Bihar
معاشرہ اسی وقت ترقی کرے گا جب ہمارے بچے ہوں گےتعلیم یافتہ :زماں خان
(پی این این)
حاجی پور؍پٹنہ:ادریسیہ درزی فیڈریشن کے زیرِ اہتمام پٹنہ شہر واقع بہار انڈسٹریل ایسوسی ایشن (BIA) بھون کے وسیع ہال میں پہلی بار بھارت کی دو عظیم شخصیات، پرم ویر چکر یافتہ امر شہید ویر عبدالحمید اور عظیم مجاہدِ آزادی، سماجی مصلح اور پسماندہ سماج کے ممتاز رہنما مرحوم عبدالقیوم انصاری کی یومِ پیدائش کے موقع پر ایک شاندار جشنِ ولادت، تقریبِ اعزاز اور سماجی و فکری نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔
تقریب کی صدارت ادریسیہ درزی فیڈریشن کے بانی و قومی صدر علی امام بھارتی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض فیڈریشن کے ریاستی صدر جناب راجو وارثی نے انجام دیے۔ تقریب میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین جناب سلیم پرویز نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ بہار حکومت کے وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود جناب زماں خان نے شمع روشن کر تقریب کا افتتاح کیا۔ بعد ازاں انہوں نے دیگر مہمانان کے ساتھ دونوں عظیم شخصیات کی تصاویر پر گلپوشی کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر زماں خان نے کہا کہ آج ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم ملک کی دو عظیم شخصیات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں عظیم رہنماؤں کی قربانیوں اور خدمات کو نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرہ اسی وقت ترقی کرے گا جب ہمارے بچے تعلیم یافتہ ہوں گے۔ انہوں نے عوام سے آپسی بھائی چارہ، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور حکومت کی فلاحی اسکیموں کو گاؤں گاؤں تک پہنچانے کی اپیل کی۔وزیر نے کہا کہ بہار حکومت اقلیتوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے متعدد فلاحی منصوبے چلا رہی ہے، جن کا فائدہ آخری فرد تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ویر عبدالحمید بھون کی تعمیر کے لیے زمین کی تلاش جاری ہے اور جیسے ہی مناسب زمین دستیاب ہوگی، اس کی تعمیر کا کام بلا تاخیر شروع کر دیا جائے گا۔
مہمانِ خصوصی سلیم پرویز نے کہا کہ ہم سب ویر عبدالحمید اور مرحوم عبدالقیوم انصاری کے احسان مند ہیں۔ انہوں نے دونوں عظیم شخصیات کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے سماج سے تعلیم، اتحاد اور باہمی اخوت کو فروغ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ نئی نسل کو بہتر تعلیم اور اعلیٰ اخلاق سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ادریسیہ درزی فیڈریشن کے بانی و قومی صدر علی امام بھارتی نے کہا کہ ایک عظیم شخصیت کپڑا بنانے والے گھرانے سے اور دوسری کپڑا سینے والے خاندان سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ قومی پرچم کو بھی ایک درزی ہی سیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد بھی درزی، دھنیا اور رنگریز سماج کو اس کا جائز حق نہیں مل سکا۔ حکومت کی کئی فلاحی اسکیمیں آج بھی سرکاری دفاتر میں فائلوں تک محدود ہیں۔ انہوں نے وزیر سے مطالبہ کیا کہ درزی آرٹیزن وکاس سمیتی، دھنیا-درزی-رنگریز کوآپریٹو سوسائٹی سمیت تمام زیرِ التوا منصوبوں کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے۔
تقریب میں متفقہ طور پر درزی آرٹیزن وکاس سمیتی، دھنیا-درزی-رنگریز کوآپریٹو سوسائٹی، درزی کلیان بورڈ، بند پڑی بنکر کوآپریٹو سوسائٹیوں کی بحالی، 2014 میں قائم بنکر و دستکار کمیشن کو فعال بنانے اور ویر عبدالحمید بھون کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔راجاپاکر کے رکن اسمبلی مہندر رام نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین نے دلت اور اقلیتی طبقات کو مساوی حقوق دیے ہیں، اس لیے تعلیم اور تنظیم کے ذریعے سماج کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔اس موقع پر حاضرین نے “ویر عبدالحمید امر رہیں” اور “عبدالقیوم انصاری امر رہیں” کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔ پروگرام کے دوران فیڈریشن کے ریاستی صدر راجو وارثی نے وزیر زماں خان کو ویر عبدالحمید بھون کی تعمیر کے وعدے کی یاد دہانی کرائی۔
