Connect with us

بہار

بہاراسمبلی الیکشن :پہلے مرحلے کیلئےنامزدگی کا عمل شروع

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق بہار اسمبلی کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کا نوٹیفکیشن جمعہ کو جاری کیا گیا۔ضلع کے تمام 10 اسمبلی حلقوں کے ریٹرننگ افسروں نے فارم-1 میں نوٹس شائع کر دئے ہیں۔یہ بات ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کم ڈی ایم امن سمیر نے پریس کانفرنس میں بتائی۔
انہوں نے بتایا کہ چھ اسمبلی حلقوں کے لئے نامزدگی ضلع ہیڈکوارٹر پر قبول کئے جائیں گے۔جبکہ دو اسمبلی حلقوں کے لئے نامزدگی مڑھوڑہ اور دو سونپور سب ڈویژن میں داخل کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کلکٹریٹ کیمپس میں واقع ضلع پنچایت دفتر میں ایکما کے لیے پرچہ نامزدگی کے لیے ریٹرننگ آفیسر کا کمرہ قائم کیا گیا ہے۔مانجھی کے لیے ڈی سی ایل آر چھپرہ صدر دفتر میں،گڑکھا (ایس سی) کے لیے ڈی ایل اے او دفتر میں،ڈی آر ڈی اے دفتر کی پہلی منزل پر بنیا پور کے لیے،گراؤنڈ فلور پر امنور کے لیے،ایس ڈی ایم دفتر میں چھپرہ کے لیے آر او دفتر قائم کیا گیا ہے۔مڑھوڑہ سب ڈویژنل کیمپس کے ایس ڈی ایم دفتر میں مڑھوڑہ،ڈی سی ایل آر دفتر میں تریاں اور سونپور سب ڈویژنل کیمپس کے ایس ڈی ایم دفتر میں سونپور اور ڈی سی ایل آر دفتر میں پرسا اسمبلی حلقہ کے لیے پرچہ داخل کئے جا سکتے ہیں۔امیدواروں کو ان دفاتر سے ہی نامزدگی فارم کی کٹس موصول ہوں گی۔اس کے لیے امیدواروں کو ناظر رسید کٹوانی ہوگی۔جنرل زمرے کے امیدواروں کے لیے 10,000 اور SC/ST امیدواروں کے لیے 5,000 فیس مقرر ہے۔امیدواروں کی سہولت کے لیے آر او روم کے ساتھ ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں سے مطلوبہ معلومات حاصل ہو سکتے ہیں۔
ڈی ایم نے کہا کہ نامزدگی کا عمل مکمل طور پر منصفانہ،شفاف اور بروقت ہوگا۔اس مقصد کے لیے تمام آر اوز کو الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر کی سطح پر تربیت دی گئی ہے۔ان کی سطح پر بھی عملی پہلوؤں سے روشناس کرانے کے لیے گہرائی سے ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا گیا ہے۔مزید ضلعی سطح پر بنائے گئے سیل مدد یا رہنمائی فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ہر سطح پر سی سی ٹی وی کیمرے اور ویڈیو گرافی کو یقینی بنایا گیا ہے۔موصول ہونے والے کاغذات نامزدگی اسی دن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں گے اور آر او نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے جائیں گے۔ڈی ایم نے بتایا کہ نامزدگی کا عمل آج شروع ہوا۔آخری تاریخ 17 اکتوبر ہے۔تاہم کمیشن کی ہدایت کے مطابق، این آئی ایکٹ 1881 کے تحت چھٹیوں پر نامزدگی قبول نہیں کیے جاتے ہیں۔11 اور 12 اکتوبر کو سرکاری تعطیلات کی وجہ سے امیدواروں کے پاس صرف 13 سے 17 اکتوبر تک اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت ہوگا۔کاغذات نامزدگی صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک قبول کیے جائیں گے۔
پریس کانفرنس میں موجود ایس ایس پی ڈاکٹر کمار آشیش نے بتایا کہ انتظامیہ ضابطہ اخلاق کی سختی سے تعمیل کے لیے پابند عہد ہے۔اب تک ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔جب کہ ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے جس میں کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نقدی،شراب،منشیات،ہتھیاروں اور مجرموں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے حلقہ وار 39 FSTs اور 30 ​​SSTs کو فعال کیا گیا ہے۔کل 10 بین ریاستی اور بین الاضلاعی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔جن میں ٹنہ،ویشالی،آرا،سیوان،گوپال گنج اور مظفر پور کی سرحدیں اور اتر پردیش میں بلیا کی سرحد کے ساتھ شامل ہیں۔جرائم پیشہ افراد کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔اس میں گرفتاری،بانڈ ڈاؤن،سی سی اے وغیرہ شامل ہیں۔ووٹروں کے حوصلے کو بڑھانے کے لیے نیم فوجی دستے مسلسل علاقے میں مارچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ امیدواروں اور تجویز کنندگان کو یہ چیک کرنا چاہئے کہ ان کے خلاف کوئی زیر التوا پولیس کیس تو نہیں ہے۔بصورت دیگر انہیں نامزدگی مرکز سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔پریس کانفرنس میں ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال،ڈسٹرکٹ پبلک ریلیشن آفیسر رویندر کمار وغیرہ موجود تھے۔

