Connect with us

بہار

اسمبلی انتخابات کے پیش نظر امن وامان کی بحالی کے لئے ضلع الیکشن آفیسر کی صدارت میں میٹنگ منعقد

Published

on

(پی این این)
ارریہ : الیکشن کمیشن آف انڈیا، نئی دہلی نے بہار اسمبلی کے عام انتخابات 2025 کا اعلان 6 اکتوبر 2025 کو ہوچکا ہے کہ پورے بہار میں دو مرحلے میں بہار اسمبلی انتخابات 6/ اور 11/ نومبر کو ہوں گے۔ بھارت کے الیکشن کمیشن، نئی دہلی کی طرف سے انتخابات کے اعلان کی تاریخ سے ماڈل ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا ہے۔ اس دوران مختلف سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی مہمات، جلسے جلوسوں اور جلسوں کا اہتمام کریں گے۔ سیاسی رقابت اور مسابقت کی وجہ سے، اسلحے اور طاقت کی نمائش اور امن و امان میں خلل ڈال کر ووٹروں کو متاثر کرنے/دھمکانے کا قوی امکان ہے۔ مزید برآں، ووٹروں کو ڈرانے اور دھمکانے اور ذات پات، فرقہ وارانہ اور مذہبی منافرت کے جذبات پھیلانے کے لیے ناپسندیدہ سماج دشمن عناصر کے ملوث ہونے کی وجہ سے امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے عوامی امن میں خلل پڑ سکتا ہے۔
مندرجہ بالا پس منظر میں، شری انیل کمار (آئی اے ایس)، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ارریہ کی طرف سے، 06.10.2025 سے انڈین سول سیکورٹی کوڈ کی دفعہ 163 کے تحت عطا کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، انتخابی عمل کے مکمل ہونے تک یا زیادہ سے زیادہ 60 دن کی مدت کے لیے (جو بھی پہلے ہو) پورے ضلع میں جاری کیا گیا ہے۔ 1. کوئی شخص/سیاسی جماعت یا تنظیم مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر سیاسی مقصد اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، دھرنے یا مظاہرے کا اہتمام نہیں کرے گی۔ اس حکم کا اطلاق پیشگی اجازت کے ساتھ جلسوں/جلوسوں، شادی بیاہ، شادی بیاہ، جنازے کے جلوسوں، میلوں، بازاروں، ہسپتال لے جانے والے مریضوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے والے طلباء اور ڈیوٹی پر تعینات سرکاری ملازمین/پولیس فورس پر نہیں ہوگا۔ 2. بہار کنٹرول آف دی یوز اینڈ پلے آف لاؤڈ اسپیکرز ایکٹ 1955 کے تحت رات 10:00 بجے سے صبح 6:00 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ 3. کوئی شخص، سیاسی جماعت، یا تنظیم کسی خاص شخص کے خلاف کوئی پوسٹر، پمفلٹ، مضمون، تصویر، یا دیگر قابل اعتراض پمفلٹ، مضمون، یا تصویر شائع نہیں کرے گا، جس سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ 4. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ) کا استعمال سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے یا کسی مذہب، شخص، رنگ، برادری یا ذات پر مبنی افواہیں پھیلانے کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔
5. کوئی بھی شخص کسی مذہبی مقام کو سیاسی پروپیگنڈے یا فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ 6. کوئی شخص/سیاسی جماعت/تنظیم ووٹرز کو ڈرانے، دھمکانے یا ترغیب دینے کی کوشش نہیں کرے گی۔ 7. آلودگی پھیلانے والے پروموشنل مواد کو سیاسی مہم کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ 8. کوئی بھی شخص عوامی طور پر آتشیں اسلحے، کمان اور تیر، لاٹھی، نیزہ، کلہاڑی، یا کوئی دوسرا ہتھیار جو انسانی جان کے لیے مہلک ہو ظاہر نہیں کرے گا۔ (a) یہ حکم روایتی طور پر ہتھیار لے جانے والی کمیونٹیز، امن و امان اور انتخابی فرائض میں مصروف مجسٹریٹ/ انتخابی عملہ، اور پولیس اہلکاروں پر لاگو نہیں ہوگا۔ (b) اس حکم میں اسلحہ لے جانے والے اسلحہ لائسنس ہولڈروں کے لیے نرمی کی جائے گی کہ وہ اپنے ہتھیاروں کا معائنہ کرائیں اور اپنے اسلحے کو مخصوص جگہ پر جمع کرائیں!10. کوئی بھی سیاسی جماعت/شخص/تنظیم ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ رہنما خطوط کے خلاف کچھ نہیں کرے گی۔

