دلی این سی آر
جی ٹی بی اسپتال کےباہر’آپ ‘کارکنان کا احتجاج
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے ریکھا گپتا حکومت کے مبینہ 650 کروڑ روپے کے دوا گھوٹالے کے خلاف تیسرے روز بھی علامتی احتجاج جاری رکھا۔ بدھ کے روز آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھردواج کی قیادت میں جی ٹی بی اسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں نے، ایم ایل اے سنجیو جھا اور کلدیپ کمار کے ساتھ، خاموش احتجاج کیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ ہم عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ انہیں اسپتالوں میں دوائیں اس لیے نہیں مل رہیں کیونکہ ریکھا گپتا حکومت نے 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کو بابا صاحب امبیڈکر اسپتال کے باہر بھی احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس گھوٹالے کے مرکزی ملزم راجیو رنگیلا کو حکومت نے ملک سے باہر بھیج دیا ہے اور اب جانچ کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہر شعبے میں لوٹ مار میں مصروف ہے اور قواعد کے خلاف ٹینڈر جاری کر کے بھاری کمیشن وصول کیا جا رہا ہے۔سوربھ بھردواج نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے عام آدمی پارٹی دہلی کے مختلف سرکاری اسپتالوں کے باہر خاموش اور علامتی احتجاج کر رہی ہے تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ اگر اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں تو اس کی وجہ ریکھا گپتا حکومت کا مبینہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 کروڑ روپے کی ادویات 400 کروڑ روپے میں خریدی گئیں، یعنی 300 کروڑ روپے کا کمیشن کھایا گیا۔ اسی طرح 10 لاکھ روپے کی ایکس رے مشین 33 لاکھ روپے میں خریدی گئی، جس میں 103 کروڑ روپے کا کمیشن لیا گیا، جبکہ 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خرید کر 50 کروڑ روپے کا کمیشن حاصل کیا گیا۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا اور اس کے مبینہ ماسٹر مائنڈ راجیو رنگیلا کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ دہلی حکومت ایک ماہ تک جانچ کے نام پر خاموش بیٹھی رہی اور اسی دوران مرکزی ملزم کو جرمنی فرار ہونے کا موقع مل گیا۔ جب اصل ملزم ہی ملک سے باہر چلا گیا تو اب جانچ کس کے خلاف ہوگی؟ حکومت صرف جانچ کا ڈرامہ کر رہی ہے۔بچوں کے مڈ ڈے میل میں چھپکلی نکلنے اور صحت سے کھلواڑ کے سوال پر سوربھ بھردواج نے کہا کہ حکومت ہر جگہ لوٹ مار میں مصروف ہے۔ غلط طریقے سے ٹینڈر دیے جا رہے ہیں اور بھاری کمیشن لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سی بی آئی، ای ڈی اور اے سی بی غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں کر رہیں، کیونکہ جن لوگوں پر الزامات ہیں وہی جانچ کو متاثر کر رہے ہیں۔اس موقع پر براڑی سے آپ کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ دہلی حکومت نے صرف ادویات اور اسپتالی سامان کی خریداری میں ہی 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 400 کروڑ روپے کی ادویات خریدنے کا ریکارڈ دکھایا گیا، جبکہ حقیقت میں صرف 100 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں اور 300 کروڑ روپے کا براہِ راست گھوٹالا ہوا۔ ان کے مطابق یہ بات خود اے سی بی کی ایف آئی آر میں بھی سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اشیا بازار قیمت سے 10 سے 12 گنا زیادہ قیمت پر خریدی گئیں۔سنجیو جھا نے کہا کہ جی ٹی بی اسپتال کے اندر پھٹے ہوئے بستر موجود ہیں، مریضوں کے لیے مناسب سہولتیں نہیں ہیں اور نہ ہی علاج کا مناسب انتظام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اسپتالوں کو بھی بدعنوانی کا مرکز بنا دیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اے سی بی کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کیا اس ٹھیکیدار کو گرفتار کیا گیا جس پر بدعنوانی کے الزامات ہیں؟ کیا متعلقہ وزیر نے استعفیٰ دیا؟ ان کے مطابق اگر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہ سمجھتی ہیں کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اے سی بی کی کارروائی صرف دباؤ بنانے کے لیے تھی تاکہ لوٹ کی رقم صرف وزیر صحت تک محدود نہ رہے بلکہ وزیر اعلیٰ تک بھی پہنچے۔ اگر اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو عام آدمی پارٹی اسپتالوں کے باہر مسلسل احتجاج جاری رکھے گی اور اسمبلی میں بھی یہ معاملہ اٹھاتی رہے گی۔