Connect with us

Bihar

بہار کےتمام اسپتالوں کوبنایا جائے گا ’سپر اسپیشلٹی‘ ،ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں نصب کیے جائیں گے کیمرے، ڈاکٹروں کی نگرانی ہوگی مزید سخت، وزیرصحت کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیرِ صحت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نشانت کمار پوری طرح متحرک نظر آ رہے ہیں۔ وہ مسلسل سرکاری اسپتالوں کا دورہ کر رہے ہیں، لاپروائی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں ایک کے بعد ایک اہم فیصلے بھی لے رہے ہیں۔اسی سلسلے میں نشانت کمار نے اعلان کیا ہے کہ بہار کے تمام سرکاری اسپتالوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی کارکردگی پر مؤثر نگرانی رکھی جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور نظم و ضبط کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ ریاست کے تمام ضلعی اسپتالوں کو مرحلہ وار سپر اسپیشلٹی اسپتالوں میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ تمام کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (سی ایچ سی) کو اسپیشلٹی اسپتالوں کی شکل میں ترقی دی جائے گی، تاکہ عوام کو اپنے اضلاع اور مقامی سطح پر ہی بہتر اور معیاری طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صحت نشانت کمار نے کہا’’ہماری کوشش ہے کہ حکومت کی فراہم کردہ دوائیں واقعی عوام تک پہنچیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل کام کر رہے ہیں کہ دوائیں صحیح مقدار میں اور مناسب طریقے سے مستحق مریضوں تک پہنچیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی مشکل ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی غیر حاضری ہے، جس پر قابو پانے کے لیے ہم سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ بہار میں تقریباً 15 ہزار سرکاری صحت کے ادارے ہیں اور ہم ان سبھی میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کروا رہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کر رہے ہیں جس کے ذریعے کسی بھی ڈاکٹر کی اسپتال میں آمد و رفت کے ساتھ ساتھ اس کی پوری کارکردگی کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ڈاکٹر صبح 9 بجے اسپتال آتا ہے اور دوپہر ایک بجے واپس جاتا ہے تو اس دوران اس نے او پی ڈی میں مریضوں کا معائنہ کیا، آئی پی ڈی کی خدمات انجام دیں، سرجری کی یا کوئی اور طبی ذمہ داری نبھائی، ان تمام سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری صحت مراکز میں کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ انہی کی مدد سے مؤثر نگرانی کی جا سکے۔ میں خود بھی اس پورے نظام کی نگرانی کروں گا۔‘‘وزیرِ صحت نشانت کمار نے بتایا کہ بہار کے پانچ زونز میں 11 لیول-3 اور 5 لیول-2 ٹراما سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایل این جے پی اسپتال میں 400 بستروں پر مشتمل ایک نئے اسپتال کی بھی تعمیر کی جائے گی‘‘۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وزیرِ صحت نشانت کمار نے پی ایم سی ایچ، پٹنہ کے دورے کے دوران لاپروائی برتنے کے الزام میں قائم مقام پرنسپل کے خلاف کارروائی کی تھی۔بہار حکومت نے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے اور انتظامی غفلت کے الزامات کے باعث نریندر پرتاپ سنگھ کو پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (پی ایم سی ایچ) کے قائم مقام پرنسپل کے اضافی چارج سے ہٹا دیا تھا۔یہ کارروائی وزیرِ صحت نشانت کمار کے پی ایم سی ایچ کے پہلے سے طے شدہ معائنے کے بعد عمل میں آئی۔ معائنے کے دوران وزیرِ صحت نے پایا کہ قائم مقام پرنسپل نریندر پرتاپ سنگھ اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے نہ تو اپنی غیر حاضری کی پیشگی اطلاع دی تھی اور نہ ہی اپنی جگہ کسی دوسرے افسر کو ذمہ داری سونپی تھی۔

Bihar

محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر روک کیلئے منوج کمار جھا کا وزیر اعظم کو خط

Published

on

مظفرپور:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے رام پور، اتر پردیش میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مجوزہ انہدامی کارروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اتر پردیش حکومت کو فوری ہدایت دیں کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کو معطل کیا جائے اور معاملے کا قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق حل نکالا جائے۔پروفیسر منوج کمار جھا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک فعال تعلیمی ادارہ ہے جہاں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ تعمیراتی یا انتظامی بے ضابطگی کو ریگولرائزیشن، جرمانے، نظرِ ثانی شدہ منظوری یا دیگر قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے، مگر ایک پوری یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنا نہ تو معقول اقدام ہے اور نہ ہی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر من مانی اور انتقامی انہدامی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور مناسب قانونی عمل، تناسب اور ریاستی احتساب کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تعلیمی ادارے کی تقریباً تمام عمارتوں کو منہدم کرنا انصاف اور آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔اپنے خط میں پروفیسر جھا نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ کارروائی سیاسی انتقام اور فرقہ وارانہ امتیاز کا تاثر پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کے خلاف کی جا رہی ہے جسے اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنما(اعظم خان)نے قائم کیا تھا اور جو بالخصوص مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس انہدامی کارروائی کو عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر ملک کی جمہوری، آئینی اور تعلیمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ کلاس رومز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو ملبے میں تبدیل کرنے کی تصاویر پوری دنیا میں جائیں گی، جو ہندوستان کے تعلیم، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کریں گی۔
پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو انہدامی کارروائی روکنے، یونیورسٹی کو محفوظ رکھنے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی تعلیمی ادارے اور اس میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو اس کے بانی کی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف آئیسا کا احتجاجی مارچ

