Connect with us

uttar pradesh

مدارس کی کاغذی کارروائی حکومتی گائیڈ لائن کے مطابق کریں مکمل،جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ میںمنعقد رابطہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میںمولانا عاقل کا خطاب

Published

on

(پی این این)
دیوبند:آج رابطہ مدارسِ اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ ضلع سہارنپور کی عاملہ کا ایک اہم اجلاس جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ میں زیر صدارت مولانا جمشید علی قاسمی منعقد ہوا، جس کا آغاز محمد علی کی تلاوت اور محمد شائق کی نعت پاک سے ہوا۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند مغربی یو پی زون نمبر تین کے صدر اور دارالعلوم کے رکن شوری مولانا محمد عاقل قاسمی مہتمم جامعہ بدر العلوم گڈھی دولت نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کو تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے،انتظامی امور میں شفافیت برتنے اور سرکاری گائیڈ لائن کے مطابق کاغذی کاروائی مکمل کرنے کی تاکید کی۔
اس موقع پر عاملہ کی میعاد مکمل ہونے پر نئے ٹرم کیلئے 21ارکان عاملہ اور 5مدعوئین خصوصی پر مشتمل 26رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ، جس میں بالاتفاق مولانا جمشید علی قاسمی کو صدر مولانا محمد اطہر حقانی کو ناظم عمومی، الحاج قاری سعید احمد تڑفوی اور مولانا محمد صادق قاسمی کو نائب صدر ، مولانا محمد حبیب اللہ قاسمی کو خازن مولانا محمد مستقیم رشیدی اور مفتی عطاء الرحمان جمیل قاسمی کو سکریٹری طے کیا گیا۔اجلاس کی کاروائی رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند شاخ ضلع سہارن پور کے ناظم عمومی مولانا محمد اطہر حقانی نے چلائی۔
انہوں نے ایجنڈے کے مطابق ضلعی و صوبائی عاملہ کے سابقہ اجلاس کی رپورٹ بھی ارکان عاملہ کے سامنے پیش کی۔ مولانا محمد اطہر حقانی ندوی نے نئے ٹرم کے لیے منتخب ہونے والے تمام عہدہ داران و ارکان عاملہ کی طرف سے مرکزی ذمہ داران کو نظام کو وسیع و مفید بنانے کے لئے مسلسل جدو جہد کرنے حسب دستور محنت کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔رابطہ کے تحت منعقد ہونے والے سالانہ مشترکہ امتحانات اور رابطہ کے دیگر مقامی انتظامی امور میں مزید بہتری لانے اور کام کو سہل و مؤثر بنانے کے لیے بلاک سطح پر ہر بلاک کیلئے ایک رکن عملہ کو ذمہ دارینامزد کیا گیا ۔سابقہ کارکردگی سے متعلق ارکان عاملہ کے سوالات پر زون کے صدر مولانا محمد عاقل قاسمی نے جواب دیئے۔نو منتخب عہدیداران اور ارکان عاملہ نے آئندہ ماہ منعقد ہونے والے عمومی اجلاس کیلئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ضلع کی سطح پر جامعہ ہدی للعالمین ہلال پور میں درجات حفظ اور درجات عربی کیلئے تدریب المعلمین کے انعقاد کی تجویز بھی اتفاق رائے سے منظور کی گئی،عاملہ کے آئندہ اجلاس کیلئے جامعہ قاسم العلوم گاگلہیڑی کو تجویز کیا گیا۔
شرکت کرنے والوں میں مولانا محمد عرفان قاسمی ،مفتی وزیر اکرم سنسار پوری ،مولانا محمد طاہر قاسمی، قاری محمد اسحاق فلاحی ، مفتی محمد اسجد قاسمی ، مولانا محمدمشرف رشیدی ، مولانا عبد الرحمان قاسمی مولانا محمد دلبہار قاسمی ،مولانا محمد نادر مظاہری ،مولانا محمد مشتاق قاسمی ، مولانا محمد مستقیم رشیدی ، مولانا محمد گلفام مظاہری ، مولانا عبدالخالق مغیثی،مولانا شمشیر الحسینی مولانا عبداللہ ندوی، مولانا محمد مسرور حیدر ندوی ، قاری محمد ایوب قاسمی ، حافظ محمد ساجد ، مولانا شمشاد مظاہری کے نام قابل ذکر ہیں۔

uttar pradesh

معروف فکشن نگار پریم چندکی یوم پیدا ئش کے موقع پریک روزہ قومی پریم چند سیمینار و ڈرامہ30 جولائی کو

