Connect with us

Bihar

محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر روک کیلئے منوج کمار جھا کا وزیر اعظم کو خط

Published

on

مظفرپور:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے رام پور، اتر پردیش میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مجوزہ انہدامی کارروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اتر پردیش حکومت کو فوری ہدایت دیں کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کو معطل کیا جائے اور معاملے کا قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق حل نکالا جائے۔پروفیسر منوج کمار جھا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک فعال تعلیمی ادارہ ہے جہاں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ تعمیراتی یا انتظامی بے ضابطگی کو ریگولرائزیشن، جرمانے، نظرِ ثانی شدہ منظوری یا دیگر قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے، مگر ایک پوری یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنا نہ تو معقول اقدام ہے اور نہ ہی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر من مانی اور انتقامی انہدامی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور مناسب قانونی عمل، تناسب اور ریاستی احتساب کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تعلیمی ادارے کی تقریباً تمام عمارتوں کو منہدم کرنا انصاف اور آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔اپنے خط میں پروفیسر جھا نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ کارروائی سیاسی انتقام اور فرقہ وارانہ امتیاز کا تاثر پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کے خلاف کی جا رہی ہے جسے اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنما(اعظم خان)نے قائم کیا تھا اور جو بالخصوص مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس انہدامی کارروائی کو عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر ملک کی جمہوری، آئینی اور تعلیمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ کلاس رومز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو ملبے میں تبدیل کرنے کی تصاویر پوری دنیا میں جائیں گی، جو ہندوستان کے تعلیم، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کریں گی۔
پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو انہدامی کارروائی روکنے، یونیورسٹی کو محفوظ رکھنے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی تعلیمی ادارے اور اس میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو اس کے بانی کی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

Bihar

مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے کی نتیش کمار سے ملاقات

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا چار رکنی وفد نے بہار کے صابق وزیر اعلیٰ نیتیش کمار سے ملاقات کر مدارس اساتذہ کی پریشانیوں سے اگاہ کراتے ہوئے کہا کہ بہار کے مدارس اساتذہ کو چھ مہینے سے تنخواہ نہ ملنے کے سبب اہل خانہ کے ساتھ بھوک مری کے شکار ہو رہے ہیں جو پہلے ایسا کبھی نہیں یوا ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا کہ آپکے ہی دور حکومت سے مدارس والوں کی خاطر خواہ تنخواہ ملنا شروع ہوا جس کو ہم مدارس اساتذہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے یہ بھی یاد دلایا کہ پچھلے سال 2025 کے ستمبر میں ہم لوگون نے مساوی مراعاتِ کے لئے گردنی باغ میں دھرنا دیا تھا اسے اس یقین دہانی کے ساتھ ختم کروایا گیا تھا کہ جلد ہی آپ لوگوں کے مسئلے کو حل کر دیا جائے گا لیکن افسوس کہ آپ نے بہار کی کمان چھوڑ دیا اور ہم مدرسے والوں کو پرسان حال کوئ نہیں رہا اس سلسلے میں وفد نے انہیں میمورنڈم بھی دیا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اس کو سنجیدگی سے سنا اور للن سراف کو کہا کہ وجے کمار چودھری سے بات کر انہیں اس مسئلے کو فوراً حل کرنے کو کہا اور کہا کہ ان لوگوں کو جلد سے جلد تنخواہ کی ادائیگی کروائیں۔وفد میں شامل مہتاب عالم الطاف حسین مناظر السلام اور شفیع انصاری نے نیتش کمار کا شکریہ ادا کیا۔

Continue Reading

Bihar

یومِ آزادی کے موقع پر پورے نالندہ میں گونجا قوم پرستی کا پیغام، پرچم کشائی کے ساتھ شہیدوں کو کیا گیا سلام

