add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); چندے کی چوری کے اصل گنہگاروں کو بچا رہے ہیں مودی: کجریوال – sachkiawaz.com
Connect with us

دلی این سی آر

چندے کی چوری کے اصل گنہگاروں کو بچا رہے ہیں مودی: کجریوال

Published

on

نئی دہلی:بھگوان شری رام کے مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کیا وزیر اعظم شری رام مندر میں چندے کی چوری کے اصل مجرموں کو بچا رہے ہیں؟کیونکہ مودی جی نے خود ٹرسٹ تشکیل دیا، اس کے ہر رکن کا انتخاب خود کیا اور اپنے قریبی چمپت رائے کو مندر کا سب سے بااختیار ذمہ دار بھی بنایا۔ ایسے میں کیا ملک کے عوام کو یقین ہے کہ مودی جی اصل چوروں کو سزا دلا سکیں گے؟ پورا واقعہ تو یہی ظاہر کرتا ہے کہ مودی جی اس معاملے کو دبانے، رفع دفع کرنے اور قصورواروں کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ شری رام مندر کی زمین کی خریداری، تعمیراتی کام اور چندے میں اتنے بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے، مگر کیا وزیر اعظم کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں سب کچھ معلوم تھا، لیکن وہ دھرتراشٹر بنے رہے۔ جب سچ عوام کے سامنے آنے لگا تو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایک فرضی ایس آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ زمین گھوٹالے کے ثبوت لے کر گئے تو ایس آئی ٹی نے کہا کہ وہ زمین گھوٹالے کی جانچ ہی نہیں کر رہی ہے۔ آخر ایس آئی ٹی کر کیا رہی ہے؟ پہلے بھی ایس آئی ٹی بنی تھی، کچھ نہیں ہوا، اس بار بھی بنی ہے، کچھ نہیں ہوگا۔جمعرات کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ اب سب مان رہے ہیں کہ شری رام مندر میں چندے کی چوری ہوئی ہے، لیکن کیا اصل قصورواروں کو، جو بڑے بااثر اور طاقتور لوگ ہیں، سزا ملے گی؟ کیا ان کی گرفتاریاں ہوں گی؟ کیا ان کے خلاف کارروائی ہوگی؟ ہر جگہ یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی جی کسی کو نہیں چھوڑیں گے، کسی کو معاف نہیں کریں گے۔ میں عوام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہیں بھی یقین ہے کہ مودی جی اصل چوروں کو سزا دلا سکیں گے؟ میں یہ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ پیسہ مودی جی تک پہنچا۔ اس بارے میں میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ لیکن پورا واقعہ ضرور یہ بتاتا ہے کہ مودی جی نے اس پورے معاملے کو دبانے، چھپانے اور اصل مجرموں کو بچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نے ذاتی طور پر ایک ٹرسٹ بنایا۔ اس ٹرسٹ کا ایک ایک رکن خود منتخب کیا۔ اس میں ان کے اپنے قریبی لوگ شامل ہیں۔ چمپت رائے وزیر اعظم کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں۔ مودی جی نے انہیں شری رام مندر کا جنرل سیکریٹری اور سب سے بااختیار ذمہ دار بنایا۔ 2021 میں وہاں زمینوں کے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ ایک پاٹھک خاندان نے دو کروڑ روپے کی زمین ان کی پارٹی سے وابستہ ایک شخص کو فروخت کی، اور صرف دس منٹ بعد اسی شخص نے وہی زمین 18 کروڑ روپے میں مندر ٹرسٹ کو فروخت کر دی۔ دس منٹ میں دو کروڑ کی زمین اٹھارہ کروڑ کی کیسے ہوگئی؟ کیا وزیر اعظم کو اس کی خبر نہیں ہوئی؟ پوری دنیا کو معلوم تھا، میڈیا میں بھی خبریں آئیں۔ اسی طرح تین کروڑ روپے کی زمین 24 کروڑ میں، نو کروڑ کی زمین 55 کروڑ میں اور 14 کروڑ کی زمین 95 کروڑ روپے میں ٹرسٹ نے خریدی۔ کیا وزیر اعظم کو اس سب کی اطلاع نہیں تھی؟ یہ سب عوامی ریکارڈ میں موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مندر کی تعمیر سے وابستہ انجینئروں کا الزام ہے کہ ٹینڈروں میں ان سے 40 فیصد کمیشن مانگا جاتا تھا۔ کیا وزیر اعظم کو اس کا بھی علم نہیں تھا؟ صرف 40 دنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں میں 70 مرتبہ چوری ریکارڈ ہوئی، کیا انہیں معلوم نہیں تھا؟ آٹھ ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی گئی، کیا اس کی بھی خبر نہیں تھی؟ اتنے طویل عرصے تک چندے کی چوری ہوتی رہی، پھر بھی انہیں کچھ معلوم نہیں ہوا؟ ٹرسٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کا ایک افسر بھی موجود تھا، اس کے باوجود بھی انہیں کچھ معلوم نہیں ہوا؟ وزیر اعظم کو ملک کے ہر بوتھ کے ووٹر کی معلومات معلوم ہوتی ہیں، کون کس پارٹی کو ووٹ دیتا ہے، کس کا نام فہرست سے ہٹانا ہے اور کس کا شامل کرنا ہے، مگر اگر وہ کہیں کہ انہیں اس چوری کا علم نہیں تھا تو یہ بات قابلِ یقین نہیں۔اروند کیجریوال نے کہا کہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے کم از کم 12 رپورٹیں وزیر اعظم کو دی تھیں، جن میں بتایا گیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر، زمینوں کی خریداری اور چندے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور چوریاں ہو رہی ہیں۔ انہیں سب معلوم تھا، مگر وہ دھرتراشٹر کی طرح خاموش رہے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا اور عوامی دباؤ بڑھنے لگا تو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایس آئی ٹی بنا دی گئی۔ ایف آئی آر درج ہوئے بغیر ایس آئی ٹی کیسے بن سکتی ہے؟ اس وقت تو ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن عوام سمجھ گئے تھے کہ وزیر اعظم اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک فرضی ایف آئی آر درج کی گئی اور آٹھ چھوٹے ملازمین کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ریمانڈ بھی نہیں مانگی بلکہ سیدھا عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ کسی بھی چوری کے مقدمے میں پولیس پوچھ گچھ کے لیے ریمانڈ لیتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے مال کہاں ہے، کس کے کہنے پر چوری ہوئی اور اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے، لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ فکر نہ کرو، چند دنوں میں ضمانت ہو جائے گی۔ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ جب ہمارے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ زمین گھوٹالے کے دستاویزات لے کر ایس آئی ٹی کے پاس گئے تو ایس آئی ٹی نے حیران کن جواب دیا کہ وہ زمین گھوٹالے کی جانچ ہی نہیں کر رہی بلکہ صرف چندے کے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔پھر تعمیراتی اور زمینوں کے گھوٹالوں کی جانچ کون کرے گا؟ 2021 میں بھی اتر پردیش حکومت نے زمین گھوٹالے کی جانچ کے لیے ایک ایس آئی ٹی بنائی تھی، مگر وہ بھی خاموشی سے ختم ہوگئی۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ اس کی رپورٹ کب آئی اور کہاں گئی۔ اس بار بھی وہی ہوگا۔ 2021 میں نہ کوئی ایف آئی آر ہوئی، نہ کوئی گرفتاری، اور نہ ہی کوئی جیل گیا۔ اس بار بھی سب کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ جن لوگوں نے استعفے دیے ہیں، ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ آج بھی مندر کا انتظام وہی لوگ چلا رہے ہیں۔ کاغذوں میں استعفے ضرور دیے گئے ہیں، مگر عملی طور پر انتظام انہی کے ہاتھ میں ہے۔ بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر برج بھوشن کا بیان میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے منہ کھولا تو بہت بڑے بڑے نام سامنے آئیں گے اور انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔ آخر وہ کون سے نام ہیں جن کا ذکر کرنے سے برج بھوشن بھی ڈر رہے ہیں؟ بابا باغیشور دھام نے بھی کہا کہ اس معاملے میں بہت بڑے لوگ شامل ہیں اور اگر وہ بولیں گے تو ان پر بھی آنچ آ سکتی ہے۔ جب اتنے طاقتور لوگ نام لینے سے خوفزدہ ہیں تو واضح ہے کہ جن آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہیں۔ اصل کردار کوئی اور ہیں اور گرفتار کیے گئے لوگ صرف مہرے ہیں۔اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ ملک کی عوام جاننا چاہتی ہے کہ وہ کس کو بچا رہے ہیں، کیوں بچا رہے ہیں اور ان کی کیا مجبوری ہے؟ اس معاملے سے کروڑوں

