Connect with us

دیش

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا اعلان،پورے ملک میں 21 جون کو دوبارہ ہوگانیٹ کا امتحان

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے آج نیٹ یو جی امتحان سے متعلق ایک بڑا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ سال سے نیٹ یو جی امتحان کمپیوٹر پر مبنی فارمیٹ، یعنی ’سی بی ٹی موڈ‘ میں منعقد کیا جائے گا۔
انھوں نے طلبا کو بھروسہ دلایا کہ حکومت شفاف، غیر جانبدار اور محفوظ امتحان سسٹم کے تئیں پرعزم ہے اور مناسب وسائل کا استعمال کرنے والے کسی بھی شخص یا گروپ کو بخشا نہیں جائے گا۔ انھوں نے میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نیٹ یو جی 2026 کا منسوخ امتحان اب دوبارہ 21 جون کو منعقد ہوگا۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ این ٹی اے نے 3 مئی کو منعقد امتحان کے بعد پیدا حالات کا جائزہ لیا اور پھر امتحان کے لیے نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 7 مئی کو نیٹ یو جی پیپر لیک کی خبریں سامنے آنے کے بعد کئی طرح کی فکر سامنے آئیں۔
اس کے بعد حکومت نے معاملے کی آفیشیل جانچ شروع کی اور 12 مئی تک ابتدائی جانچ سے پتہ چل گیا کہ سوالنامہ ’گیس پیپر‘ نیٹورک کی آڑ میں لیک کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ اہل اور قابل امیدوار اس سے متاثر نہ ہوں۔ انھوں نے امتحان کے عمل میں غیر جانبداری سے متعلق کہا کہ ہم اہل طلبا کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دینا چاہتے۔وزیر تعلیم نے نیٹ یو جی کے امتحان میں دوبارہ شامل ہونے والے طلبا سے کہا کہ ان کی کوشش مراحل کو آسان بنانا ہے۔ اس امتحان میں دوبارہ شامل ہونے والے طلبا کو اپنی پسند کا امتحان سنٹر منتخب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس قدم کا مقصد سفر کے بوجھ کو کم کرنا اور امتحان رد ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینے والے لاکھوں طلبا کے لیے سہولیات میسر کرانا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’نیٹ یو جی 2026‘ کے دوبارہ ہونے والے امتحان سے متعلق ایڈمٹ کارڈ 14 جون تک جاری کر دیے جائیں گے۔
دریں اثنا نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ نیٹ کا دوبارہ امتحان 21 جون کو پورے ملک میں ایک ساتھ لیا جائے گا۔اس کے لئے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔

دیش

مدھیہ پردیش ،گجرات، یوپی ،بہار سمیت 16ریاستوں میں بھاری بارش

Published

on

بھوپال/جے پور/پٹنہ:ملک بھر میں زبردست بارش کا دور جاری ہے۔ مدھیہ پردیش گجرات، اترپردیش، بہار سمیت 16 ریاستوں میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ بستی مہاراشٹر، مراٹھاواڑہ، بیدر اور تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیاہے۔ ریڈ الرٹ کا مطلب ہے کہ 24 گھنٹے میں حد سے زیادہ بارش۔
دریں اثنا اتراکھنڈ میں ردپریا کے گوری کنڈ کے پاس لینڈ سلائڈنگ سے کیدار ناتھ یاترا تیسرے دن بھی بند رہی ۔ اس دوران کئی گھروں میں پتھروں کا ملبہ گھس گیا۔ اور نصف درجن گاڑیوں کے بہنے کی خبریں ہیں۔ کانوڑیوں کو بچانے کے لئے ایس ڈی آر ایف ٹیم لگی ہوئی ہے۔ آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب سو سے پار کرگئی ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے زیر آب ہیں۔ وہاں کے لوگ دوسرے محفوظ علاقوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک اگست تک آسام اور دوسری ریاستوں میں بھاری بارش اور بجلی گرنے کے امکانات ہیں۔آسام میں تنسکویا، بھیما جی ، لکھیم پور، شیو ساگر، جورہارٹ اور گولہ گھاٹ جیسے سرحدی اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
گجرات میں دو دنوں کی بارش نے عام زندگی مفلوج کردی ہے یہاں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ وہاں کے 17 اضلع متاثر ہیں۔ یوپی ، بہار کے کئی اضلاع میں بھی انتظامیہ الرٹ ہے۔

Continue Reading

دیش

سپریم کورٹ نے بھوج شالہ درگاہ میں نماز کی دی اجازت

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے مسلم فریق کو متنازعہ بھوج شالہ احاطہ سے منسلک درگاہ کی زمین پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی اجازت دی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ مذہبی حقوق کی ادائیگی ہمارا فرض ہے۔ اسے سلب نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کل کی جمعہ کی نماز کے لئے بھوج شالہ احاطہ کے بغل میں زمین فراہم کی جائے۔کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فریق نے خسرہ نمبر596جسے درگاہ کی زمین بتایا گیا ہے وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی ہے۔یہ جگہ متنازعہ احاطہ سے بالکل نزدیک ہے ۔
عدالتِ عظمیٰ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان مسلمانوں کو مذکورہ مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت یقینی بنائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حکم سے ریاستی حکومت اور مسلم فریق باہمی رضامندی سے جمعہ کی نماز کے لیے کسی متبادل مقام پر غور کرنے سے محروم نہیں ہوں گے۔ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کے لیے متنازع مقام سے متصل ایک علیحدہ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔بعد ازاں حاجی منیر احمد کی قیادت میں مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا، کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے جو متبادل جگہ فراہم کی ہے وہ متنازع بھوج شالا کمپلیکس سے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے۔مسلم فریق کا مؤقف تھا کہ نماز کے لیے ایسی جگہ دی جانی چاہیے جہاں سے مسجد نظر آتی ہو، تاکہ نماز کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ دھار ضلع میں واقع متنازع بھوج شالا-کمال مولہ مسجد کمپلیکس دراصل دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ اسی فیصلے میں عدالت نے آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے کئی دہائیوں پرانے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس مقام پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔

Continue Reading

دیش

آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند

Published

on

گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس  گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network