Published

on

(پی این این)
بہار شریف: 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر پورے نالندہ ضلع میں قوم پرستی، جوش و خروش اور فخر کے ماحول میں یومِ آزادی کی تقریب منعقد کی گئی۔ ضلع کے اسکولوں، کالجوں، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور تمام سرکاری دفاتر میں پرچم کشائی کی گئی۔ بہار شریف کے سوگرا کالج میں سیکرٹری سید ذاکر حسین نے پرچم لہرایا۔
اس موقع پر پرنسپل سید غلام محی الدین موجود تھے۔ مدرسہ عزیہ میں پرنسپل، مدرسہ سیستانیہ میں ڈاکٹر نائب علی، صدرِ عالم سیکنڈری اسکول میں خالد عالم بھٹو، روزمیری لینڈ اسکول میں انسار رضوی، مدرسہ فصیح البنات میں ارشد اسطانوی اور سوگرا وقف اسٹیٹ میں متولی نے پرچم کشائی کی۔ پرکھنڈ اور انچل سطح پر بھی مختلف ثقافتی اور رنگا رنگ پروگراموں کے ساتھ یومِ آزادی منایا گیا۔ اس موقع پر لوگوں نے تحریکِ آزادی کے امر سپاہیوں اور ملک کی وحدت و سلامتی کے لیے قربانی دینے والے بہادر جوانوں کو عقیدت کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ضلع ہیڈکوارٹر میں یومِ آزادی کی مرکزی تقریب سوگرا ہائی اسکول میدان میں منعقد ہوئی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق مرکزی تقریب کے مقام پر صبح 9 بجے پرچم کشائی کی گئی۔ اس کے بعد نالندہ کلکٹریٹ سمیت مختلف اہم سرکاری دفاتر اور اداروں میں مقررہ وقت کے مطابق پرچم کشائی کا پروگرام منعقد کیا گیا۔مرکزی تقریب میں ضلع افسر محترمہ ادیتا سنگھ نے قومی پرچم لہرایا۔
اس موقع پر موجود عوامی نمائندوں، افسران، انتظامیہ اور پولیس کے افسران، طلبہ و طالبات، نوجوانوں اور ضلع باسیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نالندہ کی ترقی کی سمت میں کیے جانے والے کاموں اور مختلف عوامی فلاحی اسکیموں کی تفصیلی معلومات شیئر کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تعلیم، نوجوان، کسان، صحت، سماجی تحفظ، سڑک اور بنیادی ڈھانچہ، روزگار، سیاحت، صفائی، آبی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں ضلع کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ضلع افسر نے کہا کہ نالندہ کی ترقی صرف بنیادی ڈھانچوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایسا نالندہ بنانے کی کوش ہے جہاں ہر فرد کو عزت، موقع اور بہتر زندگی کی سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے عام شہریوں سے ضلع کی ترقی میں فعال شرکت نبھانے کی اپیل کی۔
ضلع میں تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 20 سروسوتی ودیا نکیتن “آدرش ودیالیہ” اور 9 نئے ڈگری کالج شروع کیے جا چکے ہیں۔ اسکولوں میں سمارٹ کلاس، لائیو کلاس، کمپیوٹر لیب اور باقاعدہ جانچ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کی مختلف طلبہ فلاحی اسکیموں کے ذریعے طلبہ کو DBT کے ذریعے فائدہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو ہنر، روزگار، قیادت اور قوم کی تعمیر سے جوڑنے کے لیے مائی بھارت پورٹل کے ذریعے 3 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کا مفت اندراج کرایا گیا ہے۔ روزگار کیمپ اور پلاننگ میلوں کے ذریعے اس سال نالندہ کے تقریباً 1300 سے زیادہ نوجوانوں کا مختلف کمپنیوں میں انتخاب ہوا ہے۔زرعی شعبے میں بیج کی تقسیم، نامیاتی کھیتی، فصل کی تنوع اور کسانوں کی فلاح کی سمت میں قابلِ ذکر کام کیے گئے ہیں۔ 72 ہزار سے زیادہ کسانوں کو معیاری بیج فراہم کیے گئے ہیں اور نامیاتی کھیتی و جدید زراعت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کسان سمان ندھی کے تحت 4 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ کسانوں کو رقم فراہم کی گئی ہے۔ دیہی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے بہار شریف اور راجگیر میں 235 راستوں کا انتخاب کر کے 360 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑکوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ ساتھ ہی 17 پلوں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔
صاف اور خوبصورت نالندہ کے لیے کچرا انتظام اور آبی انتظام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جل-جیون-ہریالی مہم کے تحت تالاب، آہر، پئین اور کنوؤں کی مرمت، بارش کا پانی جمع کرنا اور آبی تحفظ کے کام کیے جا رہے ہیں۔ ضلع میں بڑی تعداد میں آبی ڈھانچوں کی مرمت مکمل کی گئی ہے۔ وہیں، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بھی کئی اہم منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ راجگیر کے تاریخی اور سیاحتی مقامات کے تحفظ اور ترقی سمیت مختلف اسکیموں سے ضلع میں سیاحت اور عوامی سہولیات کو نئی رفتار ملی ہے۔
اس موقع پر ضلع افسر نے شہریوں سے صاف، محفوظ اور ترقی یافتہ نالندہ کی تعمیر، آب اور ماحولیات کے تحفظ، عوامی املاک کی حفاظت اور باہمی محبت، بھائی چارے اور اتحاد کو مضبوط بنانے کا عہد لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی حقیقی کامیابی تبھی ممکن ہے، جب اس میں عوامی شرکت ہو۔ تقریب کا ماحول پورے دن قوم پرستی اور جوش و خروش سے سرشار رہا۔ ضلع باسیوں نے تحریکِ آزادی کے تمام امر سپاہیوں اور ملک کی حفاظت میں قربانی دینے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہوئے یومِ آزادی کی مبارکباد دی۔

