہ نریندر مودی ہندوستان کے ماضی ہیں اور وہ مستقبل کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو طلبا مخالف بتاتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاح کی بات کہی تھی۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا وغیرہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کیا۔ اور کہا کہ طلبا کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اسے ہمارے تعلیمی نظام کی اصلاح کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا اور ملک بھر کے طلباء کو ان کے عزم کے لیے مبارکباد دی۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ لاکھوں نوجوانوں، سچائی اور متحد اپوزیشن کی جیت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد کی شکست ہے۔ کھرگے نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کے طلباء کی آواز آخر کار متکبر حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لاکھوں نوجوانوں کی جیت ہے جو ملک بھر میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ یہ سچائی کی جیت اور مودی کی ضد کی شکست ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیرا نے اس فیصلے کو ناکافی اور تاخیری قدم قرار دیا۔ کھیرا نے کہا یہ بہت دیر سے نامکمل قدم ہے لیکن ہم نے آخر کار اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر، سپریا سولے نے کہا، “وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پرامن مظاہرین، طلباء اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو نیٹ یو جی کے معاملے پر ڈٹے رہے۔
ششی تھرور نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں احتساب سے ہمیشہ کے لیے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پوری قوم کو مبارکباد۔ یہ جمہوریت کی بڑی جیت ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
