Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نکالاگیا’ترنگا یاترا‘

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ اور پروفیسر محمد مہتا ب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آزادی کاامرت مہتسو‘ کے حصے کے طورپر جسے2اگست سے 15 اگست کے درمیان منایا جارہاہے۔ سرکار کی ہر گھر ترنگا (ایچ جی ٹی) مہم منانے کے لیے آج ’ترنگا یاترا‘ کی ایک بڑی ریلی کو ہری جھنڈی دکھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں جامعہ کے اسٹاف اورطلبہ نے شرکت کی۔آج یہاں جاری ریلیز کے مطابق یہ ترنگا ریلی اس مقصد سے نکالی گئی کہ اس سے لوگوں کواس بات کی تحریک ملے کہ وہ ترنگا اپنے گھروں میں لے جائیں اور فخر کے ساتھ ہندوستان کی آزادی منانے کے لیے گھروں میں ترنگا لہرائیں۔ ریلی یونیورسٹی گیٹ نمبر پندرہ سے شروع ہوئی اور یونیورسٹی کے مین روڈ کا چکر کاٹ کر انصاری آڈیٹوریم کے سبزہ زار پرختم ہوئی۔
فیکلٹیز کے ڈینز،ڈی ایس ڈبلیو،صدور شعبہ جات، مراکز کے ڈائریکٹر،یونیورسٹی لائبریرین، چیف پراکٹر پروفیسر اسد ملک، جامعہ اسکول کے پرنسپلس اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فیکلٹی،طلبہ اور جامعہ کے اسٹاف نے ریلی کو پرکشش بنانے کے لیے انتہائی دلچسپی سے ترنگے کے اسکارف،دوپٹے اور دوسری آرائش کی چیزیں لگا کرریلی میں حصہ لیا۔
پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تقریر ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کے مصرعے سے شروع کی اور کہا ’ترنگا یاترا صر ف ہمارے جذبہ حب الوطنی اور مادر وطن سے محبت وعقیدت کا اظہار نہیں بلکہ یہ ہمیں آپس میں جوڑتا اور متحد رکھتاہے خاص طورپر ہمارے نوجوانوں کو۔“پروفیسر آصف نے مزید کہاکہ ’ترنگا یاترا صرف ملک کو ہمارا سلام نہیں بلکہ ساتھ ساتھ چلنے اور ملک کی ترقی و بہبود میں اور اس کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہے۔ترنگا یاترا میں شریک ہوکر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فیکلٹی،اسٹاف اور طلبہ نے ان لوگوں کی امنگوں کے تئیں جنھوں نے ملک کو آزاد کرانے میں اپنی زندگیاں قربان کی ہیں اپنے عہد کی تجدید کی ہے۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ’ملک کے تئیں اس نوع کے جذبہ حب الوطنی کا اظہار قابل دید تھا۔اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ نے ہر گھر ترنگا میں غیر معمولی دلچسپی اور گہرے شغف کے ساتھ حصہ لیا۔ایچ جی ٹی مہم ہمیں ان شہیدان وطن کے متعلق بتاتی ہے جنھوں نے آزاد ی کے حصول کے لیے اپنی جانیں نثار کیں۔اناسی برسوں کے بعد آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ جن لوگوں نے ملک کی آزادی میں اپنی زندگیاں قربان کی ہیں ان کے نقش قدم پر چل کر ہم ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرسکیں۔ ترنگا یاترا ہم مستقبل میں بھی منائیں گے تاکہ ہماری آئندہ نسل مجاہدین آزادی کو فراموش نہ کردے۔“پروفیسر رضوی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے این سی سی کیڈٹس اور این ایس ایس رضاکاروں اورپروفیسر نیلوفر افضل، ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈین،ہیومنی ٹیز اور این سی سی کوآرڈی نیٹر،جناب وقار حسین صدیقی،این ایس ایس کو آر ڈی نیٹر کی انتھک کوششوں کا شکریہ ادا کیا جن کے نتیجے میں شان دار ترنگا ریلی نکالنا ممکن ہوسکا اور انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام ’جے ہند‘ سے کیا۔ترنگا یاترا قومی ترانے کی نغمہ سرائی اور جذبہ حب الوطنی کے شدید احساس کے ساتھ ختم ہوئی اور فضا میں ’جے ہند‘ کی صدائے بازگشت سے یونیورسٹی کا کشادہ سبزہ زار بھرگیا۔

