Connect with us

بہار

مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ناظم مقرر

Published

on

ذاکر بلیغ ایڈوکیٹ امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین ،مولانا محمد انظار عالم قاسمی جنرل سکریٹری قاضی شریعت اور قسیم رضا خزانچی مقرر
(پی این این)
پٹنہ:امیر شریعت بہار ،اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے آج مورخہ 3 اگست 2025 کو مفتی محمد سعید الرحمان قاسمی کو امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کا مستقل ناظم مقرر کردیا ہے۔اسی طرح امیر شریعت جو کہ امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سرپرست بھی ہیں انہوں نے ذاکر بلیغ ایڈوکیٹ بتیا کو امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کا چیئرمین ، قاضی محمد انظار عالم قاسمی چیف قاضی شریعت امارت شرعیہ کو جنرل سکریٹری اور قسیم رضاچارٹر اکاؤنٹنٹ علی نگر انیس آباد پٹنہ کو امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کا ٹریزر یعنی خزانچی مقرر کردیا ہے ۔
مفتی محمد سعید الرحمان قاسمی طویل عرصے سے امارت شرعیہ میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ 3 مارچ 2025 کو انہیں قائم مقام ناظم بھی بنایا گیا تھا، اور اس مختصر مدت میں انہوں نے قائم مقام ناظم کی حیثیت سے اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیت، مضبوط قیادت اور جرأت مندانہ فیصلوں سے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت میں امارت کے کاموں کو بحسن و خوبی انجام دیا۔
ان کے دورِ قائم مقامی میں کئی اہم اقدامات کیے گئے، جن میں خاص طور پر وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف مضبوط تحریک کی قیادت ، تحفظ اوقاف کیلئے گردنی باغ پٹنہ میں تاریخی احتجاجی اجلاس کا انعقاد، وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف، وقف بچاؤ ، دستور بچاؤ کانفرنس کےعنوان سے گاندھی میدان، پٹنہ میں دس لاکھ سے زائد عوام کا غیر معمولی اجتماع منعقد کرکے وقف ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میں تاریخ ساز احتجاج اور امارت شرعیہ کے دفاع میں مضبوط حکمت عملی اور امارت شرعیہ پر حملہ کرنے والوں کا منظم مقابلہ بہت نمایاں ہیں ۔
امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے اس موقع پر فرمایا کہ “مفتی محمد سعید الرحمان صاحب قاسمی نے قلیل عرصے میں اپنی قائدانہ صلاحیت، تنظیمی نظم و ضبط اور ملت کے مسائل پر غیر متز لزل موقف اختیار کرنے سے یہ ثابت کیا ہے کہ امارت شرعیہ کی نظامت کی ذمہ داری کو پوری دیانت داری اور جرأت کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح ذاکر بلیغ ، قاضی محمد انظار عالم قاسمی اور قسیم رضا اپنے اپنے شعبوں میں مہارت، دیانت اور خدمت کا طویل تجربہ رکھتے ہیں ، برسوں سے امارت شرعیہ سے جڑ کر کام کرتے رہے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تمام حضرات امارت شرعیہ اور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر نہ صرف امارت شرعیہ بلکہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے مقاصد کو بھی کامیابی سے آگے بڑھائیں گے ۔”مفتی محمد سعید الرحمان قاسمی نے اس موقع پر کہا کہ:”یہ میرے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کا مجھ پر بے پناہ اعتماد ہے۔ میں اللہ کی ذات پر توکل کرتے ہوئے یقین دلاتا ہوں کہ امارت شرعیہ کے نصب العین کو امیر شریعت کی مضبوط قیادت میں امارت شرعیہ کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اپنی پوری توانائیاں صرف کروں گا۔”امارت شرعیہ کے دیگر عہدیداران ، کارکنان، علما، ائمہ، اور عام مسلمانوں نے امارت شرعیہ کی نظامت کیلئے مفتی محمد سعید الرحمان قاسمی کی تقرری پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی اور امیر شریعت کے اس قدم کو قابل تحسین قرار دیا، اسی طرح ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے مقررکردہ عہدیداران کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے خوشی و اطمینان کا اظہار کیا ۔

Bihar

تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا

Published

on

پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔

Continue Reading

Bihar

ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔

 

Continue Reading

Bihar

بہار کے تمام بلاکوں میں کھولے جائیں گے ڈگری کالج، اب ریاست کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جانا پڑے گاباہر :سمراٹ چودھری

Published

on

پٹنہ:(پی این این)بہار کے تمام اسکولوں میں اب ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم ہوگی۔ اسکولوں میں ہفتہ کے دن پورے وقت پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ صرف نصف دن تک ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے یہ اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لوگ اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز مونگیر ضلع کے اثر گنج میں سرکاری ڈگری کالج کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے تمام اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم کا اعلان کیا۔اب ریاست کے تمام اسکول ہفتہ کے دن صرف نصف دن تک ہی چلیں گے۔ ٹفن بریک کے بعد بچوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد پروگرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہار کے تمام پرکھنڈوں (بلاکوں) میں ڈگری کالج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں اب تک 211 ڈگری کالج کھولے جا چکے ہیں۔ آج اثر گنج میں 212واں ڈگری کالج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بہار کے تمام بی ایڈ کالجوں میں بھی ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ حکومت نے ماڈل اسکول کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 551 مقامات پر ان اسکولوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج مزید 10 مقامات پر ایسے اسکول کھولے گئے ہیں، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 561 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network