اس دوران کونڈلی سے آپ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے کہا کہ حکومت نے دہلی کے عوام کی دوائیں بھی کھا لی ہیں، اسی لیے آج اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ 2.5 روپے کا او آر ایس پیکٹ 15 روپے میں اور 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خریدی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے 15 سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے اور ویجیلنس جانچ زیر التوا ہونے کے باوجود ڈاکٹر وتسلا اگروال کو ڈی جی ایچ ایس کا سربراہ مقرر کیا۔کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں ہی ایسے کارنامے انجام دیے ہیں تو اس سے اس کی آئندہ کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حکومت دہلی کو لوٹنے والی حکومت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج عوام علاج کے لیے پریشان ہیں جبکہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر وزیر صحت سے استعفیٰ لینا چاہیے اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے خود بھی استعفیٰ دینا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس گھوٹالے کی رقم کن کن افراد تک پہنچی۔سی بی آئی اور ای ڈی سے جانچ کرانے کے مطالبے پر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر یہ ایجنسیاں چھوٹے معاملات میں کارروائی کر سکتی ہیں اور مبینہ شراب گھوٹالے میں اروند کیجریوال کو چھ ماہ تک جیل میں رکھ سکتی ہیں تو پھر 650 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالے میں کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔کلدیپ کمار نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کا یہ احتجاج عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں عوام کو لوٹا ہے اور 650 کروڑ روپے کا دوا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں دوائیں کیوں نہیں مل رہیں، ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے اور مریضوں کی لمبی قطاریں کیوں لگی ہوئی ہیں، اپوزیشن یہ سوالات اٹھاتی رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت اپنے قریبی افسروں کو اہم عہدوں پر بٹھا کر ان کے ذریعے عوامی وسائل کی لوٹ میں ملوث ہے۔
دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام ’’میر تقی میر کی یاد میں‘‘ شاندار تقریب
نئی دہلی:اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی کے ملٹی پرپز ہال میں جناب وپن گرگ کی مرتب کردہ ’’دیوانِ میر‘‘ کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر ’’میر تقی میر کی یاد میں‘‘ کے عنوان سے ایک شاندار ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔اس پروگرام میں میر تقی میر کی شخصیت، شاعری اور ادبی وراثت پر ایک فکرانگیز ادبی مذاکرہ منعقد ہوا، جبکہ دوسرے سیشن میں میر کی غزلوں پر مشتمل دل نشیں محفلِ غزل پیش کی گئی۔ یہ پروگرام زبان و ادب اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے حکومتِ دہلی کے وزیر محکمہ فن، ثقافت و السنہ و چیئرمین اردو اکادمی، دہلی جناب کپل مشرا کی مسلسل سرپرستی اور تعاون کا نتیجہ تھا۔ واضح رہے کہ حکومتِ دہلی اور معزز وزیرِ ثقافت کے مسلسل تعاون کے باعث اردو اکادمی، دہلی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں نہایت اہتمام کے ساتھ تسلسل سے جاری ہیں۔
پروگرام کے آغاز میں دہلی حکومت کے محکمۂ فن، ثقافت اور السنہ کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے معزز مہمانانِ جناب امت یادو (سابق سکریٹری، حکومتِ ہند)، جناب پی کے ترپاٹھی (سابق چیف سکریٹری، حکومتِ دہلی)، جناب اشوک مہیشوری (منیجنگ ڈائریکٹر، راج کمل پرکاشن) اور ممتاز غزل گلوکارہ محترمہ ودیا شاہ کو گلدستے پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں جناب لیکھ راج نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جناب وپن گرگ نے دیوانِ میر کو ہندی میں مرتب کرکے ایک نہایت اہم ادبی خدمت انجام دی ہے۔ اس کے ذریعے میر تقی میر کی شاعری ہندی قارئین کے ایک وسیع حلقے تک پہنچ سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کام اس لیے بھی بے حد ضروری تھا کہ میر کی شاعری ہر دور میں زندہ رہنے والی شاعری ہے اور تین صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی ان کا کلام اسی تازگی اور تاثیر کے ساتھ پڑھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