Published

on

میرٹھ:چودھری چر ن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ کے اٹل سبھا گار میں معروف فکشن نگار منشی پریم چند کی یوم پیدا ئش اور معروف رنگ کرمی آنجہانی سریندر شرماکی یاد میں 30/ جولائی 2026ء کو چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے اٹل سبھا گار میں شعبہئ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی، وی کمٹ سوسائٹی اور میرٹھ آرٹسٹ ایسو سی ایشن کے اشتراک سے یک روزہ قومی پرم چند سیمینار اور مزاحیہ ڈرا مہ”گورکھ دھندا“ کا انعقاد کیا جائے گا۔
یہ معلو مات معروف ادیب و ناقد اور میرٹھ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے پریم چند سیمینار ہال میں پریس کانفرنس کے دوران فراہم کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ منشی پریم چند کی یوم پیدا ئش کے مو قع پر یک روزہ قو می پریم چند سیمینار کا انعقاد30/ جولائی کو شام چار بجے کیا جائے گا جس میں اسکالرز منشی پریم چند کی اردو اور ہندی خدمات پر اپنے مقالات اور اظہار خیال فر مائیں گے بعد ازاں شام چھ بجے سے مزا حیہ ڈرا مہ”گورکھ دھندا“ اسٹیج کیا جائے گا۔ ڈارمہ کی ہدایت کاری سینئر رنگ کرمی انل شرما کے ذریعے کی جائے گی، ڈرا مے کو تحریر کیا ہے جے وردھن نے،لائٹ اور موسیقی جتیندر سی راج کے ذریعے کی جائے گی۔اس موقع پر سابق ممبر آ ف پارلیامنٹ راجندر اگر وال مہمان خصوصی کی حیثیت سے شر کت فرمائیں گے۔
ڈرامے کے کنوینر ونود کمار بے چین نے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کی پوری تیاری کی جاچکی ہے اور اس انعقاد میں ڈرامہ تحریر کرنے والے جے وردھن اور فلم اور ٹی وی ڈائریکٹر نیرج شر ما خاص طور پر شرکت فرمائیں گے۔میرٹھ آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر انل شر ما نے بتایا کہ اس مو قع پر سینئر رنگ کرمی آنجہانی سریندر شرما جی کو بعد از مرگ اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اس مو قع کے لیے خاص طور سے ان کے اہل خانہ کو پروگرام میں مدعو کیا گیا ہے۔
دیگر مہمانان میں سابق وزیر پربھو دیال بالمیکی، انجینئر ذاکر حسین خصوصی طور پر پروگرام میں شرکت فرمائیں گے۔
پریس کانفرنس میں وی کمٹ سوسائٹی کے صدر اتل سکسینہ،میرٹھ آرٹسٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری راشد یوسف، ہیمنت گویل، جتیندر سی راج، شہزاد، فیضان یاسین، مائیکل ٹیساورڈ،شاہد غوری، جیش ٹیساورڈ، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، فرحت اختر، محمد شمشاد وغیرہ موجود رہے۔آپ سے گذارش ہے کہ مورخہ30/ جولائی2026 کو اپنے مؤقر روزنامے سے کیمرہ پرسن اور نامہ نگار بھیجنے کی زحمت گوارا فرمائے۔

Continue Reading

uttar pradesh

کسی بھی صورت میں منہدم نہیں ہونے دیں گے جوہر یونیورسٹی،اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے اکھلیش یادو نے رام پور بھیجا سماجوادی پارٹی کا وفد،ضلع مجسٹریٹ کو سونپا میمورنڈم

