Connect with us

uttar pradesh

رکن اسمبلی محبوب علی گھر میں نظربند،پولیس نے رامپور جانے سے روکا

Published

on

(پی این این)
امروہہ:سماج وادی پارٹی ہائی کمان کی ہدایت پر رامپور کی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے سرکاری فرمان کے خلاف رامپور ڈی ایم سے ملنے والے وفد میں شامل محبوب علی جمعرات کی صبح جب رامپور کے لئے نکلے تو پولس انتظامیہ نے شہر کے گاندھی مورتی چوراہا پر انکے قافلہ کو روک لیا جسکے بعد موجود بڑی تعداد میں پارٹی لیڈران اور کارکنان نے یو پی سرکار اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا محبوب علی اور دیگر پارٹی لیڈران کی انتظامیہ سے اس بات پر شدید بحس بھی ہوئی جبکہ محبوب علی نے انتظامیہ کو دو ٹوک کہا یا تو رامپور جاؤنگا یا مجھے گرفتار کیا جائے بعد میں کافی دیر کی کش مکش کے بعد انتظامیہ نے محبوب علی سے مطالباتی مکتوب یہیں پیش کر دینے کا مطالبہ کیا مکتوب موصول کرنے کے بعد بھی انتظامیہ کے ذریعہ محبوب علی کو گھر میں نظربند کیا گیا دیر دوپہر تک بھاری پولس فورس محبوب علی کی رہائش گاہ پر موجود رہی۔
رکن اسمبلی امروہہ، صدر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) اتر پردیش اور سابق کابینہ وزیر حاجی محبوب علی نے رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کی مجوزہ کارروائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات کو انتظامی سختی کے بجائے آئینی، قانونی اور انصاف پر مبنی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور تعلیمی نظام کو نقصان نہ پہنچے۔ جمعرات کو صبح 11 بجے حاجی محبوب علی اپنے کیمپ دفتر سے ضلع مجسٹریٹ رامپور اور وائس چانسلر (آر ڈی اے) کو میمورنڈم پیش کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے، جس میں جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگانے اور معاملے کا غیر جانبدارانہ حل نکالنے کا مطالبہ شامل تھا۔ تاہم پولیس و انتظامیہ نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے احتجاجی مقام پر دھرنا دیا اور وہیں موجود سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) امروہہ کو اپنا یادداشت نامہ پیش کیا۔
اس موقع پر حاجی محبوب علی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے انہیں راستے میں روکنا جمہوری حقوق کی خلاف ورزی اور عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ایک اہم مرکز ہے، اس لیے ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل شفافیت، قانونی عمل اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نوعیت کا قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل عدالت اور قانون کے مطابق نکالا جائے، نہ کہ ایسی کارروائیوں سے جس سے تعلیم، امتحانات اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں انصاف پسندانہ اور متوازن فیصلہ کرے۔
سابق رکن قانون ساز کونسل اتر پردیش اور سماج وادی پارٹی کے نوجوان رہنما پرویز علی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ہمیشہ تعلیم، آئین اور جمہوری اقدار کی محافظ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے خلاف سخت کارروائی سے پہلے قانونی تقاضوں کی تکمیل، شفاف جانچ اور تمام فریقین کو سنا جانا ضروری ہے۔ پرویز علی نے کہا کہ حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کے مراکز کو محفوظ رکھنا اور نوجوان نسل کے مفاد کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ میمورنڈم میں درج ذیل نکات پیش کیے گئے:
جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر فوری روک لگائی جائے۔ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرائی جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر کسی بھی قسم کا منفی اثر نہ پڑنے دیا جائے۔ اگر کوئی قانونی یا انتظامی تنازع موجود ہے تو اس کا حل صرف عدالتی اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات میں ایسا متوازن نقطۂ نظر اختیار کیا جائے جس سے قانون کی پاسداری بھی برقرار رہے اور طلبہ، اساتذہ و ملازمین کے مفادات بھی محفوظ رہیں۔
امید ظاہر کی گئی ہے کہ ضلع انتظامیہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ اس موقع پر سابق رکن قانون ساز کونسل پرویز علی، محمد علی عرف بھورے علی، وہاب سیفی، مختار نقوی، زاہد حسین، حاجی جمشید، ساجد علی، ذاکر علی، بوبی بھگت سنگھ، ششی کانت گوئل، کامیش پردھان، مہیش یادو، حاجی اسلم سلمانی، ریاض الحق پردھان، ڈاکٹر آشکار، محمد میاں پردھان، عارف ایڈووکیٹ، جاوید علی، ناصر علی، مدثر خاں، توصیف چڈھا، امیر آفتاب سمیت سیکڑوں سماج وادی کارکنان موجود رہے۔

 

