Connect with us

دلی این سی آر

ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا کامیاب انعقاد

Published

on

نئی دہلی: ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام 4 جولائی 2026، بروز ہفتہ، ایوانِ غالب نئی دہلی میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی تقریب میں ملک بھر سے تشریف لائے ممتاز شعراء، شاعرات، ادباء، دانشوران کے علاوہ محبانِ اُردو اور ادب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو یادگار بنایا۔اس عظیم الشان پروگرام کا اہتمام ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر، معروف و استاد شاعر خمار دہلوی اور ان کے شاگرد و فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری پنڈت پریم بریلوی نے کیا۔مشاعرے کے کنوینر کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے! اس موقع پر محبِ اُردو ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق ، وارث صدیقی ، جاوید خان، استاد صاحب قوال اور ڈاکٹر سید اصدر علی خصوصی طور پر موجود رہے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں قاضی نجم الاسلام نجم اور احترام صدیقی شامل تھے جبکہ معزز مہمانان میں ایڈمرل خرم نور، چاند خان چاند اور قاضی ظاہر بجنوری نے شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز نہایت پروقار انداز میں ہوا۔ ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر خمار دہلوی، مشاعرے کے صدر ڈاکٹر سجاد سید اور دیگر معزز مہمانان و شعرائے کرام نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ شمع روشن ہوتے ہی ایوانِ غالب کی فضا ادب، تہذیب اور شعری روایت کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔اس کے بعد تقریبِ اعزاز منعقد ہوئی، جس میں اُردو ادب اور شاعری کی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
استاد شمیم سردھنوی کو استاد داغ دہلوی ایوارڈ2026، او۔ پی۔ اگروال (سراج دہلوی) کو پنڈت گلزار دہلوی ایوارڈ2026،
اعجاز انصاری کو انور جلال پوری ایوارڈ2026، پیکر پانی پتی کو الطاف حسین حالی ایوارڈ2026، معید رہبر لکھنوی کو منور رانا ایوارڈ2026، تابش رامپوری کو ثاقب عظیم آبادی ایوارڈ2026 اور سلیم دریاپوری کو قیصرالجعفری ایوارڈ2026 سے سرفراز کیا گیا۔
تمام اعزاز یافتگان کی یکِ بعد دیگرے گل پوشی کر کے شال سے نوازہ گیا مزید یہ کہ توصیفی اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اعزاز یافتہ شعراء و ادباء نے ادبی چوپال فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعر و ادب کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خوشگوار اور جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب اسلم بیتاب، ایڈمرل خرم نور اور ہُما دہلوی نے استاد شاعر خمار دہلوی کو شال اوڑھاکر اور پھول مالا پہناکر کر اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ حاضرین نے پُرزور تالیوں کے ساتھ اس منظر کا خیرمقدم کیا۔
