Connect with us

دلی این سی آر

امریکی وفد کاعلمی اشترا ک کیلئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :امریکہ کے کمیو نی ٹی کالجوں اوراقلیتوں کے مفادات کے لیے سرگرم اداروں کے چودہ فیکلٹی اراکین پر مشتمل وفد نے جامعہ کے ساتھ علمی اور تحقیقی اشتراک کے مواقع کے جائزے کے لیے پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اور جامعہ کے فیکلٹی اراکین سے ملاقات کی۔
مندوبین کا تعلق انسانی طرز عمل یا کردار کا نفسیاتی مطالعہ،اخلاقیات، نسلی مطالعات،شہری مطالعات و منصوبہ بندی،فزیکل سائنس، قانون،نیچرل اینڈ فزیکل سائنس، جغرافیہ،تاریخ اور فلسفے جیسے متنوع علوم سے تھا۔ پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مندوبین کا خیر مقدم کیا اور علم کے مختلف اہم شعبوں میں علمی و تحقیقی اشترا ک کے مواقع کے جائزے کی غرض سے جامعہ کے فیکلٹی اراکین سے بات چیت کے لیے انھیں مدعو کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے معاصر دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبودکے لیے صلاحیتوں کو ایک ساتھ لانے کے سلسلے میں علمی و تحقیقی اشتراک کی اہمیت ومعنویت کو نشان زدکیاجیسا کہ قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس میں مذکور ہے۔ مختلف جغرافیائی اور تہذیبی و ثقافتی اکائیوں سے نمو پانے والی تہذیبی وثقافتی اقدار کے امتزاج اور دنیا کو تہذیبی لحاظ سے ثروت بنانے کے لیے انھوں نے عالمی زبانیں سیکھنے کی اہمیت پر بھی زوردیا۔ امریکی وفد کا یہ دورہ امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز (اے آئی آئی ایس) کے زیر اہتمام ہوا۔واضح ہو کہ مشترکہ علمی سرگرمیوں کے انعقاد کے علاوہ ہندوستانی مطالعات کے فروغ اور امریکی اسکالروں کے لیے علمی و تحقیقی الحاق کو منظوری دینے کے سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ مذکورہ ادارے کی دیرینہ ساجھیداری رہی ہے۔ڈاکٹر پورنیما مہتا،ڈائریکٹر جنرل،اے آئی آئی ایس،نئی دہلی اور پروفیسر امر ساہنی،میامی دادے کالج فلوریڈا کی مشترکہ قیادت اور سربراہی میں یہ وفدجامعہ کا دورہ کر رہاہے۔
مندوبین نے باہمی دلچسپی کے شعبہ جات اور مراکز کے فیکلٹی اراکین سے ملاقات کے لیے متعلقہ شعبہ جات اور مراکز کا دورہ کیا۔ شیخ الجامعہ کے ساتھ وفد کی ظہرانے پر ملاقات ہوئی جس میں جامعہ کے فیکلٹی اراکین اور یونیورسٹی کے سینئر عہدیداران بھی شریک ہوئے۔پروفیسر مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اس اہم دورے کے لیے وفد کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ جامعہ کے فیکلٹی اراکین سے ان کی یہ ملاقات،تدریس و آموزش کے طریق عمل کو بہتر کرنے کے سلسلے میں اشتراک کرنے والے اداروں کے لیے ٹھوس علمی فوائد پر منتج ہوگی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی این سی آر میں بارش ،موسم خوشگوار

