Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ میں بین علومی ریفریشر کورس اختتام پذیر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر(ایم ایم ٹی ٹی سی)جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’سماجی شمولیت اور اشتمالی پالیسی:مساوات اور شمولیت کی اور‘ کے موضوع پر دوہفتے کا بین علومی ریفریشر کورس 14جولائی تا 26 جولائی کامیابی سے اختتام پذیرہوا۔پروگرام میں سینٹرل اور صوبائی اداروں اور ڈیمڈ یونیورسٹیوں سمیت اڑتالیس علوم کے ایک سو چھبیس فیکلٹی اراکین نے سرگرم شرکت کی۔پروگرام میں مختلف علوم کے نقطہ ہائے نظر سے سیشن ہوئے۔
ریفریشر کورس کا افتتاح شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف کے دست مبارک سے ہوا۔آغاز میں ایم ایم ٹی ٹی سی کی اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر کلوندر کور نے شرکا کا پرجوش خیر مقدم کیا اور پروگرام کے مہمان خصوصی پروفیسر مظہر آصف اور پروگرام کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر اروند کمار سینٹر فار اسٹڈی آف سوشل انکلوژن،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سامعین کے سامنے تعارف پیش کیا۔
افتتاحی تقریر میں پروفیسر کور نے ’شمولیت کے خیال اور تصور‘ کے موضوع پر کورس کی تیاری کے پس پردہ وژن کو سامعین سے ساجھا کیا۔انھوں نے تشخص کے مختلف محوروں میں تاریخی اور جاری علاحدگی کو تنقیدی نقطہ نظر سے جانچنے اور لچک دار اورشمولیت والے کلاس روم کے فروغ کے لیے معلمین کو بااختیار بنانے کے پروگرام کے مقصد پر زور دیا۔
شیخ الجامعہ نے اپنے صدارتی خطاب میں ہندوستان کو قدیم ترین تہذیب و ثقافت میں شمار کرتے ہوئے بتایاکہ اس نے کیسے سماجی تنوع اور تکثیریت کے نصب العین کے لیے جدو جہد کی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیاکہ ذات پات،مذہب یا نسل کی بنیادی پہچان اور شناختیں سماجی طورپر بُنی جاتی ہیں اور ہم ان اثرات سے آزاد پیدا ہوتے ہیں۔
پروفیسر آصف نے اعلیٰ تعلیم سے متعلق کل ہند سروے(اے آئی ایس ایچ ای) کی رپورٹ دوہزار اکیس اور بائیس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں مجموعی اندراج تناسب(جی ای آر) پسماندہ طبقات جیسے پسماندہ ذات(ایس سی) درج قبائل(ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات(او بی سی) کے طلبہ کی بڑھتی نمائندگی اس کا مظہر ہے۔انھوں نے مختلف مذہبی اقلیتوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ان کی نمائندگی سے متعلق بھی اعدا د و شمار سامعین سے ساجھا کیے۔کبیر،نانک دادو،رائیداس جیسے سنتوں اور مہاتما گاندھی،ساویتری پھولے اور ڈاکٹر امبیڈکر جیسے سماجی انقلابیوں کے کردار پر بھی اظہار خیال کیا کہ پسماندہ پس منظروں سے آنے کے باوجود انھوں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔ پروفیسر آصف نے اس بات پر زور دیاکہ این ای پی دوہزار بیس آئین ہند کی دفعات چودہ، پندرہ،سولہ اور چھیالیس میں شامل شمولیت کے وژن کو آگے لے جانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔اپنی تقریرکے اختتام پر انھوں نے مرزا غالب کا شعر پڑھا ؎:بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۔آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا۔
اس کے بعدکورس کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر اروند کمار نے کورس کے خاکے کی تفصیل بتائی جو تین اجزا پر مشتمل تھی۔(اول) نظری و تعلیمی انٹروینشن؛(دوم) ذات پات، جینڈر، نسل اور زبان وغیرہ کے مسائل و موضوعات کے تئیں حساسیت بخشی اور (سوم)شمولیتی پالیسی کی عمل آوری والی ایجنسیوں کی طرف سے کاروائی سے بھرپور کام۔
