Connect with us

دیش

اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026: بچوں کیلئے محفوظ، جامع اور بااختیار مصنوعی ذہانت کے فریم ورک پر زور

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کے لیے ایسا مصنوعی ذہانت (اے آئی) فریم ورک تشکیل دیا جائے جو محفوظ، جامع اور انہیں بااختیار بنانے والا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیز رفتار رسائی کے باعث بچوں کا اے آئی سے چلنے والے پلیٹ فارمز سے واسطہ غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔
وہ یہاں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر “اے آئی اور بچے: اے آئی کے اصولوں کو محفوظ، جامع اور بااختیار بنانے کے لیے عملی جامہ پہنانا” کے عنوان پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام فکی (FICCI) نے یونیسف کے اشتراک سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نظام اب تیزی سے بچوں کے سیکھنے کے انداز، معلومات تک رسائی اور ان کے طرزِ عمل کی تشکیل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
پروفیسر سود نے کہا، ’’ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ الگورتھم کی بنیاد پر چلنے والی فیڈز اور شخصی نوعیت کے تعلیمی ایپس اے آئی ساتھیوں کے ساتھ پروان چڑھنے کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے۔ وقت کے ساتھ بچے کی مجموعی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی نشوونما پر ان اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق اور نئے آلات کی ضرورت ہے۔‘‘
وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ اس سمٹ کا انعقاد آئندہ نسل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس کا مرکزی موضوع ’’لوگ، کرۂ ارض اور ترقی‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کو خوف کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کی انقلابی صلاحیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جو بچوں کے مستقبل کو نئی جہت دے سکتی ہے۔ ’’ہمیں ایسا نظامِ حکمرانی درکار ہے جو ہمارے بچوں اور ملک کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھے، اور ساتھ ہی اس امر کو یقینی بنائے کہ بچے اے آئی کے فوائد سے بھرپور انداز میں مستفید ہو سکیں اور اپنی زندگیوں نیز ہمارے مشترکہ عالمی مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں۔‘‘
بھارت، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ میں ناروے کی سفیر مے ایلین اسٹینر نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے محفوظ اور جامع اے آئی ان کے ملک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناروے ٹیکنالوجی، بشمول اے آئی، کے ایسے استعمال کی حمایت کرتا ہے جو بچوں کے حقوق کو مستحکم کرے نہ کہ انہیں کمزور بنائے۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن سے وابستہ مواقع اور خطرات دونوں سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
فکی کی ڈائریکٹر جنرل جیوتی وج نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، حکمرانی اور روزمرہ کی ڈیجیٹل سرگرمیوں میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے اور بھارت سمیت دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کے تجربات اور امکانات کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی ایڈٹیک صنعت تیزی سے اے آئی کی مطابقتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ کر رہی ہے اور ان کے لیے شخصی نوعیت کے تعلیمی تجربات فراہم کر رہی ہے۔
یونیسف آفس آف انوویشن کے گلوبل ڈائریکٹر تھامس ڈیون نے کہا کہ اے آئی اس دنیا کو نئی شکل دے رہا ہے جس میں بچے پرورش پا رہے ہیں، اور یہ تبدیلی اکثر معاشرے کی اس صلاحیت سے کہیں زیادہ تیز ہے جس کے ذریعے وہ اس کے طویل المدتی اثرات کا مکمل ادراک کر سکے۔ ان کے بقول، ’’بچوں کو مرکز میں رکھنے والا اے آئی کوئی اختیاری شے نہیں بلکہ حکومتوں، صنعتوں اور ان تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے جو ان نظاموں کی تشکیل اور نفاذ میں شریک ہیں۔‘‘
اجلاس کا آغاز یونیسف انڈیا کی یوتھ ایڈووکیٹ پرسدھی سنگھ کی جانب سے بچوں اور نوجوانوں کے اعلامیے کی پیشکش سے ہوا، جو “جنریشن اَن لمیٹڈ” کی قیادت میں کیے گئے عالمی یو-رپورٹ سروے کے نتائج پر مبنی تھا۔ اس سروے میں 184 ممالک کے 54 ہزار بچوں اور نوجوانوں کے تاثرات شامل تھے، جبکہ بھارت میں بچوں کے ساتھ خصوصی مکالمے بھی کیے گئے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ڈیزائن، نفاذ اور حکمرانی کے ہر مرحلے میں بچوں کو مرکزیت دی جائے اور ان کے حقوق کو بعد از خیال کے بجائے بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری و نجی شعبوں میں اے آئی نظاموں کی نگرانی کے لیے بین الشعبہ جاتی نگران اداروں کو نامزد یا مضبوط کریں، جن میں ٹیکنالوجی، قانون، بچوں کے حقوق، تعلیم اور ڈیٹا تحفظ کے ماہرین شامل ہوں۔
پینل مباحثے میں مختلف ماہرین اور نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل اسی وقت روشن ہو سکتا ہے جب اسے انسانی اقدار، بچوں کے حقوق اور سماجی ذمہ داری کے مضبوط اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے۔

دیش

چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کا معاملہ،بنگال سرکار سے ہائی کورٹ نے طلب کی وضاحت

