Connect with us

دلی این سی آر

ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا کامیاب انعقاد

Published

on

نئی دہلی: ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام 4 جولائی 2026، بروز ہفتہ، ایوانِ غالب نئی دہلی میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی تقریب میں ملک بھر سے تشریف لائے ممتاز شعراء، شاعرات، ادباء، دانشوران کے علاوہ محبانِ اُردو اور ادب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو یادگار بنایا۔اس عظیم الشان پروگرام کا اہتمام ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر، معروف و استاد شاعر خمار دہلوی اور ان کے شاگرد و فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری پنڈت پریم بریلوی نے کیا۔مشاعرے کے کنوینر کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے! اس موقع پر محبِ اُردو ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق ، وارث صدیقی ، جاوید خان، استاد صاحب قوال اور ڈاکٹر سید اصدر علی خصوصی طور پر موجود رہے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں قاضی نجم الاسلام نجم اور احترام صدیقی شامل تھے جبکہ معزز مہمانان میں ایڈمرل خرم نور، چاند خان چاند اور قاضی ظاہر بجنوری نے شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز نہایت پروقار انداز میں ہوا۔ ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر خمار دہلوی، مشاعرے کے صدر ڈاکٹر سجاد سید اور دیگر معزز مہمانان و شعرائے کرام نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ شمع روشن ہوتے ہی ایوانِ غالب کی فضا ادب، تہذیب اور شعری روایت کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔اس کے بعد تقریبِ اعزاز منعقد ہوئی، جس میں اُردو ادب اور شاعری کی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
استاد شمیم سردھنوی کو استاد داغ دہلوی ایوارڈ2026، او۔ پی۔ اگروال (سراج دہلوی) کو پنڈت گلزار دہلوی ایوارڈ2026،
اعجاز انصاری کو انور جلال پوری ایوارڈ2026، پیکر پانی پتی کو الطاف حسین حالی ایوارڈ2026، معید رہبر لکھنوی کو منور رانا ایوارڈ2026، تابش رامپوری کو ثاقب عظیم آبادی ایوارڈ2026 اور سلیم دریاپوری کو قیصرالجعفری ایوارڈ2026 سے سرفراز کیا گیا۔
تمام اعزاز یافتگان کی یکِ بعد دیگرے گل پوشی کر کے شال سے نوازہ گیا مزید یہ کہ توصیفی اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اعزاز یافتہ شعراء و ادباء نے ادبی چوپال فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعر و ادب کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خوشگوار اور جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب اسلم بیتاب، ایڈمرل خرم نور اور ہُما دہلوی نے استاد شاعر خمار دہلوی کو شال اوڑھاکر اور پھول مالا پہناکر کر اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ حاضرین نے پُرزور تالیوں کے ساتھ اس منظر کا خیرمقدم کیا۔
