دلی این سی آر
ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا کامیاب انعقاد
نئی دہلی: ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام 4 جولائی 2026، بروز ہفتہ، ایوانِ غالب نئی دہلی میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی تقریب میں ملک بھر سے تشریف لائے ممتاز شعراء، شاعرات، ادباء، دانشوران کے علاوہ محبانِ اُردو اور ادب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو یادگار بنایا۔اس عظیم الشان پروگرام کا اہتمام ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر، معروف و استاد شاعر خمار دہلوی اور ان کے شاگرد و فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری پنڈت پریم بریلوی نے کیا۔مشاعرے کے کنوینر کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے! اس موقع پر محبِ اُردو ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق ، وارث صدیقی ، جاوید خان، استاد صاحب قوال اور ڈاکٹر سید اصدر علی خصوصی طور پر موجود رہے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں قاضی نجم الاسلام نجم اور احترام صدیقی شامل تھے جبکہ معزز مہمانان میں ایڈمرل خرم نور، چاند خان چاند اور قاضی ظاہر بجنوری نے شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز نہایت پروقار انداز میں ہوا۔ ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر خمار دہلوی، مشاعرے کے صدر ڈاکٹر سجاد سید اور دیگر معزز مہمانان و شعرائے کرام نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ شمع روشن ہوتے ہی ایوانِ غالب کی فضا ادب، تہذیب اور شعری روایت کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔اس کے بعد تقریبِ اعزاز منعقد ہوئی، جس میں اُردو ادب اور شاعری کی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
استاد شمیم سردھنوی کو استاد داغ دہلوی ایوارڈ2026، او۔ پی۔ اگروال (سراج دہلوی) کو پنڈت گلزار دہلوی ایوارڈ2026،
اعجاز انصاری کو انور جلال پوری ایوارڈ2026، پیکر پانی پتی کو الطاف حسین حالی ایوارڈ2026، معید رہبر لکھنوی کو منور رانا ایوارڈ2026، تابش رامپوری کو ثاقب عظیم آبادی ایوارڈ2026 اور سلیم دریاپوری کو قیصرالجعفری ایوارڈ2026 سے سرفراز کیا گیا۔
تمام اعزاز یافتگان کی یکِ بعد دیگرے گل پوشی کر کے شال سے نوازہ گیا مزید یہ کہ توصیفی اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اعزاز یافتہ شعراء و ادباء نے ادبی چوپال فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعر و ادب کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خوشگوار اور جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب اسلم بیتاب، ایڈمرل خرم نور اور ہُما دہلوی نے استاد شاعر خمار دہلوی کو شال اوڑھاکر اور پھول مالا پہناکر کر اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ حاضرین نے پُرزور تالیوں کے ساتھ اس منظر کا خیرمقدم کیا۔
تقریبِ اعزاز کے بعد کل ہند مشاعرے کا آغاز معروف ناظم و شاعر وسیم جھنجھانوی نے نعتِ پاک سے کیا۔ اُن کی پُرسوز آواز اور عقیدت سے بھرپور کلام نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔اس کے بعد رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں استاد شمیم سردھنوی، خمار دہلوی، ڈاکٹر سجاد سید، اعجاز انصاری، پیکر پانی پتی، تابش رامپوری، معید رہبر لکھنوی، سلیم دریاپوری، چاند خان چاند، سہیل فاروقی، خرم نور، پنڈت پریم بریلوی، اسلم بیتاب، جاوید عباسی، شکیل خان ساگر، قاضی ظاہر بجنوری، علامہ کمال حفیظی، حامد علی اختر، نعیم بدایونی، قاضی نجم الاسلام نجم، کامل راز دہلوی، سنجے گھائلِ اویس رائن سیہور، وسیم جھنجھانوی، احترام صدیقی، سریندر صفر، گولڈی غضب، اختر گورکھپوریِ عرشمان انصاری عرش، عاصم فراز انصاری، ہُما دہلوی اور طوبیٰ فراز انصاری سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
محبت، انسانیت، قومی یکجہتی، سماجی اقدار، بھائی چارے اور انسانی احساسات پر مبنی اشعار نے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ جگہ جگہ “واہ واہ”، “مکرر ارشاد” اور تالیوں کی گونج سے ایوانِ غالب کی فضا بار بار معطر ہوتی رہی۔
مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام و شاعرات کی خدمت میں بھی پھول مالا، سپاس نامہ اور شال پیش کرکے سبھی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور مسلسل رات 10 بجے تک جاری رہی۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سجاد سید نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ناظم اسلم بیتاب نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اختتامی کلمات میں خمار دہلوی نے کہا کہ اردو اور ہندی ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی دو خوبصورت زبانیں ہیں جو ادب محبت، اخوت اور انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن آئندہ بھی ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی تاکہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکے اور اردو و ہندی کی مشترکہ ادبی روایت کو مزید فروغ ملے۔
یہ کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزازات ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ ایوانِ غالب میں منعقد ہونے والی اس ادبی محفل کی خوشگوار یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہینگی اور ادب دوست حلقوں میں اسے ایک اہم اور تاریخی ادبی تقریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
مشاعرہ میں پیش کردہ اشعار:-
بُغض و نفرت ہی جن کا شیوہ ہے
وہ کبھی نہیں ملتے، ہم نشیں محبت سے۔
— استاد شمیم سر دھنوی
تیرگی حکمراں ہوئی جب سے
روشنی منہ چھپائے بیٹھی ہے!
