دلی این سی آر
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنے آبائی گاؤں نند گڑھ میں منائی 51ویں سالگرہ
(پی این این)
جند: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نےکہ کہ وکست بھارت کی سمت دہلی اور ہریانہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ گپتا جند ضلع میں ایک پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا نتیجہ ہے کہ آج دہلی اور ہریانہ جیسی ریاستوں کے اعلیٰ عہدوں پر عام خاندانوں سے آنے والے لوگ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور سماجی خدمت کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے آج ہریانہ کے جولانہ میں اپنے آبائی گاؤں نند گڑھ میں اپنی 51ویں سالگرہ منائی۔ وہ 19 جولائی 1974 کو اس گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ہریانہ حکومت نے اس موقع پر نند گڑھ میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے جولانہ میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی سالگرہ کے موقع پر ان کا شاندار استقبال کیا۔وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے نند گڑھ گاؤں کو ریکھا گپتا کی سالگرہ کے تحفے کے طور پر کئی ترقیاتی تحفے دیے۔ اس کے لیے ریکھا گپتا نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ریکھا گپتا نے نند گڑھ سے متعلق اپنے بچپن کی یادیں اور دہلی یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے انتخابات سے لے کر دہلی کے وزیر اعلیٰ بننے تک کے اپنے سفر کو یاد کیا۔
مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، “دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جی کو ان کے یوم پیدائش پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ وہ دہلی کی خدمت میں ہمیشہ سرگرم رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر، انہوں نے قومی راجدھانی کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ خدا انہیں لمبی اور صحت مند زندگی عطا کرے،” مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا۔گپتا نے ان کی سالگرہ پر مبارکباد دینے پر وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی “ہمیشہ متاثر کن” رہنمائی ان کے (گپتا کے) عوامی خدمت کے سفر کے لئے طاقت اور تحریک کا مستقل ذریعہ ہے۔ریکھا گپتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، “بطور وزیر اعلی، میںسب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پرایاس کے آپ کے وژن کو بامعنی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہوں۔ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، “دہلی کی وزیر اعلیٰ، ہریانہ کی بیٹی ریکھا گپتا جی کو ان کے یوم پیدائش پر نیک خواہشات اور مبارکباد۔ آپ کی موثر قیادت اور سماج کے تئیں لگن راجدھانی میں اچھی حکمرانی اور بااختیار بنانے کی علامت بن گئی ہے۔ میں بھگوان شری رام سے دعا کرتا ہوں کہ آپ دہلی کی ترقی اور صحت مند زندگی کے لیے ہمیشہ قائم رہیں اور آپ کو صحت مند زندگی گزارنے کا موقع ملے۔”دہلی میں عہدیداروں نے بتایا کہ اس کا جولانہ اور نند گڑھ میں کئی پروگراموں میں حصہ لینے کا پروگرام ہے۔
ہریانہ کے وزیراعلیٰ نایب سنگھ سینی نے اس موقع پر کہا کہ ہریانہ کی بیٹی، ریکھا گپتا، دہلی کی وزیراعلیٰ بننے کے بعد آج پہلی بار اپنی سالگرہ کے موقع پر اپنے آبائی گاؤں نندگڑھ آئی ہیں، وہ تمام ہریانہ کے لوگوں کی طرف سے انہیں سالگرہ کی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے گپتا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریکھا گپتا عام خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور پنڈت دین دیال اپادھیائے کی نظریاتی سوچ کے ساتھ جڑ کر عوامی خدمت کا کام کر رہی ہیں۔ ان کی پوری زندگی ملک کے لیے وقف رہی ہے اور انہوں نے ملک کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ ریکھا گپتا کی سوچ، ان کی پالیسی اور نیت یہی ہے کہ دہلی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ‘وکست بھارت’ کے سفر میں ہریانہ اور دہلی حکومتیں مضبوطی سے آگے بڑھیں گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وکست بھارت کی سمت دہلی اور ہریانہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں اور وزیر اعظم کی قیادت کا نتیجہ ہے کہ آج دہلی اور ہریانہ جیسی ریاستوں کے اعلیٰ عہدوں پر عام خاندانوں سے آنے والے لوگ ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں اور عوامی خدمت کو سب سے بڑی ترجیح دے رہے ہیں۔ سینی نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کےاصول اور نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 2014 کے بعد ہندوستان نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ مسٹر مودی کے ’وکست بھارت‘ کے عزم میں ہریانہ قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے مرکز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھے گا۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے اگرسین دھرم شالہ کا افتتاح اور نندی و کامدھینو گؤ شالہ کا بھومی پوجن کیا۔ انہوں نے دھرم شالہ کے لیے 31 لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔ مسٹر سینی نے کہا کہ مسٹر مودی کی قیادت میں ملک نے عالمی سطح پر اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ پختہ یقین رہا ہے کہ ہندوستان ایک دن اقتصادی سپر پاور بنے گا اور آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی معیشت 11ویں مقام سے چوتھے مقام پر پہنچ چکی ہے۔ ترقی کا یہ سفر وزیر اعظم کی قیادت میں ہی ممکن ہو سکاہے اور آنے والے وقت میں ہندوستان یقیناً دنیا کی تیسری بڑی معیشت بنے گا۔
دلی این سی آر
E-20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول پرکجریوال کا ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کولکھا خط
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کو خط لکھ کر ایک ہفتے کے اندر یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا 2023 سے پہلے تیار ہونے والی پرانی گاڑیوں میں E-20 (20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول) کا استعمال محفوظ ہے یا نہیں۔ انہوں نے ٹویوٹا، ہیرو اور ماروتی سوزوکی کو الگ سے خط لکھا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں نے 4 جولائی کو ایک سرکاری پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 کا استعمال محفوظ ہے۔ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ ان کمپنیوں کی اونر مینول تو واضح طور پر کہتی ہے کہ 2023 سے پہلے تیار ہونے والی گاڑیوں میں 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملا ہوا پٹرول استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے میں کمپنیاں تحریری طور پر ملک کو بتائیں کہ آیا واقعی E-20 محفوظ ہے اور کیا اس سے مائلیج صرف 4 سے 5 فیصد ہی کم ہوتی ہے؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ اگر E-20 کے استعمال سے کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا گاڑی کا کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا یہ کمپنیاں صارف کو اس کا معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے باقی 26 آٹو موبائل کمپنیوں کو بھی الگ خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں کہ آیا ان کی 2023 سے پہلے تیار شدہ گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس سے مائلیج کتنی کم ہوگی، گاڑی کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اگر کسی صارف کو نقصان ہوا تو کیا کمپنی اس کی تلافی کرے گی؟ بدھ کو عام آدمی پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں دہلی ریاستی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی تمام پٹرول سے چلنے والی دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو خط لکھیں گے تاکہ وہ E-20 کے بارے میں اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ اسی سلسلے میں آج 29 کمپنیوں کو خطوط بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 29 کمپنیوں میں سے تین کمپنیوں، ماروتی سوزوکی، ٹویوٹا کرلوسکر اور ہیرو کو الگ خط لکھا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے 4 جولائی کی سرکاری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کرنا محفوظ ہے اور اس سے صرف 3 سے 5 فیصد مائلیج کم ہوتی ہے، جبکہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کیجریوال نے کہا کہ ان کمپنیوں کی سرکاری پریس کانفرنس میں دی گئی باتوں اور ان کی اپنی اونر مینول کے درمیان واضح تضاد موجود ہے۔ ایک طرف کمپنی کی اونر مینول صارف اور کمپنی کے درمیان معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، جو 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول والے پٹرول کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ دوسری طرف کمپنی کے نمائندے عوامی سطح پر E-20 کو محفوظ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی غلطی یا تکنیکی تضاد نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے، اس لیے کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر تحریری طور پر عوام کو بتائیں کہ آیا پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے صرف 4 سے 5 فیصد ہی مائلیج کم ہوتی ہے؟ اور کیا گاڑی کے کسی پرزے کو نقصان نہیں پہنچتا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا E-20 کے استعمال سے کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا کمپنیاں اس صارف کو مکمل معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے بتایا کہ باقی 26 کمپنیوں کو بھی ایک عمومی خط بھیجا گیا ہے، جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ E-20 کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں، کیونکہ اس وقت ملک بھر میں اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ E-20 مکمل طور پر محفوظ ہے، تو کیا وہ مائلیج میں کمی یا گاڑی کے پرزوں کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری بھی قبول کریں گی؟ مجھے امید ہے کہ تمام کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر اس کا واضح جواب دیں گی، کیونکہ یہ ملک کے کروڑوں صارفین سے متعلق انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اروند کیجریوال نے اعلان کیا کہ جمعرات کو وہ مختلف پٹرول پمپوں، سروس سینٹروں اور مکینکوں سے ملاقات کریں گے اور عام صارفین کی رائے جانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت E-20 کو ہر حال میں نافذ کرنے پر بضد ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ اس سے گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، صرف معمولی مائلیج کم ہوتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عوام کا تجربہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب عوام اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں کبھی اینٹی نیشنل اور کبھی کسی لابی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اب خود بڑے آٹو بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی اس پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ ملک کے 140 کروڑ عوام کو غدار یا دہشت گرد کہنا مناسب نہیں۔ اگر مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ بھی اس فیصلے سے پریشان ہیں تو ایک ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے۔اروند کیجریوال نے آخر میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سائنس، منطق اور انجینئرنگ کے اصولوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ عوامی مفاد میں نظر نہیں آتا، البتہ یہ کس کے مفاد میں ہے، اس کا جواب ابھی تک عوام کو نہیں ملا ہے۔
دلی این سی آر
ایل جی نے 20سے زیادہ پرجیکٹوں کو دی منظوری
(پی این این)
نئی دہلی :لیفٹیننٹ گورنر سندھو نے سنتھ میں میٹرو ڈپو کے لیے 20 ہیکٹر اراضی اور نریلا میں ایک کاسٹنگ یارڈ کے لیے 16 ہیکٹر اراضی دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کو دیگر پروجیکٹوں کے علاوہ مختص کی ہے۔
چار پولیس اسٹیشنوں، دو لیبارٹریوں اور دو آئی بی اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کرتے ہوئے، ایل جی سندھو نے 20 سے زیادہ پروجیکٹوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کو دور کیا جو برسوں سے رکے ہوئے تھے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے کئی سالوں سے رکے ہوئے کئی پروجیکٹوں کی ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرکے دہلی کے لوگوں کو ایک بڑا تحفہ دیا۔ انہوں نے 20 سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے ڈی ڈی اے کو اراضی مختص کرنے کی منظوری دی۔ یہ تمام منصوبے زمین کی کمی کی وجہ سے رک گئے تھے جس کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔
اب ان کی تکمیل کا راستہ کھل گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ یہ منصوبے مختلف محکموں کے درمیان تال میل کے فقدان کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے۔ تاہم ایل جی سندھو کی جانب سے زمین مختص کرنے کے بعد اب امید ہے کہ ان تمام پروجیکٹوں پر کام شروع ہو جائے گا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے دلکش باغ، ساگر پور، کشن گڑھ میں نئے پولیس اسٹیشنوں، نریلا میں ایک فارنسک سائنس لیبارٹری، دھیر پور اور طاہر پور میں انٹیلی جنس بیورو اسٹیشن، دوارکا سیکٹر 19 اور منگل پوری میں سب رجسٹرار آفس اور کمیونٹی کے لیے زمین بھی الاٹ کی۔