تقریبِ اعزاز کے بعد کل ہند مشاعرے کا آغاز معروف ناظم و شاعر وسیم جھنجھانوی نے نعتِ پاک سے کیا۔ اُن کی پُرسوز آواز اور عقیدت سے بھرپور کلام نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔اس کے بعد رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں استاد شمیم سردھنوی، خمار دہلوی، ڈاکٹر سجاد سید، اعجاز انصاری، پیکر پانی پتی، تابش رامپوری، معید رہبر لکھنوی، سلیم دریاپوری، چاند خان چاند، سہیل فاروقی، خرم نور، پنڈت پریم بریلوی، اسلم بیتاب، جاوید عباسی، شکیل خان ساگر، قاضی ظاہر بجنوری، علامہ کمال حفیظی، حامد علی اختر، نعیم بدایونی، قاضی نجم الاسلام نجم، کامل راز دہلوی، سنجے گھائلِ اویس رائن سیہور، وسیم جھنجھانوی، احترام صدیقی، سریندر صفر، گولڈی غضب، اختر گورکھپوریِ عرشمان انصاری عرش، عاصم فراز انصاری، ہُما دہلوی اور طوبیٰ فراز انصاری سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
محبت، انسانیت، قومی یکجہتی، سماجی اقدار، بھائی چارے اور انسانی احساسات پر مبنی اشعار نے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ جگہ جگہ “واہ واہ”، “مکرر ارشاد” اور تالیوں کی گونج سے ایوانِ غالب کی فضا بار بار معطر ہوتی رہی۔
مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام و شاعرات کی خدمت میں بھی پھول مالا، سپاس نامہ اور شال پیش کرکے سبھی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور مسلسل رات 10 بجے تک جاری رہی۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سجاد سید نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ناظم اسلم بیتاب نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اختتامی کلمات میں خمار دہلوی نے کہا کہ اردو اور ہندی ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی دو خوبصورت زبانیں ہیں جو ادب محبت، اخوت اور انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن آئندہ بھی ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی تاکہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکے اور اردو و ہندی کی مشترکہ ادبی روایت کو مزید فروغ ملے۔
یہ کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزازات ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ ایوانِ غالب میں منعقد ہونے والی اس ادبی محفل کی خوشگوار یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہینگی اور ادب دوست حلقوں میں اسے ایک اہم اور تاریخی ادبی تقریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
​مشاعرہ میں پیش کردہ اشعار:-
​بُغض و نفرت ہی جن کا شیوہ ہے
وہ کبھی نہیں ملتے، ہم نشیں محبت سے۔
— استاد شمیم سر دھنوی
​تیرگی حکمراں ہوئی جب سے
روشنی منہ چھپائے بیٹھی ہے!
— خمار دہلوی
​تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے!
— ڈاکٹر سجاد سید
​دشمن کی صف میں بھائی تھا تلوار پھینک دی
لیکن یہ جنگ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں!
— اعجاز انصاری
پھر اسی محفل میں لیکر آئی ہے قسمت مجھے
کل جہاں “پیکر” ہوئی تھی اپنی رسوائی بہت
پیکر پانی پتی
​پروازِ تخیل ہے اگر اوجِ فلک پر
گہرے ہیں سمندر سے خیالات ہمارے۔
— تابش رامپوری
​میری منزل کہاں ہے یہ نہیں معلوم ہے لیکن
میں ان سے ہٹ کے چلتا ہوں، جو رستے عام رہتے ہیں۔
— معید رہبر لکھنوی
​جھوٹوں نے اقتدار کا گلشن بنا لیا
قبضہ کیا زمین پہ، آنگن ہتھا لیا!
سلیم دریابادی
​ایسے ایسے بھی شبِ ہجر کے مارے دیکھے
رات آنکھوں میں کٹی، دن میں ستارے دیکھے۔
چاند خاں چاند
​آج کے سامنے آتا نہیں کل کا چہرہ
بدلا بدلا نظر آتا ہے غزل کا چہرہ۔
— سہیل فاروقی
​دوستی، پیار، تعلیم اور شاعری
یہ روایت رہی خاندانی میری۔
— ایڈمرل خرم نور
​کاریگری کمال ہے تیری میرے خدا
ظاہر ہوئے بغیر ہی کیا کیا بنا دیا۔
— پنڈت پریم بریلوی