دلی این سی آر

جی ٹی بی اسپتال کےباہر’آپ ‘کارکنان کا احتجاج

Published

on

نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے ریکھا گپتا حکومت کے مبینہ 650 کروڑ روپے کے دوا گھوٹالے کے خلاف تیسرے روز بھی علامتی احتجاج جاری رکھا۔ بدھ کے روز آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھردواج کی قیادت میں جی ٹی بی اسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں نے، ایم ایل اے سنجیو جھا اور کلدیپ کمار کے ساتھ، خاموش احتجاج کیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ ہم عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ انہیں اسپتالوں میں دوائیں اس لیے نہیں مل رہیں کیونکہ ریکھا گپتا حکومت نے 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کو بابا صاحب امبیڈکر اسپتال کے باہر بھی احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس گھوٹالے کے مرکزی ملزم راجیو رنگیلا کو حکومت نے ملک سے باہر بھیج دیا ہے اور اب جانچ کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہر شعبے میں لوٹ مار میں مصروف ہے اور قواعد کے خلاف ٹینڈر جاری کر کے بھاری کمیشن وصول کیا جا رہا ہے۔سوربھ بھردواج نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے عام آدمی پارٹی دہلی کے مختلف سرکاری اسپتالوں کے باہر خاموش اور علامتی احتجاج کر رہی ہے تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ اگر اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں تو اس کی وجہ ریکھا گپتا حکومت کا مبینہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 کروڑ روپے کی ادویات 400 کروڑ روپے میں خریدی گئیں، یعنی 300 کروڑ روپے کا کمیشن کھایا گیا۔ اسی طرح 10 لاکھ روپے کی ایکس رے مشین 33 لاکھ روپے میں خریدی گئی، جس میں 103 کروڑ روپے کا کمیشن لیا گیا، جبکہ 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خرید کر 50 کروڑ روپے کا کمیشن حاصل کیا گیا۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا اور اس کے مبینہ ماسٹر مائنڈ راجیو رنگیلا کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ دہلی حکومت ایک ماہ تک جانچ کے نام پر خاموش بیٹھی رہی اور اسی دوران مرکزی ملزم کو جرمنی فرار ہونے کا موقع مل گیا۔ جب اصل ملزم ہی ملک سے باہر چلا گیا تو اب جانچ کس کے خلاف ہوگی؟ حکومت صرف جانچ کا ڈرامہ کر رہی ہے۔بچوں کے مڈ ڈے میل میں چھپکلی نکلنے اور صحت سے کھلواڑ کے سوال پر سوربھ بھردواج نے کہا کہ حکومت ہر جگہ لوٹ مار میں مصروف ہے۔ غلط طریقے سے ٹینڈر دیے جا رہے ہیں اور بھاری کمیشن لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سی بی آئی، ای ڈی اور اے سی بی غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں کر رہیں، کیونکہ جن لوگوں پر الزامات ہیں وہی جانچ کو متاثر کر رہے ہیں۔اس موقع پر براڑی سے آپ کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ دہلی حکومت نے صرف ادویات اور اسپتالی سامان کی خریداری میں ہی 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 400 کروڑ روپے کی ادویات خریدنے کا ریکارڈ دکھایا گیا، جبکہ حقیقت میں صرف 100 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں اور 300 کروڑ روپے کا براہِ راست گھوٹالا ہوا۔ ان کے مطابق یہ بات خود اے سی بی کی ایف آئی آر میں بھی سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اشیا بازار قیمت سے 10 سے 12 گنا زیادہ قیمت پر خریدی گئیں۔