فیڈریشن کے تنظیمی سیکریٹری محمد جمشید عالم عرف پیارے نے ویر عبدالحمید کے نام پر یونیورسٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ صوبائی سیکریٹری پرویز عالم اور سفر عالم نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی وردی کی سلائی کا کام جیویکا کے بجائے درزی آرٹیزن وکاس سمیتی کے ذریعے درزی برادری کو دیا جائے۔ وہیں پروگرام میں مہمان اعزازی کی حیثیت سے ایم ایل سی سنجے سنگھ گاندھی نے شرکت کی۔
تقریب میں یاسمین انصاری، ہمایوں انصاری، رئیس غزنوی، انیس الرحمن، محمد رجن، انصار الحق، لیاقت منصوری، جمشید عالم (پیارے)، غلام غوث، ایم جسیم الحق، امتیاز انصاری، نظام الدین انصاری، مولانا اظہار اشرف، ارشد فیروز، رنکو یادو، جاوید عالم، محبوب عالم، اقبال عالم انصاری، بٹو کمار چندرونشی، جمشید عالم (جنداہا) سمیت متعدد مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام کی کامیابی میں سفر عالم، غلام مصطفیٰ، محمد پرویز، محمد مشتاق احمد اور محمد آصف عطا، کوکو بھائی پٹنہ سمیت کئی افراد نے مہمانوں کے استقبال اور انتظامات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شدید گرمی کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرکے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
Bihar
محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر روک کیلئے منوج کمار جھا کا وزیر اعظم کو خط
مظفرپور:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے رام پور، اتر پردیش میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مجوزہ انہدامی کارروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اتر پردیش حکومت کو فوری ہدایت دیں کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کو معطل کیا جائے اور معاملے کا قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق حل نکالا جائے۔پروفیسر منوج کمار جھا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک فعال تعلیمی ادارہ ہے جہاں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ تعمیراتی یا انتظامی بے ضابطگی کو ریگولرائزیشن، جرمانے، نظرِ ثانی شدہ منظوری یا دیگر قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے، مگر ایک پوری یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنا نہ تو معقول اقدام ہے اور نہ ہی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر من مانی اور انتقامی انہدامی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور مناسب قانونی عمل، تناسب اور ریاستی احتساب کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تعلیمی ادارے کی تقریباً تمام عمارتوں کو منہدم کرنا انصاف اور آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔اپنے خط میں پروفیسر جھا نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ کارروائی سیاسی انتقام اور فرقہ وارانہ امتیاز کا تاثر پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کے خلاف کی جا رہی ہے جسے اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنما(اعظم خان)نے قائم کیا تھا اور جو بالخصوص مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس انہدامی کارروائی کو عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر ملک کی جمہوری، آئینی اور تعلیمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ کلاس رومز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو ملبے میں تبدیل کرنے کی تصاویر پوری دنیا میں جائیں گی، جو ہندوستان کے تعلیم، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کریں گی۔
پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو انہدامی کارروائی روکنے، یونیورسٹی کو محفوظ رکھنے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی تعلیمی ادارے اور اس میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو اس کے بانی کی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔
Bihar
دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف آئیسا کا احتجاجی مارچ
