تازہ ترین
ویشالی میں 16 ماہ کے دوران 444 سڑک حادثات، 464 افراد کی موتایس بی آئی کی خاتون افسر نے 7.96 کروڑ روپے کاکیا غبن، ای ڈی اور سی بی آئی کی تحقیقات میں بڑے انکشافات،سخت سزادینے کامطالبہبہار میں گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کو منظوری، 12 ہزار افراد کو ملے گا روزگار، حکومت نے 1040 کروڑ روپے کئے فراہمیوپی میں سابق اگنی ویروں کو امتحان میں دی گئی چھوٹ، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں بھرتی سے متعلق ضابطوں میں ترمیم کی تجویز کودی گئی منظوریعوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں اپنی ذمہ داری اداکرے حکومتدیوبند فلائی اوور پراندہناک حادثہ،4افراد کی موت، ایک درجن سے زائد افراد شدید زخمیلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائیجنترمنتر نہیں پہنچ پائے مظاہرین،4ہزار سے زائد افراد حراست میں
Bihar

وطن سے بنتی ہےقوم ، مذہب سے نہیں: مولانا اسجد مدنی, جمعیۃ علماء ہند (الف) کے زیرِ اہتمام ارریہ میں قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد، تمام مذاہب کے رہنماؤں کا محبت، بھائی چارے اور رواداری کا مشترکہ پیغام

(پی این این)
ارریہ:جمعیۃ علماء ہند (الف) کے زیرِ اہتمام اتوار کی شب دارالعلوم رحمانی، زیرو مائل، ارریہ میں ایک عظیم الشان قومی یکجہتی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب کے مذہبی و سماجی رہنماؤں، علماء کرام، دانشوروں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد ملک میں امن، بھائی چارے، مذہبی رواداری اور باہمی محبت کے فروغ کا پیغام عام کرنا تھا۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی نائب صدر مولانا اسجد مدنی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ دہلی، تمل ناڈو سمیت ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے ممتاز علمائے کرام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اپنے پراثر خطاب میں مولانا اسجد مدنی نے کہا کہ “قوم وطن سے بنتی ہے، مذہب سے نہیں۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا خوبصورت گلدستہ ہے، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ذات، مذہب اور مسلک سے بالاتر ہو کر ملک میں امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو دوسرے کے مذہب، عقیدے اور جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو تکلیف پہنچے۔ اسلام سمیت تمام مذاہب انسانیت، محبت اور خدمتِ خلق کا درس دیتے ہیں۔
مولانا مدنی نے حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص کی ایذا رسانی سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو، وہ جنت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بلا تفریقِ مذہب و ملت غریبوں، محتاجوں اور بے سہارا افراد کی مدد کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ آج کے نفرت انگیز ماحول میں وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ کانفرنس سے جمعیۃ علماء ہند ضلع ارریہ کے صدر مفتی نسیم الدین قاسمی، سیکریٹری ماسٹر رئیس، مفتی علیم الدین قاسمی، راجندر شرما، مفتی عبد الوارث قاسمی، مفتی انعام الباری قاسمی، محمد محسن، شیام لال یادو ایڈووکیٹ، ماسٹر ارشد انور الف، فیض احمد قادری، مفتی ذاکر سمیت متعدد علماء، دانشوروں اور سماجی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور سماجی استحکام کے لیے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر قومی یکجہتی، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کریں تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور ہم آہنگی کو فروغ مل سکے۔ کانفرنس کے اختتام پر ملک و ملت میں امن، خوشحالی اور اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر عوام کی بڑی تعداد موجود تھی اور شرکاء نے اس کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کے انعقاد کو قابلِ ستائش اقدام بتایا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