Connect with us

اتر پردیش

اے ایم یو کے مختلف شعبوں اور اداروں میں بین الاقوامی یوم یوگ کی مناسبت سے یوگ تقریبات کا اہتمام

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں، مراکز، اسکولوں اور اقامتی ہالوں میں بین الاقوامی یومِ یوگ 2026 کی مناسبت سے یوگ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ جے این میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے پروفیسر عظمیٰ ارم کی صدارت میں دیہی صحت تربیتی مرکز، جواںمیں یوگ پروگرام منعقد کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد یاسر زبیر نے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کے فروغ میں یوگ کے کردار پر روشنی ڈالی، جبکہ محمد دانش نے مختلف آسنوں، پرانیام اور دیگر آسنوں کا عملی مظاہرہ کیا ۔ پروگرام میں سینئر ریزیڈنٹس، پوسٹ گریجویٹ طلبہ، انٹرنز، ایم ایس ڈبلیو کے طلبہ اور عملے کے اراکین شامل ہوئے۔
فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ نسواں و قبالت نے ’’زچگی سے متعلق طبّی خدمات میں یوگ کا انضمام: ایک نگہداشت ماڈل ‘‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ پروفیسر سید طارق مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں ماؤوں کی صحت، خصوصاً دورانِ حمل اور بعد از زچگی یوگ کے فوائد بیان کیے۔ شعبہ فزیکل ایجوکیشن کے پوسٹ گریجویٹ اسکالر اوصاف احمد نے یوگ کے مختلف آسنوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ صدر شعبہ پروفیسر صبوحی مصطفیٰ نے خواتین کی صحت کی نگہداشت میں شواہد پر مبنی تکمیلی طریق ہائے علاج کی اہمیت بیان کی۔
شعبہ سنسکرت نے طلبہ کی زندگی میں یوگ کی افادیت موضوع پر ہندی میں مضمون نویسی مقابلہ منعقد کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر ساریکا وارشنے نے انسانی زندگی میں یوگ کی اہمیت اور طلبہ کے لیے اس کی افادیت کو اجاگر کیا۔ مقابلے میں مختلف شعبوں کے 28 طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر افتخار، ڈاکٹر کرشن گوپال اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ بھی موجود تھے۔سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں یوگ کے فوائد سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک یوگ سیشن، ’’قدیم بنیادوں سے عالمی تحریک تک‘‘ موضوع پر مضمون نویسی مقابلہ اور ایک کوئز مقابلہ منعقد کیا گیا۔ قائم مقام پرنسپل مسٹر صباح الدین نے صحت مند ذہن اور تناؤ سے پاک زندگی کی تشکیل میں یوگ کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر نوشاد نجیب، مسز زینب اے وسیم اور مسز عائشہ عمران نے پروگراموں کو مربوط کیا۔
آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول کے طلبہ نے شعبہ فزیکل ایجوکیشن کی جانب سے ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگ‘‘ موضوع پر منعقدہ پوسٹر پرزنٹیشن مقابلے میں حصہ لیا۔ اسکول کی نمائندگی کرتے ہوئے دانش، لکی کشیپ اور محمد صفوان نے تخلیقی پوسٹروں کے ذریعے صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں یوگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پرنسپل ڈاکٹر محمد فیاض الدین نے طلبہ کی کاوشوں اور اسپورٹس ٹیچر سید شاہ رخ حسین کی رہنمائی کو سراہا۔بیگم سلطان جہاں ہال میں یوگ بیداری ورکشاپ منعقد کی گئی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نان ریزیڈنٹ اسپورٹس وارڈن سید شاہ رخ حسین نے جسمانی تندرستی، ذہنی یکسوئی، جذباتی خوش حالی اور تناؤ کے بندوبست میں یوگ کے فوائد بیان کیے۔
انہوں نے محمد رہبر کے تعاون سے مختلف یوگ آسنوں اور سانس کی مشقوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ورکشاپ میں وارڈن، عملے کے ارکان، ان کے اہل خانہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ آخر میں نان ریزیڈنٹ وارڈن ڈاکٹر افشاں ناز نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔
وقار الملک ہال میں اجتماعی یوگ مظاہرے اور عملی مشق کا اہتمام کیا گیا۔ یہ سیشن ڈاکٹر نوشاد نجیب نے امیت کمار کے تعاون سے منعقد کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پرووسٹ پروفیسر نوشاد علی پی ایم نے صحت مند بڑھاپے اور مجموعی صحت کے فروغ میں یوگ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیضان احمد، ڈاکٹر عسکر حسین، ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن، منظور احمد اور طلبہ و عملے کے اراکین موجود رہے۔