پروگرام کا پہلا سیشن ’’میر تقی میر: شاعر، ان کی شاعری اور ادبی وراثت‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک علمی و ادبی مذاکرے پر مشتمل تھا، جس میں معروف صحافی اور داستان گو جناب دارین شاہدی نے دیوانِ میر کے ہندی ایڈیشن کے مرتب و مدیر جناب وپن گرگ سے میر کی شاعری، زبان، ہندی میں دیوان کی ترتیب کی ضرورت اور اس اہم کام کی تکمیل کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی اور معلومات افزا گفتگو کی۔جناب وپن گرگ نے بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی شاعری سے گہرا لگائو تھا۔ جب انھوں نے میر کو پڑھنے کی خواہش کی تو یہ جان کر افسوس ہوا کہ میر کا مکمل کلام ہندی میں دستیاب نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کے اردو سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ لیا، اردو سیکھی اور پھر میر کا اصل کلام اردو میں پڑھا۔ انھوںنے مزید بتایا کہ دیوانِ میر کے ہندی ایڈیشن کی تیاری کا آغاز 2007 میں کیا تھا اور یہ کتاب تقریباً بیس برس کی مسلسل تحقیق و جستجو کا نتیجہ ہے۔میر کی زبان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ عام بول چال کے الفاظ، محاورات اور روزمرہ کے دلکش استعمال نے میر کو دوسرے شعرا سے ممتاز کیا ہے اور یہی خصوصیت انھیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ دورانِ گفتگو جناب دارین شاہدی نے میر تقی میر کی زندگی سے متعلق کئی دلچسپ واقعات بھی بیان کیے، جن سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔ مذاکرے کے اختتام پر جناب لیکھ راج نے دونوں مذاکرہ کاروں کو گلدستے پیش کرکے ان کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے دوسرے سیشن میں ہندوستان کی ممتاز غزل گلوکارہ اور صفِ اول کی فنکارہ محترمہ ودیا شاہ نے اپنی سحرانگیز آواز اور دلکش انداز میں میر تقی میر کی منتخب غزلیں پیش کرکے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ اس موقع پر نوجوان شاعر ڈاکٹر عبداللہ مراش نے موسیقی، شاعری اور میر کی غزلوں کی غنائیت کے حوالے سے اپنے مختصر مگر بصیرت افروز تاثرات پیش کیے، جس سے اس محفل کی ادبی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض جناب اطہر سعید نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اور اپنی دلکش نظامت سے سامعین کو آغاز سے اختتام تک محفل سے وابستہ رکھا۔پروگرام کا اختتام محکمۂ فن، ثقافت اور السنہ کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔
اس موقع پر مذکورہ معزز مہمانان کے علاوہ ڈاکٹر ایم آر قاسمی، جناب حبیب سیفی، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ساحر داؤد نگری، ڈاکٹر ذکی طارق، جناب علیم الدین اسعدی، جناب حامد علی اختر، جناب شمیم اختر، ڈاکٹر امیر حمزہ ، جناب ابوذر فاطمی، امتیاز احمد اور میر کے متعدد شائقین و ادب دوست افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔
دلی این سی آر
تین اسمبلی حلقوں میں پانی کی سپلائی رہے گی متاثر
نئی دہلی :دہلی جل بورڈ نے مختلف ادوار کے دوران شہر کے 48 سے زیادہ علاقوں اور تین اسمبلی حلقوں میں پانی کی سپلائی میں خلل کی وارننگ دیتے ہوئے دو الگ الگ الرٹ جاری کیا ہے۔ اپنا پہلا الرٹ جاری کرتے ہوئے، جل بورڈ نے اعلان کیا کہ موجودہ پائپ لائن کا ایک حصہ، جسے “ٹرپلیکیٹ مین” کے نام سے جانا جاتا ہے، راج گھاٹ کے قریب سمتا ستھل کے وزیر آباد واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے نکلنے والی، بدھ کو تبدیل کر دی جائے گی اور اسے نئی بچھائی جانے والی پائپ لائن سے جوڑ دیا جائے گا۔جل بورڈ نے کہا کہ اس کام کی وجہ سے 18 گھنٹے کا بند نافذ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں، رام لیلا گراؤنڈ UGR کو سائٹ سے صاف پانی کی فراہمی معطل رہے گی۔ جل بورڈ نے مزید کہا کہ اس مدت کے دوران، رام لیلا گراؤنڈ UGR کمانڈ ایریا کے تحت آنے والے تین اسمبلی حلقوں بالی مارن، مٹیا محل، اور چاندنی چوک (AC-20، 21، اور 22) میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگی۔
ایک اور انتباہ میں، دہلی جل بورڈ نے کہا کہ جنوبی دہلی مین لائن پر ضروری دیکھ بھال کا کام کیا جا رہا ہے، جس سے سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے بدھ 22 جولائی 2026 کو صبح 10 بجے سے پانی کی سپلائی متاثر ہو گی۔ نتیجتاً، اس پلانٹ سے کام کرنے والے علاقوں کو پانی کی سپلائی میں خلل پڑے گا، اور 2 جولائی کی شام کو پانی کی سپلائی کم ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جنوبی دہلی کے 48 سے زیادہ علاقوں کو پانی فراہم کرتا ہے اور ان علاقوں میں رہنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