تقریبِ اعزاز کے بعد کل ہند مشاعرے کا آغاز معروف ناظم و شاعر وسیم جھنجھانوی نے نعتِ پاک سے کیا۔ اُن کی پُرسوز آواز اور عقیدت سے بھرپور کلام نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔اس کے بعد رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں استاد شمیم سردھنوی، خمار دہلوی، ڈاکٹر سجاد سید، اعجاز انصاری، پیکر پانی پتی، تابش رامپوری، معید رہبر لکھنوی، سلیم دریاپوری، چاند خان چاند، سہیل فاروقی، خرم نور، پنڈت پریم بریلوی، اسلم بیتاب، جاوید عباسی، شکیل خان ساگر، قاضی ظاہر بجنوری، علامہ کمال حفیظی، حامد علی اختر، نعیم بدایونی، قاضی نجم الاسلام نجم، کامل راز دہلوی، سنجے گھائلِ اویس رائن سیہور، وسیم جھنجھانوی، احترام صدیقی، سریندر صفر، گولڈی غضب، اختر گورکھپوریِ عرشمان انصاری عرش، عاصم فراز انصاری، ہُما دہلوی اور طوبیٰ فراز انصاری سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
محبت، انسانیت، قومی یکجہتی، سماجی اقدار، بھائی چارے اور انسانی احساسات پر مبنی اشعار نے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ جگہ جگہ “واہ واہ”، “مکرر ارشاد” اور تالیوں کی گونج سے ایوانِ غالب کی فضا بار بار معطر ہوتی رہی۔
مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام و شاعرات کی خدمت میں بھی پھول مالا، سپاس نامہ اور شال پیش کرکے سبھی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور مسلسل رات 10 بجے تک جاری رہی۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سجاد سید نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ناظم اسلم بیتاب نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اختتامی کلمات میں خمار دہلوی نے کہا کہ اردو اور ہندی ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی دو خوبصورت زبانیں ہیں جو ادب محبت، اخوت اور انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن آئندہ بھی ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی تاکہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکے اور اردو و ہندی کی مشترکہ ادبی روایت کو مزید فروغ ملے۔
یہ کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزازات ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ ایوانِ غالب میں منعقد ہونے والی اس ادبی محفل کی خوشگوار یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہینگی اور ادب دوست حلقوں میں اسے ایک اہم اور تاریخی ادبی تقریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
​مشاعرہ میں پیش کردہ اشعار:-
​بُغض و نفرت ہی جن کا شیوہ ہے
وہ کبھی نہیں ملتے، ہم نشیں محبت سے۔
— استاد شمیم سر دھنوی
​تیرگی حکمراں ہوئی جب سے
روشنی منہ چھپائے بیٹھی ہے!
— خمار دہلوی
​تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے!
— ڈاکٹر سجاد سید
​دشمن کی صف میں بھائی تھا تلوار پھینک دی
لیکن یہ جنگ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں!
— اعجاز انصاری
پھر اسی محفل میں لیکر آئی ہے قسمت مجھے
کل جہاں “پیکر” ہوئی تھی اپنی رسوائی بہت
پیکر پانی پتی
​پروازِ تخیل ہے اگر اوجِ فلک پر
گہرے ہیں سمندر سے خیالات ہمارے۔
— تابش رامپوری
​میری منزل کہاں ہے یہ نہیں معلوم ہے لیکن
میں ان سے ہٹ کے چلتا ہوں، جو رستے عام رہتے ہیں۔
— معید رہبر لکھنوی
​جھوٹوں نے اقتدار کا گلشن بنا لیا
قبضہ کیا زمین پہ، آنگن ہتھا لیا!
سلیم دریابادی
​ایسے ایسے بھی شبِ ہجر کے مارے دیکھے
رات آنکھوں میں کٹی، دن میں ستارے دیکھے۔
چاند خاں چاند
​آج کے سامنے آتا نہیں کل کا چہرہ
بدلا بدلا نظر آتا ہے غزل کا چہرہ۔
— سہیل فاروقی
​دوستی، پیار، تعلیم اور شاعری
یہ روایت رہی خاندانی میری۔
— ایڈمرل خرم نور
​کاریگری کمال ہے تیری میرے خدا
ظاہر ہوئے بغیر ہی کیا کیا بنا دیا۔
— پنڈت پریم بریلوی