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

Continue Reading

uttar pradesh

ایس پی کے کے بشنوئی نے سنے فریادیوں کے مسائل

Published

on

بجنور:نئے تعینات تیز طرار اور ایماندار ایس پی کے کے بشنوئی نے پیر کے روز ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے فریادیوں کے مسائل کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ سنا۔ اس دوران انہوں نے فریادیوں سے ان کی شکایتوں کے بارے میں معلومات لیتے ہوئے متعلقہ افسران سے بھی ضروری معلومات حاصل کیں۔ایس پی نے عوامی سماعت میں موصولہ شکایتوں کا خود جائزہ لیا اور متعلقہ افسران اور تھانہ انچارجوں کو ہدایت دی کہ ہر شکایت کا ترجیحی بنیاد پر غیر جانبدارانہ، شفاف اور معیاری حل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شکایتوں کے حل میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور مقررہ وقت کی حد کے اندر کارروائی مکمل کی جائے۔پہلے دن دفتر پہنچے ایس پی کے کے بشنوئی نے تمام تھانہ انچارجوں کو یہ بھی ہدایت دی کہ شکایت کنندہ کو اس کی شکایت پر کی گئی کارروائی کی معلومات وقت پر فراہم کی جائے، تاکہ اسے اپنے مسئلے کے سلسلے میں ہوئی کارروائی کی واضح معلومات مل سکے۔
ایس پی نے کہا کہ عوامی سماعت پولیس کی جوابدہی، حساسیت اور عوام کے تئیں ذمہ داری کا اہم ذریعہ ہے۔ایس پی کے کے بشنوئی نے کہا کہ ہر شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حقائق کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے اور متاثرین کو فوری انصاف دلانے کے لیے مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے پولیس افسران اور تھانہ انچارجوں کو عوام کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے اور پولیس و عام لوگوں کے درمیان اعتماد کو اور مضبوط کرنے پر خصوصی زور دیا۔
ایس پی نے کہا کہ پولیس عوامی اعتماد، شفافیت اور جوابدہ پولیسنگ کے لیے پرعزم ہے۔ عوامی سماعت کے ذریعے موصولہ شکایتوں کا باقاعدہ جائزہ لیتے ہوئے ان کے معیاری حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

Continue Reading

uttar pradesh

محمدؐکی ولادت باسعادت نے کراہتی ہوئی انسانیت کو سکون بخشا: قاری محمّد صدّیق

Published

on

لکھنؤ: شھر کی تاریخی یکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے ہونے والے بارہ روزہ نبئ آخر الزّماںؐ کا دسواں جلسہ استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ وامام مسجد یکمنارہ کی سر پر ستی میں منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ چوک کے قاری محمّد حذیفہ وقاری محمد یوسف کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔
جلسے کو خطاب کرتے ہوئے سنّیوں کا مرکز ادارۂ دارالمبلّغین پاٹانالہ چوک کےسینئر استاذ مولانا قاری محمد صدّیق صاحب امام و خطیب مسجد سبحانیہ پاٹانالہ نے کہا کہ حضرت محمّد مصطفٰی ؐ کی ولادت باسعادت نے کراہتی ہوئ انسانیت کو سکون بخشا مکّہ شریف میں خوش حالی پیدا ہوئی دونوں عالم کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہوئے ہر طرف ابلیس کی حکومت تھی یہودی مجوسی عیسائی سب ایک حالت میں تھے عرب وعجم سب کی ایک کیفیت تھی فواحش ومعاصی کو کوئی عیب نہ سمجھتا تھا چوری رہزنی لوگوں نے پیشہ بنالیا تھا اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کردینا کوئی بڑی بات نہ تھی اس ہادئ برحق ہے۔
یکا یک دنیا کی کایا پلٹ دی اور بجائے کفروشرک کے ایمان کی روشنی سے زمین کو جگمگایا تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہؐ کی تعلیم نے خدا پرستوں کی ایک جماعت صحابۂ کرامؓ کی تیّار کردی جو اعلی ترین اخلاق کامل ترین زہدوتقوی میں اس مرتبہ پر تھے کہ تاریخ عالم میں ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ھے قاری صدّیق صاحب نے کہا کہ رسول اکرمؐ نے کبھی دنیا کا عیش وعشرت نہیں اٹھایا موٹے کپڑے پہنتے تھے اور اکثر آپ کے گھر میں فاقہ ہوجاتا تھا حسن صورت بھی اللہ نے ایسا عطا فرمایا تھا کہ چہرۂ مبارک چودہویں رات سے بھی زیادہ چمکتا تھا جس راستے سے رسولؐ گذر جاتے دیر تک اس راستے سے خوشبو آیا کرتی تھی ، شعراء کرام محمد سمیر، محمّد بلال، قاری محمّد طہ ، محمّد حذیفہ یامین، محمّد کیف ، نے نعت ومدح صحابہؓ کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا ۔
آج کے جلسے میں عیاض احمد صدّیقی ذیشان جویلرس ، حاجی جمال اختر ،سیّد حسین ، و دیگر معزّزین موجود تھے ، جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق صاحب کی دعا پر ھوا ، ، ،

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network