Published

on

کولکاتہ:کولکاتہ ہائی کورٹ نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ اس نے مغربی بنگال کی مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کے لئے کوئی حکم دیا ہے۔ کارگزار چیف جسٹس تاپ ورتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بنرجی کی بنچ نے ایک عرضی پر ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ بغیر تحریری حکم کے بنگال میں 4000 مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے گئے ہیں، اس عرضی پر عدالت نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ اس نے ایسی کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں۔ کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ غورطلب ہے کہ ایک مفاد عامہ کی عرضی میں وکیل دانش فاروقی نے کہا ہے کہ پولیس افسران بغیر کسی تحریری حکم کے لائوڈاسپیکر ہٹادیئے ہیں۔ وہ صوتی جانچ کے بغیر غیر قانونی فرمانوں کی تابعداری کررہے ہیں۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ اذان اسلامی اعتقادات کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 25 کے تحت محفوظ ہے۔ اور لائوڈاسپیکر پر اس طرح کی پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فاروقی کی نمائندگی کررہے ہیں سینئر وکیل کلیان بندو اپادھیائے نے کہا ہے کہ پولیس نے مسجد انتظامیہ پر دبائو ڈالا اور بنا کسی نوٹس کے چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے۔ اس طرح کی غیر قانونی فرمان سے قانون کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔

Continue Reading

دیش

بارہ سال بعد مظفر نگر فساد کا مقدمہ واپس

Published

on

مظفر نگرخصوصی ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے 2013 میں مظفر نگر فسادات سے منسلک ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اترپردیش حکومت نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جس پر عدالت نے مظفر نگر کے نگلہ نگوڑ پنچایت معاملے میں سنجو بالیان، سریش رانا، کپل دیو اگروال، ہریندر ملک سمیت کئی لیڈروں پر درج مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔
حکومت کے فیصلے کے بعد مظفر نگر فسادات کے 22بی جے پی رہنمائوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں یوپی سرکار کے وزیر کپل دیو اگروال ، سابق مرکزی وزیر سنجو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا سمیت کئی لوگوں کے نام شامل تھے۔ 12 سال کے بعد یوگی سرکار کے ذریعہ مقدمہ واپس لئے جانے پر اقلیتی طبقہ میںتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غورطلب ہے کہ مظفر نگر ضلع میں 27 اگست 2013 کو سکھیڑا تھانہ کے تحت کوال گائوں میں ممیرے بھائیوں سچن اور گورواور شاہنواز کے قتل سے فرقہ ورانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے، اس کے بعد مظفر نگر میں جگہ جگہ تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ 30 اگست کو خالہ پار میں اقلیتی طبقہ کے تحت پنچایت ہوئی تھی ،اس دوران بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ ننگلا مندوڑ کے میدان میں پنچایت منعقد کی گئی جس میں بی جے پی لیڈروں پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزمات لگے۔ جس کے بعد پورے مظفر نگر میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔
جس کے بعد 22 نامزد لیڈروں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بہرحال 12 سال بعد یوگی سرکار نے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر عدالت میں اپیل کی۔جس کے بعد ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے مقدمہ واپسی کے احکامات جاری کردئے ہیں۔ خا ص بات تو یہ ہے کہ مظفر نگر فسادکا اہم مقدمہ تھا،جسے حکومت نے واپس لے لیا ہے۔
ریاستی وزیر کپل دیو اگروال نے کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بی جے پی کارکنان اور عوامی نمائندوں پر فرضی مقدمے دائر کیے تھے۔ جو واپس لے لئے گئے ہیں۔

Continue Reading

Bihar

چڑھاوا چوری کے خلاف پپویادو کاانوکھا احتجاج،ایم پی نے سادھو سنتوں کوکیا جمع، وزیر اعظم کی رہائش گاہ جانے سے روکے جانے پر سڑک پر لیٹ گئے پپویادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگی کے معاملے پر بہار کے پورنیہ سے رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو پیر کو سادھو سنتوں کے احتجاج میں شامل ہوئے۔ ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں سادھو سنت منڈی ہاؤس پہنچے تھے، جن کی حمایت میں پپو یادو بھی وہاں پہنچے۔
سادھو سنت چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔ جب دہلی پولیس نے انہیں ایک مقام پر بھیڑ جمع کرنے سے منع کیا تو وہ سڑک پر لیٹ گئے۔ احتجاج کے دوران ان کے ہاتھوں میں تختیاں بھی نظر آئیں۔پپو یادو نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر کے ساتھ پپو یادو نے لکھا:’’چندہ چور گدی چھوڑ، رام جی کے لٹیرے کرسی چھوڑو!رام مخالف کال نیمیوں کے سرپرست وزیر اعظم کواصلی سادھو سنتوں سے خوف کیوں ستا رہا ہے؟‘‘’’جب جب مودی ڈرتے ہیں، پولیس کو آگے کرتے ہیں‘‘ — اس نعرے کو ایک بار پھر وزیر اعظم صاحب نے سچ ثابت کر دیا۔ سادھو سنتوں کے خلاف بھی پولیس بھیج دی!مودی جی، آگے آئیے، یادداشت وصول کیجیے!
پیر کے روز ایودھیا کے رام مندر میں رام دھن کے مبینہ غبن کے معاملے کی سی بی آئی کی نگرانی میں جانچ کرانے کے مطالبے کو لے کر ملک کے مختلف علاقوں سے تقریباً 500 سادھو سنت دہلی کے منڈی ہاؤس میں جمع ہوئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ہنومان گڑھی سے بھی کچھ سادھو اس احتجاج میں پہنچے تھے۔ کئی مہنت، مہامنڈلیشور اور دیگر سادھو سنت بھی اس میں موجود تھے۔سادھو سنت وزیر اعظم کو یادداشت پیش کرنے کے لیے جلوس کی شکل میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے والے تھے۔
لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی۔ سکیورٹی وجوہات کے پیشِ نظر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ ہونے کی وجہ سے جب پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے منع کیا تو کئی سادھو سنت زمین پر لیٹ گئے۔ پورنیہ کے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو بھی زمین پر لیٹ کر نعرے لگانے لگے۔’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے انہوں نے رام بھکتوں کے چڑھاوے میں مبینہ خرد برد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے انہیں حراست میں لے کر دوسری سمت بھیج دیا۔

 

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network