دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نیو ایویلوایشن ہال کا افتتاح
(پی این این)
نئی دہلی : یونیورسٹی امتحانات اور انٹرنس کے نتائج کے اعلان کی کاروائی میں تیزی لانے کے مقصد سے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دفتر کنٹرولر امتحانات میں نیو ایوولوایشن ہال کا افتتاح کیا۔ پروفیسر مظہر آصف ،شیخ الجامعہ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے پون کمار شرما کنٹرولر امتحانات(سی او ای) جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈپٹی کنٹرولر امتحانات،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر احتشام الحق کی موجودگی میں نئے ایولوایشن ہال کا افتتاح کیا۔
قابل ذکر ہے کہ جاری داخلہ مرحلے کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ اسی فی صد سے زیادہ انٹرنس امتحانات کے اعلان کے ساتھ دوسرے اداروں سے کافی آگے ہے۔ سی او ای آفس بلڈنگ کے دوسرے فلور پر واقع نیا افتتاح شدہ ملٹی پرپز ہال آبزرور اور جائزہ کنند گان کے لیے بنایا گیاہے۔ ہال پورا ایئر کنڈیشنڈ ہے اور سامان کے لیے الماریاں بھی ہیںاور ایک ہی چھت کے نیچے داخلے اورجائزے سے متعلق تمام سرگرمیوں کے لیے ایک خاص اور کافی کشادہ جگہ ہے۔
پروفیسرمظہر آصف نے امتحان کے نتائج کے جلد اعلان پر اظہار مسرت و اطمینان کے ساتھ جائزہ کی کاروائی کے لیے بہترین سہولت کی فراہمی کی ستائش کرتے ہوئے کہا ’میں سی اوای ،ڈپٹی سی او ای اور سی ای او کے دفتر میں مصروف کار دفتر کے اہل عملہ کا شکر گزار ہوں جس نے دوہزار پچیس کے داخلہ امتحانات کے اعلان کے بعد گزشتہ تین مہینوں میں سخت محنت کی ہے اور جن کی کوششوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا ہے۔ پروفیسر آصف نے مزید کہا”میں یونیورسٹی میں اثبات،سالمیت اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماحولیاتی نظام میں مسرت کی فضا تیار کرنا چاہتاہوں‘۔انھوں نے بتایاکہ قومی تعلیمی پالیسی کی مسودہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے انھوں نے محسوس کیاہے۔
کہ ’ مناسب وقت پر تنخواہوں اور ترقیات کی ادائیگی دو ایسے عناصر ہیں جو یونیورسٹی فیکلٹی اراکین اور اسٹاف ممبران کو اپنی صلاحیتوں کو بھرپور بروئے کار لانے کے لیے انھیں ترغیب و تشویق دلاتے ہیں۔میری انتظامیہ اسی اصول پر عمل پیرا ہے۔اور ا س کے مثبت نتائج سامنے ہیں۔“
پروفیسر رضوی نے کہا’ہمار ا نصب العین ’ایک جامعہ ایک کنبہ‘ ہونا چاہیے جسے صحیح معنوں میں اسی وقت حاصل کیا جاسکتاہے جب ہمارا تدریسی و غیر تدریسی عملہ یونیورسٹی کی بہتری کے لیے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ جامعہ این آئی آر ایف کی تیسری پوزیشن سے دوسری پوزیشن حاصل کرسکے۔‘پروفیسر رضوی نے اس یقین کا اظہار کیاکہ ’نئے افتتاح شدہ ہال کے ساتھ جائزہ کاروں کے لیے بہترین سہولیات دستیاب ہوں گی تاکہ امتحان کی جائزہ کاروائی میں تیزی کے ساتھ اسے باضابطہ اور منظم کیا جاسکے۔‘ پروفیسر رضوی نے داخلہ کاروائی میں انتہائی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے جامعہ برادری کومبارک باد دی اور کہا کہ ”یہ غیر معمولی بات ہے کہ یونیورسٹی نے بغیر کسی کی مدد و اعانت کے صرف اپنی سہولیات کے استعمال اور اسٹاف کی مدد سے ملٹی سٹی انٹرنس امتحان کی کاروائی انجام دی ۔ پروفیسر رضوی نے دہراتے ہوئے کہا یہ صرف جامعہ کی اہم حصولیابی نہیں ہے بلکہ یہ بے نظیر کارنامہ ہے۔پروفیسر رضوی نے سی او ای ،ڈپٹی سی او ای اور تمام سی او ای دفتر کے عملہ کے ساتھ ساتھ ڈینز، صدور، ڈائریکٹرز، فیکلٹیز اور غیر تدریسی عملہ کی کاوشوںکی تعریف کی۔
پروفیسر شرما ،کنٹرولر امتحانات نے سی اوای کے دفتر میں داخلوں اور امتحانات سے متعلق دو سیکشن میں جاری سرگرمیوں کو مفصل خاکہ پیش کیا ۔انھوںنے جامعہ برادری کا شکریہ ادا کیا اورجواب کی کاپی اور نمبرات کو وقت پر جمع کرنے کی وجہ سے خاص طور سے فیکلٹی اراکین کا کا شکریہ ادا کیا جس کی وجہ سے نتائج کا جلداعلان ممکن ہوسکا ۔
