دلی این سی آر
دہلی-این سی آر میں گھنے دھند کے ساتھ بارش کی وارننگ
نئی دہلی :دہلی-این سی آر موسم کی تازہ کاری: دہلی میں سردی کی لہر جاری ہے۔ دہلی این سی آر میں گھنی دھند کے ساتھ بارش نے کپکپاہٹ بڑھا دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی دھند اور بارش سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔
اس کے علاوہ پارہ تیزی سے گرے گا جس سے سردی مزید بڑھے گی۔ محکمہ موسمیات نے دہلی این سی آر میں تین دن تک گھنے دھند کا زرد الرٹ جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ دو روز تک تیز ہواو ¿ں کے ساتھ بارش کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے ایک ہفتے کی پیش گوئی کی ہے جس میں گھنی دھند اور بارش کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت بھی براہ راست 5 ڈگری تک گر سکتا ہے جس کی وجہ سے سردی مزید بڑھ سکتی ہے۔دہلی کے کچھ حصوں میں آج یعنی پیر کو ہلکی بارش ہوئی اور کم سے کم درجہ حرارت 9.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم اس کی وجہ سے لوگوں کو دھند سے کچھ راحت ملی۔ لیکن منگل کو ایک بار پھر گھنی دھند کی وارننگ دی گئی ہے۔آئی ایم ڈی نے 7 جنوری کو دہلی این سی آر میں گھنے دھند کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس دوران کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 19 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی این سی آر کے تمام علاقوں میں یلو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 8 جنوری کو درجہ حرارت میں ایک ڈگری مزید کمی ہو سکتی ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 20 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس دن بھی محکمہ موسمیات نے پوری دہلی این سی آر میں یلو الرٹ جاری کرتے ہوئے گھنی دھند کی وارننگ دی ہے۔9-10 جنوری کو بھی گھنے دھند کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 9 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت 6 ڈگری اور 10 جنوری کو 5 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم دونوں دنوں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 ڈگری تک ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ جمعرات کو دہلی میں بھی گھنی دھند کا پیلا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔آئی ایم ڈی کے مطابق، 11 اور 12 جنوری کو دہلی میں گرج چمک کے ساتھ بارش یا بارش کا امکان ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 3 سے 4 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ 11 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 17 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ 12 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت 10 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 16 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔
دلی این سی آر
آسام کے کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر مبینہ حملہ ناقابل برداشت :مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور نوجوانوں کو بھی اس کا پابند بنائیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
انہوں نے مہاراشٹر میں نئے انسداد تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست میں جبری یا دھوکے سے مذہب تبدیلی کے بڑے پیمانے پر ہونے کے دعوے کی تائید میں شواہد پیش نہیں کیے۔ مہاراشٹر حکومت نے یہ قانون بنانے میں آئینی حقوق کے تحفظ کاخیال نہیں رکھا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی، مذہبی عقیدے اور ذاتی فیصلوں میں مداخلت کا دروازہ کھل سکتا ہے بظاہر یہ قانون آئین کی بعض دفعات کے خلاف ہے۔
مفتی مکرم احمد نے آسام کے ضلع سلچر میں واقع کچھار کالج میں مسلم طالبات کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی۔ مسلم طالبات ہر مبینہ حملے کے بعد طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی اے بی وی پی کے کچھ ارکان نے این ایس یو آئی کے کیمپ میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کی موجودگی پر اعتراض کیا اور طرح طرح کے الزامات لگائے ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ اگر کچھ طالبات حجاب پہنتی ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ مذہب اور عقیدے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔
آئین نے اس کی اجازت دی ہے۔ مفتی مکرم نے غزہ میں صہیونی اہلکاروں کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے متعدد مقامات پر اسرائیلی فوج کے حملے نہتے فلسطینیوں پر ہوتے رہتے ہیں یو این او اور عالمی برادری اسرائیل کو جنگ بندی قانون کا پابند بنائیں ورنہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
دلی این سی آر
راہل کا پدرشاہی کو ختم کرو کا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات: بانسری
نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے کونڈا سریکھا کو تلنگانہ کابینہ سے برطرف کیے جانے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کروکا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات ہے۔ بانسری سوراج نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کرو نعرہ صرف کھوکھلی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش اور کرناٹک میں، جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں، وہاں پر ایک بھی خاتون کو وزرات کا عہدہ نہیں دیا گیا ہے۔ اب تلنگانہ میں جمعرات کو کانگریس کی سینئر لیڈر کو وہاں کی حکومت نے مبینہ طور پر ذلیل کیا اور ریاستی کابینہ سے ہٹا دیا۔ محترمہ سریکھا نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بہت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں پوچھنا چاہتی ہوں… ان کے لگائے گئے ناانصافی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر مسٹر گاندھی ابھی بھی خاموش کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کیونکہ ان کے لیے پدرشاہی کو ختم کرو انتخابی نعرے اور سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
اصل میں مسٹر گاندھی اور کانگریس کی سوچ یہ ہے کہ اگر خواتین ترقی پسند ہیں، تو ان کے امکانات کو ختم کر دو۔”
دلی این سی آر
خاتون صحافیوں پر مبینہ حملہ پریس کی آزادی پر سنگین حملہ: شائستہ اختر
سری نگر:جموں و کشمیر میں نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) کی مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر، شائستہ اختر نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔شائستہ اختر نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق دہلی پولیس کے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والی دو خاتون صحافیوں پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایسا رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔شائستہ اختر نے کہا، “پولیس کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں ڈرانا دھمکانا یا ان پر حملہ کرنا۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف، دباؤ، دھمکی یا امتیازی سلوک کے اپنے فرائض کی انجام دہی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر پولیس اسٹیشن کے اندر دو خاتون صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے جس میں احتساب ناگزیر ہے۔”انہوں نے مزید زور دیا کہ کسی صحافی کی شناخت یا مذہب کبھی بھی امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ پریس کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر سوالات پوچھیں اور حقائق کی رپورٹنگ کریں۔شائستہ اختر نے دہلی پولیس کے حکام اور متعلقہ اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کریں، اگر بدسلوکی ثابت ہو تو ذمہ داروں کی نشاندہی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ صحافیوں کو انصاف ملے۔انہوں نے صحافتی برادری اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پریس کی آزادی، خواتین کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
انہوں نے کہا، “ایک جمہوری حکومت کو سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک جمہوری پولیس فورس کو صحافیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ہر شہری—قطع نظر اس کے مذہب، جنس یا پیشے کے—قانون کے تحت وقار اور تحفظ کا حقدار ہے۔”شائستہ اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) آئینی اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی، خواتین کے وقار اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
