دیش
تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت: محب اللہ ندوی
(پی این این)
رام پور: رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے کہا کہ افسران اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری اسکیموں کے فائدے آخری شخص تک پہنچیں۔تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس دوران شہر کے ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے پرائیویٹ اسکولوں کی من مانی فیسوں اور پرائیویٹ اسپتالوں کے من مانی رویے کا مسئلہ اٹھایا اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔وکاس بھون آڈیٹوریم میں منعقدہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (دیشا) کی میٹنگ میں عوامی نمائندوں نے عہدیداروں سے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، قومی سماجی امداد پروگرام سمیت مختلف اسکیموں کے بارے میں تفصیلی جانکاری لی۔
رکن پارلیمنٹ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ تمام اسکیموں کے فائدے صحیح طریقے سے آخری فرد تک پہنچیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ اسکیموں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے اور اس کی معلومات کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں میں بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام افسران مثبت سوچ کے ساتھ کام کریں تو کامیابی ضرور ملے گی اور ضلع میں تعلیم اور صحت کی سطح کو مزید بلندیوں پر لے جایا جا سکتا ہے۔ ضرورت مندوں کو اسکیموں سے جوڑیں اور انہیں فوائد فراہم کریں۔رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سڑک حادثات کی روک تھام اور روڈ سیفٹی کے لیے ضلع میں مسلسل ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اسکیموں کو ضلع میں افسران کے ذریعہ حکومت کی منشا کے مطابق نافذ کیا جانا چاہئے۔مزید کہا کہ معاشرے کے ہر ضرورت مند جن میں بچوں، خواتین، نوجوانوں اور کسانوں کے لیے چلائی جارہی عوامی فلاحی اسکیموں کا فائدہ اہل شخص کو ملنا چاہیے۔ ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے عہدیداروں کو بتایا کہ رام پور میں تمام اسکیموں میں پہلے سے زیادہ پیش رفت دیکھی جارہی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ بلا تفریق کام کریں اور اسکیموں کا فائدہ اہل افراد تک پہنچائیں۔انہوں نے ڈسٹرکٹ اسکول انسپکٹر سے بھی کہا کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے حوالے سے اسکولوں کی چھان بین کریں اور ایسے اسکولوں کے خلاف کارروائی کریں۔
انہوں نے سی ایم او سے کہا کہ پرائیویٹ اسپتال کو لائسنس دیتے وقت یہ چیک کیا جائے کہ کوئی اسپتال رہائشی علاقے میں تو نہیں ہے اور اس کے بعد ہی این او سی جاری کی جائے۔ ڈی ایم جوگندر سنگھ نے تمام عوامی نمائندوں کو ترقیاتی کاموں کی جانکاری دی۔ انہوں نے عوامی نمائندوں کو یقین دلایا کہ اجلاس میں موصول ہونے والی تمام تجاویز اور ہدایات کا جائزہ لیا جائے گا اور اسکیموں کو شفافیت اور بروقت نافذ کیا جائے گا۔
21 جولائی کی ریلی پر سیاسی گھمسان، ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایادروازہ
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں 21 جولائی کی روایتی یومِ شہداء ریلی اس بار شدید سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بن گئی ہے۔ کولکاتہ پولیس کی جانب سے دھرمتلہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریتوبرتا بنرجی کی قیادت والی خود کو ’’اصل ترنمول‘‘ کہنے والی تنظیم بھی اسی دن پروگرام کے انعقاد کے لیے سرگرم ہے۔ اس طرح 21 جولائی کی ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی کشمکش کی علامت بنتی جا رہی ہے۔کولکاتہ پولیس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ دھرمتلہ جیسے انتہائی مصروف علاقے میں 21 جولائی کو کسی بڑے جلسے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریتوبرتا بنرجی کے حامیوں نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سدھاناتھ گپتا سے ملاقات کر کے متبادل مقام کی درخواست کی اور گاندھی مجسمہ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مانگی۔ ادھر ممتا بنرجی کی قیادت والی ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے پولیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس گزشتہ کئی دہائیوں سے 21 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتی آئی ہے۔ یہ دن 1993 میں اس وقت کے یوتھ کانگریس کارکنوں پر مہاکرن مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں 13 افراد کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال دھرمتلہ اس تاریخی اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ پارٹی کے انتخابی نشان، تنظیمی اختیار اور مالی وسائل کو لے کر رسہ کشی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو لے کر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں 21 جولائی کی ریلی کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت اور تنظیمی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ اس مرتبہ ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن انہیں مناسب سیاسی مقام یا ذمہ داری نہیں مل سکی۔ قیادت کو امید ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے گا، تاہم ریلی کے مقام پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔
دیش
طلبا کو بارش سے بچانے کیلئے دیپکے نے ٹینٹ لگانے کی مانگی اجازت
نئی دہلی:نیٹ پیپر لیک معاملے اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی ) کے جنتر منتر پر مظاہرہ کا بیسواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں بارش بھی ہورہی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ سی جے پی کے بانی دیپکے نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ انھیں ٹینٹ لگانے کی اجازت دے، کیونکہ طلبا بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پر پولیس میں ترپال لگانے کی کوشش کرنے والے طلبا کے ساتھ پولیس پر بدسلوکی کا بھی الزام لگایا، انھوں نے لکھا ہے کہ خاتون طلبا کو پولیس والوں نے دھکا دیا۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں معروف سماجی خدمت گار وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے یہ بھوک ہڑتال کا بارہ واں دن ہے۔ سی جے پی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس مظاہرے میں کئی نامی گرامی سوشل ایکٹوسٹ بھی شامل ہیں، وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ان کا وزن تیزی سے گرتا جارہا ہے۔
دیش
سناتن کو بچانے کیلئے شنکراچاریہ اور اکھلیش ساتھ ساتھ
لکھنؤ:سناتن دھرم کو ادھرمیوں سے بچانے کے لئے شنکراچاریہ اومکتیشورانند اور اکھلیش یادو میدان میں آگئے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو جیوتر مٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے رام مندر میں مبینہ عطیہ چوری، گائے کے تحفظ، سناتن دھرم اور امن و امان جیسے مسائل پر بی جے پی حکومت کو گھیرا۔ شنکراچاریہ نے بھی گائے کے تحفظ اور رام مندر سے وابستہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں ’پوجیہ‘ شنکراچاریہ کے درشن اور آشیرواد کا شرف حاصل ہوا۔
سابق وزیراعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو نے بتایا کہ دونوں کے درمیان سناتن پر آنے والے بحران اور ’دھرم‘ کو ’ادھرمیوں‘ کے چنگل سے آزاد کرانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ شنکراچاریہ ’گؤماتا‘ کی حالت زار کو لے کر انتہائی فکر مند ہیں اور گائے کے تحفظ پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مندر کے احاطے میں جن ملازمین کو کم ادائیگی کی گئی تھی، ان سب کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ 99.9 فیصد لوگ بی جے پی کے نکلیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈران کے خلاف مسلسل مقدمات درج کیے جاتے ہیں، لیکن اپوزیشن کی شکایات پر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی۔
رام مندر معاملے کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ پوری تحقیقات محض ’لیپا پوتی‘ ہے۔ ایس آئی ٹی کی غیر جانبداری پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور اس کے ایک رکن پر دھوکہ دہی کا معاملہ درج ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس پورے واقعے کو اکھلیش یادو نے دہلی اور لکھنؤ کی لڑائی قرار دیا۔
اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفادات کے مطابق نظریات بدلتی ہے۔ بی جے پی کے لیے مذہب نہیں بلکہ دولت زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق رام مندر معاملے میں ’مہاپاپ‘ (عظیم گناہ) ہوا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بی جے پی ایسی سیاسی روایت قائم کر رہی ہے جس میں اپوزیشن کے لیڈران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
، یہ جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور مستقبل میں بی جے پی بھی اپوزیشن میں ہوگی۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صرف ’سانچہ‘ ہی نہیں بلکہ پورا ’ڈھانچہ‘ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا ’سناتن‘ معاشرہ موجودہ حالات سے دکھی ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے باعث عوام مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اکھلیش یادو سے ملاقات کے دوران شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے ’گؤماتا‘ کے تحفظ اور رام مندر سے منسلک مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رام مندر عطیات چوری پر شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اس پورے معاملے میں بڑے لوگ قصوروار ہیں… جس طرح سے بے ضابطگی سامنے آئی، اس کے بعد مذہبی رہنماؤں کو شامل کر کے حکومت کی نگرانی میں ٹرسٹ تشکیل دیا جانا چاہیے… ٹرسٹ کو تحلیل کر کے چاروں شنکراچاریوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایودھیا کے سادھو سنت بھی ٹرسٹ میں شامل ہوں۔‘‘
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند نے کہا کہ ’’ٹرسٹ میں انتظامی افسران کی ضرورت نہیں ہے اور یہ رویہ بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘ خزانچی گووند دیوگیری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اصل قصوروار تو وہی ہے، کیونکہ وہ خزانچی ہے اور ٹرسٹ کا پورا حساب کتاب ان کے پاس ہے، خزانچی گووند دیو گیری پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ چمپت رائے کے حوالے سے شنکراچاریہ نے کہا کہ سب سے بڑا قصوروار وہی ہے۔ اب وہ کیا بولے گا؟ چمپت رائے اصل گنہگار ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