​مجھ کو منزل نہیں ملی ‘اسلم’
میں نے کانٹوں پہ چل کے دیکھ لیا۔
— اسلم بیتاب

​آپ کے گلشن میں دلکشی ہی نہیں
کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے۔
— جاوید عباسی
​کچھ رشتے اس بہانے ابھی بے قرار ہیں
کبھی شادیوں میں، آ گئے کبھی انتقال میں!
— قاضی ظاہر بجنوری
​ہر آدمی سے سخن کی نہ پوچھئے باتیں
ہر ایک شہر میں حضرتِ کمال تھوڑی ہے!
علامہ کمال حفیظی
​جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
نقش تیرے ہی تصور میں سجائے ہم نے!
حامد علی اختر
​آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اچھا نہیں کیا
دل لے گئے نکال کے اچھا نہیں کیا!
— نعیم بدایونی
​دامنِ شب سے جو خوابوں کے پرندے نکلے
اڑ گئے صبح کو جینے کے معنی دے کر۔
— قاضی نجم اسلام نجم
​خود ہی برباد ہوا بیٹھا ہوں دل کے ہاتھوں
میں کسی اور پہ الزام لگاؤں کیسے۔
محمد کامل راز دہلوی
​اے اردو زباں تجھ پہ بہت ناز ہے مجھ کو
باریکیءِ تہذیب کا انداز ہے مجھ کو!
سنجے گھائل
​احسان دشمنوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوستو۔
— احترام صدیقی
​شکوہ گلہ نہ کوئی شکایت کیا کرو
چھوٹی سی زندگی ہے محبت کیا کرو۔
— وسیم جھنجھانوی
​گاؤں خالی ہو رہے ہیں شہر کے چکر میں
راہ بھولیں کشتیاں لہر کے چکر میں!
— سریندر سُفر
​سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ چھوڑ دیتے ہیں
ہم ایسے راہگیروں سے ہی ناطہ چھوڑ دیتے ہیں۔
— گولڈی غضب
​امیر لوگ ہیں دل سے کہاں لگاتے ہیں
غریب پیار کی میت اٹھائے پھرتا ہے!
— اختر گورکھپوری

​سورج، چاند، ستارے ہیں، جیون کا اجیارا ہے
‘عرش ترنگے کا سمان ہم کو جان سے پیارا ہے!
عرشمان انصاری عرش

​ہم بچے کس کام کے ہیں، موبائل کے نام کے ہیں
مسجد سے اسکول تلک، چرچے میرے نام کے ہیں۔
عاصم فراز انصاری
​یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ لمحہ عجب اذیّت ہے!
— ہما دہلوی
​دہلی والوں کے دل کو بھاتا کیا
نام اس کا لبوں پر آتا کیا
طوبیٰ فراز انصاری
​سفِ سامعین میں بیٹھ کر جن دوستو نے محفل کے معیارو تمدن میں اضافہ کیا ان کے اسماءِ گرامی:-
​ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق، وارث صدیقی، جاوید خاں، حاجی زبیر احمد، محمد افسر رائین سیہور، استاد قوال، ممتاز احمد (آر.این.آئی)، نیل سنیل، شاعر حالاتی، اکرام الدین انصاری، محمد سرفراز، محمد شہباز، حافظ انعام الحق، حاجی اسرار قریشی، محمد آہل انصاری، سمرین جہاں، شاکرہ خاتون، رفعت انجم انصاری، ثنا انجم انصاری، اریزہ انصاری اور ان کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں سامعین نے تقریب کی رونق بڑھائی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی ٹریفک پولیس نے 125 مقامات پر لگائے او ایس وی ڈی کیمرے