Bihar

بہار کونہیں بننے دیا جائے گا پولیس کی حکمرانی والی ریاست ،تیجسوی یادو کریں گے مارچ، طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی ہورہی ہے سازش،ریاست میں شراب بندی ختم کرنے کی سفارش پر سیاسی جنگ، جنتادل یونائیٹڈ این سی اے ای آر کوبھیجے گی قانونی نوٹس

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں شراب بندی قانون پر نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی مطالعاتی رپورٹ کے بعد سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کونسل نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں شراب بندی قانون کو دس سال بعد بھی ناکام قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس پر جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے این سی اے ای آر کو قانونی نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر و چیف ریاستی ترجمان نیرج کمار اور ریاستی ترجمان پوجا پیٹرک نے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے نجی ادارے این سی اے ای آر کی جانب سے کرائے گئے سروے پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے مفادات اور کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دونوں رہنما جمعرات کو جے ڈی یو دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ادارے کے عہدیداروں یا ارکان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے مالیاتی اداروں سے تعلقات ہوں، جو شراب کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو بینکاری سہولیات فراہم کرتے ہوں، تو ایسے ادارے کی جانب سے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے کیے گئے سروے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروے کرانے والے نجی ادارے این سی اے ای آر کی گورننگ باڈی میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک ایس پاریخ شامل ہیں، جن کے بارے میں جے ڈی یو رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرمایہ کاری شراب بنانے والی کمپنی میں ہے۔ وہیں سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو پوری بھی اس ادارے کے بورڈ ممبر ہیں۔جے ڈی یو رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تحقیق شراب کمپنیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب بندی ختم کرکے بہار کی خواتین کو دوبارہ پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جے ڈی یو خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیرج کمار نے کہا کہ نتیش کمار نے خواتین کے مطالبے پر بہار کی اصلاح اور سماجی بہتری کے لیے شراب بندی کا قانون نافذ کیا تھا۔

Continue Reading

Bihar

اردو اسکولوں اور مدارس کیلئے جمعرات کونصف دن کی چھٹی کی دی جائے منظوری:مفتی سعید الرحمٰن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈو مغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ محکمۂ تعلیم بہار نے سرکاری اسکولوں کے لئے سنیچر کے نصف دن کی چھٹی کی منظوری کانوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس سے اسکولوں کے اساتذہ کو راحت ملی ہے اور قدیم روایت کی پاسداری بھی ہوئی ہے۔
تاہم اردو اسکولس اور مدارس جہاں ہمیشہ سے جمعہ کو مکمل دن کی سرکاری چھٹی کا معمول جاری ہے ایسے اسکولوں اور مدارس کے لئے نوٹیفیکیشن میں جمعرات کے آدھے دن کی چھٹی کی کوئی صراحت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ میں بے حد بے چینی پائی جارہی ہے ،یہ بات اصولی ہے کہ اگر اتوار کی رعایت کرتے ہوئے سنیچر کو نصف دن کی چھٹی کا منظوری نامہ جاری ہوا ہے تو جمعہ کی چھٹی کی رعایت کرتے ہوئے جمعرات کو بھی نصف دن کی چھٹی منظور کی جائے اور اس کے لئے واضح منظوری نامہ جاری ہو،ایسا نہیں کرنے کی صورت میں اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کواس رعایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور خواہ مخواہ سنیچر کو آدھے دن چھٹی کرنے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں خلل بھی واقع ہوگا۔
اس لئے جناب ناظم صاحب نے اپنے اس پریس ریلیز کے ذریعہ محترم وزیر تعلیم حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اورجلد از جلد متعلقہ محکمہ کی طرف سے اردو اسکولوں اور مدارس کے لئے جمعرات کے نصف دن کی چھٹی کا واضح منظوری نامہ جاری کیا جائے ؛تاکہ سابقہ روایت کی پاسداری بھی ہواور ان اداروں کے اساتذہ کو مساوی فائدہ بھی حاصل ہو سکے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network