سنجیو جھا نے کہا کہ جی ٹی بی اسپتال کے اندر پھٹے ہوئے بستر موجود ہیں، مریضوں کے لیے مناسب سہولتیں نہیں ہیں اور نہ ہی علاج کا مناسب انتظام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اسپتالوں کو بھی بدعنوانی کا مرکز بنا دیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اے سی بی کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کیا اس ٹھیکیدار کو گرفتار کیا گیا جس پر بدعنوانی کے الزامات ہیں؟ کیا متعلقہ وزیر نے استعفیٰ دیا؟ ان کے مطابق اگر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہ سمجھتی ہیں کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اے سی بی کی کارروائی صرف دباؤ بنانے کے لیے تھی تاکہ لوٹ کی رقم صرف وزیر صحت تک محدود نہ رہے بلکہ وزیر اعلیٰ تک بھی پہنچے۔ اگر اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو عام آدمی پارٹی اسپتالوں کے باہر مسلسل احتجاج جاری رکھے گی اور اسمبلی میں بھی یہ معاملہ اٹھاتی رہے گی۔اس دوران کونڈلی سے آپ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے کہا کہ حکومت نے دہلی کے عوام کی دوائیں بھی کھا لی ہیں، اسی لیے آج اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ 2.5 روپے کا او آر ایس پیکٹ 15 روپے میں اور 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خریدی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے 15 سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے اور ویجیلنس جانچ زیر التوا ہونے کے باوجود ڈاکٹر وتسلا اگروال کو ڈی جی ایچ ایس کا سربراہ مقرر کیا۔کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں ہی ایسے کارنامے انجام دیے ہیں تو اس سے اس کی آئندہ کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حکومت دہلی کو لوٹنے والی حکومت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج عوام علاج کے لیے پریشان ہیں جبکہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر وزیر صحت سے استعفیٰ لینا چاہیے اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے خود بھی استعفیٰ دینا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس گھوٹالے کی رقم کن کن افراد تک پہنچی۔سی بی آئی اور ای ڈی سے جانچ کرانے کے مطالبے پر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر یہ ایجنسیاں چھوٹے معاملات میں کارروائی کر سکتی ہیں اور مبینہ شراب گھوٹالے میں اروند کیجریوال کو چھ ماہ تک جیل میں رکھ سکتی ہیں تو پھر 650 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالے میں کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔کلدیپ کمار نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کا یہ احتجاج عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں عوام کو لوٹا ہے اور 650 کروڑ روپے کا دوا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں دوائیں کیوں نہیں مل رہیں، ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے اور مریضوں کی لمبی قطاریں کیوں لگی ہوئی ہیں، اپوزیشن یہ سوالات اٹھاتی رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت اپنے قریبی افسروں کو اہم عہدوں پر بٹھا کر ان کے ذریعے عوامی وسائل کی لوٹ میں ملوث ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