چھپرہ :طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے دہلی کے جنتر منتر پر سونم وانگچنگ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا کے خلاف مبینہ پولیس بدسلوکی اور کارروائی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔یہ مارچ نگر پالیکا چوک سے شروع ہو کر تھانہ چوک پر ختم ہوا۔جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ پرامن اور جمہوری طریقے سے طلبہ کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ،نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کی طلبہ برادری جمہوری طریقے سے مخالفت کرے گی۔مارچ کے دوران مظاہرین نے پولیس کے جبر کے خلاف نعرے لگائے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔مقررین نے کہا کہ جابرانہ پالیسیوں کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی۔احتجاجی مارچ میں رانی،ریا،راج لکشمی،سنجنا،کالی داس،اکھلیش،روشن، بٹو ،نیرج،پریانشو،شیوم،پردیپ سمیت متعدد کارکن و طلبا نے شرکت کی۔
Bihar
نالندہ کالج میںگریجویٹ طلبہ کے لیے’دیکشا آرمبھ سماروہ ‘ کا انعقاد
بہار شریف:نالندہ کالج، بہار شریف کے کیمپس میں آج گریجویٹ کے نئے سیشن کے نومرتبہ شدہ طالبعلموں کے لیے ایک شاندار دیکشا آرمبھ سماروہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا اور سینئر اساتذہ پروفیسر کچوے، ڈاکٹر شیام سندر پرساد اور ڈاکٹر منجو کماری کے ذریعے مشترکہ طور پر روایتی دیپ پرجولن کر کے کیا گیا۔ اس پورے سماروہ کی نظامت معاشیات شعبے کے شعبہ صدر ڈاکٹر سَروَدامن کشیپ نے نہایت مہارت، توانائی اور دلچسپ انداز میں کی، جنہوں نے درمیان میں تحریکی خیالات سے طلبہ میں نیا جوش بھرا۔
سماروہ کی صدارت کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا نے نئے طلبہ کا کالج خاندان میں خیرمقدم کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ نالندہ کی سرزمین قدیم زمانے سے ہی علم اور علم والوں کی سرزمین رہی ہے۔ آج کے نوجوان اس شاندار ورثے کے امیدار ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو باقاعدگی سے کلاسوں میں حاضر رہنے، نظم و ضبط پر عمل کرنے اور صرف ڈگری حاصل کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کی جامع ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے متاثر کیا۔
پروگرام کے دوران طلبہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کئی سینئر ماہرینِ تعلیم نے بطور موٹیویشنل اسپیکر اپنے خیالات پیش کیے۔ پروفیسر آر. پی. کچوے نے طلبہ کو وقت کا انتظام اور سخت محنت کی اہمیت سمجھائی۔ ڈاکٹر شیام سندر پرساد نے زندگی میں مثبت نقطہ نظر اور اونچے اہداف طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ ڈاکٹر منجو کماری نے طالبات کو خود کفیل بننے اور زندگی کی ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے متاثر کیا۔
نئے طلبہ کو کالج کے نظام سے آشنا کرانے کے لیے ڈاکٹر سمیت کمار اور جتیندر سنہا کے ذریعے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ انہوں نے طلبہ کو کالج کے سخت قواعد، چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم نصاب، امتحانی نظام، لائبریری کی سہولیات کے ساتھ ساتھ، این ایس ایس اور کھیل کود جیسی نصابی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں ڈاکٹر شاہد الرحمان نے شکریہ کا کلمہ پیش کیا، جس میں انہوں نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے پرنسپل، مہمانوں، انعقاد کمیٹی اور طلبہ کا احسان مندی کا اظہار کیا۔
اس دیکشا آرمبھ سماروہ میں کالج کے تمام شعبوں کے شعبہ صدر، تمام تعلیمی عملہ اور غیر تعلیمی عملہ موجود رہے۔ پروگرام کے اختتام کے بعد تمام نومرتبہ شدہ طلبہ کو ان کے متعلقہ شعبوں میں بھیجا گیا، جہاں اساتذہ نے ان سے براہ راست مکالمہ کیا۔
ڈاکٹر کماری چمپا، ڈاکٹر بھاونا، ڈاکٹر اوپین منڈل، ڈاکٹر شردھا کماری، ڈاکٹر وجے کمار، ڈاکٹر مرتیونجے، ڈاکٹر ششاک شیکھر جھا، ڈاکٹر علی، ڈاکٹر راج دیو، ڈاکٹر ششی بھوشن، ڈاکٹر سنتوش، ڈاکٹر غازی، ڈاکٹر سندھو کماری سمیت دیگر اساتذہ اور عملہ موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
