Connect with us

uttar pradesh

اسلام میں مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں،دیتے رہیں قرآن وسنت کا درس، اللہ کی رحمت ہر حال میں موجود: محمد اقبال

Published

on

(پی این این)
آگرہ:مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے جمعہ کے خطبے میں مایوسی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، دعا اور مثبت سوچ سے دور کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بہت سے لوگ مختلف مسائل اور پریشانیوں کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ قرآن و سنت انسان کو ہر حال میں امید اور حوصلے کا درس دیتے ہیں۔
محمد اقبال نے کہا کہ مایوسی ایک خطرناک روحانی اور ذہنی کیفیت ہے، جس میں انسان مستقبل کے بارے میں منفی سوچ اختیار کر لیتا ہے اور اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کے حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے۔ ایسی سوچ انسان کو کوشش، دعا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی سورۂ الزمر کی آیت نمبر 53 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید اور رحمت کا عظیم پیغام ہے، جو انسان کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
خطیب نے سورۂ یوسف کی آیت نمبر 87 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے صرف وہی لوگ مایوس ہوتے ہیں جو اس کی قدرت اور رحمت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود امید کا دامن کبھی نہ چھوڑے۔
محمد اقبال نے حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ آزمائشوں کے بعد آسانی ضرور آتی ہے، بشرطیکہ انسان صبر، استقامت اور امید کو برقرار رکھے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ زندگی میں حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، مایوسی کو دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر حال میں موجود ہے اور وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور ان کی مشکلات کو دور کرنے پر قادر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صبر، امید اور اپنے فضل و کرم پر کامل یقین عطا فرمائے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد

Published

on

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔

Continue Reading

uttar pradesh

قبرستان میں پہنچا بارش کا پانی ،باہر آئیںکئی لاشیں ، لوگوں کااظہارغم

Published

on

دیوبند:سہارنپور ضلع کے گاگلہیڑی علاقہ کے سونا سید ماجرا گاؤں میں دریا کا تیزی سے کٹاؤ قبرستان تک پہنچ گیا اور کئی لاشیں باہر نکل گئی، اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے پیاروں کی لاشوں کو تلاش کرنے لگے۔ لاشوں کو مذہبی رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
سونا سید ماجرا قبرستان ہنڈن ندی کے کنارے واقع ہے۔ پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش اور شیوالک علاقہ سے تیز دھارے کی وجہ سے ندی کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانی قبرستان تک پہنچ گیا اور کٹاؤ شروع ہو گیا۔ دریں اثنا، تقریباً چھ ماہ قبل دفن کی گئی دو لاشیں ان کی قبروں سے نکلیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے قبرستان پہنچ گئے اور اپنی قبریں تلاش کرنے لگے۔
گاؤں کے پردھان شاہ زیب حسین نے بتایا کہ ندی میں تجاوزات اور واٹر کورس میں تبدیلی کی وجہ سے دریا کا بہاؤ قبرستان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً ندی کا پانی قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس سے مسلسل کٹاؤ ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج دھرمیندر کمار اور محکمہ ریونیو کی ایک ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قبرستان اور ندی کے پانی کی سطح کا معائنہ کیا۔
نائب تحصیلدار ببلو کمار اور نائب تحصیلدار اسمرتی شکلا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو ریونیو ٹیم کی موجودگی میں دوبارہ دفنایا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔
اس پورے واقعہ سے گاؤں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ دریا کے تیز بہاؤ سے قبرستان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے جس سے خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دیگر قبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی

Published

on

دیوبند:ریاستی حکومت کی ہدایات اور ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق ضلع میں غذائی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے اور ملاوٹ پر مؤثر روک لگانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کی خصوصی مہم مسلسل جاری ہے۔
اسی سلسلے میں چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا کی قیادت میں چھجوپورہ انڈسٹریل ایریا میں واقع شیو لوک فوڈ پروڈکٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
معائنہ کے دوران ادارے میں اچار، ٹماٹو ساس، ریڈ چلی ساس، سویا ساس اور مصنوعی سرکہ فروخت کے لیے تیار حالت میں پائے گئے، جبکہ موقع پر اچار کی پیکنگ کا کام بھی جاری تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے شبہ کی بنیاد پر فروخت کے لیے تیار رکھے گئے ٹماٹو ساس اور ریڈ چلی ساس کے دو نمونے حاصل کر کے فوڈ اینالیسس لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق جانچ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معائنہ کے دوران ادارے میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی بنیاد پر انتظامیہ کو امپروومنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کارروائی میں فوڈ سیفٹی آفیسران جگدمبا پرساد، جواہر لال، ونود کمار، کلدیپ تیواری اور امت گوتم بھی شریک رہے۔ چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا نے کہا کہ ضلع میں عوام کو معیاری اور خالص غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور سیمپلنگ کی مہم آئندہ بھی مسلسل جاری رہے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network