پروگرام کے خطبات میں شمولیت کے نظری و عملی پہلوؤں پر پروفیسر فرحت نسرین،شعبہ تاریخ و ثقافت،جامعہ ملیہ اسلامیہ،پروفیسر نشی کانت کولگے،مانو،پروفیسر راجیش گل، شعبہ سماجیات، پنجاب یونیورسٹی، ڈاکٹر گومتی بودرا ہیم بروم،شعبہ سماجیات،ڈاکٹر ویبھوتی نایک، سی ایس ایس ایس،کولکتہ، پروفیسر نانی میکالائی،ڈائریکٹر سینٹر فار وومین اینڈ ڈولپمنٹ اسٹڈیز، ڈاکٹر پرشانت نیگی،پروفیسر رضی الدین عقیل،شعبہ تاریخ،دہلی یونیورسٹی اور پروفیسر چارو گپتا کے لیکچرز شامل تھے۔
حساسیت بخشی والے حصے میں پروفیسر ارچنا دسی، اینٹی ڈسکریمی نیشن آفیسر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،پروفیسر نشاط زیدی، اعزازی ڈائریکٹر سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومین اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈاکٹر نتن تگاڑے، حیدر آباد یونیورسٹی، پروفیسر سنتوش سنگھ،امبیڈ کر یونیورسٹی،پروفیسر چنا راؤ سی ایس ایس آئی،جے این یو،ڈاکٹر کے۔کولہو سینٹر فار نارتھ ایسٹ اسٹڈیز اینڈ پالیسی رسرچ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،ڈاکٹر کورسی ڈ۔کھرشنگ،پروفیسر رمیش بائیری،آئی آئی ٹی بمبئی کے خطبات تھے۔
ایکشن اورینٹیڈ اپروچ والے حصے میں ڈاکٹر دھروپ کمار سنگھ شعبہ تاریخ،بی ایچ یو،پروفیسر نثار احمد خان، ڈپارٹمنٹ آف آرکی ٹیکچر،جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈاکٹر دپتی مولگند، شیو نادار یونیورسٹی، ڈاکٹر پرادیومن باگ،شعبہ معاشیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، پروفیسر روی کانت،سی ایس ڈی ایس اور پروفیسر ویشال چوہان کے لیکچر ز شامل تھے۔
اس پروگرام میں چند اور ممتاز علمی شخصیات نے حصہ لیا ان میں ڈاکٹر روی کانت مشرا،(جوائنٹ ڈائریکٹر، پرائم منسٹر س میموریل میوزیم اینڈ لائبریری)،ابھے کمار،آئی ایف ایس،(ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آف انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز) نول کشور رام (کمشنر،پونے ایند ایکس ڈائریکٹر،پی ایم یو،ایکس۔جوائنٹ سیکریٹری،وزارت مالیات) اور چترنجن ترپاٹھی،ڈائریکٹر نیشنل اسکول آف ڈراما بھی شامل ہیں۔
یوجی سی مینڈیٹ کے حساب سے شرکا کے آموزشی ماحصل کی جانچ کے لیے ایک اسیسمنٹ ایکسرسائز بھی کرائی گئی۔اس میں ایم سی قیو ٹسٹ، مساوات اور عدل کے متعلق سوالات کے ارد گردگروپ پرزینٹشین شامل ہیں۔ پروگرام کے سلسلے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے شرکا نے کورس کے تصوراتی خاکے اور اس کی عمل آوری کے نقطہ ئ نظر سے اسے منفرد بتایا۔ انھوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہاں انھوں نے جو کچھ بھی سیکھا ہے اس سے شمولیت والے کلاس روم کے سلسلے میں ان کی کافی معاونت ہوگی۔

دلی این سی آر

فاسٹ ٹریک عدالت کا ڈرامہ نہیں، نتیجہ چاہیے: سنجے سنگھ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے پیپر لیک کے معاملات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی یقین دہانی کرانے پر وزیر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ آپ فاسٹ ٹریک عدالتوں کی یہ نوٹنکی نہ کریں۔
اگر آپ کی سی بی آئی عدالت کے سامنے ثبوت ہی پیش نہیں کرے گی تو عدالت کیا کر لے گی؟ جمعرات کو ہی آپ کی سی بی آئی نے کہا کہ 2024 کے پیپر لیک معاملے میں گرفتار کیے گئے سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 2024 کے پیپر لیک معاملے میں تو آپ کی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ ہی داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے تمام پیپر چور رہا ہوگئے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت کا دوہرا کردار دیکھیے کہ جب ایک دن پہلے 55 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط کے ساتھ اپوزیشن کا وفد سونم وانگچک سے ملاقات کرنے گیا تو مودی حکومت نے انہیں ملاقات نہیں کرنے دی، لیکن آج خود مرکزی وزیر ان سے ملاقات کرنے پہنچ گئے۔ سبھی کو سونم وانگچک کی صحت کی فکر تھی اور ان کی زندگی ملک کے لیے بے حد قیمتی ہے، اس لیے ان کی بھوک ہڑتال ختم ہونا ایک اچھی بات ہے۔ سنجے سنگھ نے اہم مسائل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کروڑوں نوجوانوں کی تحریک کے جن مطالبات کو لے کر یہ بھوک ہڑتال کی گئی تھی، ان کا کیا ہوا؟ مودی جی کہہ رہے ہیں کہ انہیں مُسودہ مل گیا ہے۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ مظاہرین کے کون سے مطالبات پورے ہوئے؟ خودکشی کرنے والے طلبہ و طالبات کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے، مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر حکومت کیا کرے گی؟ سنجے سنگھ نے بتایا کہ سی جے پی لیڈر ابھجیت دیپکے نے بھی واضح کیا ہے کہ بھوک ہڑتال ختم ہوئی ہے، لیکن تحریک جاری رہے گی۔ عام آدمی پارٹی آخر تک اس تحریک میں نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی بات پر سنجے سنگھ نے کہا کہ طلبہ کا ایسا کوئی مطالبہ ہی نہیں تھا۔ اسے تحریک سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کی حقیقت یہ ہے کہ جب تحقیقاتی ایجنسیاں وقت پر ثبوت ہی پیش نہیں کریں گی تو عدالت کیا کر لے گی۔
؟ 2024 کے نیٹ پیپر لیک معاملے میں مودی حکومت کے ماتحت کام کرنے والی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ ہی داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے پیپر چوروں کو ضمانت مل گئی۔ آج 2026 کے پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے کہہ دیا ہے کہ سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کی بات مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے سونم وانگچک کی جلد صحت یابی کی خواہش پر کیے گئے ٹویٹ پر سنجے سنگھ نے کہا کہ حضور، آتے آتے بہت دیر کر دی۔ سونم وانگچک 25 دن سے بھوک ہڑتال پر تھے، تب وزیر اعظم کو ان کی خبر لینے کی فرصت نہیں تھی۔ وہ پوری دنیا کی سیر کر رہے تھے اور میلوڈی چاکلیٹ کھا رہے تھے۔ اب جب تحریک پورے ملک میں پھیلنے لگی ہے تو وزیر اعظم یہ دوہرا کردار دکھا رہے ہیں۔ ادھر، آپ کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت کا دوہرا کردار دیکھیے کہ جب ایک دن پہلے 55 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط کے ساتھ اپوزیشن کا وفد سونم وانگچک سے ملاقات کرنے گیا تو مودی حکومت نے انہیں ملاقات نہیں کرنے دی، لیکن آج خود مرکزی وزیر ان سے ملاقات کرنے پہنچ گئے۔ سبھی کو سونم وانگچک کی صحت کی فکر تھی اور ان کی زندگی ملک کے لیے بے حد قیمتی ہے، اس لیے ان کی بھوک ہڑتال ختم ہونا ایک اچھی بات ہے۔ سنجے سنگھ نے اہم مسائل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کروڑوں نوجوانوں کی تحریک کے جن مطالبات کو لے کر یہ بھوک ہڑتال کی گئی تھی، ان کا کیا ہوا؟ مودی جی کہہ رہے ہیں کہ انہیں مُسودہ مل گیا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ مظاہرین کے کون سے مطالبات پورے ہوئے؟ خودکشی کرنے والے طلبہ و طالبات کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے، مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر حکومت کیا کرے گی؟ سنجے سنگھ نے بتایا کہ سی جے پی لیڈر ابھجیت دیپکے نے بھی واضح کیا ہے کہ بھوک ہڑتال ختم ہوئی ہے، لیکن تحریک جاری رہے گی۔ عام آدمی پارٹی آخر تک اس تحریک میں نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی بات پر سنجے سنگھ نے کہا کہ طلبہ کا ایسا کوئی مطالبہ ہی نہیں تھا۔ اسے تحریک سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کی حقیقت یہ ہے کہ جب تحقیقاتی ایجنسیاں وقت پر ثبوت ہی پیش نہیں کریں گی تو عدالت کیا کر لے گی؟ 2024 کے نیٹ پیپر لیک معاملے میں مودی حکومت کے ماتحت کام کرنے والی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ ہی داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے پیپر چوروں کو ضمانت مل گئی۔ آج 2026 کے پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے کہہ دیا ہے کہ سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کی بات مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے سونم وانگچک کی جلد صحت یابی کی خواہش پر کیے گئے ٹویٹ پر سنجے سنگھ نے کہا کہ حضور، آتے آتے بہت دیر کر دی۔ سونم وانگچک 25 دن سے بھوک ہڑتال پر تھے، تب وزیر اعظم کو ان کی خبر لینے کی فرصت نہیں تھی۔ وہ پوری دنیا کی سیر کر رہے تھے اور میلوڈی چاکلیٹ کھا رہے تھے۔ اب جب تحریک پورے ملک میں پھیلنے لگی ہے تو وزیر اعظم یہ دوہرا کردار دکھا رہے ہیں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہماری ترجیح:ریکھا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے مغربی دہلی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن اینڈ سیکنڈری ٹرانسپورٹیشن منصوبے کا افتتاح کیا۔اس موقع پر محترمہ گپتا نے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کا مقصد صرف کچرا اٹھانا نہیں، بلکہ ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف اور عوام پر مرکوز ٹھوس کچرے کے بندوبست کے لیئے نظام تیار کرنا ہے۔ یہ نیا نظام گھر گھر سے کچرا جمع کرنے کو زیادہ موثر، وقت کا پابند اور جواب دہ بنائے گا نیز صاف ستھری، صحت مند اور خوبصورت دہلی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پہلے میونسپل کارپوریشن کے پاس بر وقت وسائل اور جدید سامان کی کمی تھی۔ کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کی کمی، خستہ حال ڈھلاؤ (ڈمپنگ پوائنٹس) اور محدود مشینری کی وجہ سے صفائی کا نظام متاثر ہوتا تھا۔ اب ان کمیوں کو دور کرتے ہوئے جدید کمپیکٹر سے لیس ٹرانسفر اسٹیشن تیار کیے جا رہے ہیں، جو نہ صرف تکنیکی طور پر اہل ہیں بلکہ دیکھنے میں بھی جاذبِ نظر ہیں۔ یہ نظام صرف مغربی دہلی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ مرحلہ وار طریقے سے پوری دہلی میں نافذ کیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صاف ستھری، سبز اور ترقی یافتہ دہلی کی تعمیر صرف سرکاری کوششوں سے نہیں، بلکہ عوامی شراکت داری سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے شہریوں سے گھر گھر کچرا جمع کرنے کے نظام میں تعاون کرنے، گیلے اور سوکھے کچرے کو الگ الگ کرنے کو یقینی بنانے نیز اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور عوامی شراکت کے باہمی ربط سے دہلی ملک کے سب سے صاف ستھرے اور منظم دار الحکومت کے طور پر قائم ہوگی۔
دہلی کے شہری ترقیات کے وزیر آشیش سود نے کہا کہ مغربی دہلی میں ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن اینڈ سیکنڈری ٹرانسپورٹیشن منصوبہ صفائی کے نظام کو جدید بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کے ذریعہ گھر گھر سے وقت کا پابند کچرا جمع کرنے، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور شکایت کے ازالے کے بہتر نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت دار الحکومت میں صاف ستھرا، شفاف اور عوام پر مرکوز ٹھوس کچرے کے بندوبست کے لیئے نظام تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ جدید گاڑیوں، اسمارٹ مانیٹرنگ اور بہتر بنیادی ڈھانچے کے ذریعہ مغربی دہلی کے لاکھوں شہریوں کو صفائی کی بہتر سہولیات کا فائدہ ملے گا۔دہلی کے وزیرِ ماحولیات سردار منجندر سنگھ سرسا نے اس موقع پر کہا کہ دہلی حکومت نے یہ یقینی بنایا ہے کہ اب گھروں سے کچرا صرف ایک بار نہیں، بلکہ صبح اور شام، دن میں دو بار اٹھایا جائے گا۔ جدید کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں اور کارپوریشن کے جدید نظام کے ذریعہ دار الحکومت کو صاف ستھرا اور منظم بنانے کی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے لیے وہ میونسپل کارپوریشن کے تمام حکام، ملازمین اور ان کی پوری ٹیم کو دل سے مبارکباد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کبھی جن سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر اور گندگی عام منظر ہوا کرتا تھا، آج وہاں جدید کچرے کی دیکھ بھال کا نظام اور بہتر شہری سہولیات دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ تبدیلی اچھی حکمرانی، دور اندیش قيادت اور عوامی اعتماد کی علامت ہے۔ دہلی کے سب سے بڑے چیلنجوں میں شامل کچرے کے پہاڑوں کو ختم کرنے کا کام بھی غیرمعمولی رفتار سے چل رہا ہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

