دلی این سی آر
جی ٹی بی اسپتال کےباہر’آپ ‘کارکنان کا احتجاج
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے ریکھا گپتا حکومت کے مبینہ 650 کروڑ روپے کے دوا گھوٹالے کے خلاف تیسرے روز بھی علامتی احتجاج جاری رکھا۔ بدھ کے روز آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھردواج کی قیادت میں جی ٹی بی اسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں نے، ایم ایل اے سنجیو جھا اور کلدیپ کمار کے ساتھ، خاموش احتجاج کیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ ہم عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ انہیں اسپتالوں میں دوائیں اس لیے نہیں مل رہیں کیونکہ ریکھا گپتا حکومت نے 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کو بابا صاحب امبیڈکر اسپتال کے باہر بھی احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس گھوٹالے کے مرکزی ملزم راجیو رنگیلا کو حکومت نے ملک سے باہر بھیج دیا ہے اور اب جانچ کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہر شعبے میں لوٹ مار میں مصروف ہے اور قواعد کے خلاف ٹینڈر جاری کر کے بھاری کمیشن وصول کیا جا رہا ہے۔سوربھ بھردواج نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے عام آدمی پارٹی دہلی کے مختلف سرکاری اسپتالوں کے باہر خاموش اور علامتی احتجاج کر رہی ہے تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ اگر اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں تو اس کی وجہ ریکھا گپتا حکومت کا مبینہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 کروڑ روپے کی ادویات 400 کروڑ روپے میں خریدی گئیں، یعنی 300 کروڑ روپے کا کمیشن کھایا گیا۔ اسی طرح 10 لاکھ روپے کی ایکس رے مشین 33 لاکھ روپے میں خریدی گئی، جس میں 103 کروڑ روپے کا کمیشن لیا گیا، جبکہ 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خرید کر 50 کروڑ روپے کا کمیشن حاصل کیا گیا۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا اور اس کے مبینہ ماسٹر مائنڈ راجیو رنگیلا کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ سوربھ بھردواج نے کہا کہ دہلی حکومت ایک ماہ تک جانچ کے نام پر خاموش بیٹھی رہی اور اسی دوران مرکزی ملزم کو جرمنی فرار ہونے کا موقع مل گیا۔ جب اصل ملزم ہی ملک سے باہر چلا گیا تو اب جانچ کس کے خلاف ہوگی؟ حکومت صرف جانچ کا ڈرامہ کر رہی ہے۔بچوں کے مڈ ڈے میل میں چھپکلی نکلنے اور صحت سے کھلواڑ کے سوال پر سوربھ بھردواج نے کہا کہ حکومت ہر جگہ لوٹ مار میں مصروف ہے۔ غلط طریقے سے ٹینڈر دیے جا رہے ہیں اور بھاری کمیشن لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سی بی آئی، ای ڈی اور اے سی بی غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں کر رہیں، کیونکہ جن لوگوں پر الزامات ہیں وہی جانچ کو متاثر کر رہے ہیں۔اس موقع پر براڑی سے آپ کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ دہلی حکومت نے صرف ادویات اور اسپتالی سامان کی خریداری میں ہی 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 400 کروڑ روپے کی ادویات خریدنے کا ریکارڈ دکھایا گیا، جبکہ حقیقت میں صرف 100 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں اور 300 کروڑ روپے کا براہِ راست گھوٹالا ہوا۔ ان کے مطابق یہ بات خود اے سی بی کی ایف آئی آر میں بھی سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اشیا بازار قیمت سے 10 سے 12 گنا زیادہ قیمت پر خریدی گئیں۔سنجیو جھا نے کہا کہ جی ٹی بی اسپتال کے اندر پھٹے ہوئے بستر موجود ہیں، مریضوں کے لیے مناسب سہولتیں نہیں ہیں اور نہ ہی علاج کا مناسب انتظام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اسپتالوں کو بھی بدعنوانی کا مرکز بنا دیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اے سی بی کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کیا اس ٹھیکیدار کو گرفتار کیا گیا جس پر بدعنوانی کے الزامات ہیں؟ کیا متعلقہ وزیر نے استعفیٰ دیا؟ ان کے مطابق اگر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہ سمجھتی ہیں کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اے سی بی کی کارروائی صرف دباؤ بنانے کے لیے تھی تاکہ لوٹ کی رقم صرف وزیر صحت تک محدود نہ رہے بلکہ وزیر اعلیٰ تک بھی پہنچے۔ اگر اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو عام آدمی پارٹی اسپتالوں کے باہر مسلسل احتجاج جاری رکھے گی اور اسمبلی میں بھی یہ معاملہ اٹھاتی رہے گی۔اس دوران کونڈلی سے آپ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے کہا کہ حکومت نے دہلی کے عوام کی دوائیں بھی کھا لی ہیں، اسی لیے آج اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ 2.5 روپے کا او آر ایس پیکٹ 15 روپے میں اور 150 روپے کی چادر 450 روپے میں خریدی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے 15 سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے اور ویجیلنس جانچ زیر التوا ہونے کے باوجود ڈاکٹر وتسلا اگروال کو ڈی جی ایچ ایس کا سربراہ مقرر کیا۔کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں ہی ایسے کارنامے انجام دیے ہیں تو اس سے اس کی آئندہ کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حکومت دہلی کو لوٹنے والی حکومت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج عوام علاج کے لیے پریشان ہیں جبکہ 650 کروڑ روپے کا گھوٹالا کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر وزیر صحت سے استعفیٰ لینا چاہیے اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے خود بھی استعفیٰ دینا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس گھوٹالے کی رقم کن کن افراد تک پہنچی۔سی بی آئی اور ای ڈی سے جانچ کرانے کے مطالبے پر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر یہ ایجنسیاں چھوٹے معاملات میں کارروائی کر سکتی ہیں اور مبینہ شراب گھوٹالے میں اروند کیجریوال کو چھ ماہ تک جیل میں رکھ سکتی ہیں تو پھر 650 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالے میں کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔کلدیپ کمار نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کا یہ احتجاج عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں عوام کو لوٹا ہے اور 650 کروڑ روپے کا دوا گھوٹالا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں دوائیں کیوں نہیں مل رہیں، ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے اور مریضوں کی لمبی قطاریں کیوں لگی ہوئی ہیں، اپوزیشن یہ سوالات اٹھاتی رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت اپنے قریبی افسروں کو اہم عہدوں پر بٹھا کر ان کے ذریعے عوامی وسائل کی لوٹ میں ملوث ہے۔
دلی این سی آر
پنجاب میں ہوئے پیپر لیک معاملے پر بی جے پی نے دہلی میں کیا ’آپ‘ دفتر کا گھیراؤ
نئی دہلیـ: دہلی پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پنجاب میں ہوئے پیپر لیک معاملے پر یہاں عام آدمی پارٹیکے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور گرفتاریاں دیں۔دہلی بی جے پی کے صدر ہرش ملہوترا کی قیادت میں پارٹی کارکنان نے پنجاب کے وزیرِ تعلیم سردار ہرجوت سنگھ بینس کی برطرفی کے مطالبے کے حق میں یہاں کے کیننگ لین میں واقع عآپ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔ اس دوران پولیس بی جے پی کارکنان کو حراست میں لے کر مندر مارگ تھانے گئی، جہاں سے انہیں ایک گھنٹے بعد تنبیہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔مظاہرے میں رکنِ پارلیمنٹ یوگیندر چاندولیا، محترمہ کنول جیت سہراوت، محترمہ بانسری سوراج اور محترمہ سواتی مالیوال، پردیش جنرل سکریٹری وشنو متل، محترمہ یوگیتا سنگھ اور مسٹر موہن لال گہارا، پردیش عہدیدار پروین شنکر کپور، مسٹر راجیش بھاٹیا، مسٹر