Published

on

نئی دہلی :اگر آپ بغیر ہیلمٹ کے ہوا سے بات کر رہے ہیں، سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی میں گھوم رہے ہیں، یا اپنی گاڑی کو موڑے بغیر مڑ رہے ہیں، تو ہوشیار رہیں۔ ٹریفک پولیس کی تیسری آنکھ (125 نئے OSVD کیمرے) آپ پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔یہ کیمرے اتنے سمارٹ ہیں کہ نہ صرف تیز رفتاری بلکہ ہر چھوٹی بڑی غلطی کا پتہ لگاتے ہیں، چالان براہ راست آپ کے موبائل فون پر بھیج دیتے ہیں۔ گزشتہ چار ماہ میں 20,000 سے زائد لاپرواہ ڈرائیوروں کو جرمانے کیے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق اشارے استعمال کیے بغیر لین تبدیل کرنا اور سڑک پر ہوتے ہوئے لین سے باہر گاڑی چلانا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پہلے صرف ٹریفک پولیس اہلکار ہی ایسے ڈرائیوروں کے چالان جاری کرتے تھے لیکن اب یہ چالان کیمرے بھی چالان جاری کر رہے ہیں۔
مارچ 2019 میں، دہلی نے چالان کرنے کے لیے پہلی بار روڈ کیمرے لگائے۔ یہ کیمرے بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: پہلا او ایس وی ڈی (اوور اسپیڈ وائلیشن ڈیٹیکشن) کیمرہ، جو تیز رفتار گاڑیوں کے چالان کرتا ہے۔ دوسرا، RLVD (ریڈ لائٹ وائلیشن ڈیٹیکشن) کیمرہ، ریڈ لائٹ جمپنگ اور زیبرا کراسنگ کی خلاف ورزیوں پر چالان جاری کرتا ہے۔ مارچ 2021 تک، دہلی میں ایسے 125 OSVD اور 203 RLVD کیمرے نصب کیے گئے تھے۔ اس سال مارچ تک 125 نئے OSVD کیمرے نصب کیے گئے، اور ایک اور RLVD کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔ 10 اگست تک، ٹریفک پولیس نے نصب کیے گئے نئے OSVD کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے بغیر ہیلمٹ کے دو پہیہ گاڑیاں چلانے پر 3,044 افراد کو جرمانے جاری کیے ہیں۔ مزید برآں، سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانے پر 13,405 سے زائد افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ نئے کیمرے ہر قسم کے جرائم پر جرمانے جاری کر رہے ہیں۔ٹریفک پولیس کے ایڈیشنل کمشنر وجیانتا گوئل آریہ نے کہا، “ٹریفک پولیس نے سڑک حادثات کو کم کرنے اور سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے 125 OSVD کیمرے نصب کیے ہیں۔ کیمرے مستقبل میں لوگوں کو ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کی ترغیب دیں گے، جس سے حادثات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔”

Continue Reading

دلی این سی آر

غازی آباد میں تین بڑے نالوں کی ہوگیمرمت

Published

on

غازی آباد:میونسپل کارپوریشن 285 کروڑ روپے کی لاگت سے تین نالوں کی تزئین و آرائش کرنے جا رہی ہے۔پانی جمع ہونے کا مسئلہ غازی آباد میونسپل کارپوریشن کے لیے ایک بار بار چیلنج بن گیا ہے۔ اس کے پیش نظر کارپوریشن شہر کے تین بڑے نالوں کی تزئین و آرائش کرنے جا رہی ہے۔ کارپوریشن نے اس کے لیے 285 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ ان نالوں کی بحالی کے بعد لاکھوں لوگوں کو پانی بھرنے سے کافی حد تک نجات ملنے کی امید ہے۔کارپوریشن جن تین نالوں کی مرمت کا منصوبہ بنا رہی ہے ان میں شاہبیری ڈرین ہے جو 1,72 کلومیٹر طویل اور 11 میٹر چوڑا ہے۔ یہ روزانہ 6,524 ایم ایل ڈی پانی لے جاتا ہے اور اس کا کیچمنٹ ایریا 21 مربع کلومیٹر ہے۔ پرتاپ وہار، جی ٹی روڈ انڈسٹریل ایریا، اور کراسنگ ریپبلک جیسے علاقے نکاسی کے لیے اس نالے پر منحصر ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اس نالے کی تزئین و آرائش سے 21 وارڈوں اور 400,000 سے زیادہ کی آبادی میں پانی جمع ہونے سے نجات ملے گی، اور قومی شاہراہ 9 پر ٹریفک جام میں بھی کمی آئے گی۔ اس نالے کی تزئین و آرائش کے لیے 132 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔دوسرا نالہ 3 کلو میٹر طویل ہے اور آر ڈی سی فلائی اوور سے وویکانند نگر کی طرف بہتا ہے۔ یہ سیلاب زدہ شہری علاقوں جیسے کاوی نگر اور شاستری نگر سے گزرتا ہے۔ اس نالے کی تزئین و آرائش سے چھ وارڈوں اور تقریباً 100,000 رہائشیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس نالے میں 4,320 ایم ایل ڈی پانی ہے، اور اس کی تزئین و آرائش کے لیے 84 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔تیسرا نالہ، 3.3 کلومیٹر طویل، مورٹا سے RNE تک بہتا ہے۔ غازی آباد میونسپل کارپوریشن اس ڈرین کو اپ گریڈ کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے ممکنہ طور پر چھ وارڈوں اور تقریباً 100,000 رہائشیوں کو پانی بھرنے سے نجات ملے گی۔ اس نالے کی تزئین و آرائش کے لیے 69 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔غازی آباد میں سیوریج کا نیٹ ورک تقریباً 2,000 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں 555 سے زیادہ بڑے، درمیانے اور چھوٹے نالے ہیں۔ بارش کے بعد شہر کے کئی علاقے زیر آب آگئے۔ مکینوں کو آمدورفت میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں کئی فٹ تک پانی بھر سکتا ہے۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے کھلے نالے، گڑھے اور ٹوٹے مین ہول نظر نہیں آتے۔ ذرا سی غلطی کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ کئی حادثات کے نتیجے میں لوگ گڑھوں میں گر کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی سے ہٹی مانسون، درجہ حرارت پھر بڑھنے کا امکان