48+ علاقے جہاں پانی کی سپلائی متاثر ہوگی: کیلاش نگر، گاندھی نگر، کامن ویلتھ گیمز ولیج (CWG ولیج)، پتپڑ گنج، اوکھلا، ذاکر نگر، بٹلہ ہاؤس، ڈی ای ایس یو کالونی، سدھارتھ انکلیو، بھارتی نگر، میرا بائی پولی ٹیکنک، رابندر نگر، خان مارکیٹ، فلیگنگ، جے کالونی، کاکا بازار، کاکا ناگر۔ نظام الدین، پرگتی وہار، دکشن پوری، ایس پی اے ہاسٹلز، دیولی، امبیڈکر نگر، جاہاپور، جیت پور، کالکاجی، موتی باغ، سرائے نگر، لاجپت نگر، بھوگل، این ڈی ایم سی، سرائے کالے خان، اپولو اسپتال، بدر پور، جیت پور، کے اینڈ ایل پاکٹ، سرائیونڈ، سرائے نگر، سرائے نگر، جی اینڈ ایل جیبی، سرائے اور جنوبی، سرائے نگر علاقے، چھتر پور، سرینواسپوری، امر کالونی، مالویہ نگر، ذاکر نگر کے قریب، دھال ان پارک، اشوکا پارک کے قریب مین روڈ، لائنز ہاسپٹل، اور خضر آباد گاؤں۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں، DJB نے کہا، “کیلاش نگر کے مہاویر سوامی پارک میں 1900 ملی میٹر قطر کی جنوبی دہلی مین لائن پر کچھ بڑے دیکھ بھال کے کام کی وجہ سے، سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے جنوبی دہلی کی مین لائن کو پانی کی سپلائی 8 گھنٹے تک متاثر رہے گی، 22 جولائی کو صبح 10 بجے سے شروع ہونے والی اس مدت کے دوران گھر گھر پانی کی سپلائی نہیں ہوگی۔ (شام) اور 23 جولائی (صبح) کو پانی کا دباؤ کم رہے گا۔ واٹر بورڈ نے رہائشیوں کو مناسب پانی ذخیرہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹینکرز کو کال کرنے کے لیے نمبر جاری کیے ہیں۔
دلی این سی آر
دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشن، بشمول راجیو چوک اور جن پتھ بند
نئی دہلی :دہلی میٹرو اسٹیشن بند: دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشن آج ایک بار پھر بند کردیئے گئے ہیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر جن پتھ، راجیو چوک، پٹیل چوک، اور مرکزی سیکرٹریٹ سمیت 16 اسٹیشنوں پر داخلہ اور اخراج بند رہے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 20 جولائی کو چیف جسٹس کے احتجاج کی وجہ سے راجیو چوک سمیت پانچ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں کو چند گھنٹوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔بدھ کو، DMRC نے اعلان کیا کہ ان میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور خارجی راستے فی الحال بند رہیں گے۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ میٹرو سے سفر کرنے سے پہلے اسٹیشن کی حیثیت کو چیک کریں۔ تاہم یہ سٹیشن دوبارہ کب کھلیں گے اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، پٹیل چوک، رام کرشنا آشرم مارگ، براکھمبا روڈ، سپریم کورٹ، سیوا تیرتھا، جن پتھ، منڈی ہاؤس، مرکزی سیکرٹریٹ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، اندرا پرستھ، خان مارکیٹ، جور باغ، اور شیواجی اسٹیڈیم آج میٹرو اسٹیشن بند رہیں گے۔ ڈی ایم آر سی نے یہ بھی کہا کہ راجیو چوک اور مرکزی سکریٹریٹ پر انٹرچینج کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔واضح رہے کہ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے پارلیمنٹ مارچ کی وجہ سے دہلی کے کچھ میٹرو اسٹیشن بند کردیئے گئے تھے۔ نئی دہلی میں پٹیل چوک، راجیو چوک، صنعت بھون، سیوا تیرتھا، اور مرکزی سیکرٹریٹ میٹرو اسٹیشنوں پر داخلہ اور باہر نکلنا بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران سی جے پی کے مظاہرین راجیو چوک میٹرو اسٹیشن پر پہنچ گئے اور احتجاجی دھرنا شروع کردیا جس سے اسٹیشن پر افراتفری مچ گئی۔دوسری جانب CJP کے نوجوانوں نے جنتر منتر پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور دیگر چار مطالبات کو لے کر اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر 20 جولائی کے فسادات بشمول پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں جنتر منتر پر مسلسل پہنچ رہے ہیں۔ حکومت سے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم کا استعفیٰ، دہلی فسادات میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی اور ایف آئی آر کی منسوخی شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت چیف جسٹس کا احتجاج جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھوک ہڑتال پر موجود سونم وانگچوک سے کل رات ملاقات کی گئی۔ حکومتی وفد کی آج دوپہر 12 بجے کے بعد چیف جسٹس سے ملاقات متوقع ہے۔ چیف جسٹس نے بھی حکومت سے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