موسلا دھار بارش، سڑکیں ندیوں میں تبدیل

Published

on

نئی دہلی :موسلا دھار بارش نے دہلی-این سی آر میں تباہی مچا دی ہے۔ کئی مقامات پر سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بازاروں کا برا حال ہے۔ سڑکیں پانی میں ڈوبی نظر آتی ہیں۔ دہلی، نوئیڈا اور گروگرام میں مختلف مقامات پر ٹریفک جام ہوگیا۔ نوئیڈا میں ایک عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا، کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔ دریں اثناء روہنی میں کل رات شدید بارش کے دوران ایک عمارت گرنے سے چار لوگوں کی موت ہو گئی۔ موسلا دھار بارش سے پانی جمع ہو گیا ہے۔ پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ غازی آباد ضلع کے اسکول آج بند ہیں۔دہلی میں بارش کی وجہ سے کیلاش کے مشرق میں راجہ دھیر سنگھ مارگ پر دو درخت گر گئے، جس سے علاقے میں ٹریفک میں خلل پڑا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈی ایف ایس کو صبح 3:40 بجے اطلاع ملی کہ راجہ دھیر سنگھ مارگ پر اسکون مندر کے قریب ایک درخت گر گیا ہے۔ اسی سڑک پر نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے باہر ایک اور درخت بھی گرا۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے شالامار گاؤں میں پانی جمع ہونے سے نمٹنے کے لیے نکاسی آب کے انتظامات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں موجود عہدیداروں کو پانی کی مناسب نکاسی کے لئے ہدایات بھی دیں۔ دہلی حکومت اور تمام محکمے دہلی میں مانسون کی شدید بارشوں کے درمیان پانی جمع ہونے سے نمٹنے کے لیے تندہی سے کام کر رہے ہیں۔بدھ کی رات سے جاری موسلادھار بارش نے غازی آباد شہر میں معمولات زندگی کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے۔ وسندھرا سیکٹر 13 میں ایک پرائیویٹ کنسٹرکشن سائٹ سیلاب میں ڈوب گئی۔ جس کی وجہ سے سڑک کنارے کھڑی کار اور اسکوٹر بھی مٹی کے ساتھ دھنس گئے۔ علاقہ مکینوں نے کسی بڑے حادثے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔وسندھرا سیکٹر 13 میں زمین کے ایک بڑے پلاٹ پر ایک طویل عرصے سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس جگہ پر ایک ٹین شیڈ نصب ہے۔ تہہ خانے کی کھدائی کے بعد نیچے کام جاری تھا۔ بدھ کی رات سے ہونے والی بارش کا پانی تہہ خانے میں بھر گیا، جس سے مٹی کا کٹاؤ ہوا اور یہ غار میں داخل ہوگیا۔ جمعرات کی صبح تقریباً 11 بجے، سڑک کے کنارے کی مٹی بھی دھنس گئی۔ وہاں کھڑی ایک اسکوٹر اور ایک کار بھی مٹی کے ساتھ گر گئی۔ اس سے نیچے سیوریج لائن کو بھی نقصان پہنچا، جس سے مزید پانی جمع ہو گیا۔ جگہ پر نصب بجلی کا کھمبہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے ایگزیکٹیو انجینئر نکھل مہیشوری نے کہا کہ انہیں ابھی ابھی اطلاع ملی ہے۔ زیر تعمیر تعمیرات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم بھیجی جائے گی۔ ان معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔آئی ایم ڈی نے دہلی کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آج دوپہر میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش اور بجلی گرنے کا امکان ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق مانسون وسطی بھارت سے شمال کی طرف منتقل ہو کر ہمالیہ کے دامن تک پہنچ گیا ہے جس کے باعث گزشتہ دو روز سے مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 24.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.6 ڈگری کم ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

E-20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول پرکجریوال کا ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کولکھا خط

