Connect with us

دلی این سی آر

اسکول کا ACکے لیے فی بچہ 500 روپے لینے کا فیصلہ

Published

on

نوئیڈا: اسکول ایئر کنڈیشننگ (AC) کی لاگت صرف اسکول انتظامیہ کو برداشت کرنی چاہیے یا نہیں اس پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ چلچلاتی گرمی کے درمیان نوئیڈا کے ایک پرائیویٹ اسکول نے ایک ایسا فیصلہ لیا ہے جس پر کافی تنازعہ کھڑا ہو رہا ہے۔اسکول انتظامیہ نے تعلیمی سیشن کے دوران کلاس رومز میں ایئر کنڈیشنر چلانے کے لیے والدین سے ماہانہ 500 روپے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوئیڈا کے ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم نے اس فیصلے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
والدین نے اسکول انتظامیہ کے فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈسٹرکٹ فیس ریگولیٹری کمیٹی (DFRC) کے ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق والدین اس اچانک فیصلے سے حیران ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے مالی دباؤ بڑھے گا۔ تاہم، اپنے سرکاری نوٹس میں، اسکول نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ منیش گوئل بمقابلہ دہلی حکومت (NCT) اور دیگر کے معاملے میں 2 مئی 2024 کو دہلی ہائی کورٹ کے مشاہدات کے مطابق ہے۔واضح رہے کہ اس معاملے میں، عدالت نے پی آئی ایل کو خارج کر دیا اور والدین سے کہا کہ وہ اسکولوں میں ایئر کنڈیشننگ کی لاگت (2000 روپے ماہانہ) برداشت کریں۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں والدین اور اسکول انتظامیہ کے درمیان مشترکہ مالی ذمہ داری پر زور دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ داخلے پر غور کرتے وقت اسکول میں دستیاب سہولیات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
والدین کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے رواں سال کے تعلیمی سیشن سے قبل فیسوں میں اضافہ کیا اور ایئر کنڈیشن کی فیس وصول کرنا سراسر غلط ہے۔ تاہم اسکول کے نوٹس میں ٹرانسپورٹ چارجز میں کسی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ سی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ماہانہ 100 روپے کا مزید اضافہ ممکن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پہلے ہی ٹرانسپورٹیشن چارجز میں تقریباً 162 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کا فیصلہ ڈی ایف آر سی کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اسکول کو نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل فیس میں اضافے کے بارے میں معلومات اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شیئر کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