 

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

کسی بھی صورت میں منہدم نہیں ہونے دیں گے جوہر یونیورسٹی،اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے اکھلیش یادو نے رام پور بھیجا سماجوادی پارٹی کا وفد،ضلع مجسٹریٹ کو سونپا میمورنڈم

Published

on

(پی این این)
رام پور:اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 10 رکنی وفد رام پور پہنچا اور ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو کسی بھی صورت منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور طلبہ سے لے کر اساتذہ تک، سب کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔وفد نے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی سے ملاقات کے دوران یونیورسٹی کی عمارتیں منہدم کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے اور قانون کے مطابق اس مسئلے کا مناسب حل نکالنے کی درخواست کی۔
دوپہر تقریباً سوا ایک بجے سماجوادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کا وفد درجنوں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گاندھی سمادھی واقع سنت شیرو منی روی داس گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ یہاں حامیوں کی بڑی تعداد جمع تھی، جس کے باعث کچھ دیر دھکم پیل بھی ہوئی۔ اس کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کا قافلہ جوہر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گیا۔یونیورسٹی کیمپس میں وفد نے دھرنے پر بیٹھے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کے بعد وفد سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے کلکٹریٹ پہنچا، جہاں ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک یادداشت پیش کی۔وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کلکٹریٹ سے واپسی کے بعد تمام ارکانِ پارلیمنٹ اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ سے ملاقات کی۔
مفاہمت نامہ پر سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدر اجے ساگر، رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان، ہریندر ملک، روچی ویرا، اقرا حسن، نیرج موریہ، ضیاء الرحمٰن برق، دیویش شاکیہ اور رام شیرو منی ورما کے دستخط موجود ہیں۔جوہر یونیورسٹی کو منہدم کیے جانے کی کارروائی کے خلاف رام پور پہنچیں مرادآباد سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ روچی ویرا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کا سوال ہے، اور سماجوادی پارٹی بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
سنبھل سے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو منہدم کرنے کا حکم سراسر غلط ہے اور رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ حکم فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زیرو آور میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے ان کا نمبر بھی آ چکا تھا، لیکن ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
رام پور پہنچیں کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقرا حسن نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔اقرا حسن نے کہا کہ اگر عمارتوں کے نقشوں کو بنیاد بنا کر کارروائی کی جا رہی ہے تو انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والی بے شمار عمارتیں آج بھی بغیر منظور شدہ نقشوں کے موجود ہیں۔ ایسے میں کیا حکومت ان تمام عمارتوں کو بھی منہدم کرے گی؟
راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی قسم کی امید رکھنا بے سود ہے، کیونکہ یہ تعلیم اور عوام دونوں کی مخالف حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک کے لوگ تعلیم حاصل کریں یا غریب خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے۔
جاوید علی خان نے الزام لگایا کہ جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے سے متعلق ضلع انتظامیہ کا حکم غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
مظفر نگر سے رکنِ پارلیمنٹ ہریندر ملک نے اتر پردیش حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت کی توجہ نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے پر ہونی چاہیے، لیکن اس کے برعکس وہ موجودہ تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ارکانِ پارلیمنٹ کے مطالبے کو قبول کرے گی، تو انہوں نے جواب دیا، ’’اگر حکومت مہر نہیں لگائے گی، تو ہم اپنی مہر لگائیں گے۔‘‘