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک کی 29 آٹو موبائل کمپنیوں کو خط لکھ کر ایک ہفتے کے اندر یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا 2023 سے پہلے تیار ہونے والی پرانی گاڑیوں میں E-20 (20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول) کا استعمال محفوظ ہے یا نہیں۔ انہوں نے ٹویوٹا، ہیرو اور ماروتی سوزوکی کو الگ سے خط لکھا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں نے 4 جولائی کو ایک سرکاری پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 کا استعمال محفوظ ہے۔ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ ان کمپنیوں کی اونر مینول تو واضح طور پر کہتی ہے کہ 2023 سے پہلے تیار ہونے والی گاڑیوں میں 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملا ہوا پٹرول استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے میں کمپنیاں تحریری طور پر ملک کو بتائیں کہ آیا واقعی E-20 محفوظ ہے اور کیا اس سے مائلیج صرف 4 سے 5 فیصد ہی کم ہوتی ہے؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ اگر E-20 کے استعمال سے کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا گاڑی کا کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا یہ کمپنیاں صارف کو اس کا معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے باقی 26 آٹو موبائل کمپنیوں کو بھی الگ خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں کہ آیا ان کی 2023 سے پہلے تیار شدہ گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس سے مائلیج کتنی کم ہوگی، گاڑی کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اگر کسی صارف کو نقصان ہوا تو کیا کمپنی اس کی تلافی کرے گی؟ بدھ کو عام آدمی پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں دہلی ریاستی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی تمام پٹرول سے چلنے والی دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو خط لکھیں گے تاکہ وہ E-20 کے بارے میں اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ اسی سلسلے میں آج 29 کمپنیوں کو خطوط بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 29 کمپنیوں میں سے تین کمپنیوں، ماروتی سوزوکی، ٹویوٹا کرلوسکر اور ہیرو کو الگ خط لکھا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے 4 جولائی کی سرکاری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کرنا محفوظ ہے اور اس سے صرف 3 سے 5 فیصد مائلیج کم ہوتی ہے، جبکہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کیجریوال نے کہا کہ ان کمپنیوں کی سرکاری پریس کانفرنس میں دی گئی باتوں اور ان کی اپنی اونر مینول کے درمیان واضح تضاد موجود ہے۔ ایک طرف کمپنی کی اونر مینول صارف اور کمپنی کے درمیان معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، جو 10 فیصد سے زیادہ ایتھنول والے پٹرول کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ دوسری طرف کمپنی کے نمائندے عوامی سطح پر E-20 کو محفوظ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی غلطی یا تکنیکی تضاد نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے، اس لیے کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر تحریری طور پر عوام کو بتائیں کہ آیا پرانی گاڑیوں میں E-20 استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے صرف 4 سے 5 فیصد ہی مائلیج کم ہوتی ہے؟ اور کیا گاڑی کے کسی پرزے کو نقصان نہیں پہنچتا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صارف کی گاڑی کی مائلیج 5 سے 10 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے یا E-20 کے استعمال سے کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو کیا کمپنیاں اس صارف کو مکمل معاوضہ دیں گی؟ اروند کیجریوال نے بتایا کہ باقی 26 کمپنیوں کو بھی ایک عمومی خط بھیجا گیا ہے، جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ E-20 کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں، کیونکہ اس وقت ملک بھر میں اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ E-20 مکمل طور پر محفوظ ہے، تو کیا وہ مائلیج میں کمی یا گاڑی کے پرزوں کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری بھی قبول کریں گی؟ مجھے امید ہے کہ تمام کمپنیاں ایک ہفتے کے اندر اس کا واضح جواب دیں گی، کیونکہ یہ ملک کے کروڑوں صارفین سے متعلق انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اروند کیجریوال نے اعلان کیا کہ جمعرات کو وہ مختلف پٹرول پمپوں، سروس سینٹروں اور مکینکوں سے ملاقات کریں گے اور عام صارفین کی رائے جانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت E-20 کو ہر حال میں نافذ کرنے پر بضد ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ اس سے گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، صرف معمولی مائلیج کم ہوتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عوام کا تجربہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب عوام اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں کبھی اینٹی نیشنل اور کبھی کسی لابی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اب خود بڑے آٹو بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی اس پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ ملک کے 140 کروڑ عوام کو غدار یا دہشت گرد کہنا مناسب نہیں۔ اگر مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ بھی اس فیصلے سے پریشان ہیں تو ایک ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز سنے۔اروند کیجریوال نے آخر میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سائنس، منطق اور انجینئرنگ کے اصولوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ عوامی مفاد میں نظر نہیں آتا، البتہ یہ کس کے مفاد میں ہے، اس کا جواب ابھی تک عوام کو نہیں ملا ہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network