چندے کی چوری کے اصل گنہگاروں کو بچا رہے ہیں مودی: کجریوال

Published

on

نئی دہلی:بھگوان شری رام کے مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کیا وزیر اعظم شری رام مندر میں چندے کی چوری کے اصل مجرموں کو بچا رہے ہیں؟کیونکہ مودی جی نے خود ٹرسٹ تشکیل دیا، اس کے ہر رکن کا انتخاب خود کیا اور اپنے قریبی چمپت رائے کو مندر کا سب سے بااختیار ذمہ دار بھی بنایا۔ ایسے میں کیا ملک کے عوام کو یقین ہے کہ مودی جی اصل چوروں کو سزا دلا سکیں گے؟ پورا واقعہ تو یہی ظاہر کرتا ہے کہ مودی جی اس معاملے کو دبانے، رفع دفع کرنے اور قصورواروں کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ شری رام مندر کی زمین کی خریداری، تعمیراتی کام اور چندے میں اتنے بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے، مگر کیا وزیر اعظم کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں سب کچھ معلوم تھا، لیکن وہ دھرتراشٹر بنے رہے۔ جب سچ عوام کے سامنے آنے لگا تو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایک فرضی ایس آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ زمین گھوٹالے کے ثبوت لے کر گئے تو ایس آئی ٹی نے کہا کہ وہ زمین گھوٹالے کی جانچ ہی نہیں کر رہی ہے۔ آخر ایس آئی ٹی کر کیا رہی ہے؟ پہلے بھی ایس آئی ٹی بنی تھی، کچھ نہیں ہوا، اس بار بھی بنی ہے، کچھ نہیں ہوگا۔جمعرات کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ اب سب مان رہے ہیں کہ شری رام مندر میں چندے کی چوری ہوئی ہے، لیکن کیا اصل قصورواروں کو، جو بڑے بااثر اور طاقتور لوگ ہیں، سزا ملے گی؟ کیا ان کی گرفتاریاں ہوں گی؟ کیا ان کے خلاف کارروائی ہوگی؟ ہر جگہ یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی جی کسی کو نہیں چھوڑیں گے، کسی کو معاف نہیں کریں گے۔ میں عوام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہیں بھی یقین ہے کہ مودی جی اصل چوروں کو سزا دلا سکیں گے؟ میں یہ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ پیسہ مودی جی تک پہنچا۔ اس بارے میں میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ لیکن پورا واقعہ ضرور یہ بتاتا ہے کہ مودی جی نے اس پورے معاملے کو دبانے، چھپانے اور اصل مجرموں کو بچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نے ذاتی طور پر ایک ٹرسٹ بنایا۔ اس ٹرسٹ کا ایک ایک رکن خود منتخب کیا۔ اس میں ان کے اپنے قریبی لوگ شامل ہیں۔ چمپت رائے وزیر اعظم کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں۔ مودی جی نے انہیں شری رام مندر کا جنرل سیکریٹری اور سب سے بااختیار ذمہ دار بنایا۔ 2021 میں وہاں زمینوں کے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ ایک پاٹھک خاندان نے دو کروڑ روپے کی زمین ان کی پارٹی سے وابستہ ایک شخص کو فروخت کی، اور صرف دس منٹ بعد اسی شخص نے وہی زمین 18 کروڑ روپے میں مندر ٹرسٹ کو فروخت کر دی۔ دس منٹ میں دو کروڑ کی زمین اٹھارہ کروڑ کی کیسے ہوگئی؟ کیا وزیر اعظم کو اس کی خبر نہیں ہوئی؟ پوری دنیا کو معلوم تھا، میڈیا میں بھی خبریں آئیں۔ اسی طرح تین کروڑ روپے کی زمین 24 کروڑ میں، نو کروڑ کی زمین 55 کروڑ میں اور 14 کروڑ کی زمین 95 کروڑ روپے میں ٹرسٹ نے خریدی۔ کیا وزیر اعظم کو اس سب کی اطلاع نہیں تھی؟ یہ سب عوامی ریکارڈ میں موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مندر کی تعمیر سے وابستہ انجینئروں کا الزام ہے کہ ٹینڈروں میں ان سے 40 فیصد کمیشن مانگا جاتا تھا۔ کیا وزیر اعظم کو اس کا بھی علم نہیں تھا؟ صرف 40 دنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں میں 70 مرتبہ چوری ریکارڈ ہوئی، کیا انہیں معلوم نہیں تھا؟ آٹھ ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی گئی، کیا اس کی بھی خبر نہیں تھی؟ اتنے طویل عرصے تک چندے کی چوری ہوتی رہی، پھر بھی انہیں کچھ معلوم نہیں ہوا؟ ٹرسٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کا ایک افسر بھی موجود تھا، اس کے باوجود بھی انہیں کچھ معلوم نہیں ہوا؟ وزیر اعظم کو ملک کے ہر بوتھ کے ووٹر کی معلومات معلوم ہوتی ہیں، کون کس پارٹی کو ووٹ دیتا ہے، کس کا نام فہرست سے ہٹانا ہے اور کس کا شامل کرنا ہے، مگر اگر وہ کہیں کہ انہیں اس چوری کا علم نہیں تھا تو یہ بات قابلِ یقین نہیں۔اروند کیجریوال نے کہا کہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے کم از کم 12 رپورٹیں وزیر اعظم کو دی تھیں، جن میں بتایا گیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر، زمینوں کی خریداری اور چندے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور چوریاں ہو رہی ہیں۔ انہیں سب معلوم تھا، مگر وہ دھرتراشٹر کی طرح خاموش رہے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا اور عوامی دباؤ بڑھنے لگا تو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایس آئی ٹی بنا دی گئی۔ ایف آئی آر درج ہوئے بغیر ایس آئی ٹی کیسے بن سکتی ہے؟ اس وقت تو ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن عوام سمجھ گئے تھے کہ وزیر اعظم اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک فرضی ایف آئی آر درج کی گئی اور آٹھ چھوٹے ملازمین کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ریمانڈ بھی نہیں مانگی بلکہ سیدھا عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ کسی بھی چوری کے مقدمے میں پولیس پوچھ گچھ کے لیے ریمانڈ لیتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے مال کہاں ہے، کس کے کہنے پر چوری ہوئی اور اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے، لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ فکر نہ کرو، چند دنوں میں ضمانت ہو جائے گی۔ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ جب ہمارے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ زمین گھوٹالے کے دستاویزات لے کر ایس آئی ٹی کے پاس گئے تو ایس آئی ٹی نے حیران کن جواب دیا کہ وہ زمین گھوٹالے کی جانچ ہی نہیں کر رہی بلکہ صرف چندے کے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔پھر تعمیراتی اور زمینوں کے گھوٹالوں کی جانچ کون کرے گا؟ 2021 میں بھی اتر پردیش حکومت نے زمین گھوٹالے کی جانچ کے لیے ایک ایس آئی ٹی بنائی تھی، مگر وہ بھی خاموشی سے ختم ہوگئی۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ اس کی رپورٹ کب آئی اور کہاں گئی۔ اس بار بھی وہی ہوگا۔ 2021 میں نہ کوئی ایف آئی آر ہوئی، نہ کوئی گرفتاری، اور نہ ہی کوئی جیل گیا۔ اس بار بھی سب کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ جن لوگوں نے استعفے دیے ہیں، ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ آج بھی مندر کا انتظام وہی لوگ چلا رہے ہیں۔ کاغذوں میں استعفے ضرور دیے گئے ہیں، مگر عملی طور پر انتظام انہی کے ہاتھ میں ہے۔ بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر برج بھوشن کا بیان میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے منہ کھولا تو بہت بڑے بڑے نام سامنے آئیں گے اور انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔ آخر وہ کون سے نام ہیں جن کا ذکر کرنے سے برج بھوشن بھی ڈر رہے ہیں؟ بابا باغیشور دھام نے بھی کہا کہ اس معاملے میں بہت بڑے لوگ شامل ہیں اور اگر وہ بولیں گے تو ان پر بھی آنچ آ سکتی ہے۔ جب اتنے طاقتور لوگ نام لینے سے خوفزدہ ہیں تو واضح ہے کہ جن آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہیں۔ اصل کردار کوئی اور ہیں اور گرفتار کیے گئے لوگ صرف مہرے ہیں۔اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ ملک کی عوام جاننا چاہتی ہے کہ وہ کس کو بچا رہے ہیں، کیوں بچا رہے ہیں اور ان کی کیا مجبوری ہے؟ اس معاملے سے کروڑوں