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

نوئیڈا میں میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گی سڑک

Published

on

(پی این این)
نوئیڈا: نوئیڈا میں میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گی سڑکنوئیڈا میں بننے والی ایلیویٹیڈ سڑک کا کچھ حصہ میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گا۔ آئی آئی ٹی روڑکی نے اس مجوزہ ایلیویٹیڈ روڈ کے لیے ڈی پی آر تیار کر کے اتھارٹی کو پیش کر دیا ہے۔
اس پر تقریباً 300 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے۔مہامایا فلائی اوور کو نوئیڈا کے یمنا پل سے جوڑنے کے لیے تقریباً دو کلومیٹر لمبی ایلیویٹڈ سڑک کچھ حصوں میں تقریباً 20 میٹر اونچی ہوگی۔ میجنٹا میٹرو لائن کا ٹریک اس علاقے سے گزرتا ہے۔ یہ اونچائی اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ ایلیویٹڈ روڈ میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گی۔آئی آئی ٹی نے اس پروجیکٹ کے لیے ڈی پی آر اتھارٹی کو پیش کر دیا ہے۔ چیلا ایلیویٹڈ روڈ دہلی کے میور وہار فلائی اوور سے نوئیڈا کے مہامایا فلائی اوور تک بنائی جا رہی ہے۔ یہ ایلیویٹڈ سڑک دہلی کے چللا ریگولیٹر سے بنائی جا رہی ہے اور یہ میور وہار فلائی اوور سے جڑے گی۔ نوئیڈا میں یہ ایلیویٹڈ روڈ مہامایا فلائی اوور کے قریب اترے گی۔ یہاں سے سیکٹر 94 یمونا پشتہ کو جوڑنے کے لیے تقریباً دو کلومیٹر لمبی ایلیویٹڈ سڑک تعمیر کی جائے گی۔ یہ ایلیویٹڈ سڑک میٹرو کی میجنٹا لائن کے اوپر سے گزرے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں اب تک دو ایلیویٹیڈ سڑکیں بنائی گئی ہیں۔آئی آئی ٹی روڑکی نے اس مجوزہ ایلیویٹیڈ روڈ کے لیے ڈی پی آر تیار کر کے اتھارٹی کو پیش کر دیا ہے۔ تخمینہ لاگت تقریباً 300 کروڑ روپے ہے۔ رقم تبدیلی کے تابع ہے۔ آئی آئی ٹی ٹیم نے اتھارٹی کے حکام کو بتایا کہ میٹرو روٹ کی ہائی ٹینشن لائن 17 میٹر ہے۔ اس کے لیے تین میٹر کی اونچائی سے گزرنے کے لیے ایک اونچی سڑک کی ضرورت ہوگی۔ یہ ایلیویٹڈ روڈ زیر تعمیر چلہ ایلیویٹڈ روڈ سے جڑے گی اور مہامایا فلائی اوور اور دلت پریرنا ستھال کے درمیان سڑک کو پار کرے گی۔محکمہ آبپاشی نے جمنا پشتہ پر مرمت کا کام شروع کر دیا ہے۔ اسے مکمل ہونے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے۔ اتھارٹی پہلے ہی پہلی قسط جاری کر چکی ہے۔
یمنا پشتہ جو سیکٹر 94 سے سیکٹر 135 تک جاتی ہے کئی جگہوں سے ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بارش کے موسم میں سفر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیہاتوں، سیکٹروں اور سوسائٹیوں میں رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اس علاقے سے گزرتی ہے۔ اب مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ پشتہ کا یہ حصہ تقریباً 11 کلومیٹر طویل ہے۔ سڑک کی مرمت اور ری سرفیسنگ کا کام تقریباً 35 کروڑ روپے کی لاگت سے کیا جائے گا۔ اتھارٹی نے جون میں محکمہ آبپاشی کو پہلی قسط کے طور پر ₹ 11 کروڑ ادا کیے تھے۔ اتھارٹی نے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے محکمہ آبپاشی سے تین بار ملاقات بھی کی۔ حکام نے بتایا کہ یہ چار لین والی پستہ سڑک 2014 میں بنائی گئی تھی۔ تب سے اب تک اس کی مرمت نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں پوری سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی ہوائی اڈے کا تیسرا رن وے 20 ستمبر سے ہوگا شروع

