Connect with us

دیش

اردو و دیگر زبانوں میں درسی کتب کی تیاری کیلئے 6 ہزار کروڑ کا بجٹ

Published

on

مانو میں اردو مصنفین کیلئےورکشاپ کا افتتاح، پروفیسر سید عین الحسن، پرفیسر ویبھا شرما اور چندن شریواستو کا خطاب
(پی این این)
حیدرآباد :”حکومت ہند نے اردو کے بشمول مختلف ہندوستانی زبانوں میں اعلیٰ تعلیمی درسی کتب کی تیاری کے لئے اگلے مالی سال میں چھ ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ اس کے ذریعہ 2.5 لاکھ علمی کتابوں کی تیاری کا ہدف ہے۔“ اس بات کا انکشاف ڈاکٹر چندن شریواستو، اکیڈمک کوآرڈینٹر بھارتیہ بھاشا سمیتی (بی بی ایس)، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں اردو مصنفین کے دو روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس بحیثیت مہمان خصوصی آن لائن خطاب کے دوران کیا۔ پروفیسر سید عین الحسن، شیخ الجامعہ نے صدارت کی، پروفیسر ویبھا شرما، شعبہ انگریزی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار اور پروفیسر رضاءاللہ خان، ڈائرکٹر مرکز برائے فاصلاتی وآن لائن تعلیم (سی ڈی او ای) مہمان اعزازی تھے۔ پروفیسر خالد مبشر الظفر، ڈائرکٹر ڈائرکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن، ٹرانسلیشن اسٹڈیز، لیکسیکوگرافی اینڈ پبلی کیشن نے جو بی بی ایس اردو کے کو آرڈینیٹر بھی ہیں خیر مقدم کیا۔ پروفیسر ابو شہیم خان نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
اس موقع پر ڈی ٹی ٹی ایل پی کے ذریعہ شائع کردہ پانچ کتب ہیومن بنگی: دی وائس جیرنٹ آف اللہ آن ارتھ (انسان: زمین پر اللہ کا خلیفہ)، مصنف: پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، ہندوستانی علمی نظام، مصنف: پروفیسر محمد مشاہد، ڈاکٹر آفاق ندیم خان، کہت کبیر، مصنف: پروفیسر فیروز عالم، عربی کے اولین سفر ناموں میں ہندوستانی تہذیب وثقافت، مصنف: ڈاکٹر محمد شاکر رضائ، اور پروفیسر سید عین الحسن کی تقاریر کا مجموعہ ”عینات حسن“ مرتب ڈاکٹر محمد شمس الدین کی رسم اجراءبھی عمل میں آئی۔ ڈاکٹر چندن شریواستو نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ”نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے تحت حکومت ہند نے بی بی ایس کو جامعات کے لئے نصابی کتابوں کی تیاری کا کام سونپا ہے، اس سلسلہ میں اردو یونیورسٹی کو مختلف مضامین کی اعلیٰ سطحی اردو نصابی کتابوں کی تیاری کی نوڈل ایجنسی مقرر کیا گیا ہے، اور پروفیسر عین الحسن اس کے نوڈل آفیسر ہیں۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”کتابوں کی تیاری کی اسکیم میں 4.5 لاکھ اساتذہ اور ماہرین، ایک ہزار سے زائد اداروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ بی بی ایس کتاب یوجنا کے تحت انٹیریکیٹو ای بک کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔“ ڈاکٹر چندن شریواستو نے بی بی ایس کے تحت اردو کتب کی تیاری میں مانو کے سرگرم رول کی ستائش کی اور اعتراف کیا کہ اردو یونیورسٹی نے ابتداءہی میں جس انداز سے کام کیا ہے وہ دیگر زبانوں کے لئے قابل تقلید ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن نے اپنے صدارتی خطاب میں اساتذہ کو مشورہ دیا کہ ”وہ خود کو نصاب تک محدود نہ رکھیں۔ بی بی ایس نے اساتذہ کو اس بات کا موقع فراہم کیا ہے کہ وہ طلبہ کو زائد از نصاب زاویوں سے علمی طور پر مستفید کریں۔“ انھوں نے نشاندہی کی کہ ”این ای پی مانو کے تدریسی ماحول کے لئے نہایت سازگار ہے۔ ہندوستانی علوم کے نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری روایات ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔“ پروفیسر ویبھا شرما نے اپنے خطاب میں اردو کو انگریزی کی طرح جمہوری اور اشتمالی زبان قرار دیا۔ اردو ہندوستان کی روح کا حصہ ہے۔ پروفیسر شرما نے یاد دلایا کہ ”اردو کی شناخت سے مربوط نمائشی الفاظ کے محض استعمال سے زبان کو اس کا مستحقہ مقام نہیں مل سکتا۔“ انھوں نے ریمارک کیا کہ ”اردو مذہب کی نہیں؛ وطن کی زبان ہے۔“ پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”بی بی ایس کے ابتدائی دور میں اردو یونیورسٹی اور شیخ الجامعہ نے نہایت اہم مشاورتی رول ادا کیا۔ اردو کو سنجیدہ اور علمی زبان کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر رضاءاللہ خان نے فاصلاتی تعلیم کے حوالہ سے خود اکتسابی مواد (ایس ایل ایم) کی تیاری میں در پیش مسائل کا حوالہ دیا، اور بتایا کہ ”مرکز برائے فاصلاتی وآن لائن تعلیم 426 ایس ایل ایم تیار کر چکا ہے۔“ انھوں نے ریمارک کیا کہ ”بی بی ایس پروجیکٹ مانو کو نہایت صحیح وقت پر ملا ہے۔ اس کے ذریعہ یونیورسٹی آنے والے دنوں میں قومی سطح پر اپنا لوہا منوا لے گی۔“ پروفیسر خالد مبشر الظفر نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ”ورکشاپ اردو زبان کے فکری، تعلیمی اور علمی مستقبل سے مربوط ایک با مقصد اور دور رس قدم ہے۔ اردو زبان میں اعلیٰ تدریسی اور تحقیقی مواد کی تیاری ممکن ہے۔“ اس دوروزہ وکشاپ میں یونیورسٹی کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور بیرونی ماہرین ومصنفین کی بڑی تعداد شریک ہے۔

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network