تازہ ترین
ضلع انتظامیہ کا صدر اسپتال کے باہر کھڑی نجی ایمبولینسوں پر چھاپہ، ڈی ایم ارریہ کی ہدایت پر کی گئی کارروائی، قانونی دائرے کے تحت تھانہ بھجوائی گئیں2 ایمبولینسسیتامڑھی:معمولی رقم کے تنازعہ میں معذور شخص کا پیٹ پیٹ کرقتل، گاؤں میں ہرطرف سنسنی، ملزم کے گھر کے سامنے لاش رکھ کر مشتعل گاؤں والوں نے کیا سڑک جام، ایف ایس ایل ٹیم نے شواہد جمع کیے، ایک خاتون زیر حراستمیرٹھ کے ’سدبھاؤنا سمیلن‘ میں امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی طبقوں کی سرکردہ شخصیات کی شرکت، چھ ماہ میں 200 نکڑ میٹنگیں منعقد کرنے کا فیصلہسیدالبشر چریٹیبل ٹرسٹ کے زیراہتمام نعتیہ مشاعرہ پروگرام کا انعقاد، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ’’ مولانا محمد علی جوہری ایوارڈ‘‘ سےسرفرازحیاتیاتی تنوع کا تحفظ پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر: پروفیسر سوچت سوروپ، لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس میں ایک تربیتی پروگرام کا انعقادبدلتے وقت کا وہ بھی کمال دیکھے گاالیکشن کمیشن کی کاکردگی کی جانچ کیلئے نئی عرضی داخل،کسی ریاست کے سابق چیف جسٹس یا جج کی قیادت میں کمیٹی بنانے کا سپریم کورٹ سےمطالبہضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایات
بہار

خاتون ٹیچر کی توہین پر بی جے پی ۔جے ڈی یو کی حکومت کو آنی چاہیے شرم:راجیش رام

(پی این این)
پٹنہ:بہار پردیش کانگریس کے صدر راجیش رام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہان آباد کا واقعہ بہار کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ 4 ستمبر کو بی جے پی – جے ڈی یو کی جانب سے بلائے گئے بند کے دوران ایک خاتون ٹیچر، جو صرف اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے اسکول جا رہی تھیں، کو بیچ سڑک پر روک کر گالی گلوچ اور بدسلوکی کی گئی۔ یہ واقعہ بہار کی آدھی آبادی پر براہِ راست حملہ ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ شرمناک یہ ہے کہ متاثرہ خاتون ٹیچر کی حفاظت اور عزت کی پاسداری کرنے کی بجائے، ضلع تعلیمی افسر نے اُسی ٹیچر کو نوٹس تھما دیا اور اُسے ہی قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کی۔ یہ ذہنی اذیت اور خواتین کی عزتِ نفس سے متعلق سخت بے حسی ہے۔
کانگریس پارٹی صاف لفظوں میں کہنا چاہتی ہے کہ یہ واقعہ بی جے پی – جے ڈی یو کے کردار کو ظاہر کرتا ہے جو خواتین کے احترام اور تعلیم دونوں کے مخالف ہیں۔ ٹیچر کے خلاف کارروائی نہ صرف پوری ٹیچر برادری کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ بہار کی تہذیب اور وقار کی بھی توہین ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر خاتون ٹیچر کو ستانے والے جرائم پیشوں کے خلاف کارروائی کرے اور ضلع تعلیمی افسر کا خط واپس لے کر خاتون ٹیچر سے عوامی طور پر معافی مانگے۔
بہار کانگریس کے صدر راجیش رام نے مزید کہا کہ بہار کی بیٹیاں اور خواتین کے احترام کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ بی جے پی – جے ڈی یو کی حکومت خواتین دشمن، تعلیم دشمن اور ثقافت دشمن ہے۔ یہ حکومت پڑھانے والی ٹیچر کو قصوروار بنا رہی ہے اور پڑھانے سے روکنے والوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بزدلی ہے اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