Published

on

دہلی-این سی آر میں ایک بار پھر موسم بدل گیا ہے۔ کئی علاقوں میں موسلا دھار بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو رہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے اپنی پیشن گوئی میں اگلے دو گھنٹوں میں بارش کی وارننگ دی تھی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ لونی دیہات، ہندن ایئر فورس اسٹیشن، غازی آباد، اندرا پورم، چھپرولا، نوئیڈا، دادری، گریٹر نوئیڈا اور فرید آباد میں بارش ہوسکتی ہے۔ بارش اور تیز ہواؤں کے لیےریڈ اور اورینج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شام اور رات میں گرج چمک کے ساتھ بارش بھی متوقع ہے جس سے گرمی سے راحت ملے گی۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کی توقع ہے۔منگل کی صبح دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو سیزن کے معمول سے 2.1 ڈگری زیادہ ہے۔ یہ 2 جولائی 2024 کے بعد اس ماہ ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ کم سے کم درجہ حرارت تھا، جب شہر کا کم از کم درجہ حرارت 30.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرنیشنل میڈیکل سینٹر (IMD) نے دہلی کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ کے مطابق دن بھر آسمان عام طور پر ابر آلود رہے گا اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے این سی آر کے علاوہ اتر پردیش اور ہریانہ کے کئی دیگر علاقوں میں بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ ان میں کیتھل، راجاؤنڈ، اسندھ، صفیدون، گوہانہ، گنور، سونی پت، ہریانہ میں روہتک اور سہارنپور، مظفر نگر، بجنور، کھٹولی، سکاؤتی ٹانڈہ، ہستینا پور، چاند پور، براؤت، دورالا، باغپت، میرٹھ، کھیکرا، مودی نگر، گلپور، کیتھو، مودی پور، کیتھل، کیتھل، مودی پور، کیتھل، ساؤتھ پور، ہستینا پور بلندشہر، خرجہ، اتر پردیش میں۔محکمہ موسمیات نے 8 اور 9 جولائی کو بھی بارش اور طوفان کی پیش گوئی کی ہے۔ 9 جولائی کو دن بھر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

بی جے پی کیلئے اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں رام :ارند کجریوال

Published

on

نئی دہلی: لکھنؤ میں بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کے قافلے کے آگے ہنومان جی کے بھیس میں رقص کرنے والے ایک شخص کی وائرل ویڈیو پر عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت پارٹی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ ہندو دھرم کو جتنا نقصان اور اس کی جتنی توہین بی جے پی کے لوگوں نے کی ہے، شاید بھارت کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں باہر سے آنے والے حملہ آوروں نے بھی نہیں کی ہوگی۔ جتنا ان لوگوں نے ہندوؤں کو لوٹا ہے، اتنا آج تک کسی نے نہیں لوٹا۔ بی جے پی کے لوگ ہندو دھرم پر ایک کلنک ہیں۔ انہوں نے نتن نوین سے کہا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو شرم آتی ہے؟ پورے ہندو سماج سے معافی مانگیے۔ اروند کیجریوال نے بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کی ریلی میں ان کی گاڑی کے آگے بھگوان ہنومان کے بھیس میں بی جے پی کا جھنڈا ہاتھ میں لے کر رقص کرنے والے شخص کی ویڈیو اور اپنی جانب سے ہنومان جی کی پوجا کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں تصویریں ہندو عقیدے کے تئیں دو مختلف نظریات کی علامت ہیں۔ ہماری نظریاتی سوچ یہ ہے کہ ہم بھگوان رام اور ہنومان جی کے بھکت ہیں، ان کے تئیں عقیدت اور آستھا رکھتے ہیں۔ ہم ان کی پوجا کرتے ہیں، ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور ان کا آشیرواد حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی سوچ یہ ہے کہ یہ لوگ ہنومان جی اور رام چندر جی کو بھگوان ہی نہیں مانتے۔ ان کے لیے رام اور ہنومان صرف اقتدار اور دولت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہیں بھگوان کی توہین کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔
ادھر عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے؟ بی جے پی کے رہنما اپنے جلوس میں بھگوان بجرنگ بلی کو بی جے پی کا جھنڈا تھما کر نچوا رہے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو بی جے پی ہندو دھرم ختم کرکے بی جے پی دھرم نافذ کر دے گی۔ اپنے رہنماؤں کو بھگوان قرار دے کر ان کے مندر بنوائے گی اور ملک کے عوام سے ان کی پوجا کروائے گی۔
اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے نتن نوین سے کہا کہ لاکھوں ہندوؤں کی طرح میرے مذہبی جذبات بھی اس سے مجروح ہوئے ہیں۔ یہ براہِ راست میرے ہندو دھرم اور میرے آرادھیہ ہنومان جی کی توہین ہے۔ براہِ کرم آپ اپنے اس عمل پر معافی مانگ لیجیے۔ ہنومان جی کے مندر جا کر معافی طلب کر لیجیے، اس سے آپ چھوٹے نہیں ہو جائیں گے۔ میں بی جے پی سے بھی کہوں گا کہ بطور پارٹی آپ اس عمل پر معافی مانگ لیجیے۔
اسی ویڈیو کو ری پوسٹ کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی سینئر رہنما اور دہلی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی نے کہا کہ بی جے پی کے جو رہنما کل سے یہ شور مچا رہے ہیں کہ نتن نوین کی توہین ہو گئی، کیا وہ آج بجرنگ بلی کی توہین کے بارے میں منہ کھولنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ ریکھا گپتا اور بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین اپنے آپ کو ہنومان جی سے بھی بڑا سمجھتے ہیں اور بھگوان کو اپنے سامنے پارٹی کے جھنڈے کے ساتھ نچواتے ہیں۔ آتشی نے سوال کیا کہ نتن نوین کے اس غرور پر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کوئی تبصرہ کرنا چاہیں گی یا پھر ہنومان جی کی توہین پر انہیں بولنے سے منع کر دیا گیا ہے؟