پروفیسر احتشام الحق،ڈپٹی کنٹرولر امتحانات نے اپنی استقبالیہ تقریر میں سامعین کو بتایا کہ ایوے لوایشن ہال کے قیام اور اس کی تجدید کا آئیڈیا عزت مآب شیخ الجامعہ اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تھااور ا ن کے مسلسل تعاون اور عہد کی وجہ سے یہ کام ریکارڈ وقت میں پایہ ¿ تکمیل کوپہنچا ہے۔پروفیسر حق نے شیخ الجامعہ اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی قیادت کی تعریف کی جن کی سرپرستی اور رہنمائی میں جامعہ کے مختلف شعبے ہمہ جہت ترقی کے گواہ بنے ہیں۔پروفیسر حق نے حاضرین کو بتایاکہ سال دوہزار پچیس اور چھبیس میں داخلہ کاروائی آخری مرحلے میں ہے اور جامعہ اس خصوص میں ملک کی دوسری یونیورسٹیوں سے کافی آگے ہے۔
ابتدا میں شیخ الجامعہ ،مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،سی او ای اور ڈپٹی سی او ای نے سی او ای دفتر کے احاطے میں شجر کاری کی۔ڈاکٹر سنیل نے پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیے ۔اور ڈاکٹر خالد رضا کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے ڈی یو ایس بی آئی (دہلی اربن شیلٹر امپروومنٹ بورڈ) کی طرف سے فراہم کردہ زمین پر قابضین کو اس وقت تک قبضہ جاری رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جب تک کہ نیا ٹینڈر کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ کاوترا ہاسپیٹیلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، کاوترا ٹینٹ اینڈ کیٹررس پرائیویٹ لمیٹڈ، اور میسرز ایشور کامدھینو ریسٹورنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس سلسلے میں اپیلیں دائر کیں۔ اپیلوں کی سماعت کے بعد چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ان کی اپیل کو خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ مقررہ مدت کے لائسنس کو معاہدے کے تحت فراہم کردہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی توسیع سے زیادہ نہیں بڑھایا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو اپنی زمین خالی کرنے کی ہدایت کی اور پنڈال اور دیگر ڈھانچوں کو ہٹانے کے لیے درکار وقت کے پیش نظر 10 اگست سے ایک اضافی ہفتے کی مہلت دی، جو کہ سنگل جج کی طرف سے عائد کی گئی شرائط سے مشروط ہے۔ ہائی کورٹ نے ڈی یو ایس آئی بی کو 3 اگست 2026 سے چھ ہفتوں کے اندر ٹینڈر کا نیا عمل مکمل کرنے کی ہدایت بھی دہرائی۔
اپنی درخواست میں، درخواست گزاروں نے سنگل بنچ کے حکم کو چیلنج کیا جس میں انہیں ڈی یو ایس بی آئی کی زمین پرامن طریقے سے خالی کرنے اور قبضہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے میسرز ایشور کامدھینو ریسٹورنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی دلیل کو مسترد کر دیا، جس میں زمین میں کی گئی سرمایہ کاری اور نئے ٹینڈر کو مکمل کرنے میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے، قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بنچ نے واضح کیا کہ اس طرح کے تجارتی تحفظات معاہدے کی شرائط کو اوور رائیڈ نہیں کر سکتے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اپیل کنندہ نے اس کی شرائط و ضوابط کے مکمل علم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، اور اس لیے وہ محض مالی نقصان سے بچنے کے لیے اسے جاری رکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔درخواست گزاروں نے یہ اپیل 3 اگست کو سنگل جج کے حکم کے بعد دائر کی تھی۔ اپنے حکم میں، سنگل جج نے فرموں کی رٹ پٹیشن کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ ان کے پاس زیادہ سے زیادہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ملکیت میں رہنے کا کوئی معاہدہ، قانونی، یا موروثی حق نہیں ہے۔ اپیل کنندگان نے دلیل دی کہ ان کے معاہدے کی شق 6 کے تحت، وہ اس وقت تک قبضہ برقرار رکھنے کے حقدار ہیں جب تک کہ نئی نیلامی مکمل نہیں ہو جاتی اور کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ نئے معاہدے طے پا جاتے ہیں۔اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے، ڈویژن بنچ نے کہا کہ شق 6 کے تحت، ڈی یو ایس بی آئی صرف معاہدے میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے لیے توسیع کی سہولت فراہم کرتا ہے اگر نیا نیلامی کا عمل اصل معاہدے کی مدت ختم ہونے تک مکمل نہ کیا گیا ہو۔ بنچ نے کہا کہ اپیل کنندگان نے پہلے ہی مکمل چھ ماہ کی توسیع کا فائدہ اٹھایا تھا اور وہ توسیع کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ تازہ ٹینڈر کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔
دلی این سی آر
گروگرام میں بلڈوزر کارروائی،غیر قانونی تعمیرات مسمار
گروگرام :ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے پیر کو احتجاج کے درمیان ڈی ایل ایف فیز 3 میں مولساری ایونیو روڈ اور وی بلاک پر بلڈوزنگ کی۔ مسماری کے دوران ایک گیسٹ ہاؤس کو سیل کر دیا گیا۔ تقریباً 1:30 بجے ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا کی قیادت میں مسمار کرنے اور سیل کرنے والا دستہ ڈی ایل ایف مولسری ایونیو روڈ پر پہنچا۔ ڈیمالیشن اسکواڈ سب سے پہلے اس سڑک پر ایک گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ گیسٹ ہاؤس آپریٹر نے ڈی ٹی پی ای کے دستاویزات دکھائے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انہوں نے گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کے لیے سی ایل یو حاصل کیا ہے۔
سائٹ پر معائنہ کے دوران، ڈی ٹی پی ای نے منظور شدہ پلان کی نمایاں خلاف ورزیاں پائی۔ اسٹیلٹ پارکنگ میں چار کمرے، تہہ خانے میں چھ اور چھت پر دو کمرے غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے۔ منظور شدہ پلان میں ہر منزل پر چھ کمروں کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن آٹھ کمرے بنائے گئے تھے۔ ڈی ٹی پی ای کے حکم پر بلڈوزر عمارت میں داخل ہوا۔
سٹیلٹ پارکنگ میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے چار کمروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس گیسٹ ہاؤس کے تقریباً 30 کمروں پر مہمانوں کا قبضہ تھا۔ ڈی ٹی پی ای نے گیسٹ ہاؤس خالی کر کے سیل کر دیا۔ ڈی ٹی پی ای بلڈوزر کے ساتھ ایک پلاٹ پر پہنچا جہاں ایک ریسٹورنٹ، جوس شاپ اور پراپرٹی ڈیلر کا دفتر غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا۔ ڈی ٹی پی ای نے انہیں کلیئر کرنے کے لیے 20 منٹ کا وقت دیا۔
جس کے بعد بلڈوزر نے ریسٹورنٹ، جوس شاپ اور پراپرٹی ڈیلر کے دفتر کو مسمار کردیا۔ معائنہ کے دوران، ڈی ٹی پی ای نے پایا کہ تین گھروں کے سامنے سڑک پر گارڈ رومز غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان کو بلڈوزر سے کچل دیا گیا۔ مسمار ہوتے دیکھ کر ایک گھر کا مالک گارڈ روم جو باہر تھا، اپنے گھر کے اندر لے آیا۔ ڈی ٹی پی ای نے اس گارڈ روم کو اس کے گھر کے اندر سے ہٹا دیا تھا۔
ٹاون اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی کمشنر امیت مادھولیا نے بتایا کہ گھروں میں غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف سیلنگ اور مسمار کرنے کی مہم جاری رہے گی۔ سٹیلٹ پارکنگ میں غیر قانونی کمروں کے باہر سڑک پر گاڑیاں کھڑی ہیں۔
ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا مولسری ایونیو روڈ پر 10 عمارتوں میں بلڈوزر لے کر پہنچے، لیکن گھر کے مالکان نے انہیں ٹھہرنے کا راستہ دکھایا۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ان گھروں کے بارے میں 24 اگست کو سماعت ہونے والی ہے، جہاں ڈی ٹی پی ای اب جواب داخل کرے گی۔
دلی این سی آر
دہلی والوں نے اس سال 150 دن تک صاف ہوا میں لی سانس
نئی دہلی:دہلی نے اس سال اب تک کل 229 دنوں میں سے 150 ویں دن صاف ہوا میں سانس لی ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2020 میں کوویڈ-19 وبائی بیماری کے بعداس سال سب سے زیادہ صاف ہوا کے دن دیکھے گئے ہیں۔مانسون کی اچھی بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے دہلی کی ہوا گزشتہ ڈھائی ماہ سے مسلسل صاف رہی ہے۔ اس مدت کے دوران، دہلی کا فضائی معیار کا انڈیکس زیادہ تر دنوں میں 200 سے نیچے رہا ہے۔سی پی سی بی کے مطابق، پیر کو دہلی کا ہوا کے معیار کا انڈیکس 111 تھا، جسے معتدل سمجھا جاتا ہے۔ ایک دن پہلے، انڈیکس 92 تھا، جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں 19 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ تاہم، یہ اب بھی محفوظ حد کے اندر رہتا ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق، صفر اور 50 کے درمیان اے کیو آئی کو اچھا، 51 اور 100تسلی بخش، 101 اور 200 معتدل، 201 اور 300ناقص، 301 اور 400 انتہائی ناقص، اور 401 اور 500شدید سمجھا جاتا ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
