تازہ ترین
ضلع انتظامیہ کا صدر اسپتال کے باہر کھڑی نجی ایمبولینسوں پر چھاپہ، ڈی ایم ارریہ کی ہدایت پر کی گئی کارروائی، قانونی دائرے کے تحت تھانہ بھجوائی گئیں2 ایمبولینسسیتامڑھی:معمولی رقم کے تنازعہ میں معذور شخص کا پیٹ پیٹ کرقتل، گاؤں میں ہرطرف سنسنی، ملزم کے گھر کے سامنے لاش رکھ کر مشتعل گاؤں والوں نے کیا سڑک جام، ایف ایس ایل ٹیم نے شواہد جمع کیے، ایک خاتون زیر حراستمیرٹھ کے ’سدبھاؤنا سمیلن‘ میں امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی طبقوں کی سرکردہ شخصیات کی شرکت، چھ ماہ میں 200 نکڑ میٹنگیں منعقد کرنے کا فیصلہسیدالبشر چریٹیبل ٹرسٹ کے زیراہتمام نعتیہ مشاعرہ پروگرام کا انعقاد، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ’’ مولانا محمد علی جوہری ایوارڈ‘‘ سےسرفرازحیاتیاتی تنوع کا تحفظ پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر: پروفیسر سوچت سوروپ، لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس میں ایک تربیتی پروگرام کا انعقادبدلتے وقت کا وہ بھی کمال دیکھے گاالیکشن کمیشن کی کاکردگی کی جانچ کیلئے نئی عرضی داخل،کسی ریاست کے سابق چیف جسٹس یا جج کی قیادت میں کمیٹی بنانے کا سپریم کورٹ سےمطالبہضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایات
بہار

وقف جائیدادیں ہمارا قیمتی اثاثہ :مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

(پی این این)
شیوہر : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء و دیگر مسلم تنظیموں کی تجویز پر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی صدارت میں “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” گاندھی میدان پٹنہ منعقدہ 29 جون 2025 کو کامیاب بنانے کے لیے زیر صدارت حاجی محمد عبدالرحمن ، مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد کی گئی۔ جناب قاری وکیل احمد کی تلاوت اور حافظ جلال الدین کی نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے مجلس کا آغاز ہوا ۔جس میں مختلف سماجی، تعلیمی، ملی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں، دانشوروں، کارکنان اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔میٹنگ میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد، وقت و مقام، تشہیری مہم، شرکاء کی رہنمائی، نظم و نسق، اور میڈیا کوریج جیسے امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وقف املاک کے تحفظ اور دستور کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی بیداری نہایت ضروری ہے۔میٹنگ میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے شہرہ آفاق عالم دین نامور ادیب مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے کہا کہ وقف جائیدادیں مسلمانوں کا قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں نہ صرف قانونی بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی محفوظ رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کی بے اعتنائی اور بعض اداروں کی جانبدارانہ کارروائیوں کے سبب وقف ادارے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایک منظم عوامی تحریک ہی ان کے تحفظ کی ضامن بن سکتی ہے۔ معروف علمی شخصیت الحاج ڈاکٹر محمد شمس الحسن سکریٹری مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری ضلع شیوہر نے کہا کہ دستورِ ہند تمام شہریوں کو مذہبی، تعلیمی اور سماجی آزادی کا حق دیتا ہے، لیکن آج دستور کی روح کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” کا مقصد نہ صرف ان مسائل کو اجاگر کرنا ہے، بلکہ عوامی بیداری کے ذریعے ان کے حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جناب محمد فخر الحسن صدر تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیوہر نے کہا کہ وقف اسلام کا اہم ترین حصہ ہے ، اسکی حفاظت کی ذمہ داری ہمارا دینی فریضہ ہے ۔
معروف عالم دین مفتی محمد فخر الدّین قاسمی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر نے کہا کہ وقف جائیدادوں پر حملے اور دستور مخالف اقدامات تشویشناک ہیں ۔ ایسے حالات میں وقف بچاؤ دستور بچاؤ جیسی تحاریک کا منظم اور متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
میٹنگ میں شیوہر ضلع کی سبھی بلاک کی کمیٹیوں کی تشکیل کا بھی اعلان کیا گیا ۔ان کمیٹیوں کے ارکان کو ان کی ذمہ داریاں سونپی گئیں تاکہ وقف بچاؤدستوربچاؤکانفرنس کے ہر پہلو کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔میٹنگ کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں تمام ملی و سماجی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ کانفرنس کی بھرپور حمایت کریں اور عوام الناس کو اس میں شمولیت کے لیے متحرک کریں۔ شرکاء میں ،حاجی محمد عمر ، حاجی محمد عتیق الرحمن ، حافظ محمد نصر اللہ ، مولانا جمال الدین ،مولانا محمد شاہ عالم ، مولانا محمد شبیر الحسن ، ماسٹر محمد رضاء اللہ ، قاری محمد شمشاد عالم ، محمد کلیم اللہ ،مولانا محمد نوشاد ، محمد مختارعالم ،محمد انعام الحق ،محمد شمس عالم ،حافظ محمد فیض اللہ حافظ نظام الدین ، حمد اللہ ، پرویز عالم محمد سہیل ، شجاع اللہ ،محمد اسرافیل، وغیرہ بطور خاص شامل رہے۔
میٹنگ میں شریک افراد نے عہد کیا کہ وہ اس مہم کو صرف کانفرنس تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اس پیغام کو بستی بستی اور گاؤں گاؤں تک پہنچائیں گے، تاکہ دستور اور وقف املاک کے تحفظ کی یہ آواز ایک ملک گیر تحریک بن جائے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