تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

سنٹرل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی کانفرنس میں پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی پینل کی صدارت

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کوگجرات کے شہر کیوڈیا میں سنٹرل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی قومی کانفرنس کے دوران ایک اہم علمی پینل کی صدارت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس باوقار کانفرنس کا اہتمام وزارت تعلیم، حکومت ہند نے کیا تھا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) کے چیئرمین، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) کے چیئرمین، وزارت تعلیم کے ایڈیشنل سکریٹری اور ملک کی مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز موجود تھے۔
پروفیسر نعیمہ خاتون کو ”قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے نفاذ میں مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹرز (ایم ایم ٹی ٹی سی) کا کردار“ موضوع پر ماہرین کے پینل کی صدارت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس پینل کے لیے اے ایم یو کو کوآرڈینیٹر یونیورسٹی مقرر کیا گیا تھا، جس نے اس موضوع پر قومی سطح پر گفت و شنید کی قیادت کی۔ پینل میں اے ایم یو سمیت سینٹرل یونیورسٹی آف اڑیسہ، مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسٹی (بہار)، سمّکّا سارکّا سینٹرل ٹرائبل یونیورسٹی (تلنگانہ) اور راجیو گاندھی سینٹرل یونیورسٹی (اروناچل پردیش) کے وائس چانسلرز شامل تھے۔
اس موقع پر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ایک جامع مقالہ پیش کیا، جس میں ایم ایم ٹی ٹی سی کے ڈھانچے، اس کے اثر ات اور اختراعی امکانات کے ساتھ ساتھ ہمہ جہتی پالیسی سفارشات شامل تھیں۔ یہ مقالہ اے ایم یو کی جانب سے حاصل کردہ تاثرات، پالیسی دستاویزات کے تجزیے، اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگراموں کے تجربات پر مبنی تھا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا ”ایم ایم ٹی ٹی سی کو ایسے علمی مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو این ای پی کے وژن، یعنی بین العلومی فوکس، شمولیت و اختراع پر مبنی اور ڈیجیٹل اعتبار سے بااختیار بنانے کے تصورات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس قومی مشن میں اے ایم یو قائدانہ کردار ادا کررہا ہے“۔پروفیسر نعیمہ خاتون کی پیشکش اور کانفرنس میں ان کی قیادت کو ملک بھر کے تعلیمی پالیسی سازوں، ماہرین اور یونیورسٹیز کے رہنماؤں نے سراہا۔ اس سے ایک بار پھر اے ایم یو کی قومی سطح پر علمی قیادت اور مستقبل رخی تعلیمی وژن کے حامل ادارے کے طور پر اس کی حیثیت مستحکم ہوئی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