​مجھ کو منزل نہیں ملی ‘اسلم’
میں نے کانٹوں پہ چل کے دیکھ لیا۔
— اسلم بیتاب

​آپ کے گلشن میں دلکشی ہی نہیں
کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے۔
— جاوید عباسی
​کچھ رشتے اس بہانے ابھی بے قرار ہیں
کبھی شادیوں میں، آ گئے کبھی انتقال میں!
— قاضی ظاہر بجنوری
​ہر آدمی سے سخن کی نہ پوچھئے باتیں
ہر ایک شہر میں حضرتِ کمال تھوڑی ہے!
علامہ کمال حفیظی
​جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
نقش تیرے ہی تصور میں سجائے ہم نے!
حامد علی اختر
​آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اچھا نہیں کیا
دل لے گئے نکال کے اچھا نہیں کیا!
— نعیم بدایونی
​دامنِ شب سے جو خوابوں کے پرندے نکلے
اڑ گئے صبح کو جینے کے معنی دے کر۔
— قاضی نجم اسلام نجم
​خود ہی برباد ہوا بیٹھا ہوں دل کے ہاتھوں
میں کسی اور پہ الزام لگاؤں کیسے۔
محمد کامل راز دہلوی
​اے اردو زباں تجھ پہ بہت ناز ہے مجھ کو
باریکیءِ تہذیب کا انداز ہے مجھ کو!
سنجے گھائل
​احسان دشمنوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوستو۔
— احترام صدیقی
​شکوہ گلہ نہ کوئی شکایت کیا کرو
چھوٹی سی زندگی ہے محبت کیا کرو۔
— وسیم جھنجھانوی
​گاؤں خالی ہو رہے ہیں شہر کے چکر میں
راہ بھولیں کشتیاں لہر کے چکر میں!
— سریندر سُفر
​سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ چھوڑ دیتے ہیں
ہم ایسے راہگیروں سے ہی ناطہ چھوڑ دیتے ہیں۔
— گولڈی غضب
​امیر لوگ ہیں دل سے کہاں لگاتے ہیں
غریب پیار کی میت اٹھائے پھرتا ہے!
— اختر گورکھپوری

​سورج، چاند، ستارے ہیں، جیون کا اجیارا ہے
‘عرش ترنگے کا سمان ہم کو جان سے پیارا ہے!
عرشمان انصاری عرش

​ہم بچے کس کام کے ہیں، موبائل کے نام کے ہیں
مسجد سے اسکول تلک، چرچے میرے نام کے ہیں۔
عاصم فراز انصاری
​یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ لمحہ عجب اذیّت ہے!
— ہما دہلوی
​دہلی والوں کے دل کو بھاتا کیا
نام اس کا لبوں پر آتا کیا
طوبیٰ فراز انصاری
​سفِ سامعین میں بیٹھ کر جن دوستو نے محفل کے معیارو تمدن میں اضافہ کیا ان کے اسماءِ گرامی:-
​ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق، وارث صدیقی، جاوید خاں، حاجی زبیر احمد، محمد افسر رائین سیہور، استاد قوال، ممتاز احمد (آر.این.آئی)، نیل سنیل، شاعر حالاتی، اکرام الدین انصاری، محمد سرفراز، محمد شہباز، حافظ انعام الحق، حاجی اسرار قریشی، محمد آہل انصاری، سمرین جہاں، شاکرہ خاتون، رفعت انجم انصاری، ثنا انجم انصاری، اریزہ انصاری اور ان کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں سامعین نے تقریب کی رونق بڑھائی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