— خمار دہلوی
تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے!
— ڈاکٹر سجاد سید
دشمن کی صف میں بھائی تھا تلوار پھینک دی
لیکن یہ جنگ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں!
— اعجاز انصاری
پھر اسی محفل میں لیکر آئی ہے قسمت مجھے
کل جہاں “پیکر” ہوئی تھی اپنی رسوائی بہت
پیکر پانی پتی
پروازِ تخیل ہے اگر اوجِ فلک پر
گہرے ہیں سمندر سے خیالات ہمارے۔
— تابش رامپوری
میری منزل کہاں ہے یہ نہیں معلوم ہے لیکن
میں ان سے ہٹ کے چلتا ہوں، جو رستے عام رہتے ہیں۔
— معید رہبر لکھنوی
جھوٹوں نے اقتدار کا گلشن بنا لیا
قبضہ کیا زمین پہ، آنگن ہتھا لیا!
سلیم دریابادی
ایسے ایسے بھی شبِ ہجر کے مارے دیکھے
رات آنکھوں میں کٹی، دن میں ستارے دیکھے۔
چاند خاں چاند
آج کے سامنے آتا نہیں کل کا چہرہ
بدلا بدلا نظر آتا ہے غزل کا چہرہ۔
— سہیل فاروقی
دوستی، پیار، تعلیم اور شاعری
یہ روایت رہی خاندانی میری۔
— ایڈمرل خرم نور
کاریگری کمال ہے تیری میرے خدا
ظاہر ہوئے بغیر ہی کیا کیا بنا دیا۔
— پنڈت پریم بریلوی
مجھ کو منزل نہیں ملی ‘اسلم’
میں نے کانٹوں پہ چل کے دیکھ لیا۔
— اسلم بیتاب
آپ کے گلشن میں دلکشی ہی نہیں
کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے۔
— جاوید عباسی
کچھ رشتے اس بہانے ابھی بے قرار ہیں
کبھی شادیوں میں، آ گئے کبھی انتقال میں!
— قاضی ظاہر بجنوری
ہر آدمی سے سخن کی نہ پوچھئے باتیں
ہر ایک شہر میں حضرتِ کمال تھوڑی ہے!
علامہ کمال حفیظی
جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
نقش تیرے ہی تصور میں سجائے ہم نے!
حامد علی اختر
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اچھا نہیں کیا
دل لے گئے نکال کے اچھا نہیں کیا!
— نعیم بدایونی
دامنِ شب سے جو خوابوں کے پرندے نکلے
اڑ گئے صبح کو جینے کے معنی دے کر۔
— قاضی نجم اسلام نجم
خود ہی برباد ہوا بیٹھا ہوں دل کے ہاتھوں
میں کسی اور پہ الزام لگاؤں کیسے۔
محمد کامل راز دہلوی
اے اردو زباں تجھ پہ بہت ناز ہے مجھ کو
باریکیءِ تہذیب کا انداز ہے مجھ کو!
سنجے گھائل
احسان دشمنوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوستو۔
— احترام صدیقی
شکوہ گلہ نہ کوئی شکایت کیا کرو
چھوٹی سی زندگی ہے محبت کیا کرو۔
— وسیم جھنجھانوی
گاؤں خالی ہو رہے ہیں شہر کے چکر میں
راہ بھولیں کشتیاں لہر کے چکر میں!
— سریندر سُفر
سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ چھوڑ دیتے ہیں
ہم ایسے راہگیروں سے ہی ناطہ چھوڑ دیتے ہیں۔
— گولڈی غضب
امیر لوگ ہیں دل سے کہاں لگاتے ہیں
غریب پیار کی میت اٹھائے پھرتا ہے!
— اختر گورکھپوری
سورج، چاند، ستارے ہیں، جیون کا اجیارا ہے
‘عرش ترنگے کا سمان ہم کو جان سے پیارا ہے!