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں ہلکی بارش اور تیز ہوائیں،الرٹ جاری

Published

on

نئی دہلی: نئی دہلی میں جمعرات کو ہلکی بارش اور تیز ہواؤں نے حالیہ گرمی سے راحت دلائی، جبکہ ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے دن کے آخری حصے میں مزید بارشوں، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔
ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق، دہلی کی بنیادی موسم کی رصد گاہ صفدر جنگ میں صبح 8:30 بجے تک 4.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو ہلکی بارش کے زمرے میں آتی ہے۔ قومی دارالحکومت کے کئی دوسرے اسٹیشنوں پر بھی ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے گزشتہ ہفتے سے جاری شدید گرمی سے راحت ملی۔ چھتر پور میں شہر کی سب سے زیادہ 18.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جسے آئی ایم ڈی نے “معتدل” قرار دیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق دیگر علاقوں میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی، جن میں آیا نگر (5.0 ملی میٹر)، لودھی روڈ (4.1 ملی میٹر)، جنک پوری (3.5 ملی میٹر) اور رج (3.0 ملی میٹر) شامل ہیں۔
دہلی بھر میں ہونے والی بارشوں نے شہر میں گرمی کو کم کر دیا؛ صفدر جنگ کا کم سے کم درجہ حرارت 5.8 ڈگری سیلسیس گر کر 22.8 ڈگری سیلسیس پر آ گیا۔ رج میں سب سے کم درجہ حرارت 21.0 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.5 ڈگری سیلسیس کم ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی کے بیشتر حصوں میں تیز ہوائیں بھی چلیں۔ ہوا کی سب سے زیادہ رفتار 56 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ پوسا میں 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی تیز ہوائیں چلیں۔ آئی ایم ڈی نے جمعرات کو بعد میں یلو الرٹ کے تحت گرج چمک، بجلی چمکنے اور 40-50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ہواؤں، جن کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ ہلکی سے معتدل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