این ڈی ایم سی نے جنتر منتر پر کچرا صاف کرناکیاشروع

Published

on

نئی دہلی :جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔ مظاہرین اب اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور احتجاجی مقام پر کاکروچ پارٹی کا اسٹیج بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ این ڈی ایم سی اب جنتر منتر اور آس پاس کے علاقے کی صفائی میں مصروف ہے۔ یہ دہلی کے صاف ستھرے علاقوں میں سے ایک ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جنتر منتر اور اس سے جڑی سڑکوں سے تقریباً 60 میٹرک ٹن کچرا ہٹایا جائے گا۔ احتجاج ختم ہونے کے بعد صفائی کے کارکنان، گاڑیاں اور دیگر صفائی کا سامان رات بھر تعینات کر دیا گیا۔ این ڈی ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کے ملازمین زمین پر صفائی کی کوششوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ٹالسٹائی مارگ، جنتر منتر، پارلیمنٹ مارگ، جئے سنگھ مارگ، اور کناٹ پلیس میں صفائی کی ٹیمیں تعینات ہیں۔این ڈی ایم سی کے مطابق، 75 صفائی کارکنوں کو رات بھر تعینات کیا گیا، جبکہ اتوار کی صبح مزید 35 کو بلایا گیا۔ ہفتہ کی رات تک کل 40 میٹرک ٹن کچرا جمع کیا جا چکا تھا، صبح سے مزید 12 میٹرک ٹن کچرا جمع کیا گیا۔کارپوریشن نے اس علاقے میں آٹھ آٹو ٹپر، دو بڑے ٹرک، ایک کھدائی کرنے والا، اور تین پریشر جیٹنگ مشینیں تعینات کی ہیں۔ پریشر جیٹنگ مشینیں جنتر منتر کے اطراف کی سڑکوں سے ملبہ صاف کر رہی ہیں، جبکہ مکینیکل روڈ سویپر اور صفائی کے کارکنوں کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں صفائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔صفائی کے ساتھ ساتھ مرمت کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔ ٹیمیں مظاہروں کے دوران خراب ہونے والے کرب اسٹونز اور فٹ پاتھوں کی مرمت بھی کر رہی ہیں۔ وہ پینٹ کے ساتھ دیواروں پر لکھے نعروں کو بھی ہٹا رہے ہیں اور عوامی مقامات کی صفائی کر رہے ہیں۔مظاہرین کی ایک بڑی تعداد جنتر منتر اور اس کے آس پاس جمع ہو گئی، جس سے علاقے میں بڑی مقدار میں کچرا پڑا ہے، جسے تیزی سے ہٹایا جا رہا ہے۔این ڈی ایم سی نے جمعہ کو احتجاجی مقام سے 27 میٹرک ٹن کچرا ہٹایا، جو ایک دن پہلے 15 میٹرک ٹن تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد کچرا ہٹانے کے لیے وقت ضائع کیے بغیر علاقے کو صاف کرنے کی ضرورت تھی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی حکومت نےکیالتا گپتاکو خواتین کمیشن کی چیئرپرسن مقرر

Published

on

دہلی حکومت نےکیالتا گپتاکو خواتین کمیشن کی چیئرپرسن مقرر
دہلی حکومت نے خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کا تقرر کیا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے لتا گپتا کو دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ انہوں نے پانچ خواتین کو بھی کمیشن کے رکن کے طور پر نامزد کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی طرف سے مقرر کردہ خواتین میں شیام بالا، مالتی ورما، لتا سودھی، سانریکا شرما اور رینو بھلا شامل ہیں۔دہلی کمیشن برائے خواتین کی تشکیل اور ممبران کے ساتھ چیئرپرسن کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کمیشن برائے خواتین خواتین کی حفاظت، وقار اور حقوق کے تحفظ اور بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمیشن کے چھ ارکان کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے، ریکھا گپتا نے کہا کہ ان تقرریوں سے کمیشن کے کام کاج کو نئی تحریک ملے گی اور خواتین کی انصاف، تحفظ اور مدد تک رسائی میں آسانی ہوگی۔2024 میں، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی اس وقت کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کمیشن کی چیئرپرسن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور راجیہ سبھا کی رکن بن گئیں۔ اس وقت عام آدمی پارٹی اقتدار میں تھی اور سواتی مالیوال نے بغاوت کر کے راجیہ سبھا کی سیٹ کا انتخاب کیا۔ اس وقت سے یہ عہدہ خالی تھا۔ سواتی مالیوال کی رخصتی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کمیشن کی مستقل چیئرپرسن کی تقرری کی گئی ہے۔ اب لتا گپتا کے نام کا اعلان کیا گیا ہے، وہ دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن بن رہی ہیں۔جنوری 2024 میں سواتی مالیوال کے کمیشن کی چیئرپرسن کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد، کوئی مستقل چیئرپرسن مقرر نہیں کیا گیا۔ اب دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے لتا گپتا کو چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل خواتین کمیشن کا انتظامی کام خواتین اور بچوں کے حقوق کی وزارت کی سکریٹری رشمی سنگھ سنبھالتی تھیں۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی یونیور سٹی نےجاری کیا داخلہ کی دوسری فہرست