Bihar

بانکی پور میں بی جے پی کا قلعہ منہدم،نتن نوین کے مضبوط گڑھ میں بی جے پی کے نیرج کودی بری طرح سے شکست،پرشانت کشور کی این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے’اہل اور ایماندار‘ وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کی اپیل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اس نشست سے انتخابی حکمتِ عملی ساز اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی اس نشست پر بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو شکست دے دی۔
الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ کمیشن کے مطابق 32وں مرحلوں کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد پرشانت کشور کو 64,151 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی کے نیرج کمار کو 44,827 ووٹ ملے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری 14,273 ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن نوین کے مضبوط سیاسی گڑھ بانکی پور میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج سنہا کو بھاری فرق سے شکست دے دی۔ ووٹوں کی گنتی کے آغاز ہی سے پرشانت کشور مسلسل سبقت بنائے رکھے، جو آخر تک برقرار رہی۔واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں تقریباً 35 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔
اسی دوران، اپنی تاریخی کامیابی کے بعد پرشانت کشور کے ایک بیان پر بھی خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیر کے روز انہوں نے کہا کہ’’بانکی پور ایک رات میں بنگلورو نہیں بن سکتا، تاہم میری جیت کے بعد اس اسمبلی حلقے میں واضح اور مثبت تبدیلی ضرور نظر آئے گی۔‘‘وہیں پرشانت کشور نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے ایک “اہل، ایماندار اور ترقی پسند” شخص کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر کشور نے دعویٰ کیا کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج نے ریاست کی قیادت میں تبدیلی کے لیے عوام کی خواہش کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں جیت کی طرف بڑھتے ہوئے گنتی مرکز کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو 202 ایم ایل ایز کا مینڈیٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کی قیادت کسی ایسے شخص کے سپرد کرے جس کا عکس بے داغ ہو اور جو تعلیم، روزگار اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہجرت (مائگریشن) کو روک سکے۔
مسٹر کشور نے کہا کہ بہار کو ایک ایسے اچھے اور اہل وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے جو معیاری تعلیم فراہم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور بہاریوں کے وقار کو بحال کرے۔انہوں نے کسی متبادل لیڈر کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی مخالفت کسی فرد یا پارٹی سے نہیں بلکہ’’کمزور قیادت‘‘سے ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اگر ایسی ہی قیادت برقرار رہی تو بہار کی ترقی پر برا اثر پڑے گا۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات

Published

on

ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔

Continue Reading

Bihar

کربلا کی قربانی آج بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ: مولانا ناصر حسین

Published

on

بھاگلپور:شہادتِ کربلا کی عظیم یاد میں 19 چہلم کے موقع پر پیر کے روز میر امام بخش وقف اسٹیٹ، قصبہ گولاغاٹ نیا بازار واقع تاریخی امام باڑے میں عقیدت، احترام اور رنج و غم کے ماحول میں مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس میں شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ شہر کی مختلف انجمنوں نے درد بھری نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی بے مثال قربانی کو یاد کیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے عالی جناب مولانا ناصر حسین صاحب نے فرمایا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف، صبر اور حق کی حفاظت کا ایسا پیغام ہے جو قیامت تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے حوصلوں کو تقویت دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں اپنا سر تو قربان کر دیا، مگر ظلم و جبر کی علامت یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کی شہادت آج بھی سچائی، انصاف اور خودداری کی بلند ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

مجلس کے دوران امام باڑا ماتمی نوحوں، “یا حسینؑ” کی صداؤں اور اشک بار فضا سے گونج اٹھا۔ عزاداروں نے نم آنکھوں کے ساتھ امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی بتائی ہوئی سچائی، انصاف اور انسانیت کی راہ پر چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر امام باڑے کے متولی سید مہدی علی، سید امبر علی، سید محمد علی، جامین علی، نزاکت علی، دانش، اظہر، افروز، وکٹر، بابر، ارشد علی، اظہر سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network