Connect with us

دیش

اُردو یونیورسٹی ملک کی تعمیر و ترقی میں ادا کر رہی ہےنمایاں کردار: انجنی کمار آئی پی ایس

Published

on

نئے تعلیمی سال میں داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے تعارفی پروگرام کا آغاز
(پی این این)
حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ یہاں کشمیر سے کیرالہ تک بیشتر ریاستوں کے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو اس یونیورسٹی کو ایک چھوٹا ہندوستان بناتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انجنی کمار، آئی پی ایس، ڈائرکٹر جنرل جیل و اصلاحی خدمات، آندھرا پردیش نے کیا۔ وہ اردو یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلبہ کے تعارفی پروگرام میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام کی پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے صدارت کی۔
انجنی کمار نے مزید کہا کہ آئی ٹی انقلاب ہماری زندگیوں میں نمایاں تبدیلی کا سبب بناہے۔ ان سہولیات سے فائدہ اٹھانا ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے۔ انجنی کمار نے دیئکشا کے معنی و مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے، سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے طلبہ کو کامیابی کے لیے چند اہم نکات سے آگاہ کیا۔ جس میں ہنر (اسکل)، محنت، ہم آہنگی، نتیجہ خیزی، وقت کی پابندی، اچھی صحت، درست ارادہ اور مسلسل خود احتسابی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ بہتری نہ لانے والے پیچھے رہ جاتے ہیں، جیسا کہ نوکیا کمپنی کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے بسمارک کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ “عقلمند وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتا ہے”، اور طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ دانش مندانہ فیصلے لے کر اپنے کیریئر کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی مسابقت صرف قومی نہیں بلکہ عالمی ہے، اس لیے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نئے تعلیمی سال میں داخلہ لینے والے طلبہ کی اس تعارفی تقریب کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر سید عین الحسن نے کی، انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو یونیورسٹی میں داخلہ کے مقاصد واضح رکھنے چاہیے۔ ان کے مطابق کلاس روم، لائبریری، کھیل کود، ثقافتی سرگرمیاں، ہاسٹل کی زندگی اور اساتذہ کے احترام کو طالب علم کی شخصیت سازی کے اہم عناصر ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ حصول تعلیم کے ذریعہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد ، ڈین سٹوڈنٹ ویلفیئر پروفیسر سید علیم اشرف جائسی اور ڈائرکٹر ایڈمشن پروفیسر ایم ونجا نے خطاب کیا اور طلباءکو یونیورسٹی کی مختلف سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا۔ پروفیسر سمیع صدیقی صدرنشین ، طلبہ تعارفی پروگرام نے اظہارِ تشکر پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر جرار احمد، کنوینر، طلبہ تعارفی پروگرام نے انجام دیے۔

دیش

خواتین پرہوتا ہے سہ طرفہ تشدد،پونے میں راہل گاندھی کا اظہار خیال

Published

on

پونے:راہل گاندھی آج ’چھاتروں کی گونج‘پروگرام کے تحت پونے پہنچے جہاں ان کا زبردست استقبال کیا گیا، پروگرام میں لڑکیوں کی کثیر تعداد میں موجود تھی۔ اس موقع پر انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی لڑکیوں کو آزاد ہونا ضروری ہے۔
والد ، شوہر، بیٹے سے آپ کا رشتہ ہے لیکن آپ کی شناخت نہیں ہے۔ انھوں نے منواسمرتی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ منوسمرتی کہتی ہے کہ لڑکی والد ، شوہر اور بچوں کی جائیداد ہے۔ اس شرمناک سوچ سے خواتین کو آزاد ہونا چاہئے وہ کسی پر منحصر نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تین طرح سے تشدد ہوتا ہے۔ اول تو پیدا ہوتے ہوئے قتل، دوئم جسمانی تشدد، سوئم اقتصادی بندشیں۔
غورطلب ہے کہ ’چھاتروں کی گونج‘پروگرام کے تحت صرف لڑکیوں کو مدعو کیا گیا تھا اس دوران لڑکیوں نے راہل کی آمد پر پرجوش نعرے لگائے۔ پورا منڈپ راہل راہل کے نعرے سے گونجنے لگا۔ بھوجپوری گلوکارہ نیہا راٹھور بھی اس پروگرام میں پہنچی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ میں سرکار سے سوال پوچھتی ہوں ، بدلے میں ڈھیر سارے سوال اور ایف آئی آر جھیلنی پڑتی ہے۔ میں لوک گائیکا ہوں لیکن اس کے بجائے میرے گھر پولیس پہنچتی ہے۔ ہمیں پانچ سال سے گالیاں مل رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں مجھے بھی گالیاں مل رہی ہیں۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے لڑکیوں کے مسائل سنے انھوں نے کہا کہ آج کاالمیہ یہ ہے کہ 60فیصد لڑکیوں اکیلے گھروں سے نہیں نکل سکتیں۔ لڑکیوں کی تعلیم آج ملک کی ترقی کیلئے بے حد ضروری ہے۔