وجے سولنکی، مسٹر سنیل یادو، مسٹر کیلاش جین، مسٹر وکرم بدھوڑی، مسٹر گورو کھاری، ڈاکٹر انیل گپتا، سونا کماری، محترمہ ساریکا جین، مسٹر کوشل مشرا، محترمہ رچا پانڈے، مسٹر کرشن دیو سنگھ، مسٹر ابھیشیک ٹنڈن، سردار گر میت سنگھ سورا، محترمہ پروینا شرما، محترمہ ارچنا گپتا اور مسٹر شبھیندو شیکھر اوستھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔پارٹی کی یووا مورچہ کے صدر رجت چودھری، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) مورچہ کے صدر رجت چودھری نیز پوروانچل مورچہ کے صدر سنتوش اوجھا کی قیادت میں تینوں مورچوں کے ہزاروں کارکنان نے حصہ لیا اور گرفتاریاں دیں۔ مسٹر متل نے کہا کہ ملک کے عوام بالخصوص نوجوان پنجاب میں پیپر لیک پر سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی خاموشی سے حیران ہیں۔مسٹر ملہوترا نے کہا، “آج ہم یہاں عام آدمی پارٹی کے دوہرے کردار اور دوہری سیاست کو بے نقاب کرنے آئے ہیں۔ مرکز میں جب پیپر لیک کا مسئلہ آیا تو عآپ نے سب سے پہلے سڑک جام کی، ہنگامہ کیا اور مرکزی وزیرِ تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اخلاقیات پر تقریر کی، جوابدہی کا ڈھنڈورا پیٹا، لیکن میں پوچھتا ہوںعآپ سے کہ پنجاب میں گزشتہ 4.5 سال میں کیا ہوا؟”
دلی این سی آر
نریندر مودی کو ای-20 لینا ہی پڑے گاواپس:کجریوال
(پی این این)
نئی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ای-20 کے خلاف قومی ٹاؤن ہال کو روکنے کی کوشش کرنے والی مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی جی پولیس کے زور پر یکم اگست کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے اس ٹاؤن ہال کو رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن یکم اگست کو ہی دوپہر 12 بجے سے ای-20 کے خلاف قومی ٹاؤن ہال منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں رقم جمع ہو چکی ہے، بکنگ کی رسید بھی کٹ چکی ہے، لیکن اب پولیس کلب سے بکنگ منسوخ کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ جب کلب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو پولیس اب ہم سے اجازت لینے کو کہہ رہی ہے، حالانکہ انڈور سرگرمیوں کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ای-20 واپس لینا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم اسے خاموشی سے واپس لے لیں، ورنہ عوام اسے واپس لینے پر مجبور کر دیں گے۔ آپ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ ہفتے کی ہفتہ کو ای-20 کے خلاف قومی ٹاؤن ہال منعقد کریں گے، لیکن وہاں پولیس پہنچ گئی۔ مودی جی نے ٹاؤن ہال شروع ہونے سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لی ہے اور پولیس کے ذریعے اسے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے پولیس کانسٹی ٹیوشن کلب کے ذمہ داران کے پاس پہنچی اور کہا کہ انہیں اجازت یا منظوری نہ دی جائے۔ کلب کی جانب سے بتایا گیا کہ منظوری دی جا چکی ہے، رقم جمع ہو چکی ہے، رسید کٹ چکی ہے اور بکنگ بھی ہو چکی ہے۔جب پولیس نے بکنگ منسوخ کرنے کے لیے کہا تو کلب نے انکار کر دیا۔
اس کے بعد پولیس ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اجازت حاصل کریں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ آج تک اس ملک میں کسی بھی انڈور سرگرمی کے لیے کبھی کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ میں وزیراعظم جی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ بتا دیں کہ آخر کس چیز کی اجازت لینی ہے؟ کیا کھانے، پینے، نہانے اور سونے کے لیے بھی اجازت لینی ہوگی؟ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ پولیس کی یہ دھمکی مت دیں۔ عوام نے دکھا دیا ہے کہ وہ مودی جی کی پولیس سے نہیں ڈرتی۔ مودی حکومت زیادہ سے زیادہ لاٹھیاں ہی تو برسائے گی یا جیل ہی تو بھیجے گی، حکومت یہ سب کرکے دیکھ چکی ہے، لیکن اس ملک کی عوام اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔ وزیراعظم جی کو ای-20 واپس لینا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم جی اسے خاموشی سے واپس لے لیں، ورنہ عوام اسے واپس لینے پر مجبور کر دے گی۔