Published

on

نئی دہلی : دہلی یونیورسٹی میں داخلے کی جنگ ابھی جاری ہے۔ ہزاروں طلباء اور ان کے والدین پورٹل کو بار بار ریفریش کر رہے تھے جب DU نے دوسری گولی چلائی۔ 2026-27 کے سیشن کے لیے کامن سیٹ ایلوکیشن سسٹم (CSAS-UG) کے راؤنڈ 2 کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں، جس سے لاکھوں امیدواروں کے دل کی دھڑکنیں بلند ہو گئی ہیں۔ جہاں پہلے راؤنڈ میں 61,000 سے زیادہ طلباء نے اپنی نشستیں حاصل کیں، وہیں دوسرے راؤنڈ میں ایک نئی تصویر سامنے آئی ہے، جس میں بہت سے ایسے طلباء بھی شامل ہیں جو پہلی بار فہرست میں اپنے نام دیکھ رہے ہیں۔دوسرے راؤنڈ میں حصہ لینے والے امیدوار اب اپنے داخلے کے ڈیش بورڈ میں لاگ ان کرکے اپنی سیٹ کا اسٹیٹس چیک کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق راؤنڈ 2 میں کل 24,814 نئی سیٹیں مختص کی گئی تھیں۔ یہ وہ طلباء ہیں جنہوں نے پہلی بار کسی کالج یا کورس میں جگہ حاصل کی ہے۔ مزید برآں، وہاں 30,682 امیدوار ہیں جنہوں نے اپنے پہلے انتخاب والے کالج یا کورس میں اپ گریڈ حاصل کیا ہے، یعنی اب ان کے پاس ایک بہتر آپشن ہے۔ دریں اثنا، 15,265 طلباء نے پچھلے راؤنڈ کے بعد اپنی سیٹیں منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، یعنی وہ اپنی موجودہ مختص سے پوری طرح مطمئن ہیں اور مزید کوئی تبدیلی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اب آخری تاریخ کا وقت ہے، اور یہاں کوئی بھی تاخیر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ راؤنڈ 2 میں نشستیں حاصل کرنے والے امیدواروں کو 26 جولائی 2026 بروز اتوار رات 11:59 بجے تک اپنی الاٹ کردہ نشستیں قبول کرنی چاہئیں۔ اگر کسی وجہ سے، کوئی طالب علم اس مقررہ وقت کے اندر اپنی نشست قبول کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو ان کی الاٹ کردہ نشست منسوخ ہو سکتی ہے۔ اس لیے، آخری گھنٹوں کا انتظار کرنے کے بجائے، بہتر ہے کہ پورٹل پر جائیں اور جلد از جلد اس عمل کو مکمل کریں۔نشست قبول کرنے کے بعد یہ عمل ختم نہیں ہوا ہے۔ اس کے بعد طلباء کو مطلوبہ داخلہ فیس ادا کرکے داخلہ کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ فیس کی ادائیگی کی آخری تاریخ 28 جولائی 2026 بروز منگل رات 11:59 بجے ہے۔ جو طلبا اس آخری تاریخ سے محروم رہتے ہیں انہیں آگے کا راستہ مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ محدود نشستیں یونیورسٹی کو اگلے راؤنڈ میں جانے پر مجبور کرتی ہیں۔ایک اور اہم نوٹ: یونیورسٹی نے راؤنڈ 2 کے لیے کم از کم الاٹمنٹ اسکور بھی جاری کیے ہیں۔ اس بار اپنے کورس اور کالج کے لیے کٹ آف جاننے کے خواہشمند طلبہ مکمل معلومات، داخلہ کا شیڈول اور دیگر اہم تفصیلات دیکھنے کے لیے سرکاری DU داخلہ پورٹل، admission.uod.ac.in پر جا سکتے ہیں۔DU انتظامیہ نے تمام امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے داخلے کے ڈیش بورڈ اور یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ کو باقاعدگی سے مانیٹر کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ CSAS-UG 2026 داخلہ کے عمل سے متعلق کسی بھی اپ ڈیٹ سے محروم نہ ہوں۔ اس بار جس رفتار سے اپ گریڈ اور نئے مختص کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے راؤنڈز میں مقابلہ اتنا ہی شدید ہوگا۔ فی الحال ہزاروں خاندان اپنے ڈیش بورڈز پر چپکے ہوئے ہیں، اور اگلے 48 گھنٹے داخلے کے پورے سیزن کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network