Published

on

نئی دہلی :اس وقت مانسون لائن دہلی اور آس پاس کے علاقوں سے ہٹ گئی ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی میں ابھی اچھی بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں معمولی اضافہ یقینی طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔ اتوار کو بھی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ مہینے کے پہلے پندرہ دن میں زبردست بارش کے بعد، دہلی میں موسم عام طور پر کچھ دنوں تک خشک رہنے کی امید ہے۔ دن کے وقت ہلکے بادلوں کی آمد و رفت رہے گی اور بعض مقامات پر ہلکی بوندا باندی ہو سکتی ہے تاہم پورے ہفتے کے دوران کہیں بھی تیز بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔مانسون لائن ہمالیہ کے دامن کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے دارالحکومت اور آس پاس کے علاقوں میں مانسون کی سرگرمیاں کم ہوں گی۔ اس دوران دہلی کے بیشتر علاقوں میں اتوار کی صبح سے ہی دھوپ چھائی رہی۔ تاہم، دن کے وقت ہلکے اور گھنے بادلوں کی وقفے وقفے سے نقل و حرکت جاری رہی۔اسٹینڈرڈ آبزرویٹری صفدرجنگ میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ یہ معمول سے 0.6 ڈگری زیادہ ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت 27.8 ڈگری رہا۔ یہ معمول سے 1.3 ڈگری زیادہ ہے۔ محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ پیر کو دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہ سکتا ہے۔مختلف موسمی عوامل کی وجہ سے دہلی کی ہوا مسلسل صاف رہتی ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، اتوار کو دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 92 رہا۔ ہوا کی اس سطح کو تسلی بخش زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ایک دن پہلے بھی ہوا کے معیار کا انڈیکس تقریباً اسی سطح پر تھا۔ اندازہ ہے کہ اگلے دو دنوں میں بھی ہوا کے معیار کی سطح اسی کے آس پاس رہے گی۔ CPCB کے معیارات کے مطابق، صفر اور 50 کے درمیان AQI کو اچھا، 51 سے 100 اطمینان بخش، 101 سے 200 اعتدال پسند، 201 سے 300 خراب، 301 سے 400 انتہائی ناقص اور 401 سے 500 کو بہت خراب سمجھا جاتا ہے۔دہلی کے لوگوں کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ اس دوران ہوا کے رخ میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ہفتے کے دوران زیادہ تر وقت شمال مشرقی یا شمال مغربی ہوائیں چلیں گی۔ اس کی وجہ سے نمی بھی کم رہے گی۔آپ کو بتاتے چلیں کہ دہلی این سی آر میں 11 اگست سے اچھی بارش نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران محکمہ موسمیات کی جانب سے کئی بار بارش کا الرٹ جاری کیا گیا، لیکن بارش نہیں ہوئی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network