Continue Reading

دلی این سی آر

ایس آئی آر کے76,38,417 فارم تقسیم

Published

on

نئی دہلی : دہلی میں ووٹر لسٹ کے لیے ایس آئی آر مہم کے تحت ووٹر لسٹ کی تصدیق کے فارم گھر گھر تقسیم کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ مہم کے پہلے ہفتے میں دارالحکومت کے 1,45,10,298 ووٹرز میں سے 76,38,417 کو فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ یہ کل ووٹروں کا 52.64 فیصد ہے۔ تاہم، اضلاع کی کارکردگی میں نمایاں فرق ہے۔ جہاں نئی دہلی ضلع اس مہم میں سب سے آگے ہے، وہیں جنوب مشرقی دہلی پیچھے ہے۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے مطابق، 30 جون سے شروع ہونے والی یہ خصوصی مہم 29 جولائی تک جاری رہے گی۔ اس دوران بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) ہر ووٹر کو دو گنتی فارم فراہم کر رہے ہیں۔ ووٹر ایک کاپی اپنے پاس رکھتا ہے، جبکہ دوسری کو بھر کر BLO کو واپس کرنا ہے۔ کسی بھی ساتھی دستاویزات کی ضرورت نہیں ہے۔
نئی دہلی ضلع ووٹر کوریج میں سب سے آگے ہے، جس کے فارم 67.20 فیصد ووٹرز تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بعد پرانی دہلی (61.69 فیصد)، شمالی ضلع (59.20 فیصد) اور مغربی ضلع (58.87 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔
سب سے کم کوریج جنوب مشرقی دہلی میں ریکارڈ کی گئی، جہاں اب تک صرف 42.60 فیصد ووٹروں کے فارم ہی پہنچے ہیں۔ اس کے بعد جنوب مغرب (45.45 فیصد)، وسطی ضلع (47.35 فیصد) اور بیرونی شمالی (49.40 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔
کل تعداد کے لحاظ سے، شمال مشرقی دہلی نے سب سے زیادہ فارم تقسیم کیے ہیں، جن کی تعداد 1,001,304 ہے۔ اس کے بعد مغربی دہلی (857,123)، مشرقی دہلی (804,233)، جنوبی دہلی (728,647) اور جنوب مشرقی دہلی (663,425) کا نمبر آتا ہے۔
فارم کی تقسیم کے ساتھ ساتھ مکمل شدہ فارمز کو بھی ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ اب تک، 278,070 فارمز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، جو کہ کل ووٹروں کے 2 فیصد سے بھی کم کی نمائندگی کرتا ہے۔ جنوب مغربی ضلع ڈیجیٹلائزیشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ مشرقی دہلی پیچھے ہے۔
الیکشن آفس نے بتایا کہ ووٹر آن لائن فارم بھی بھر سکتے ہیں۔ مہم مکمل ہونے کے بعد، انتخابی فہرست کا مسودہ 5 اگست کو شائع کیا جائے گا، جب کہ حتمی ووٹر لسٹ 7 اکتوبر کو جاری کی جائے گی۔ عہدیداروں نے ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ناموں کو حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اپنے فارم کو وقت پر مکمل کریں اور جمع کرائیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network