آج سے نافذ ہوئی دہلی حکومت کی نئی ای وی پالیسی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی حکومت نے راجدھانی میں صاف ستھرے ، جدید اور آلودگی سے پاک ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینے کے لیے دہلی الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی 2026 نوٹیفائی کر دی ہے ۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے مطابق، نئی پالیسی کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کو تیزی سے فروغ دے کر فضائی آلودگی میں کمی لانا، روایتی ایندھن پر انحصار گھٹانا اور ایک مضبوط ای وی ایکو سسٹم تیار کرنا ہے ۔ یہ پالیسی یکم جولائی 2026 سے نافذ ہو گئی ہے اور 31 مارچ 2030 تک مؤثر رہے گی۔ محترمہ گپتا نے بتایا کہ پالیسی کے تحت چارجنگ نیٹ ورک، بیٹری سوئیپنگ، بیٹری ری سائیکلنگ، انرجی مینجمنٹ اور ڈیجیٹل سروس سسٹم کو مربوط کرتے ہوئے طویل مدتی صاف ستھرا ٹرانسپورٹ نظام تیار کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مالیاتی مراعات، ڈیجیٹل شفافیت اور ادارہ جاتی نگرانی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی میں کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہلی میں خاص طور پر سردیوں کے دوران فضائی آلودگی میں تقریباً 23 فیصد حصہ گاڑیوں سے ہونے والے اخراج کا ہے ، جو تمام ذرائع میں سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ کے مطابق، راجدھانی کی کل گاڑیوں میں تقریباً 67 فیصد دو پہیہ گاڑیاں ہیں۔ اسی وجہ سے دو پہیہ، تین پہیہ، کمرشل کاروں اور این-1 زمرے کی مال بردار گاڑیوں کو تیزی سے الیکٹرک میں تبدیل کرنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے ۔ محترمہ گپتا نے بتایا کہ پالیسی کی نگرانی کے لیے چیف سکریٹری کی صدارت میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں ٹرانسپورٹ، توانائی، ماحولیات، مالیات، محکمہ منصوبہ بندی، ڈی ٹی ایل اور ڈسکام سمیت مختلف ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہوں گے ۔ اس کے علاوہ دہلی الیکٹرک وہیکل ایپیکس کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، جو پالیسی کے نفاذ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ہائیڈروجن اور دیگر صاف ستھرے ایندھن پر مبنی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے حکومت کو تجاویز دے گی۔
نئی ای وی پالیسی میں بیٹری ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی نمایاں مقام دیا گیا ہے ۔ محکمہ ماحولیات بیٹری ویسٹ مینجمنٹ قوانین کی تعمیل کی نگرانی کرے گا۔
، جبکہ دہلی پلوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بیٹری کلیکشن سینٹرز تیار کرے گی۔ محکمہ تعلیم اسکول بسوں کو مرحلہ وار الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرنے کی نگرانی کرے گا اور طلبہ میں صاف ستھرے ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے تئیں بیداری بڑھانے کے لیے مہم چلائے گا۔ محکمہ مال چارجنگ اور بیٹری سوئیپنگ اسٹیشنوں کے لیے موزوں سرکاری زمین فراہم کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین ظاہر کیا کہ نئی ای وی پالیسی راجدھانی میں آلودگی کم کرنے ، صاف ستھری توانائی کے استعمال کو فروغ دینے اور دہلی کو ملک میں الیکٹرک موبلٹی کا ایک اہم ماڈل بنانے کی سمت میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی شہریوں کو زیادہ پائیدار، ماحول دوست اور جدید ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network