Published

on

چھپرہ :طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے دہلی کے جنتر منتر پر سونم وانگچنگ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا کے خلاف مبینہ پولیس بدسلوکی اور کارروائی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔یہ مارچ نگر پالیکا چوک سے شروع ہو کر تھانہ چوک پر ختم ہوا۔جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ پرامن اور جمہوری طریقے سے طلبہ کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ،نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کی طلبہ برادری جمہوری طریقے سے مخالفت کرے گی۔مارچ کے دوران مظاہرین نے پولیس کے جبر کے خلاف نعرے لگائے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔مقررین نے کہا کہ جابرانہ پالیسیوں کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی۔احتجاجی مارچ میں رانی،ریا،راج لکشمی،سنجنا،کالی داس،اکھلیش،روشن، بٹو ،نیرج،پریانشو،شیوم،پردیپ سمیت متعدد کارکن و طلبا نے شرکت کی۔

Continue Reading

Bihar

نالندہ کالج میںگریجویٹ طلبہ کے لیے’دیکشا آرمبھ سماروہ ‘ کا انعقاد

Published

on

بہار شریف:نالندہ کالج، بہار شریف کے کیمپس میں آج گریجویٹ کے نئے سیشن کے نومرتبہ شدہ طالبعلموں کے لیے ایک شاندار دیکشا آرمبھ سماروہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا اور سینئر اساتذہ پروفیسر کچوے، ڈاکٹر شیام سندر پرساد اور ڈاکٹر منجو کماری کے ذریعے مشترکہ طور پر روایتی دیپ پرجولن کر کے کیا گیا۔ اس پورے سماروہ کی نظامت معاشیات شعبے کے شعبہ صدر ڈاکٹر سَروَدامن کشیپ نے نہایت مہارت، توانائی اور دلچسپ انداز میں کی، جنہوں نے درمیان میں تحریکی خیالات سے طلبہ میں نیا جوش بھرا۔
سماروہ کی صدارت کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا نے نئے طلبہ کا کالج خاندان میں خیرمقدم کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ نالندہ کی سرزمین قدیم زمانے سے ہی علم اور علم والوں کی سرزمین رہی ہے۔ آج کے نوجوان اس شاندار ورثے کے امیدار ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو باقاعدگی سے کلاسوں میں حاضر رہنے، نظم و ضبط پر عمل کرنے اور صرف ڈگری حاصل کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کی جامع ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے متاثر کیا۔
پروگرام کے دوران طلبہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کئی سینئر ماہرینِ تعلیم نے بطور موٹیویشنل اسپیکر اپنے خیالات پیش کیے۔ پروفیسر آر. پی. کچوے نے طلبہ کو وقت کا انتظام اور سخت محنت کی اہمیت سمجھائی۔ ڈاکٹر شیام سندر پرساد نے زندگی میں مثبت نقطہ نظر اور اونچے اہداف طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ ڈاکٹر منجو کماری نے طالبات کو خود کفیل بننے اور زندگی کی ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے متاثر کیا۔
نئے طلبہ کو کالج کے نظام سے آشنا کرانے کے لیے ڈاکٹر سمیت کمار اور جتیندر سنہا کے ذریعے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ انہوں نے طلبہ کو کالج کے سخت قواعد، چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم نصاب، امتحانی نظام، لائبریری کی سہولیات کے ساتھ ساتھ، این ایس ایس اور کھیل کود جیسی نصابی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں ڈاکٹر شاہد الرحمان نے شکریہ کا کلمہ پیش کیا، جس میں انہوں نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے پرنسپل، مہمانوں، انعقاد کمیٹی اور طلبہ کا احسان مندی کا اظہار کیا۔

اس دیکشا آرمبھ سماروہ میں کالج کے تمام شعبوں کے شعبہ صدر، تمام تعلیمی عملہ اور غیر تعلیمی عملہ موجود رہے۔ پروگرام کے اختتام کے بعد تمام نومرتبہ شدہ طلبہ کو ان کے متعلقہ شعبوں میں بھیجا گیا، جہاں اساتذہ نے ان سے براہ راست مکالمہ کیا۔

ڈاکٹر کماری چمپا، ڈاکٹر بھاونا، ڈاکٹر اوپین منڈل، ڈاکٹر شردھا کماری، ڈاکٹر وجے کمار، ڈاکٹر مرتیونجے، ڈاکٹر ششاک شیکھر جھا، ڈاکٹر علی، ڈاکٹر راج دیو، ڈاکٹر ششی بھوشن، ڈاکٹر سنتوش، ڈاکٹر غازی، ڈاکٹر سندھو کماری سمیت دیگر اساتذہ اور عملہ موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network