عرشمان انصاری عرش
ہم بچے کس کام کے ہیں، موبائل کے نام کے ہیں
مسجد سے اسکول تلک، چرچے میرے نام کے ہیں۔
عاصم فراز انصاری
یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ لمحہ عجب اذیّت ہے!
— ہما دہلوی
دہلی والوں کے دل کو بھاتا کیا
نام اس کا لبوں پر آتا کیا
طوبیٰ فراز انصاری
سفِ سامعین میں بیٹھ کر جن دوستو نے محفل کے معیارو تمدن میں اضافہ کیا ان کے اسماءِ گرامی:-
ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق، وارث صدیقی، جاوید خاں، حاجی زبیر احمد، محمد افسر رائین سیہور، استاد قوال، ممتاز احمد (آر.این.آئی)، نیل سنیل، شاعر حالاتی، اکرام الدین انصاری، محمد سرفراز، محمد شہباز، حافظ انعام الحق، حاجی اسرار قریشی، محمد آہل انصاری، سمرین جہاں، شاکرہ خاتون، رفعت انجم انصاری، ثنا انجم انصاری، اریزہ انصاری اور ان کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں سامعین نے تقریب کی رونق بڑھائی۔
دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام ’’میر تقی میر کی یاد میں‘‘ شاندار تقریب
نئی دہلی:اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی کے ملٹی پرپز ہال میں جناب وپن گرگ کی مرتب کردہ ’’دیوانِ میر‘‘ کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر ’’میر تقی میر کی یاد میں‘‘ کے عنوان سے ایک شاندار ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔اس پروگرام میں میر تقی میر کی شخصیت، شاعری اور ادبی وراثت پر ایک فکرانگیز ادبی مذاکرہ منعقد ہوا، جبکہ دوسرے سیشن میں میر کی غزلوں پر مشتمل دل نشیں محفلِ غزل پیش کی گئی۔ یہ پروگرام زبان و ادب اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے حکومتِ دہلی کے وزیر محکمہ فن، ثقافت و السنہ و چیئرمین اردو اکادمی، دہلی جناب کپل مشرا کی مسلسل سرپرستی اور تعاون کا نتیجہ تھا۔ واضح رہے کہ حکومتِ دہلی اور معزز وزیرِ ثقافت کے مسلسل تعاون کے باعث اردو اکادمی، دہلی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں نہایت اہتمام کے ساتھ تسلسل سے جاری ہیں۔
پروگرام کے آغاز میں دہلی حکومت کے محکمۂ فن، ثقافت اور السنہ کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے معزز مہمانانِ جناب امت یادو (سابق سکریٹری، حکومتِ ہند)، جناب پی کے ترپاٹھی (سابق چیف سکریٹری، حکومتِ دہلی)، جناب اشوک مہیشوری (منیجنگ ڈائریکٹر، راج کمل پرکاشن) اور ممتاز غزل گلوکارہ محترمہ ودیا شاہ کو گلدستے پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں جناب لیکھ راج نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جناب وپن گرگ نے دیوانِ میر کو ہندی میں مرتب کرکے ایک نہایت اہم ادبی خدمت انجام دی ہے۔ اس کے ذریعے میر تقی میر کی شاعری ہندی قارئین کے ایک وسیع حلقے تک پہنچ سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کام اس لیے بھی بے حد ضروری تھا کہ میر کی شاعری ہر دور میں زندہ رہنے والی شاعری ہے اور تین صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی ان کا کلام اسی تازگی اور تاثیر کے ساتھ پڑھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
پروگرام کا پہلا سیشن ’’میر تقی میر: شاعر، ان کی شاعری اور ادبی وراثت‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک علمی و ادبی مذاکرے پر مشتمل تھا، جس میں معروف صحافی اور داستان گو جناب دارین شاہدی نے دیوانِ میر کے ہندی ایڈیشن کے مرتب و مدیر جناب وپن گرگ سے میر کی شاعری، زبان، ہندی میں دیوان کی ترتیب کی ضرورت اور اس اہم کام کی تکمیل کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی اور معلومات افزا گفتگو کی۔جناب وپن گرگ نے بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی شاعری سے گہرا لگائو تھا۔ جب انھوں نے میر کو پڑھنے کی خواہش کی تو یہ جان کر افسوس ہوا کہ میر کا مکمل کلام ہندی میں دستیاب نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کے اردو سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ لیا، اردو سیکھی اور پھر میر کا اصل کلام اردو میں پڑھا۔ انھوںنے مزید بتایا کہ دیوانِ میر کے ہندی ایڈیشن کی تیاری کا آغاز 2007 میں کیا تھا اور یہ کتاب تقریباً بیس برس کی مسلسل تحقیق و جستجو کا نتیجہ ہے۔میر کی زبان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ عام بول چال کے الفاظ، محاورات اور روزمرہ کے دلکش استعمال نے میر کو دوسرے شعرا سے ممتاز کیا ہے اور یہی خصوصیت انھیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ دورانِ گفتگو جناب دارین شاہدی نے میر تقی میر کی زندگی سے متعلق کئی دلچسپ واقعات بھی بیان کیے، جن سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔ مذاکرے کے اختتام پر جناب لیکھ راج نے دونوں مذاکرہ کاروں کو گلدستے پیش کرکے ان کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے دوسرے سیشن میں ہندوستان کی ممتاز غزل گلوکارہ اور صفِ اول کی فنکارہ محترمہ ودیا شاہ نے اپنی سحرانگیز آواز اور دلکش انداز میں میر تقی میر کی منتخب غزلیں پیش کرکے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ اس موقع پر نوجوان شاعر ڈاکٹر عبداللہ مراش نے موسیقی، شاعری اور میر کی غزلوں کی غنائیت کے حوالے سے اپنے مختصر مگر بصیرت افروز تاثرات پیش کیے، جس سے اس محفل کی ادبی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض جناب اطہر سعید نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اور اپنی دلکش نظامت سے سامعین کو آغاز سے اختتام تک محفل سے وابستہ رکھا۔پروگرام کا اختتام محکمۂ فن، ثقافت اور السنہ کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔
اس موقع پر مذکورہ معزز مہمانان کے علاوہ ڈاکٹر ایم آر قاسمی، جناب حبیب سیفی، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ساحر داؤد نگری، ڈاکٹر ذکی طارق، جناب علیم الدین اسعدی، جناب حامد علی اختر، جناب شمیم اختر، ڈاکٹر امیر حمزہ ، جناب ابوذر فاطمی، امتیاز احمد اور میر کے متعدد شائقین و ادب دوست افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔
دلی این سی آر
تین اسمبلی حلقوں میں پانی کی سپلائی رہے گی متاثر
نئی دہلی :دہلی جل بورڈ نے مختلف ادوار کے دوران شہر کے 48 سے زیادہ علاقوں اور تین اسمبلی حلقوں میں پانی کی سپلائی میں خلل کی وارننگ دیتے ہوئے دو الگ الگ الرٹ جاری کیا ہے۔ اپنا پہلا الرٹ جاری کرتے ہوئے، جل بورڈ نے اعلان کیا کہ موجودہ پائپ لائن کا ایک حصہ، جسے “ٹرپلیکیٹ مین” کے نام سے جانا جاتا ہے، راج گھاٹ کے قریب سمتا ستھل کے وزیر آباد واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے نکلنے والی، بدھ کو تبدیل کر دی جائے گی اور اسے نئی بچھائی جانے والی پائپ لائن سے جوڑ دیا جائے گا۔جل بورڈ نے کہا کہ اس کام کی وجہ سے 18 گھنٹے کا بند نافذ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں، رام لیلا گراؤنڈ UGR کو سائٹ سے صاف پانی کی فراہمی معطل رہے گی۔ جل بورڈ نے مزید کہا کہ اس مدت کے دوران، رام لیلا گراؤنڈ UGR کمانڈ ایریا کے تحت آنے والے تین اسمبلی حلقوں بالی مارن، مٹیا محل، اور چاندنی چوک (AC-20، 21، اور 22) میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگی۔
ایک اور انتباہ میں، دہلی جل بورڈ نے کہا کہ جنوبی دہلی مین لائن پر ضروری دیکھ بھال کا کام کیا جا رہا ہے، جس سے سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے بدھ 22 جولائی 2026 کو صبح 10 بجے سے پانی کی سپلائی متاثر ہو گی۔ نتیجتاً، اس پلانٹ سے کام کرنے والے علاقوں کو پانی کی سپلائی میں خلل پڑے گا، اور 2 جولائی کی شام کو پانی کی سپلائی کم ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جنوبی دہلی کے 48 سے زیادہ علاقوں کو پانی فراہم کرتا ہے اور ان علاقوں میں رہنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