 

 

Continue Reading

Bihar

مرکزی دفتر امارت شرعیہ میں یوم آزادی کے موقع سے ناظم امارت شرعیہ نے کی پرچم کشائی

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف، پٹنہ: ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر امارتِ شرعیہ، بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگا ل کے مرکزی دفترپھلواری شریف پٹنہ میں 15 اگست کوہر سال کی طرح امسال بھی ِ پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔
امارتِ شرعیہ بہار ، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے اپنے ہاتھوںسے قومی پرچم لہرایا ، انہوں نے پرچم کشائی تقریب کے موقع پر مجاہدِ آزادی کی سرفروشانہ قربانیوں کا تذکرہ کیا کہ ملک کو انگریزوں کے غلبہ و تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دیں، علماء کرام نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ان بزرگوں کی مجاہدانہ کوششوں کے نتیجے میں ہمارا ملک 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔اس موقع پر قاضی محمد انظار عالم قاسمی ، قاضیِ شریعت مرکزی دارلقضاء امارت شرعیہ نے ملک کے امن و سلامتی، اتحاد و یکجہتی اور وطن عزیز کی ترقی کے لیے دعائیں کی۔
اس تقریب کے موقع پر امارتِ شرعیہ کےمعاون قاضی، مولانا مجیب الرحمٰن بھاگل پوری نے قومی ترانہ پیش کیا،تقریب میں مولانا قاضی وصی احمد قاسمی نائب قاضیِ شریعت امارت شرعیہ ، مفتی احتکام الحق صاحب نائب مفتی امارت شرعیہ ، مولانا رضوان احمدندوی معاون ناظم امارتِ شرعیہ ،عرفان الحق انچارج بیت المال ، مولانا ارشد رحمانی آفس سیکریٹری، حاجی احسان الحق صاحب پروجیکٹ مینیجر امارتِ شرعیہ ، ہارون رشید صاحب ایڈوکیٹ امارتِ شرعیہ،خبیب صاحب بیت المال ، امتیاز احمد صاحب نائب انچارج، بیت المال، مولانا مطیع الرحمن صاحب، مولانا عبداللہ جاوید صاحب ، مولانا محمد منہاج عالم ندوی صاحب، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب، حامد حسین صاحب، مولانا طارق رحمانی صاحب، سیدجمال ( ننھو) سمیت امارتِ شرعیہ کے دیگر ذمہ داران و کارکنان، تربیت قضاء وافتاء کے طلبہ بڑی تعداد میںموجود تھے،آخرمیں تقریب نہایت سادگی، وقار اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network