uttar pradesh
جامعہ طبیہ دیوبند میں یوگا ڈے کے موقع پر عظیم الشان یوگا کیمپ کا انعقاد
دیوبند:وزارت آیوش ،مرکزی حکومت اور اترپردیش حکومت کی ہدایات کی روشنی میں جامعہ طبیہ میڈیکل کالج دیوبند میں یوگ ہفتہ کے تحت ادارہ کے احاطہ میں یوگاڈے منایا گیا ۔جامعہ طبیہ کے یوگا کیمپ کا افتتاح آل انڈیا یونی طبی کانفرنس اترپردیش کے صدر اور آیورویدک ویونانی طبی چکتسا پدتی بورڈ کے سابق صدر ڈاکٹر انور سعید کے بدست عمل میں آیا ۔
اس موقع پر جیون یوگ فائونڈیشن دیوبند کے تعاون سے منعقدہ مشترکہ یوگا کیمپ میں یوگ آچاریہ وشال پنڈیر اور ان کی ٹیم نے مختلف قسم کے یوگ آسن کرائے ۔جامعہ طبیہ دیوبند کی نگرانی میں ادارہ کی جانب سے گودلئے گئے گائوں میں بھی یوگ آسن کراکرلوگوں میں بیداری پیدا کی گئی ۔جامعہ طبیہ دیوبند کی جانب سے یوگا ٹرینر وشال پنڈیر ،ڈاکٹر محمد اعظم عثمانی ،ڈاکٹر مزمل ،جمشید انور ،شبلی اقبال عابد ،صہیب علی ،منوج کمار ،الکا اور سچن کمار نے دیوبند کے متعدد گائوں میں جاکر وہاں کے باشندوں کو یوگ آسن کرائے ۔
جامعہ طبیہ دیوبند میں یوگ پریکٹس کے بعد ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مہمان خصوصی کے طور پر بی جے پی کے شہر صدر ارون گپتا نے طلبہ وطالبات اور اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوگ ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے ۔یوگ اس ملک کی قدیم وراثت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماحولیات کو بہتر رکھنے کے لئے ہم سب کو شجر کاری بھی کرنی چاہئے ۔جامعہ طبیہ دیوبند کے سرپرست ڈاکٹر انور سعید نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ سال 2015میں 21؍ جون کو یوگ کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا اسی وقت سے یوگا کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یوگ کو اپنا نے والے افراد جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند زندگی گزار رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے اعلان کردہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ،سب کا وشواس پرعمل کرتے ہوئے ادارہ نے اپنا بھرپور تعاون پیش کیا ہے ۔
آچاریہ وشال پنڈیر اور وکاس پنڈیر نے کہا کہ ان کے ادارہ جیون یوگ فائونڈیشن کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ اس سا ل بھی جامعہ طبیہ دیوبند میں یوگ آسن سکھانے کا موقع ملا ۔اس موقع پر ادارہ کے ایڈمنسٹر یٹیو آفیسر ڈاکٹر اختر سعید نے کہا کہ موجودہ دور کی مصروف ترین زندگی میں ہمارے جسم مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہورہے ہیں ۔ایسی صورت میں روزانہ ورزش اوریوگ کو اپنی زندگی میں شامل کرکے بغیر کسی خرچ کے اپنے آپ کو تندرست وتوانا رکھ سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یوگ کسی خاص طبقہ یا کسی خصوصی ملک سے تعلق نہیں رکھتا ۔بلکہ ہندوستانی وزیر اعظم نے اپنی جدوجہد اور کوششوں سے یوگ کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے ۔پوری دنیا میں لاتعداد لوگ یوگ کو اپنا چکے ہیں ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اس سلسلہ میں کوششیں قابل ستائش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یوگ کو اپنا نے سے جہاں معاشرہ صحت مند ہوگا وہیں آپسی اتحاد واتفاق اور ایک دوسرے کے لئے تعاون کے جذبہ میں بھی اضافہ ہوگا ۔اس سمپوزیم اوریوگا پروگرام میں شرکت کرنے والوں کا پروفیسر ناصر علی خاں پرنسپل جامعہ طبیہ دیوبند نے شکریہ ادا کیا ۔اس یوگا کیمپ میں کالج کے ٹیچنگ ،نان ٹیچنگ اور پیر ا میڈیکل اسٹاف سمیت طلبہ وطالبات اور انٹرن شب کرنے والوں نے پورے جوش وجذبہ کے ساتھ شرکت کی ۔
uttar pradesh
کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔
uttar pradesh
قبرستان میں پہنچا بارش کا پانی ،باہر آئیںکئی لاشیں ، لوگوں کااظہارغم
دیوبند:سہارنپور ضلع کے گاگلہیڑی علاقہ کے سونا سید ماجرا گاؤں میں دریا کا تیزی سے کٹاؤ قبرستان تک پہنچ گیا اور کئی لاشیں باہر نکل گئی، اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے پیاروں کی لاشوں کو تلاش کرنے لگے۔ لاشوں کو مذہبی رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
سونا سید ماجرا قبرستان ہنڈن ندی کے کنارے واقع ہے۔ پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش اور شیوالک علاقہ سے تیز دھارے کی وجہ سے ندی کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانی قبرستان تک پہنچ گیا اور کٹاؤ شروع ہو گیا۔ دریں اثنا، تقریباً چھ ماہ قبل دفن کی گئی دو لاشیں ان کی قبروں سے نکلیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے قبرستان پہنچ گئے اور اپنی قبریں تلاش کرنے لگے۔
گاؤں کے پردھان شاہ زیب حسین نے بتایا کہ ندی میں تجاوزات اور واٹر کورس میں تبدیلی کی وجہ سے دریا کا بہاؤ قبرستان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً ندی کا پانی قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس سے مسلسل کٹاؤ ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج دھرمیندر کمار اور محکمہ ریونیو کی ایک ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قبرستان اور ندی کے پانی کی سطح کا معائنہ کیا۔
نائب تحصیلدار ببلو کمار اور نائب تحصیلدار اسمرتی شکلا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو ریونیو ٹیم کی موجودگی میں دوبارہ دفنایا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔
اس پورے واقعہ سے گاؤں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ دریا کے تیز بہاؤ سے قبرستان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے جس سے خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دیگر قبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
uttar pradesh
سہارنپور میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی
دیوبند:ریاستی حکومت کی ہدایات اور ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق ضلع میں غذائی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے اور ملاوٹ پر مؤثر روک لگانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کی خصوصی مہم مسلسل جاری ہے۔
اسی سلسلے میں چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا کی قیادت میں چھجوپورہ انڈسٹریل ایریا میں واقع شیو لوک فوڈ پروڈکٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
معائنہ کے دوران ادارے میں اچار، ٹماٹو ساس، ریڈ چلی ساس، سویا ساس اور مصنوعی سرکہ فروخت کے لیے تیار حالت میں پائے گئے، جبکہ موقع پر اچار کی پیکنگ کا کام بھی جاری تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے شبہ کی بنیاد پر فروخت کے لیے تیار رکھے گئے ٹماٹو ساس اور ریڈ چلی ساس کے دو نمونے حاصل کر کے فوڈ اینالیسس لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق جانچ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معائنہ کے دوران ادارے میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی بنیاد پر انتظامیہ کو امپروومنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کارروائی میں فوڈ سیفٹی آفیسران جگدمبا پرساد، جواہر لال، ونود کمار، کلدیپ تیواری اور امت گوتم بھی شریک رہے۔ چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا نے کہا کہ ضلع میں عوام کو معیاری اور خالص غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور سیمپلنگ کی مہم آئندہ بھی مسلسل جاری رہے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