Continue Reading

دیش

وارانسی میں تمام گھاٹ زیر آب،چھتوں پر ہورہی ہے پوجا

Published

on

نئی دہلیاترپردیش میں مسلسل بارش سے گنگا سمیت 6ندیوں کا سطح آب خطرے سے اوپر ہے۔ 13اضلاع میں سیلابی صورتحال ہے۔ وزیر اعظم مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی کی بری حالت ہے۔ وہاں کے تمام 84 گھاٹ ڈوب گئے ہیں۔ مان کونیکا گھاٹ کے چھت پر انتم سنسکار وپوجا پاٹھ ہورہا ہے۔ دشا میگھ گھاٹ کے چھت پر بھی پوجا پاٹھ جاری ہے۔ ادھر راجستھان میں گرمی بڑھتی جارہی ہے۔ درجہ حرارت 40 پار کرچکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مدھیہ پردیش کے 22اور یوپی کے 28 اضلاع میں بارش کے سبب الرٹ جاری ہے۔
چھتیس گڑھ اور اڑیسہ میں تیز بارش کا امکان ہے۔مدھیہ پردیش کے ستنا میں صبری واٹر فال خطرناک روپ لے چکا ہے۔ لکھنؤ کے حسین گنج میں زبردست بارش کے سبب کئی دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔میرٹھ میں بارش کی وجہ سے ایل ایل آر اے میڈیکل کالج میں آبی جمائو ہوگیا ہے۔

Continue Reading

دیش

اتراکھنڈ میں کتوں کی دہشت سے 10اسکول بند،600سے زائد بچوں کی ہورہی ہے آن لائن پڑھائی،ڈنڈے لیکر گھر سے نکلتے ہیں لوگ

Published

on

دہرادون:اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے نارائن باگڈ علاقے میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کے پیش نظر طلباء کی حفاظت کو لے کر ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ علاقے میں کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر نارائن باگڈ کے 10 اسکولوں کو چار دنوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ چمولی کے چیف ایجوکیشن آفیسر آکاش سرسوت نے اس سلسلے میں حکم جاری کیا۔ حکم نامے کے مطابق نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکولوں میں 20 اگست 2026 سے 23 اگست 2026 تک تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ طلبہ کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ آوارہ اور متشدد کتوں کی بڑھتی ہوئی لعنت کے باعث بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی۔ اس کی روشنی میں چار روز تک باقاعدہ کلاسز نہیں ہوں گی۔ حکم کے مطابق نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکول 20 اگست سے 23 اگست تک بند رہیں گے، یعنی بچوں کو چار دن تک اسکول جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔کتوں کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ لوگ کہیں جانے سے پہلے لاٹھی ڈنڈے لے کرگھروں سے باہر نکلتے ہیں۔
نارائن باگڈ علاقہ میں کتوں کی لعنت کو دیکھتے ہوئے علاقہ پنچایت کے سربراہ نے اس سلسلے میں ایک خط بھیجا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ چمولی کی ہدایات کے بعد چیف ایجوکیشن آفیسر نے اسکولوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد اسکول جانے والے طلباء کو آوارہ اور پرتشدد کتوں کے ممکنہ خطرات سے بچانا ہے۔ چار روزہ بندش کے دوران بچوں کی تعلیم آن لائن جاری رہے گی۔
یہ حکم نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکولوں پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ سکول 20 اگست سے 23 اگست تک بند رہیں گے۔ اس مدت کے دوران طلباء کو اسکول نہیں بلایا جائے گا۔ آن لائن لرننگ کے ذریعے ان کی تعلیم جاری رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسکول بند ہونے کے باوجود طلباء کی تعلیم مکمل طور پر متاثر نہیں ہوگی۔

نارائن باگڈ علاقے میں کتوں کی لعنت کی وجہ سے اسکولوں کو بند کرنے کے اس فیصلے کا براہ راست تعلق طلباء کی حفاظت سے ہے۔ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے جاری کردہ حکم نامے کے بعد اب 10 اسکولوں میں طلباء چار دن تک آن لائن تعلیم حاصل کریں گے۔

فی الحال، 20 اگست سے 23 اگست، 2026 تک اسکول میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ چیف ایجوکیشن آفیسر، چمولی، آکاش سرسوت نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس مدت کے دوران کلاسیں آن لائن کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ ضلع مجسٹریٹ چمولی کی ہدایات اور علاقہ پنچایت کے سربراہ نارائن باگڈ کے ایک خط کے جواب میں کیا گیا ہے۔ نارائن باگڈ کے علاقے میں آوارہ اور پرتشدد کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کو دیکھتے ہوئے طلباء کی حفاظت کو ترجیح دی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network