تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
انٹر نیشنل

آبنائے ہرمز میں گجرات کا ایک اور جہاز غرقاب،عمان کے ساحل پر بڑا حادثہ،کوسٹ گارڈ نے بچائے 14 کروممبرس

تہران۔ایران جنگ کے درمیان آبنائے ہرمز میں گجرات کا ایک اور مال بردار بحری جہاز غرقاب ہوگیا ہے۔اس سے قبل 7 مئی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے گجرات کے ایک اور مال بردار جہاز ایم ایس وی اے ایل فیض نورسلیمانی بھی امریکہ ایران ٹکراوکے دوران فائرنگ کا شکار ہوگیا تھا اور اسے شدید نقصان پہنچا تھا۔
حاجی علی نام کے اس مال بردار جہاز 13مئی کی صبح بحری خطے سے گزر رہا تھا، تبھی ا س پر کوئی ڈرون یا میزائل آگرا اور وہ غرقاب ہونے لگا۔ حادثے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی ۔
فوری طور پر عمان کے کوسٹ گارڈن نے گجرات جہاز کے 14 ممبران کو بچا لیا۔ گجرات کے دوارکا کے رہنے والے جہاز مالک سلطان احمد انصار کے مطابق ایم ایس وی حاجی علی جہاز بیراپورٹ سے شارجہ جارہا تھا۔ صبح تقریبا 3 بج کر 30 منٹ پر عمان کے ساحلی علاقے میں جہاز حادثے کا شکار ہوگیا۔
کروممبرس نے بتایا کہ جہاز پر کسی میزائل یا ڈرون جیسے ٹکر کی آواز سنائی دی۔ جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ حالات کو بگڑتے دیکھ کر تمام 14 کرو ممبرس لائیوبوٹ کی مدد سے جہاز کو چھوڑ دیا۔ یہ میزائل یا ڈرون کس نے بھیجا اس پر کو ئی تصدیق نہیں ہوئی۔ عام طور پر ایران پر شبہ کیا جارہا ہے۔ کیونکہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر پابندی ہے۔
ادھر ایران بڑی تیز ی سے تعمیراتی کام شروع کرچکا ہے۔ راجدھانی تہران میں 80 فیصد تباہ علاقوں میں مرمت کا کام پورا ہوگیا ہے۔ غورطلب ہے کہ جنگ میں 60 ہزار سے زائد رہائشی عمارتیں متاثر ہوئی تھیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