مزید برآں، آیوشمان آروگیہ مندروں کے لیے 112 نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) اور پانچ اٹل کینٹین کے لیے جاری کیے گئے۔مزید برآں، لیفٹیننٹ گورنر نے ہولمبی کلاں میں ای ویسٹ ایکو مینجمنٹ پارک کے لیے ڈی ڈی اے کی درخواست کردہ 8.5 ہیکٹر اراضی اور غازی پور لینڈ فل سائٹ کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی جانب سے درخواست کردہ 10 ایکڑ اراضی کی منتقلی کو منظوری دی۔ فضلہ سے توانائی اور بائیو میتھینائزیشن کی سہولیات کی توسیع کے لیے اضافی 10.4 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے۔ LG نے MCD کو 24 فکسڈ کمپیکٹر ٹرانسفر اسٹیشن سائٹس کے لیے زمین بھی مختص کی ہے۔اہلکار نے مزید بتایا کہ ایل جی سندھو نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کو سنوت میں میٹرو ڈپو کے لیے 20 ہیکٹر اور نریلا میں کاسٹنگ یارڈ کے لیے 16 ہیکٹر زمین مختص کی ہے۔شہر میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کو 151 بورویل لگانے کے لیے زمین دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، آٹھ مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) اور سیوریج پمپنگ اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ جونتی میں ایک ایس ٹی پی اور سنگم وہار میں ایک زیر زمین ٹینک کے لیے زمین مختص کی گئی ہے۔تعلیم کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے، لیفٹیننٹ گورنر نے نریلا میں گرو گوبند سنگھ اندرا پرستھ یونیورسٹی (جی جی ایس آئی پی یو) کے دو نئے کیمپس کے لیے 22.43 ایکڑ اراضی، دہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے دو نئے کیمپس کے لیے 12.69 ایکڑ اور سنٹرل یونیورسٹی کے لیے 1,200 مربع میٹر زمین مختص کی ہے۔ جوالاپوری میں جواہر نوودیا ودیالیہ، شالیمار باغ اور کراول نگر میں اسکولوں اور روہنی اور شاہدرہ میں عدلیہ کے عملے کی رہائش کے لیے 4.1 ایکڑ اراضی بھی مختص کی گئی ہے۔اس بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایک اہلکار نے کہا، “عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، ایل جی کی توجہ تمام متعلقہ محکموں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے، اور انہوں نے محکموں کو بھی ایسا کرنے کی ہدایت کی ہے۔” دریں اثنا، بدھ کے روز، انہوں نے سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف محکموں کے مختلف منصوبوں کے لیے زمین الاٹ کی۔
دلی این سی آر
اسکولوں فیس بڑھانے کیلئے ڈائریکٹوریٹ کو دینی ہوگی درخواست
نئی دہلی :راجدھانی دہلی میں نجی اسکولوں کی جانب سے من مانی رویوں اور فیسوں میں اضافے سے متعلق شکایات کی روشنی میں دہلی حکومت نے سخت کارروائی کی ہے۔ اب نجی اسکولوں کے لیے لازمی ہو گیا ہے کہ وہ فیسوں میں اضافے کی اطلاع ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو دیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں تمام تسلیم شدہ اور غیر امدادی نجی اسکولوں کے لیے معلومات کے تبادلے کے فارمیٹ پر نظر ثانی کی گئی۔ اسکولوں کو نئے فارمیٹ میں فیس میں اضافہ اور دیگر معلومات ڈائریکٹوریٹ کو جمع کرانے کی ضرورت ہوگی۔ ڈائریکٹوریٹ ان معاملات کی تحقیقات کرے گا۔
ڈائریکٹوریٹ نے نئے فارمیٹ میں اسکول کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے سے متعلق بھی معلومات طلب کی ہیں۔ اس میں اساتذہ کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ منظور شدہ عہدوں کی کل تعداد اور فی الحال بھری ہوئی آسامیوں کی تعداد شامل ہے۔ کلاس اور زمرے کے لحاظ سے اسکول کے طلبہ اور استاد کے تناسب اور طلبہ کے اندراج کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔
دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے حال ہی میں کہا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کو اب 18 مقررہ پیرامیٹرز کی بنیاد پر کسی بھی مجوزہ فیس میں اضافے کا جواز پیش کرنا ہوگا اور والدین کو راضی کرنا ہوگا کہ فیس میں اضافہ جائز ہے۔ وزیر نے کہا کہ دہلی حکومت نے تمام نجی غیر امدادی اسکولوں کو دہلی اسکول ایجوکیشن (فیس طے کرنے اور ریگولیشن میں شفافیت) ایکٹ، 2025 کے تحت 15 جولائی تک اسکول سطح کی فیس ریگولیشن کمیٹی (SLFRC) تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر نے کہا کہ فیس میں تبدیلی کے خواہاں اسکولوں کو اپنی تجاویز کمیٹی کو پیش کرنی ہوں گی اور قواعد کے تحت تجویز کردہ 18 پیرامیٹرز کی بنیاد پر مجوزہ اضافے کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ “ان پیرامیٹرز میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نقل و حمل کی سہولیات، اسکول کی عمارتوں، حفاظتی اقدامات، روشنی، عملے کی بھرتی، اور دیگر ادارہ جاتی ضروریات شامل ہیں،” وزیر نے کہا۔ اسکولوں کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ مجوزہ فیس میں اضافہ حقیقی اصلاحات سے منسلک ہے اور اس کی حمایت کے لیے ان کے پاس مالی ریکارڈ موجود ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