نوئیڈا کے 22 پرائیویٹ اسکولوںکی من مانی کرنے پرہوگی جرمانہ

Published

on

نوئیڈا:گوتم بدھ نگر ضلع انتظامیہ سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای سے منسلک اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے جا رہی ہے جو من مانی اور استحصالی ہیں۔ محکمہ جلد ہی 22 پرائیویٹ اسکولوں پر جرمانہ عائد کرے گا جو این سی ای آر ٹی کی کتابوں کا استعمال کرکے نہیں پڑھاتے ہیں اور من مانی کام کررہے ہیں۔انتظامیہ کے اس اقدام سے جہاں طلباء اور والدین کافی خوش ہیں وہیں اسکول انتظامیہ کافی پریشان ہے۔ سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای بورڈ کے اسکول این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے حوالے سے چھپ چھپا کر کھیل رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت اور انتظامیہ کو مسلسل شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔ حال ہی میں ضلعی انتظامیہ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ اسکول نجی پبلشرز کی مہنگی کتابیں استعمال کر رہے ہیں۔ اسکول کے منتظمین طالب علموں کو صرف نامزد کتاب فروشوں سے کتابیں خریدنے پر مجبور کر رہے ہیں، حالانکہ قومی تعلیمی پالیسی NCERT کتابوں کا استعمال کرتے ہوئے پڑھانے پر زور دیتی ہے۔ضلعی انتظامیہ بھی مسلسل اسکولوں کے منتظمین پر زور دے رہی ہے کہ وہ ان کتابوں کو استعمال کریں۔ اس کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ NCERT کی کتابیں سستی اور تعلیمی پالیسی کے نصاب کے مطابق ہیں۔ تاہم، ضلع کے زیادہ تر اسکول نجی پبلشرز سے کتابیں خریدنے پر اصرار کرتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ضلع میں 22 اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں حکومتی اور انتظامیہ کی ہدایات کو نظر انداز کیا جارہا تھا۔ ان میں کئی معروف اسکول بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ اسکول انسپکٹر چندر شیکھر نے بتایا کہ شناخت شدہ اسکولوں میں سے پانچ پر ہر ایک پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں، پانچ اسکولوں پر ہر ایک کو ایک لاکھ روپے کا جرمانہ کیا جائے گا۔باقی اسکولوں کو حلف نامہ جمع کرانے کی ضرورت ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ والدین کو پرائیویٹ پبلشرز سے کتابیں خریدنے پر مجبور نہیں کریں گے اور صرف NCERT کتابوں کا استعمال کرکے پڑھائیں گے۔ ان حلف ناموں کی وصولی پر انتباہی نوٹس جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دوبارہ پکڑے گئے تو ان کی شناخت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ 30 جولائی کو اسکول کے منتظمین کے ساتھ ایک میٹنگ طے شدہ ہے۔
نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے لے کر اب تک محکمہ ثانوی تعلیم کو ضلع میں پرائیویٹ سکولوں کی من مانی کے خلاف 45 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ حکام نے تمام سکولوں کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔ اس کے باوجود سکولوں کی من مانی جاری رہی۔ اب ضلع انتظامیہ نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں۔حکام کے مطابق پہلی بار قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ دوسری بار قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ تیسری بار قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنی شناخت یا الحاق کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network