دیش
ایک سال کے اندر187 افراد نے بیڑی، سگریٹ اور تمباکو نوشی سے کی توبہ
(پی این این)
رام پور:اکثر لوگوں سے یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ کوئی بھی نشے کی لت سے چھٹکارا نہیں پا سکتا لیکن اگر پختہ عزم ہو تو کسی بھی بری عادت کو آسانی سے چھوڑا جا سکتا ہے۔ ضلع ہسپتال کے ٹی سی سی سنٹر میں گزشتہ ایک سال میں 187 لوگوں نے بیڑی، سگریٹ، تمباکو چھوڑ دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سگریٹ اور تمباکو کے عادی تھے۔ یہ لوگ اپنے گھر والوں کے مشورے اور بگڑتی صحت کے باعث مرکز پہنچے اور خود کو ڈھانپ لیا۔ آج وہ اس عادت سے بالکل چھٹکارا پا چکے ہیں۔اس وقت ضلع اسپتال کے تمباکو نوشی کے خاتمے کے مرکز میں 4161 مریض سرگرم ہیں جو علاج کے مرکزی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 1986 مریضوں کا گٹکاچھڑانے کے بعد اب نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی سے علاج کیا جا رہا ہے۔ اس میں ادویات کے علاوہ انہیں چیونگم، نکوٹین، نکوٹین اسپرے اور پیچ دے کر بیڑی، سگریٹ اور تمباکو چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مشیر ڈاکٹر شہزاد حسن خاں کا کہنا ہے کہ انسان کسی چیز کا عادی نہیں ہوتا۔ کسی بھی بری عادت سے بہتر علاج سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مریض ڈاکٹر کے مشورے پر بھی عمل کرے۔ مرکز میں سینکڑوں رشتہ دار آتے ہیں جو اپنے پیاروں کو سگریٹ، شراب، پان پُڑیا چھوڑنے میں مدد کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ایک مہینے میں بولی، سگریٹ، تمباکو چھوڑ دیتے ہیں جب کہ بہت سے لوگوں کو تین مہینے لگ جاتے ہیں۔ اس وقت ایک سال کے اندر 187 افراد ایسے ہیں جنہوں نے بیڑی، سگریٹ، تمباکو چھوڑ دیا ہے۔
ڈاکٹر شہزاد حسن کا کہنا ہے کہ اس کا کورس کرنے کے بعد چھ ماہ کا دورانیہ ہوتا ہے جس میں اگر مریض ان چیزوں کو مکمل طور پر ہاتھ نہیں لگاتا تو انہیں ڈی ایڈکشن کے زمرے میں لایا جاتا ہے اور اس کیٹیگری میں ان کا اندراج کیا جاتا ہے۔ جبکہ کورس کے بعد دوبارہ استعمال کرنے والوں کو اس سے پاک نہیں سمجھا جاتا۔ ڈاکٹر شہزاد نے بتایا کہ تمام ادویات اور نکوٹین، چیونگم، سپرے کی اشیاء لکھنؤ سے آتی ہیں اور پھر تمام علاقوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں وافر اسٹاک موجود ہے تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واضح ہو کہ اس وقت ضلع مشیر ڈاکٹر شہزادحسن کونسلر طیبہ خان،کارکن رضوان اور مرکز میں ایک کمپیوٹر آپریٹر کے ساتھ کام کرتے ہیں۔وہیں محکمہ صحت اسکولوں اور دیگر مقامات کے ارد گرد منشیات فروخت کرنے والوں پر کڑی نظر رکھتا ہے۔اگر ہم گزشتہ ایک سال کی بات کریں تو ایک ہزار افراد پر تقریباً 70 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔بیڑی، سگریٹ، تمباکو نقصان دہ ہیں، اسے جلد از جلد ترک کر دینا چاہیے۔ اس کا صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ڈاکٹر ڈی کے ورما، سی ایم ایس کا کہناہےکہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے مرکز میں ڈاکٹر کی نگرانی میں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور لوگ ٹھیک ہو کر واپس بھی چلے جاتے ہیں۔اسپتال میں اب سختی سے تمباکو نوشی پر روک لگا دی گئ ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر ڈی کے ورما نے اسپتال کو تمباکو نوشی سے پاک کردیاہے۔
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