Published

on

(پی این این)
رام پور:اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 10 رکنی وفد رام پور پہنچا اور ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو کسی بھی صورت منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور طلبہ سے لے کر اساتذہ تک، سب کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔وفد نے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی سے ملاقات کے دوران یونیورسٹی کی عمارتیں منہدم کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے اور قانون کے مطابق اس مسئلے کا مناسب حل نکالنے کی درخواست کی۔
دوپہر تقریباً سوا ایک بجے سماجوادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کا وفد درجنوں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گاندھی سمادھی واقع سنت شیرو منی روی داس گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ یہاں حامیوں کی بڑی تعداد جمع تھی، جس کے باعث کچھ دیر دھکم پیل بھی ہوئی۔ اس کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کا قافلہ جوہر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گیا۔یونیورسٹی کیمپس میں وفد نے دھرنے پر بیٹھے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کے بعد وفد سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے کلکٹریٹ پہنچا، جہاں ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک یادداشت پیش کی۔وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کلکٹریٹ سے واپسی کے بعد تمام ارکانِ پارلیمنٹ اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ سے ملاقات کی۔
مفاہمت نامہ پر سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدر اجے ساگر، رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان، ہریندر ملک، روچی ویرا، اقرا حسن، نیرج موریہ، ضیاء الرحمٰن برق، دیویش شاکیہ اور رام شیرو منی ورما کے دستخط موجود ہیں۔جوہر یونیورسٹی کو منہدم کیے جانے کی کارروائی کے خلاف رام پور پہنچیں مرادآباد سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ روچی ویرا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کا سوال ہے، اور سماجوادی پارٹی بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
سنبھل سے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو منہدم کرنے کا حکم سراسر غلط ہے اور رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ حکم فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زیرو آور میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے ان کا نمبر بھی آ چکا تھا، لیکن ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
رام پور پہنچیں کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقرا حسن نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔اقرا حسن نے کہا کہ اگر عمارتوں کے نقشوں کو بنیاد بنا کر کارروائی کی جا رہی ہے تو انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والی بے شمار عمارتیں آج بھی بغیر منظور شدہ نقشوں کے موجود ہیں۔ ایسے میں کیا حکومت ان تمام عمارتوں کو بھی منہدم کرے گی؟
راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی قسم کی امید رکھنا بے سود ہے، کیونکہ یہ تعلیم اور عوام دونوں کی مخالف حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک کے لوگ تعلیم حاصل کریں یا غریب خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے۔
جاوید علی خان نے الزام لگایا کہ جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے سے متعلق ضلع انتظامیہ کا حکم غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
مظفر نگر سے رکنِ پارلیمنٹ ہریندر ملک نے اتر پردیش حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت کی توجہ نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے پر ہونی چاہیے، لیکن اس کے برعکس وہ موجودہ تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ارکانِ پارلیمنٹ کے مطالبے کو قبول کرے گی، تو انہوں نے جواب دیا، ’’اگر حکومت مہر نہیں لگائے گی، تو ہم اپنی مہر لگائیں گے۔‘‘

 

Continue Reading

uttar pradesh

گنگا ایکسپریس وے پرالٹ گئی بس،2 مسافروں کی موت، 20 زخمی

Published

on

(پی این این)
سنبھل:اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر اتوار کو ایک مسافر بس الٹ جانے سے دو مسافروں کی موت ہو گئی جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت بس بہرائچ سے پنجاب جا رہی تھی اور اس میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے۔ بہجوئی تھانہ علاقے میں لہراون ایکسچینج کے قریب مبینہ طور پر ڈرائیور کو نیند کی جھپکی آ گئی، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر پہلے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس، پولیس اور یوپیڈا کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، بہجوئی منتقل کیا۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے گجاپور کی رہائشی گنگا رام کی 17 سالہ بیٹی نہا اور گونڈا کے رہائشی للّن کے 35 سالہ بیٹے پنٹو کو مردہ قرار دے دیا۔حادثے میں مہیش، دنیش، چھوٹو، پنکج، وپن، پونم، گڈو، شوبھت، اروند، منّا لال، سریندر کمار، انیتا، گیتا، رومانہ اور راما دیوی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ شدید زخمی چند مسافروں کو بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network