دلی این سی آر
شہریوں کو صاف، صحت مند ماحول فراہم کرنے کیلئے سرکار پرعزم:ریکھا
(پی این این)
نئی دہلی: دہلی حکومت نے دارالحکومت دہلی کو صاف، سرسبز اور کوڑے کے ڈھیروں سے پاک بنانے کی سمت میں ایک اور بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں میونسپل کارپوریشن اور آئل انڈیا لمیٹڈ کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس میں ویسٹ ٹو ویلتھ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دارالحکومت کے تہکھنڈ اور اوکھلا علاقوں میں جدید ترین کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹ لگائے جائیں گے۔اس پروجیکٹ کے آغاز سے نہ صرف دہلی کے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو تقویت ملے گی بلکہ یہ قومی راجدھانی کو آلودگی سے پاک اور ماحول دوست بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ فی الحال، دہلی کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک کچرے کے بڑے پہاڑ ہیں، جو نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ماحول اور آس پاس رہنے والے لوگوں کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
اس نئے معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے بائیو گیس پلانٹس کی کل صلاحیت 800 TPD (ٹن یومیہ) ہوگی۔ یہ پروجیکٹ شہر کے مختلف حصوں سے پیدا ہونے والے الگ الگ نامیاتی کچرے کو براہ راست پروسیس کرے گا۔ کچرے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے سے نہ صرف لینڈ فل سائٹس پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کیا جائے گا بلکہ مقامی آبادی کو کچرے سے ہونے والی بدبو اور نقصان دہ گیس کے اخراج سے بھی خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
اس منصوبے کی اہم طاقت اس کا سرکلر اکانومی ماڈل ہے۔ اس پلانٹ کے ذریعے دو اہم مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ نامیاتی فضلہ کی سائنسی پروسیسنگ سے اعلیٰ معیار کی صاف توانائی، یعنی بائیو سی این جی پیدا ہوگی۔ یہ ایندھن روایتی جیواشم ایندھن کا ایک ماحول دوست متبادل ہے، جسے نقل و حمل اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے شہر میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔ توانائی کی پیداوار کے علاوہ، یہ عمل اعلیٰ معیار کی نامیاتی کھاد بھی تیار کرے گا۔ اس کھاد کو زراعت، باغبانی اور پارکوں کی دیکھ بھال میں استعمال کیا جا سکتا ہے، کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے اور زمین کی زرخیزی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت دارالحکومت کے شہریوں کو صاف، صحت مند اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسٹ ٹو ویلتھ کے وژن پر عمل کرتے ہوئے دہلی حکومت کچرے کو ایک مسئلہ نہیں بلکہ وسائل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا،”یہ کمپریسڈ بایوگیس (CBG) پلانٹس جو تہکھنڈ اور اوکھلا میں لگائے جائیں گے، دہلی کے فضلہ کے انتظام کے نظام کو تبدیل کر دیں گے۔ موجودہ فضلہ کے پہاڑوں کو سائنسی طریقوں سے آہستہ آہستہ ختم کیا جائے گا۔
یہ اقدام نہ صرف کچرے کا مستقل حل فراہم کرے گا بلکہ شہر کو صاف توانائی میں خود کفیل بننے میں بھی مدد دے گا۔”مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد، دونوں فریق، میونسپل کارپوریشن اور آئل انڈیا لمیٹڈ، اس منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے تیزی سے کام کرنا شروع کر دیں گے۔ اس میں پلانٹس کے لیے زمین کی باضابطہ الاٹمنٹ، تکنیکی بلیو پرنٹ کی تیاری، اور دیگر تعمیراتی اقدامات شامل ہیں، یہ سب مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں گے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