 

Continue Reading

uttar pradesh

گنگا ایکسپریس وے پرالٹ گئی بس،2 مسافروں کی موت، 20 زخمی

Published

on

(پی این این)
سنبھل:اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر اتوار کو ایک مسافر بس الٹ جانے سے دو مسافروں کی موت ہو گئی جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت بس بہرائچ سے پنجاب جا رہی تھی اور اس میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے۔ بہجوئی تھانہ علاقے میں لہراون ایکسچینج کے قریب مبینہ طور پر ڈرائیور کو نیند کی جھپکی آ گئی، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر پہلے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس، پولیس اور یوپیڈا کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، بہجوئی منتقل کیا۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے گجاپور کی رہائشی گنگا رام کی 17 سالہ بیٹی نہا اور گونڈا کے رہائشی للّن کے 35 سالہ بیٹے پنٹو کو مردہ قرار دے دیا۔حادثے میں مہیش، دنیش، چھوٹو، پنکج، وپن، پونم، گڈو، شوبھت، اروند، منّا لال، سریندر کمار، انیتا، گیتا، رومانہ اور راما دیوی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ شدید زخمی چند مسافروں کو بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کا ماہانہ سائنسی سیمینار منعقد ,جدید تحقیق کے بعد لیور ٹرانس پلانٹیشن سے حسب معمول گزرتی ہے زندگی : ڈاکٹر راگھو بنسل

Published

on

(پی این این)
دیوبند:انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن سہارنپور برانچ کے ماہانہ سائنسی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا ۔اس سائنسی اجلاس میں پارس ہاسپٹل ،پنچ کلا سے شرکت کرنے والے ڈاکٹر امت کمار منڈ ل اور ڈاکٹر راگھوبنسل نے اپنے خیالات کا اظہارکیا ۔ ڈاکٹر امت کمار منڈل نے کہا کہ ٹی بی کے مریضوں کو مکمل طور سے اپنا علاج کرانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ درمیان میں علاج چھوڑدینے سے ٹی بی کے بیکڑیامیں مدافعت پیدا ہوجاتی ہے جس کے بعد علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے کسی مریض کے پھینپھڑے میں اگر گھٹلی پیدا ہوجاتی ہے تو ایسے مریضوں کی بروکو اسکوپی کی مددسے ٹھیک ٹھیک جانچ کرنی چاہئے ۔ڈاکٹر راگھو بنسل نے بتایا کہ اگر کسی مریض کا جگر متاثر ہوجائے اور کام کرنا بند کردے تواس طرح کی صورت میں صرف لیور ٹرانس پلانٹیشن ہی واحد علاج ہے ۔ڈاکٹر راگھو بنسل نے کہا کہ اب لیور ٹرانس پلانٹیشن کے بعدمریض معمول کے طور سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔
اس موقع پر انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج آریہ نے سبھی مہمانوں کا استقبال کیا ۔جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر کلیم احمد نے انجام دیئے ۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر انوپم ملک ،ڈاکٹر سدھیر اگروال ،ڈاکٹر پونم کمار ،ڈاکٹر سی ایس چوپڑا ،ڈاکٹر وندنا ورما ،ڈاکٹر انل ملک ،ڈاکٹر سیمااگروال ، ڈاکٹر سدرشن ناگپال ،ڈاکٹر وی ایس پنڈیر ،ڈاکٹر سومیا جین ،ڈاکٹر ڈی کے گپتا، ڈاکٹرمہیش چندرا ،ڈاکٹر رجنیش سنگھل ،ڈاکٹر روی کانت ، ڈاکٹرپروین متل ،ڈاکٹر آرایس پنوار ، ڈاکٹر سفل کمار ،ڈاکٹر ایم کے جین ،ڈاکٹر سعودحسن ،ڈاکٹر خلیل اللہ خاں اور ڈاکٹر رجت بنسل موجود رہے ۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network