48+ علاقے جہاں پانی کی سپلائی متاثر ہوگی: کیلاش نگر، گاندھی نگر، کامن ویلتھ گیمز ولیج (CWG ولیج)، پتپڑ گنج، اوکھلا، ذاکر نگر، بٹلہ ہاؤس، ڈی ای ایس یو کالونی، سدھارتھ انکلیو، بھارتی نگر، میرا بائی پولی ٹیکنک، رابندر نگر، خان مارکیٹ، فلیگنگ، جے کالونی، کاکا بازار، کاکا ناگر۔ نظام الدین، پرگتی وہار، دکشن پوری، ایس پی اے ہاسٹلز، دیولی، امبیڈکر نگر، جاہاپور، جیت پور، کالکاجی، موتی باغ، سرائے نگر، لاجپت نگر، بھوگل، این ڈی ایم سی، سرائے کالے خان، اپولو اسپتال، بدر پور، جیت پور، کے اینڈ ایل پاکٹ، سرائیونڈ، سرائے نگر، سرائے نگر، جی اینڈ ایل جیبی، سرائے اور جنوبی، سرائے نگر علاقے، چھتر پور، سرینواسپوری، امر کالونی، مالویہ نگر، ذاکر نگر کے قریب، دھال ان پارک، اشوکا پارک کے قریب مین روڈ، لائنز ہاسپٹل، اور خضر آباد گاؤں۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں، DJB نے کہا، “کیلاش نگر کے مہاویر سوامی پارک میں 1900 ملی میٹر قطر کی جنوبی دہلی مین لائن پر کچھ بڑے دیکھ بھال کے کام کی وجہ سے، سونیا وہار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے جنوبی دہلی کی مین لائن کو پانی کی سپلائی 8 گھنٹے تک متاثر رہے گی، 22 جولائی کو صبح 10 بجے سے شروع ہونے والی اس مدت کے دوران گھر گھر پانی کی سپلائی نہیں ہوگی۔ (شام) اور 23 جولائی (صبح) کو پانی کا دباؤ کم رہے گا۔ واٹر بورڈ نے رہائشیوں کو مناسب پانی ذخیرہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹینکرز کو کال کرنے کے لیے نمبر جاری کیے ہیں۔
دلی این سی آر
دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشن، بشمول راجیو چوک اور جن پتھ بند
نئی دہلی :دہلی میٹرو اسٹیشن بند: دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشن آج ایک بار پھر بند کردیئے گئے ہیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر جن پتھ، راجیو چوک، پٹیل چوک، اور مرکزی سیکرٹریٹ سمیت 16 اسٹیشنوں پر داخلہ اور اخراج بند رہے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 20 جولائی کو چیف جسٹس کے احتجاج کی وجہ سے راجیو چوک سمیت پانچ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں کو چند گھنٹوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔بدھ کو، DMRC نے اعلان کیا کہ ان میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور خارجی راستے فی الحال بند رہیں گے۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ میٹرو سے سفر کرنے سے پہلے اسٹیشن کی حیثیت کو چیک کریں۔ تاہم یہ سٹیشن دوبارہ کب کھلیں گے اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، پٹیل چوک، رام کرشنا آشرم مارگ، براکھمبا روڈ، سپریم کورٹ، سیوا تیرتھا، جن پتھ، منڈی ہاؤس، مرکزی سیکرٹریٹ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، اندرا پرستھ، خان مارکیٹ، جور باغ، اور شیواجی اسٹیڈیم آج میٹرو اسٹیشن بند رہیں گے۔ ڈی ایم آر سی نے یہ بھی کہا کہ راجیو چوک اور مرکزی سکریٹریٹ پر انٹرچینج کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔واضح رہے کہ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے پارلیمنٹ مارچ کی وجہ سے دہلی کے کچھ میٹرو اسٹیشن بند کردیئے گئے تھے۔ نئی دہلی میں پٹیل چوک، راجیو چوک، صنعت بھون، سیوا تیرتھا، اور مرکزی سیکرٹریٹ میٹرو اسٹیشنوں پر داخلہ اور باہر نکلنا بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران سی جے پی کے مظاہرین راجیو چوک میٹرو اسٹیشن پر پہنچ گئے اور احتجاجی دھرنا شروع کردیا جس سے اسٹیشن پر افراتفری مچ گئی۔دوسری جانب CJP کے نوجوانوں نے جنتر منتر پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور دیگر چار مطالبات کو لے کر اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر 20 جولائی کے فسادات بشمول پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں جنتر منتر پر مسلسل پہنچ رہے ہیں۔ حکومت سے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم کا استعفیٰ، دہلی فسادات میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی اور ایف آئی آر کی منسوخی شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت چیف جسٹس کا احتجاج جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھوک ہڑتال پر موجود سونم وانگچوک سے کل رات ملاقات کی گئی۔ حکومتی وفد کی آج دوپہر 12 بجے کے بعد چیف جسٹس سے ملاقات متوقع ہے۔ چیف جسٹس نے بھی حکومت سے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
