تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دیش

ہر صاحب استطاعت کیلئے قربانی کرنا دینی فریضہ:مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی

(پی این این)
دیوبند:ہر سال عیدالاضحی کے تین دنوں میں پورے عالم کے کروڑوں مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتےہ ہوئے اللہ کی رضا وخوشنودی کی خاطر جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ قربانی دین اسلام کی اہم ترین عبادت ہے، قربانی کرنا اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ عشق ومحبت کا اظہار ہے، لہٰذا جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ مالی وسعت عطا کرے قربانی کرنا اس کا اہم دینی فریضہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم اور دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے کیا۔ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کئے جانے کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا یہ سلسلہ سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آرہاہے۔ مولانا احمد خضر نے کہا کہ قربانی کا عمل ہر امت کے لئے مقرر کیا گیا ، البتہ اس کے طریقوں میں فرق رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کی عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو عطا کی ہے۔ چنانچہ احادیث مبارکہ میں جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زیادہ اہمیت وفضیلت بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ قربانی کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ مولانا نے کہا کہ وہ شخص بہت بدنصیب ہے جو مالی وسعت ہونے کے باوجود اس عظیم عبادت سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا کوئی بھی عمل بارگاہ الٰہی میں جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور بارگاہ الٰہی میں اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا ۔
مولانا نے کہا کہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے بارگاہ خداوندی میں قبولیت کا درجہ پالیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ہر شخص کو نہایت خوش دلی کے ساتھ قربانی کرنی چاہئے ۔ مولانا احمد خضر شاہ نے کہا کہ قربانی کرنے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعة الوداع کے موقع پر ایک سو اونٹوں کی قربانی کی اور ایک روایت کے مطابق ان سو اونٹوں میں 63اونٹوں کو خود اپنے دست اقدس سے ذبح فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ بکرا ، دنبہ، بھیڑ، اونٹ، بھینس یا کٹڑے وغیرہ کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ قربانی کے جانور میں اگر کئی لوگ شریک ہوں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قربانی کی روح اور حقیقت کو سمجھنے نیز اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