Published

on

نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ڈائل) نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے (11 آر/29 ایل) کو 20 ستمبر سے پھر آپریشن میں لایا جائے گا۔ڈائل نے بتایا کہ رن وے کے جامع بحالی پروگرام اور تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے ملنے کے بعد اسے دوبارہ آپریشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بحالی کا یہ پروجیکٹ فروری 2026 میں شروع ہوا تھا، جس میں آپریشنل حفاظت، کارکردگی، صلاحیت اور طویل مدتی استحکام کو بڑھانے کے مقصد سے جامع کام کیے گئے۔
پروجیکٹ کے تحت رن وے کی سطح کی تجدید، رن وے 29 ایل کے مستقل تھریشولڈ میں تبدیلی، نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے (آر ای ٹی زیڈ 1) کی تعمیر، ہوائی اڈے کے گراؤنڈ لائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن، رن وے کی سطح کو مضبوط بنانے کے کام اور متعلقہ سول و الیکٹریکل بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ ڈائل کے مطابق، ان اصلاحات سے رن وے کی فعال صلاحیت کو بڑھانے، طیاروں کی آمد و رفت کو بہتر طریقے سے منظم کرنے، رن وے پر طیاروں کے رہنے کا وقت کم کرنے اور مختلف موسمی حالات میں آپریشنل اعتماد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پروجیکٹ کے دوران ڈائل نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی)، ایئر لائنز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ تمام مقررہ حفاظتی، آپریشنل اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 20 ستمبر سے رن وے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی منظوری ملی ہے۔ ڈائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پردیپ پانیکر نے کہا کہ رن وے 11 آر/29 ایل کو دوبارہ چالو کیا جانا دہلی ہوائی اڈے کے مستقبل کے لیے تیار ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کے پروگرام کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جانا حفاظت، آپریشنل عمدگی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید رن وے کے ساتھ نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے نیز بہتر نیویگیشن اور لائٹنگ کا نظام دہلی ہوائی اڈے کی صلاحیت اور استحکام کو مزید بڑھائے گا اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ڈائل نے کہا کہ دوبارہ چالو ہونے والے رن وے دہلی ہوائی اڈے کی آپریشنل کارکردگی اور مستقبل میں بڑھنے والے ایئر ٹریفک کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرے گا نیز عالمی ہوا بازی کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کے معیار کے مطابق آپریشنز کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ یہ رن وے 2008 میں شروع کیا گیا تھا اور گزشتہ 17 سالوں سے مسلسل آپریشن میں تھا، جس کے دوران اس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی گئی اور 2017 میں اس کی معمولی بحالی بھی کی گئی تھی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

خواتین کمیشن کا 100 پولیس اہلکاروں کے ساتھ ا سپا سنٹر پر چھاپہ

Published

on

گروگرام :گروگرام میں جائز کاروبار کی آڑ میں چلنے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی مشترکہ کارروائی میں گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے سیکٹر 90 کے سفائر 90 مال میں ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا۔ رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک جاری رہنے والی چھ گھنٹے کی سخت چیکنگ مہم کے دوران 18 اسپائر سنٹروں کے اندر چھاپے مارے گئے۔ آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تقریباً 30 خواتین اور 20 مردوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی طور پر آٹھ سپا سنٹرز میں سنگین غیر قانونی سرگرمیوں کے پختہ ثبوت ملے۔پولیس کو سیفائر 90 مال میں واقع سپا سنٹرز میں غیر اخلاقی اور مشکوک سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں اور اس خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی از خود کی گئی تھی۔ 100 سے زیادہ پولیس افسران کی ایک ٹیم نے بیک وقت مال کو گھیر لیا اور چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ آپریشن کے دوران 18 سپا سنٹرز میں سے 8 سے اہم الیکٹرانک آلات، ڈیجیٹل ڈیٹا، مجرمانہ دستاویزات اور دیگر جسمانی ثبوت قبضے میں لیے گئے۔ اس ثبوت کو استعمال کرتے ہوئے، پولیس اب اسپا سینٹرز کے حقیقی مالکان، آپریٹرز، منیجرز اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کے کردار کی مکمل تفتیش کر رہی ہے۔
چھاپے کے دوران سپا سنٹرز سے تقریباً 30 خواتین اور 20 مرد پائے گئے۔ ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اوشا پریہ درشنی کی موجودگی میں ان خواتین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن حالات میں کام کر رہی تھیں اور کیا انہیں کسی گینگ نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے افراد کے کردار، ان کی موجودگی کی وجوہات اور ان کی شہادتوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس پورے آپریشن کی ابتدائی تفتیش اور ضبطی کا عمل ابھیلکش جوشی، اے سی پی ہیڈکوارٹر-1، غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ 1956 کے تحت مقرر اسپیشل پولیس آفیسر کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ گروگرام پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی منظم جرم یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کو تجارتی جگہوں کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس شہر میں ایسے دیگر مقامات پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network