Connect with us

Bihar

کالج آف کامرس میں عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر شجرکاری اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق بیداری پروگرام کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جمعہ کے روز کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں ماحولیات کے تحفظ اور فروغ کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر شعبۂ حیوانیات کی صدر ڈاکٹر وندنا کماری کی قیادت میں کالج کیمپس کے مختلف مقامات پر شجرکاری اور پودا لگانے کی مہم چلائی گئی۔اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ کالج کے شعبۂ حیوانیات، شعبۂ نباتیات اور شعبۂ جغرافیہ کی جانب سے پٹنہ کے شہری علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کے مطالعہ اور دستاویزی کام انجام دیا جا رہا ہے۔ اس اہم اقدام کی حوصلہ افزائی کے لیے بہار اسٹیٹ بایو ڈائیورسٹی کونسل نے کالج کو ایک تحقیقی منصوبہ بھی فراہم کیا ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر طلبہ و طالبات کو اپنے گھر اور آس پاس کے علاقوں میں موجود حیاتیاتی تنوع کا مطالعہ کرکے ایک مختصر رپورٹ پیش کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اس کے لیے گوگل فارم کے ذریعے ایک مقررہ فارمیٹ فراہم کیا گیا ہے۔ طلبہ اپنی رپورٹس 20 جون تک جمع کرا سکتے ہیں۔موصول ہونے والی تمام رپورٹس کا ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا اور 21 جون کو عالمی یومِ یوگا کے موقع پر منعقد ہونے والے خصوصی پروگرام میں بہترین تین رپورٹس کو انعامات سے نوازا جائے گا۔
کالج کی پرنسپل پروفیسر سنیتا رائے نے اس موقع پر اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے ماحولیات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
اس پروگرام میں آئی کیو اے سی کے رابطہ کار پروفیسر سنتوش کمار، برسر ڈاکٹر مکیش کمار مدھوکر، پروکٹر پروفیسر منور فضل، ڈاکٹر کے۔ بی۔ پدم دیو، ڈاکٹر اکبر علی، ڈاکٹر رجنیش کمار اور ڈاکٹر شمبھو شرن سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

Bihar

سنجے یادو کا کولیجیم نظام کو ختم کرنے اور ججوں کی تقرری میں ریزرویشن نافذ کرنے کامطالبہ

Published

on

مظفرپور:راجیہ سبھا میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل 2026پر بحث کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے نوجوان اور شعلہ بیاں رکن پارلیمنٹ سنجے یادو نے مودی حکومت اور موجودہ عدالتی نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ایک چپراسی کی نوکری کے لیے بھی غریب کے بچے کو کٹھن امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، وہاں اتنے بڑے اور اہم عہدوں پر ججوں کی تقرری بنا کسی امتحان کے کیسے ہو جاتی ہے؟ انہوں نے مروجہ کولیجیم نظام کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
راجیہ سبھا میں اپنی مدلل اور تیکھی تقریر کے دوران آرجے ڈی ایم پی نے ملک کے سماجی ڈھانچے اور عدالتی نمائندگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سنجے یادو نے ایوان کو بتایا کہ “یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ ملک کی 85 فیصد آبادی دلت، آدیواسی اور پسماندہ طبقات (او بی سی ایس سی ٹی) پر مشتمل ہے، لیکن جب ہم اعلیٰ عدلیہ (ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ) کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ان مظلوم طبقات کے ججوں کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ عدلیہ میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ججوں کی تقرری میں ریزرویشن (آرکشن) کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
سنجے یادو نے عدالتی نظام میں شفافیت اور عوامی جوابدہی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کے لیے آل انڈیا جوڈیشل سروس (اے آئی جے ایس) کے تحت سول سروسز کی طرز پر ملک گیر امتحان کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ غریب اور پسماندہ طبقے کے قابل نوجوانوں کو جج بننے کا موقع مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ کس جج کو کس بنیاد پر ترقی دی گئی یا مقرر کیا گیا ہے، لہٰذا تقرری کی تمام وجوہات اور دستاویزات کو پبلک کیا جائے۔
پارلیمنٹ میں سنجے یادو کے اس تیکھے تیور اور جرات مندانہ موقف کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور سیاسی حلقوں میں اس پر گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔

Continue Reading

Bihar

بانکی پور میں بی جے پی کا قلعہ منہدم،نتن نوین کے مضبوط گڑھ میں بی جے پی کے نیرج کودی بری طرح سے شکست،پرشانت کشور کی این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے’اہل اور ایماندار‘ وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کی اپیل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اس نشست سے انتخابی حکمتِ عملی ساز اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی اس نشست پر بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو شکست دے دی۔
الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ کمیشن کے مطابق 32وں مرحلوں کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد پرشانت کشور کو 64,151 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی کے نیرج کمار کو 44,827 ووٹ ملے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری 14,273 ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن نوین کے مضبوط سیاسی گڑھ بانکی پور میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج سنہا کو بھاری فرق سے شکست دے دی۔ ووٹوں کی گنتی کے آغاز ہی سے پرشانت کشور مسلسل سبقت بنائے رکھے، جو آخر تک برقرار رہی۔واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں تقریباً 35 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔
اسی دوران، اپنی تاریخی کامیابی کے بعد پرشانت کشور کے ایک بیان پر بھی خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیر کے روز انہوں نے کہا کہ’’بانکی پور ایک رات میں بنگلورو نہیں بن سکتا، تاہم میری جیت کے بعد اس اسمبلی حلقے میں واضح اور مثبت تبدیلی ضرور نظر آئے گی۔‘‘وہیں پرشانت کشور نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے ایک “اہل، ایماندار اور ترقی پسند” شخص کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر کشور نے دعویٰ کیا کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج نے ریاست کی قیادت میں تبدیلی کے لیے عوام کی خواہش کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں جیت کی طرف بڑھتے ہوئے گنتی مرکز کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو 202 ایم ایل ایز کا مینڈیٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کی قیادت کسی ایسے شخص کے سپرد کرے جس کا عکس بے داغ ہو اور جو تعلیم، روزگار اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہجرت (مائگریشن) کو روک سکے۔
مسٹر کشور نے کہا کہ بہار کو ایک ایسے اچھے اور اہل وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے جو معیاری تعلیم فراہم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور بہاریوں کے وقار کو بحال کرے۔انہوں نے کسی متبادل لیڈر کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی مخالفت کسی فرد یا پارٹی سے نہیں بلکہ’’کمزور قیادت‘‘سے ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اگر ایسی ہی قیادت برقرار رہی تو بہار کی ترقی پر برا اثر پڑے گا۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات

Published

on

ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network