تازہ ترین
گیاجی ایئرپورٹ پر بم الرٹ کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے دکھائی مستعدی، سی آئی ایس ایف اوربم ڈسپوزل اسکواڈ متحرک، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا لیا گیا جائزہامر ناتھ ایکسپریس میں مسافروں کا سامان غیرمحفوظ، دو ٹرالی بیگ چوری، 15 ہزار روپے نقد سمیت ضروری سامان غائببچوں میں صفائی کی عادت ڈالیں والدین، گھر سے شروع ہو تبدیلی: ابو فیصل، اردو پرائمری اسکول چاتَرگھاٹ میں والدین و اساتذہ کی سنگوشٹھی منعقد، صفائی، صحت، غذائیت اور ماحولیاتی تحفظ پر ہوئی گفتگوبی جے پی لیڈر صاحب سنگھ سینی تھامیں گے اکھلیش کا دامنہائی کورٹ کی بنچ کے قیام کے مطالبے میں شدت، سہارنپور ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کے وکلاء نے سول کورٹ سے ہیڈ کوارٹر تک کیا مظاہرہادبی محفلوں کی رونق شمس الدین خان کا طویل علالت کے بعد انتقال، مشاعروں میں دیوبند اور دیوبندی ادب کی بھرپور نمائندگی کی:وجاہت شاہجمہوریت وراثت ہی نہیں اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری،’ووٹ بچائو، دیش بچائو‘مہم کے تحت آر جے ڈی کے سینئر لیڈر سید فیصل علی کی یکم نومبر کو رام لیلا گرائونڈ پہنچنے کی اپیلبہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائی
دلی این سی آر

’جامعہ ملیہ میں مصنوعی ذہانت‘کے موضوع پربین علومی ریفریشر کورس کاافتتاح

(پی این این)
نئی دہلی :مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر (ایم ایم ٹی ٹی سی)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے’مصنوعی ذہانت‘تعلیمی مطابقت کے لیے اے آئی بطور عمل انگیز‘ کے موضوع پر دوہفتے کا ایک دو ہفتے کا بین علومی ریفریشر کورس کاافتتاح کیا ہے جس میں اکیس صوبوں اور ہندوستان کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں کے اکیانوے شرکا حصہ لے رہے ہیں۔
پروگرام کی ابتدا شرکا کے استقبال اور ایم ایم ٹی ٹی سی کی اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر کلوندر کور اور ڈاکٹر شہلا ترنم ایم ایم ٹی ٹی سی کی جانب سے ریفریشر کورس کے تین کوآرڈی نیٹر یعنی سرفراز مسعود ،ڈپارٹمنٹ ،کمپوٹر انجینرنگ ،پروفیسر منصاف عالم اور ڈاکٹر خالد رضا شعبہ کمپوٹر سائنس جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعارف سے ہوئی۔ افتتاحی پروگرام کے مہمان اعزازی پروفیسر تنویر احمد ایڈیشنل ڈائریکٹر ،ایف ٹی کے ۔سی آئی ٹی نے روز مرہ کی زندگی میں اے آئی کی پیش رفتوں کی نفی یا گریز کرنے کے بجائے ان کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔انھوں نے انجینرئنگ ،ہیلتھ کیئر ،مالیات،تعلیم اور مینجمنٹ جیسے مختلف اہم شعبوںسے مثالیں دیں ۔
جہاں اے آئی ماڈلز سماج کے لیے بڑے پیمانے پر اہم ثابت ہورہے ہیں۔ افتتاحی پروگرام کے ممتاز مقرر پروفیسرخالد رجا ،دین ،اسکول آف کمپوٹر سسٹم سائنسز ،جے این یو، نئی دہلی نے شرکا کے سامنے اے آئی کی مثبت ،منفی اور بد ترین ورژن سمیت اس کی مبادیات اور اس کی بنیادی باتیں رکھیں اور ان چیلینجز سے نمٹنے کے طور طریقے بھی بتائے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